<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - World</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sun, 07 Jun 2026 00:20:46 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sun, 07 Jun 2026 00:20:46 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>بنگلہ دیش میں کرپشن کیس، برطانوی ایم پی ٹیولپ صدیق کو عدم موجودگی میں دو سال قید کی سزا</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40279985/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;بنگلہ دیش کی ایک عدالت نے برطانوی رکنِ پارلیمنٹ اور سابق وزیر ٹیولپ صدیق کو پلاٹ کی مبینہ غیر قانونی الاٹمنٹ کے مقدمے میں عدم موجودگی میں دو سال قید کی سزا سنادی ہے۔ استغاثہ کے مطابق یہ مقدمہ دارالحکومت ڈھاکا میں سرکاری زمین کی مبینہ غیر قانونی الاٹمنٹ سے متعلق تھا۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عدالتی فیصلے کے تحت سابق وزیرِاعظم شیخ حسینہ، جو ٹیولپ صدیق کی خالہ ہیں، کو بھی عدم موجودگی میں پانچ سال قید جبکہ ان کی بہن ریحانہ کو سات سال قید کی سزا سنائی گئی۔ تینوں کو ایک ایک لاکھ ٹکہ جرمانہ بھی کیا گیا ہے اور جرمانہ ادا نہ کرنے کی صورت میں مزید چھ ماہ قید کی سزا لاگو ہوگی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ٹیولپ صدیق نے جنوری میں برطانیہ میں اپنی وزارت سے استعفیٰ دے دیا تھا، جہاں وہ مالیاتی خدمات اور انسدادِ بدعنوانی کی ذمہ دار تھیں۔ ان پر اپنی خالہ شیخ حسینہ واجد سے مالی تعلقات کی بنا پر دباؤ بڑھا تھا۔ تیولپ صدیق پہلے ہی ان تمام الزامات کو سیاسی طور پر ہدف بنانے کی کوشش قرار دے چکی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;برطانیہ اور بنگلہ دیش کے درمیان مجرموں کی حوالگی کا کوئی معاہدہ نہیں ہے جس کے باعث ان کی واپسی کے امکانات مزید محدود تصور کیے جا رہے ہیں۔ شیخ حسینہ واجد کے نمائندوں نے رائٹرز کی جانب سے کیے گئے رابطے کا فوری طور پر کوئی جواب نہیں دیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;استغاثہ کے مطابق ڈھاکا میں تقریباً 13,610 اسکوائر فٹ رقبے پر مشتمل یہ پلاٹ سیاسی اثر و رسوخ اور اعلیٰ سرکاری افسران سے ملی بھگت کے ذریعے غیر قانونی طور پر حاصل کیا گیا۔ ان کے بقول تینوں بااثر ملزمان نے حسینہ واجد کے دورِ وزارت عظمیٰ میں اپنے عہدے کا غلط استعمال کرتے ہوئے یہ زمین حاصل کی، جو شہر میں بڑھتی ہوئی آبادی اور رہائشی دباؤ کم کرنے کے لیے مجوزہ نئی ٹاؤن شپ کے لیے مختص تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مقدمے میں نامزد دیگر 14 ملزمان کو بھی پانچ سال قید کی سزا سنائی گئی ہے۔ یاد رہے کہ شیخ حسینہ واجد گزشتہ برس اگست میں اپنے خلاف ملک گیر تحریک کے دوران بھارت فرار ہوگئی تھیں، اور گزشتہ ماہ انہیں احتجاج کرنے والوں پر پرتشدد کریک ڈاؤن کے الزام میں سزائے موت سنائی گئی تھی۔ اس کے علاوہ گزشتہ ہفتے مختلف کرپشن کیسز میں انہیں مجموعی طور پر 21 سال قید کی سزائیں بھی سنائی گئیں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>بنگلہ دیش کی ایک عدالت نے برطانوی رکنِ پارلیمنٹ اور سابق وزیر ٹیولپ صدیق کو پلاٹ کی مبینہ غیر قانونی الاٹمنٹ کے مقدمے میں عدم موجودگی میں دو سال قید کی سزا سنادی ہے۔ استغاثہ کے مطابق یہ مقدمہ دارالحکومت ڈھاکا میں سرکاری زمین کی مبینہ غیر قانونی الاٹمنٹ سے متعلق تھا۔</strong></p>
<p>عدالتی فیصلے کے تحت سابق وزیرِاعظم شیخ حسینہ، جو ٹیولپ صدیق کی خالہ ہیں، کو بھی عدم موجودگی میں پانچ سال قید جبکہ ان کی بہن ریحانہ کو سات سال قید کی سزا سنائی گئی۔ تینوں کو ایک ایک لاکھ ٹکہ جرمانہ بھی کیا گیا ہے اور جرمانہ ادا نہ کرنے کی صورت میں مزید چھ ماہ قید کی سزا لاگو ہوگی۔</p>
<p>ٹیولپ صدیق نے جنوری میں برطانیہ میں اپنی وزارت سے استعفیٰ دے دیا تھا، جہاں وہ مالیاتی خدمات اور انسدادِ بدعنوانی کی ذمہ دار تھیں۔ ان پر اپنی خالہ شیخ حسینہ واجد سے مالی تعلقات کی بنا پر دباؤ بڑھا تھا۔ تیولپ صدیق پہلے ہی ان تمام الزامات کو سیاسی طور پر ہدف بنانے کی کوشش قرار دے چکی ہیں۔</p>
<p>برطانیہ اور بنگلہ دیش کے درمیان مجرموں کی حوالگی کا کوئی معاہدہ نہیں ہے جس کے باعث ان کی واپسی کے امکانات مزید محدود تصور کیے جا رہے ہیں۔ شیخ حسینہ واجد کے نمائندوں نے رائٹرز کی جانب سے کیے گئے رابطے کا فوری طور پر کوئی جواب نہیں دیا۔</p>
<p>استغاثہ کے مطابق ڈھاکا میں تقریباً 13,610 اسکوائر فٹ رقبے پر مشتمل یہ پلاٹ سیاسی اثر و رسوخ اور اعلیٰ سرکاری افسران سے ملی بھگت کے ذریعے غیر قانونی طور پر حاصل کیا گیا۔ ان کے بقول تینوں بااثر ملزمان نے حسینہ واجد کے دورِ وزارت عظمیٰ میں اپنے عہدے کا غلط استعمال کرتے ہوئے یہ زمین حاصل کی، جو شہر میں بڑھتی ہوئی آبادی اور رہائشی دباؤ کم کرنے کے لیے مجوزہ نئی ٹاؤن شپ کے لیے مختص تھی۔</p>
<p>مقدمے میں نامزد دیگر 14 ملزمان کو بھی پانچ سال قید کی سزا سنائی گئی ہے۔ یاد رہے کہ شیخ حسینہ واجد گزشتہ برس اگست میں اپنے خلاف ملک گیر تحریک کے دوران بھارت فرار ہوگئی تھیں، اور گزشتہ ماہ انہیں احتجاج کرنے والوں پر پرتشدد کریک ڈاؤن کے الزام میں سزائے موت سنائی گئی تھی۔ اس کے علاوہ گزشتہ ہفتے مختلف کرپشن کیسز میں انہیں مجموعی طور پر 21 سال قید کی سزائیں بھی سنائی گئیں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40279985</guid>
      <pubDate>Mon, 01 Dec 2025 14:53:40 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (رائٹرز)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2025/12/011451056ac3cfa.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2025/12/011451056ac3cfa.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
