<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Technology</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 19:39:33 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 19:39:33 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>پاکستان فن ٹیک کے میدان میں ابھرتا ہوا ستارہ بن گیا، فوربز کی رپورٹ</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40279998/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;خطے میں فِن ٹیک کے شعبے میں طویل بھارتی بالا دستی کے باعث پس منظر میں رہنے والا پاکستان اب بالآخر اپنی جگہ بنا رہا ہے۔ فوربز کے مطابق سرمایہ کاروں کے نئے اعتماد اور ریگولیٹری فریم ورک کی بہتری نے پاکستان کو مارکیٹ کی طلب کے مطابق تیزی سے آگے بڑھنے میں مدد دی ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عالمی میڈیا کے مطابق پاکستان میں فِن ٹیک کا شعبہ کئی برس کی کم کارکردگی کے بعد مضبوط بحالی کے مرحلے میں داخل ہو چکا ہے۔ اس کی وینچر فنڈنگ 2019 میں صرف 10.4 ملین ڈالر سے بڑھ کر 2022 میں 150 ملین ڈالر تک پہنچ گئی، جو ملک کو ابھرتی ہوئی ڈیجیٹل فنانس مارکیٹوں میں شامل کر رہی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رپورٹ میں بتایا گیا کہ عالمی اقتصادی حالات کی خرابی کے باعث 2023 میں اسٹارٹ اپ فنڈنگ کم ہو کر صرف 12.5 ملین ڈالر رہ گئی تھی، تاہم گزشتہ دو برس میں سرمایہ کاری میں دوبارہ اضافہ ہوا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;2024 میں فنڈنگ بڑھ کر 26.3 ملین ڈالر تک پہنچی اور 2025 کی پہلی ششماہی میں 52.5 ملین ڈالر تک ریکارڈ کی گئی۔ نومبر کے آخر تک پاکستان کی 450 فِن ٹیک کمپنیوں نے مجموعی طور پر 391 ملین ڈالر وینچر کیپٹل حاصل کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فوربز کے مطابق رواں سال پاکستان کے فِن ٹیک کے شعبے کی سب سے بڑی سرمایہ کاری 52 ملین ڈالر کا پری سیریز اے راؤنڈ تھا، جو سپلائی چین فِن ٹیک کمپنی حبال نے حاصل کیا۔ اس میں میزان  بینک نے بنیادی کردار ادا کیا جس نے 47 ملین ڈالر فراہم کیے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ معاہدہ صرف رقم کے اعتبار سے اہم نہیں بلکہ اس لیے بھی نمایاں ہے کہ یہ کسی روایتی پاکستانی بینک اور ڈیجیٹل اسٹارٹ اپ کے درمیان ہونے والی نمایاں شراکت داریوں میں سے ایک ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فوربز کے مطابق پاکستان میں فِن ٹیک کے شعبے میں رفتار بڑھنے کی ایک بڑی وجہ مضبوط ریگولیٹری تعاون بھی ہے۔ ریاستی معاونت یافتہ پاکستان اسٹارٹ اپ فنڈ ایکویٹی کے بغیر گرانٹس فراہم کرتا ہے ،تاکہ وینچر کیپٹل سرمایہ کاری کو فروغ ملے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان نے ڈیجیٹل بینکوں کے لیے لائسنسنگ اور ریگولیٹری فریم ورک بھی قائم کر دیا ہے اور ابتدائی 2025 تک پانچ ادارے (جن میں ایزی پیسہ اور مشرق بینک شامل ہیں) پائلٹ آپریشن شروع کر دیں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان اقدامات کا مقصد بالغ آبادی میں مالی شمولیت کی شرح کو 2023 کے 64 فیصد سے بڑھا کر 2028 تک 75 فیصد تک لے جانا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فوربز نے یہ بھی بتایا کہ چین ایلیسس کے ٹاپ کرپٹو ایڈاپشن 2025 انڈیکس میں پاکستان بھارت اور امریکا کے بعد تیسرے بڑے صارف کے طور پر سامنے آیا ہے، جس سے ملک کا فِن ٹیک اور ڈیجیٹل اثاثوں میں ابھرتا ہوا کردار واضح ہوتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رپورٹ کے مطابق پاکستان نے خطے کے دیگر ممالک جیسے بنگلادیش اور نیپال کے برخلاف ڈیجیٹل کرنسیوں کے معاملے میں نسبتاً کھلی پالیسی اختیار کی ہے۔ جہاں بنگلادیش اور نیپال نے کرپٹو کرنسیوں کو غیر قانونی قرار دے رکھا ہے، وہیں پاکستان نے اس حوالے سے سخت پابندی عائد نہیں کی بلکہ تاریخی طور پر محتاط رویہ اپنایا، تاہم اب ملک ورچوئل اثاثوں کے فریم ورک کی تیاری پر کام کر رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مزید یہ کہ پاکستان نے عالمی سطح پر کرپٹو اور بلاک چین قوانین کی تشکیل میں جگہ بھی حاصل کر لی ہے، جب پاکستان ورچوئل ایسٹ ریگولیٹری اتھارٹی کے چیئرمین بلال بن ثاقب ورلڈ اکنامک فورم کی ڈیجیٹل ایسٹ ریگولیشنز اسٹیئرنگ کمیٹی میں شامل ہوئے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>خطے میں فِن ٹیک کے شعبے میں طویل بھارتی بالا دستی کے باعث پس منظر میں رہنے والا پاکستان اب بالآخر اپنی جگہ بنا رہا ہے۔ فوربز کے مطابق سرمایہ کاروں کے نئے اعتماد اور ریگولیٹری فریم ورک کی بہتری نے پاکستان کو مارکیٹ کی طلب کے مطابق تیزی سے آگے بڑھنے میں مدد دی ہے۔</strong></p>
<p>عالمی میڈیا کے مطابق پاکستان میں فِن ٹیک کا شعبہ کئی برس کی کم کارکردگی کے بعد مضبوط بحالی کے مرحلے میں داخل ہو چکا ہے۔ اس کی وینچر فنڈنگ 2019 میں صرف 10.4 ملین ڈالر سے بڑھ کر 2022 میں 150 ملین ڈالر تک پہنچ گئی، جو ملک کو ابھرتی ہوئی ڈیجیٹل فنانس مارکیٹوں میں شامل کر رہی ہے۔</p>
<p>رپورٹ میں بتایا گیا کہ عالمی اقتصادی حالات کی خرابی کے باعث 2023 میں اسٹارٹ اپ فنڈنگ کم ہو کر صرف 12.5 ملین ڈالر رہ گئی تھی، تاہم گزشتہ دو برس میں سرمایہ کاری میں دوبارہ اضافہ ہوا۔</p>
<p>2024 میں فنڈنگ بڑھ کر 26.3 ملین ڈالر تک پہنچی اور 2025 کی پہلی ششماہی میں 52.5 ملین ڈالر تک ریکارڈ کی گئی۔ نومبر کے آخر تک پاکستان کی 450 فِن ٹیک کمپنیوں نے مجموعی طور پر 391 ملین ڈالر وینچر کیپٹل حاصل کیا۔</p>
<p>فوربز کے مطابق رواں سال پاکستان کے فِن ٹیک کے شعبے کی سب سے بڑی سرمایہ کاری 52 ملین ڈالر کا پری سیریز اے راؤنڈ تھا، جو سپلائی چین فِن ٹیک کمپنی حبال نے حاصل کیا۔ اس میں میزان  بینک نے بنیادی کردار ادا کیا جس نے 47 ملین ڈالر فراہم کیے۔</p>
<p>یہ معاہدہ صرف رقم کے اعتبار سے اہم نہیں بلکہ اس لیے بھی نمایاں ہے کہ یہ کسی روایتی پاکستانی بینک اور ڈیجیٹل اسٹارٹ اپ کے درمیان ہونے والی نمایاں شراکت داریوں میں سے ایک ہے۔</p>
<p>فوربز کے مطابق پاکستان میں فِن ٹیک کے شعبے میں رفتار بڑھنے کی ایک بڑی وجہ مضبوط ریگولیٹری تعاون بھی ہے۔ ریاستی معاونت یافتہ پاکستان اسٹارٹ اپ فنڈ ایکویٹی کے بغیر گرانٹس فراہم کرتا ہے ،تاکہ وینچر کیپٹل سرمایہ کاری کو فروغ ملے۔</p>
<p>پاکستان نے ڈیجیٹل بینکوں کے لیے لائسنسنگ اور ریگولیٹری فریم ورک بھی قائم کر دیا ہے اور ابتدائی 2025 تک پانچ ادارے (جن میں ایزی پیسہ اور مشرق بینک شامل ہیں) پائلٹ آپریشن شروع کر دیں گے۔</p>
<p>ان اقدامات کا مقصد بالغ آبادی میں مالی شمولیت کی شرح کو 2023 کے 64 فیصد سے بڑھا کر 2028 تک 75 فیصد تک لے جانا ہے۔</p>
<p>فوربز نے یہ بھی بتایا کہ چین ایلیسس کے ٹاپ کرپٹو ایڈاپشن 2025 انڈیکس میں پاکستان بھارت اور امریکا کے بعد تیسرے بڑے صارف کے طور پر سامنے آیا ہے، جس سے ملک کا فِن ٹیک اور ڈیجیٹل اثاثوں میں ابھرتا ہوا کردار واضح ہوتا ہے۔</p>
<p>رپورٹ کے مطابق پاکستان نے خطے کے دیگر ممالک جیسے بنگلادیش اور نیپال کے برخلاف ڈیجیٹل کرنسیوں کے معاملے میں نسبتاً کھلی پالیسی اختیار کی ہے۔ جہاں بنگلادیش اور نیپال نے کرپٹو کرنسیوں کو غیر قانونی قرار دے رکھا ہے، وہیں پاکستان نے اس حوالے سے سخت پابندی عائد نہیں کی بلکہ تاریخی طور پر محتاط رویہ اپنایا، تاہم اب ملک ورچوئل اثاثوں کے فریم ورک کی تیاری پر کام کر رہا ہے۔</p>
<p>مزید یہ کہ پاکستان نے عالمی سطح پر کرپٹو اور بلاک چین قوانین کی تشکیل میں جگہ بھی حاصل کر لی ہے، جب پاکستان ورچوئل ایسٹ ریگولیٹری اتھارٹی کے چیئرمین بلال بن ثاقب ورلڈ اکنامک فورم کی ڈیجیٹل ایسٹ ریگولیشنز اسٹیئرنگ کمیٹی میں شامل ہوئے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Technology</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40279998</guid>
      <pubDate>Mon, 01 Dec 2025 17:10:21 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (بی آر ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2025/12/011650202a67bf9.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2025/12/011650202a67bf9.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
