<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - News</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Thu, 04 Jun 2026 12:39:45 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Thu, 04 Jun 2026 12:39:45 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>حکومت کی اسلام آباد سے لاہور موٹروے پر جدید موسمی الرٹ سسٹم نافذ کرنے کی تیاری</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40279977/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;پاکستان نے اسلام آباد سے لاہور موٹروے پر دنیا کے جدید ترین روڈ ویدر الرٹ سسٹمز میں سے ایک کے نفاذ کی تیاری کر لی ہے، جسے ویدر آن دی وے منصوبے کے تحت متعارف کرایا جائے گا۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ منصوبہ ویدر والے اور ون نیٹ ورک کے درمیان شراکت داری کا پہلا تجربہ ہے جو خطے میں اس نوعیت کا ہے اور یہ بڑے سفر کے راستے پر مسافروں کو حقیقی وقت میں مقامی موسمی معلومات فراہم کرے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ جدید سسٹم 14 خودکار موسمی اسٹیشنز، 5 فضائی معیار کے سینسرز، 4 وژیبلیٹی سینسرز، سیٹلائٹ فیڈز اور موسمی پیش گوئیوں کو ملا کر کام کرتا ہے۔ ڈیٹا کو ایک ڈسیژن سپورٹ انجن کے ذریعے پروسیس کیا جاتا ہے جو دھند، بارش، ہوا، کم وژیبلیٹی اور دیگر موسمی خطرات کی نگرانی کرتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;معلومات  بعد میں موبائل ایپس، ویب پلیٹ فارمز اور ٹول پلازوں پر نصب اسکرینز کے ذریعے مسافروں تک پہنچائی جاتی ہیں، تاکہ وہ محفوظ اور باخبر فیصلے کر سکیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ اقدام پاکستان میں روڈ ویدر انٹیلی جنس میں ایک اہم سنگِ میل ہے، جہاں پہلی بار سڑکوں کے آپریٹرز، پبلک ایجنسیاں اور ڈرائیور ایک ہی وقت میں درست موسمی معلومات تک رسائی حاصل کر سکیں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مذکورہ سسٹم کے ذریعے نہ صرف موٹروے سفر بلکہ زراعت، توانائی، ٹورزم، لاجسٹکس اور ماحولیاتی نگرانی کے شعبے بھی مستفید ہوں گے۔ مثال کے طور پر کسان اس ڈیٹا کی مدد سے آبپاشی اور بوائی کی منصوبہ بندی کر سکیں گے، دھند والے راستوں کا انتظام بہتر ہوگا اور مقامی ماحول میں ڈینگی یا فصلوں کی بیماریوں کے امکانات کی نگرانی ممکن ہو سکے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ویدر والے کے کام کا دائرہ پورے ملک میں پھیلا ہوا ہے اور یہ یورپی، امریکی، سوئس اور مقامی موسمی ماڈلز کو پاکستان کے مقامی حالات کے مطابق ترتیب دیتا ہے۔ منصوبے کے تحت عوام، مسافر، پبلک ادارے اور پبلک سیفٹی ایجنسیاں بہتر منصوبہ بندی اور فوری کارروائی کے قابل ہوں گی۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>پاکستان نے اسلام آباد سے لاہور موٹروے پر دنیا کے جدید ترین روڈ ویدر الرٹ سسٹمز میں سے ایک کے نفاذ کی تیاری کر لی ہے، جسے ویدر آن دی وے منصوبے کے تحت متعارف کرایا جائے گا۔</strong></p>
<p>یہ منصوبہ ویدر والے اور ون نیٹ ورک کے درمیان شراکت داری کا پہلا تجربہ ہے جو خطے میں اس نوعیت کا ہے اور یہ بڑے سفر کے راستے پر مسافروں کو حقیقی وقت میں مقامی موسمی معلومات فراہم کرے گا۔</p>
<p>یہ جدید سسٹم 14 خودکار موسمی اسٹیشنز، 5 فضائی معیار کے سینسرز، 4 وژیبلیٹی سینسرز، سیٹلائٹ فیڈز اور موسمی پیش گوئیوں کو ملا کر کام کرتا ہے۔ ڈیٹا کو ایک ڈسیژن سپورٹ انجن کے ذریعے پروسیس کیا جاتا ہے جو دھند، بارش، ہوا، کم وژیبلیٹی اور دیگر موسمی خطرات کی نگرانی کرتا ہے۔</p>
<p>معلومات  بعد میں موبائل ایپس، ویب پلیٹ فارمز اور ٹول پلازوں پر نصب اسکرینز کے ذریعے مسافروں تک پہنچائی جاتی ہیں، تاکہ وہ محفوظ اور باخبر فیصلے کر سکیں۔</p>
<p>یہ اقدام پاکستان میں روڈ ویدر انٹیلی جنس میں ایک اہم سنگِ میل ہے، جہاں پہلی بار سڑکوں کے آپریٹرز، پبلک ایجنسیاں اور ڈرائیور ایک ہی وقت میں درست موسمی معلومات تک رسائی حاصل کر سکیں گے۔</p>
<p>مذکورہ سسٹم کے ذریعے نہ صرف موٹروے سفر بلکہ زراعت، توانائی، ٹورزم، لاجسٹکس اور ماحولیاتی نگرانی کے شعبے بھی مستفید ہوں گے۔ مثال کے طور پر کسان اس ڈیٹا کی مدد سے آبپاشی اور بوائی کی منصوبہ بندی کر سکیں گے، دھند والے راستوں کا انتظام بہتر ہوگا اور مقامی ماحول میں ڈینگی یا فصلوں کی بیماریوں کے امکانات کی نگرانی ممکن ہو سکے گی۔</p>
<p>ویدر والے کے کام کا دائرہ پورے ملک میں پھیلا ہوا ہے اور یہ یورپی، امریکی، سوئس اور مقامی موسمی ماڈلز کو پاکستان کے مقامی حالات کے مطابق ترتیب دیتا ہے۔ منصوبے کے تحت عوام، مسافر، پبلک ادارے اور پبلک سیفٹی ایجنسیاں بہتر منصوبہ بندی اور فوری کارروائی کے قابل ہوں گی۔</p>
]]></content:encoded>
      <category/>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40279977</guid>
      <pubDate>Mon, 01 Dec 2025 13:57:37 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (اے پی پی)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2025/12/011324111452329.webp" type="image/webp" medium="image" height="768" width="1024">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2025/12/011324111452329.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
