<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - World</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 15:50:44 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 15:50:44 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ہانگ کانگ میں آتشزدگی، ہلاکتیں 146 تک پہنچ گئیں، سرچ آپریشن جاری</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40279987/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;ہانگ کانگ میں گزشتہ ہفتے ایک رہائشی ہاؤسنگ اسٹیٹ میں لگنے والی تباہ کن آگ میں ہلاکتوں کی تعداد 146 سے بڑھ گئی ہے، جبکہ درجنوں افراد اب بھی لاپتہ ہیں۔ حکام نے پیر کے روز بھی تباہ شدہ اپارٹمنٹ ٹاورز کی تلاشی کا عمل جاری رکھا، جن میں سے چار عمارتوں کی مکمل تلاشی لے لی گئی ہے۔ پولیس کے مطابق سیڑھیوں اور چھتوں سے لاشیں ملی ہیں، جہاں لوگ آگ سے بچنے کی کوشش میں پھنس گئے تھے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ہلاک ہونے والوں میں انڈونیشیا کی کم از کم نو گھریلو ملازمائیں اور فلپائن کی ایک خاتون بھی شامل ہیں۔ ہزاروں افراد اتوار کے روز وانگ فک کورٹ اسٹیٹ کے قریب جمع ہوئے اور ایک کلومیٹر طویل قطار میں کھڑے ہو کر متاثرین کو خراجِ عقیدت پیش کیا۔ ٹوکیو اور لندن میں بھی رواں ہفتے شمعیں روشن کرنے کی تقریبات ہوں گی۔ تقریباً 40 افراد اب بھی لاپتہ ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آگ کی وجہ تاحال سامنے نہیں آسکی، تاہم عمارت کی بیرونی دیواروں پر جاری تعمیراتی کام اور ممکنہ حفاظتی خلاف ورزیوں پر عوامی تشویش میں اضافہ ہوا ہے۔ کچھ اطلاعات کے مطابق آگ سے متعلق انتباہات کو نظرانداز کیا گیا، جبکہ غیر محفوظ تعمیراتی مواد استعمال ہونے کے شواہد بھی سامنے آئے ہیں۔ اس صورتحال میں بیجنگ نے خبردار کیا ہے کہ کوئی بھی اینٹی چائنا احتجاج سخت کارروائی کا سامنا کرے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پولیس نے آگ سے متعلق ممکنہ بدعنوانی اور غیر محفوظ تعمیراتی مواد کے استعمال کی تحقیقات کے سلسلے میں 11 افراد کو گرفتار کیا ہے۔ آگ لگنے کے وقت عمارت بانسوں کے مچان، سبز جالی اور فوم انسولیشن سے ڈھکی ہوئی تھی، جبکہ فائر الارم بھی درست کام نہیں کر رہے تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;متاثرہ عمارتوں میں 4000 سے زائد افراد رہائش پذیر تھے۔ اب تک 1100 سے زائد افراد کو عارضی رہائش گاہوں میں منتقل کیا جا چکا ہے، جبکہ 680 افراد یوتھ ہاسٹلز اور ہوٹلوں میں رہ رہے ہیں۔ حکام نے ہر خاندان کو ہنگامی امداد کے طور پر 10,000 ہانگ کانگ ڈالر دینے اور شناختی دستاویزات کے فوری اجرا میں مدد فراہم کرنے کا اعلان کیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آگ 1948 کے بعد ہانگ کانگ کی سب سے مہلک آتشزدگی ثابت ہوئی ہے، اور حکام کو خدشہ ہے کہ باقی رہ جانے والے ٹاورز کی تلاشی مکمل کرنے میں مزید کئی ہفتے لگ سکتے ہیں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>ہانگ کانگ میں گزشتہ ہفتے ایک رہائشی ہاؤسنگ اسٹیٹ میں لگنے والی تباہ کن آگ میں ہلاکتوں کی تعداد 146 سے بڑھ گئی ہے، جبکہ درجنوں افراد اب بھی لاپتہ ہیں۔ حکام نے پیر کے روز بھی تباہ شدہ اپارٹمنٹ ٹاورز کی تلاشی کا عمل جاری رکھا، جن میں سے چار عمارتوں کی مکمل تلاشی لے لی گئی ہے۔ پولیس کے مطابق سیڑھیوں اور چھتوں سے لاشیں ملی ہیں، جہاں لوگ آگ سے بچنے کی کوشش میں پھنس گئے تھے۔</strong></p>
<p>ہلاک ہونے والوں میں انڈونیشیا کی کم از کم نو گھریلو ملازمائیں اور فلپائن کی ایک خاتون بھی شامل ہیں۔ ہزاروں افراد اتوار کے روز وانگ فک کورٹ اسٹیٹ کے قریب جمع ہوئے اور ایک کلومیٹر طویل قطار میں کھڑے ہو کر متاثرین کو خراجِ عقیدت پیش کیا۔ ٹوکیو اور لندن میں بھی رواں ہفتے شمعیں روشن کرنے کی تقریبات ہوں گی۔ تقریباً 40 افراد اب بھی لاپتہ ہیں۔</p>
<p>آگ کی وجہ تاحال سامنے نہیں آسکی، تاہم عمارت کی بیرونی دیواروں پر جاری تعمیراتی کام اور ممکنہ حفاظتی خلاف ورزیوں پر عوامی تشویش میں اضافہ ہوا ہے۔ کچھ اطلاعات کے مطابق آگ سے متعلق انتباہات کو نظرانداز کیا گیا، جبکہ غیر محفوظ تعمیراتی مواد استعمال ہونے کے شواہد بھی سامنے آئے ہیں۔ اس صورتحال میں بیجنگ نے خبردار کیا ہے کہ کوئی بھی اینٹی چائنا احتجاج سخت کارروائی کا سامنا کرے گا۔</p>
<p>پولیس نے آگ سے متعلق ممکنہ بدعنوانی اور غیر محفوظ تعمیراتی مواد کے استعمال کی تحقیقات کے سلسلے میں 11 افراد کو گرفتار کیا ہے۔ آگ لگنے کے وقت عمارت بانسوں کے مچان، سبز جالی اور فوم انسولیشن سے ڈھکی ہوئی تھی، جبکہ فائر الارم بھی درست کام نہیں کر رہے تھے۔</p>
<p>متاثرہ عمارتوں میں 4000 سے زائد افراد رہائش پذیر تھے۔ اب تک 1100 سے زائد افراد کو عارضی رہائش گاہوں میں منتقل کیا جا چکا ہے، جبکہ 680 افراد یوتھ ہاسٹلز اور ہوٹلوں میں رہ رہے ہیں۔ حکام نے ہر خاندان کو ہنگامی امداد کے طور پر 10,000 ہانگ کانگ ڈالر دینے اور شناختی دستاویزات کے فوری اجرا میں مدد فراہم کرنے کا اعلان کیا ہے۔</p>
<p>آگ 1948 کے بعد ہانگ کانگ کی سب سے مہلک آتشزدگی ثابت ہوئی ہے، اور حکام کو خدشہ ہے کہ باقی رہ جانے والے ٹاورز کی تلاشی مکمل کرنے میں مزید کئی ہفتے لگ سکتے ہیں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40279987</guid>
      <pubDate>Mon, 01 Dec 2025 15:34:00 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (رائٹرز)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2025/12/01153024b36071c.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2025/12/01153024b36071c.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
