<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Editorials</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Thu, 04 Jun 2026 02:15:04 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Thu, 04 Jun 2026 02:15:04 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>حکومت سوچے ملٹی نیشنل کمپنیاں کیوں جا رہی ہیں؟</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40279988/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;حکومتی حلقوں سے معیشت کے بارے میں جو عمومی تاثر آ رہا ہے وہ یہ ہے کہ سب ٹھیک ہے، سرکاری مؤقف یہ ہے کہ حکومت نے مشکل سے حاصل کیا گیا استحکام حاصل کر لیا ہے اور اب نجی شعبے کی باری ہے کہ وہ آگے بڑھے، ایمانداری سے ٹیکس ادا کرے، سرمایہ کاری لائے اور ترقی کو فروغ دے۔ پیغام واضح ہے: نجی شعبے کے اپنا کردار ادا کیے بغیر استحکام سے ترقی کی طرف منتقلی مشکل ہوگی۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سرکاری حکام نشاندہی کرتے ہیں کہ ریٹنگز بہتر ہو رہی ہیں اور سروے زیادہ مثبت تصویر پیش کر رہے ہیں۔ تاہم، یہ رجائیت پسندی سرمایہ کاری میں تبدیل نہیں ہو رہی ہے۔ ملکی اور غیر ملکی دونوں طرح کی سرمایہ کاری مسلسل گر رہی ہے۔ جب ملٹی نیشنل کمپنیوں (ایم این سیز) کے ملک چھوڑنے کے بارے میں سوال کیا جاتا ہے، تو حکومت کا معیاری جواب یہ ہوتا ہے کہ یہ فرمیں عالمی حکمت عملیوں  کی وجہ سے ملک چھوڑ رہی ہیں اور پاکستان ان کے مستقبل کے منصوبوں میں  فٹ نہیں بیٹھتا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ ایک مایوس کن دلیل ہے، ایک حقیقت ہے۔ اصل سوال یہ ہونا چاہیے: پاکستان ایسا کیا کرنے میں ناکام ہو رہا ہے جس کی وجہ سے یہ ان کی عالمی حکمت عملی سے مطابقت نہیں رکھتا؟ ہمیں خود احتسابی کرنی ہوگی اور سمجھنا ہوگا کہ ملٹی نیشنل کمپنیاں کیوں جارہی ہیں، کیوں انتہائی امیر لوگ تیزی سے نان ریذیڈنٹ پاکستانی بن رہے ہیں اور کیوں تقریباً تمام بڑی کاروباری فیملیز نئی مینوفیکچرنگ منصوبوں میں سرمایہ کاری کرنے کے لیے تیار نہیں ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ سوالات ناخوشگوار ضرور ہیں، مگر حکام ان سے فرار نہیں ہو سکتے۔ اسلام آباد سے آنے والے اشارے، خاص طور پر نجی شعبے کے ساتھ بات چیت میں یہ ظاہر کرتے ہیں کہ ذمہ داری کاروباری حلقوں پر ڈالنے کی کوشش کی جا رہی ہے: بہتر تعمیل کے ذریعے ٹیکس بیس بڑھائیں، مشترکہ منصوبوں اور مقامی ڈیمو پروجیکٹس کے ذریعے غیر ملکی سرمایہ کاری لائیں اور ناکام ہونے والے سرکاری ادارے خرید کر نجکاری کو کامیاب دکھائیں، چاہے ریگولیٹری یا لین دین کے فریم ورک میں خامیاں موجود ہوں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حال ہی میں اسلام آباد میں پاکستان بزنس کونسل (پی بی سی) کے ڈائیلاگ ان اکانومی کے اجلاس میں تقریباً تمام سرکاری شعبے کے نمائندوں جن میں وزیر خزانہ، اسپیشل انویسٹمنٹ فسیلی ٹیشن کونسل (ایس آئی ایف سی) کے قومی کوآرڈینیٹر، وزیر صنعت اور فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کے چیئرمین شامل تھے  نے ایک ہی پیغام دہرایا۔ انہوں نے تسلیم کیا کہ ٹیکس اور دیگر پالیسیاں غیر منصفانہ ہیں، نجی شعبے کی شکایات سے اتفاق کیا اور ساتھ ہی یہ سوال کیا کہ ایسی مشکل صورتحال میں حکومت کو کیا کرنا چاہیے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ ایک ہوشیار حکمت عملی ہے کہ بیانیہ کے ساتھ کھیل کر نجی شعبے سے بچا جائے، کیونکہ نجی شعبے کی پریشانی اور تکلیف تیزی سے بڑھ رہی ہے۔ حکومتی نمائندے ابتدا میں زیادہ ٹیکس، سرکاری شعبے کے بڑھتے حجم، زیادہ ضابطہ کاری اور توانائی  شعبے میں غیر مؤثریت کے مسائل پر اتفاق کرتے ہیں لیکن ان کا اگلا استدلال یہ ہوتا ہے کہ وہ یہ مسائل اکیلے حل نہیں کر سکتے اور نمو واپس لانے کے لیے نجی شعبے کو بھی شامل ہونا پڑے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بالکل، نجی شعبے کو اپنا کردار ادا کرنا چاہیے اور کرنا بھی لازم ہے، لیکن حکومت کو بھی عملی اقدامات دکھانے ہوں گے کیونکہ صرف بات چیت سے اعتماد پیدا نہیں ہوگا۔ حکومت کو ساختی اصلاحات کے لیے عزم کا مظاہرہ کرنا ہوگا، جن میں ٹیکس کی بنیاد کو وسیع کرنا، سرکاری شعبے کے حجم کو کم کرنا، توانائی  شعبے میں ٹرانسمیشن اور ڈسٹری بیوشن کے نقصانات کو قابلِ قبول حد تک لانا، ریگولیٹری صلاحیت کو مضبوط کرنا اور سیاسی استحکام قائم کرنا شامل ہیں۔ اگر پالیسیز جامع (سیاسی اور اقتصادی دونوں) نہ ہوں تو اعتماد اور سرمایہ کاری کم از کم کہنا، ہمیشہ ناپید رہیں گے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>حکومتی حلقوں سے معیشت کے بارے میں جو عمومی تاثر آ رہا ہے وہ یہ ہے کہ سب ٹھیک ہے، سرکاری مؤقف یہ ہے کہ حکومت نے مشکل سے حاصل کیا گیا استحکام حاصل کر لیا ہے اور اب نجی شعبے کی باری ہے کہ وہ آگے بڑھے، ایمانداری سے ٹیکس ادا کرے، سرمایہ کاری لائے اور ترقی کو فروغ دے۔ پیغام واضح ہے: نجی شعبے کے اپنا کردار ادا کیے بغیر استحکام سے ترقی کی طرف منتقلی مشکل ہوگی۔</strong></p>
<p>سرکاری حکام نشاندہی کرتے ہیں کہ ریٹنگز بہتر ہو رہی ہیں اور سروے زیادہ مثبت تصویر پیش کر رہے ہیں۔ تاہم، یہ رجائیت پسندی سرمایہ کاری میں تبدیل نہیں ہو رہی ہے۔ ملکی اور غیر ملکی دونوں طرح کی سرمایہ کاری مسلسل گر رہی ہے۔ جب ملٹی نیشنل کمپنیوں (ایم این سیز) کے ملک چھوڑنے کے بارے میں سوال کیا جاتا ہے، تو حکومت کا معیاری جواب یہ ہوتا ہے کہ یہ فرمیں عالمی حکمت عملیوں  کی وجہ سے ملک چھوڑ رہی ہیں اور پاکستان ان کے مستقبل کے منصوبوں میں  فٹ نہیں بیٹھتا۔</p>
<p>یہ ایک مایوس کن دلیل ہے، ایک حقیقت ہے۔ اصل سوال یہ ہونا چاہیے: پاکستان ایسا کیا کرنے میں ناکام ہو رہا ہے جس کی وجہ سے یہ ان کی عالمی حکمت عملی سے مطابقت نہیں رکھتا؟ ہمیں خود احتسابی کرنی ہوگی اور سمجھنا ہوگا کہ ملٹی نیشنل کمپنیاں کیوں جارہی ہیں، کیوں انتہائی امیر لوگ تیزی سے نان ریذیڈنٹ پاکستانی بن رہے ہیں اور کیوں تقریباً تمام بڑی کاروباری فیملیز نئی مینوفیکچرنگ منصوبوں میں سرمایہ کاری کرنے کے لیے تیار نہیں ہیں۔</p>
<p>یہ سوالات ناخوشگوار ضرور ہیں، مگر حکام ان سے فرار نہیں ہو سکتے۔ اسلام آباد سے آنے والے اشارے، خاص طور پر نجی شعبے کے ساتھ بات چیت میں یہ ظاہر کرتے ہیں کہ ذمہ داری کاروباری حلقوں پر ڈالنے کی کوشش کی جا رہی ہے: بہتر تعمیل کے ذریعے ٹیکس بیس بڑھائیں، مشترکہ منصوبوں اور مقامی ڈیمو پروجیکٹس کے ذریعے غیر ملکی سرمایہ کاری لائیں اور ناکام ہونے والے سرکاری ادارے خرید کر نجکاری کو کامیاب دکھائیں، چاہے ریگولیٹری یا لین دین کے فریم ورک میں خامیاں موجود ہوں۔</p>
<p>حال ہی میں اسلام آباد میں پاکستان بزنس کونسل (پی بی سی) کے ڈائیلاگ ان اکانومی کے اجلاس میں تقریباً تمام سرکاری شعبے کے نمائندوں جن میں وزیر خزانہ، اسپیشل انویسٹمنٹ فسیلی ٹیشن کونسل (ایس آئی ایف سی) کے قومی کوآرڈینیٹر، وزیر صنعت اور فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کے چیئرمین شامل تھے  نے ایک ہی پیغام دہرایا۔ انہوں نے تسلیم کیا کہ ٹیکس اور دیگر پالیسیاں غیر منصفانہ ہیں، نجی شعبے کی شکایات سے اتفاق کیا اور ساتھ ہی یہ سوال کیا کہ ایسی مشکل صورتحال میں حکومت کو کیا کرنا چاہیے۔</p>
<p>یہ ایک ہوشیار حکمت عملی ہے کہ بیانیہ کے ساتھ کھیل کر نجی شعبے سے بچا جائے، کیونکہ نجی شعبے کی پریشانی اور تکلیف تیزی سے بڑھ رہی ہے۔ حکومتی نمائندے ابتدا میں زیادہ ٹیکس، سرکاری شعبے کے بڑھتے حجم، زیادہ ضابطہ کاری اور توانائی  شعبے میں غیر مؤثریت کے مسائل پر اتفاق کرتے ہیں لیکن ان کا اگلا استدلال یہ ہوتا ہے کہ وہ یہ مسائل اکیلے حل نہیں کر سکتے اور نمو واپس لانے کے لیے نجی شعبے کو بھی شامل ہونا پڑے گا۔</p>
<p>بالکل، نجی شعبے کو اپنا کردار ادا کرنا چاہیے اور کرنا بھی لازم ہے، لیکن حکومت کو بھی عملی اقدامات دکھانے ہوں گے کیونکہ صرف بات چیت سے اعتماد پیدا نہیں ہوگا۔ حکومت کو ساختی اصلاحات کے لیے عزم کا مظاہرہ کرنا ہوگا، جن میں ٹیکس کی بنیاد کو وسیع کرنا، سرکاری شعبے کے حجم کو کم کرنا، توانائی  شعبے میں ٹرانسمیشن اور ڈسٹری بیوشن کے نقصانات کو قابلِ قبول حد تک لانا، ریگولیٹری صلاحیت کو مضبوط کرنا اور سیاسی استحکام قائم کرنا شامل ہیں۔ اگر پالیسیز جامع (سیاسی اور اقتصادی دونوں) نہ ہوں تو اعتماد اور سرمایہ کاری کم از کم کہنا، ہمیشہ ناپید رہیں گے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Editorials</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40279988</guid>
      <pubDate>Mon, 01 Dec 2025 15:56:10 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (اداریہ)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2025/12/01153743add70ff.webp" type="image/webp" medium="image" height="1024" width="1536">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2025/12/01153743add70ff.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
