<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Pakistan</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 19:01:12 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 19:01:12 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>جیل میں عمران خان کی حالت پر بیٹوں کا اظہار تشویش</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40279975/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;سابق وزیرِاعظم عمران خان کے بیٹوں نے تشویش ظاہر کی ہے کہ حکام ان کے والد کی صحت سے متعلق کوئی ناقابلِ تلافی بات چھپا رہے ہیں، کیونکہ تین ہفتوں سے زائد عرصہ گزر جانے کے باوجود ان کے زندہ ہونے کا کوئی ثبوت سامنے نہیں آیا۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عدالتی حکم کے باوجود جیل میں ملاقاتوں کی اجازت نہ ملنے اور ممکنہ جیل منتقلی کی افواہوں کے دوران عمران خان کے بیٹے قاسم خان نے رائٹرز کو بتایا کہ خاندان کو ابھی تک کوئی براہِ راست یا قابلِ تصدیق رابطہ نہیں ملا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے تحریری بیان میں کہا یہ نہ جاننا کہ آپ کے والد محفوظ ہیں، زخمی ہیں یا زندہ بھی ہیں یا نہیں ذہنی اذیت کی ایک شکل ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ کئی ماہ سے کسی آزاد ذریعے سے رابطے کی تصدیق نہیں ہوئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے مزید کہا کہ آج ہمارے پاس ان کی حالت کے بارے میں کوئی قابلِ تصدیق معلومات نہیں۔ ہمارا سب سے بڑا خوف یہی ہے کہ ہم سے کوئی ناقابلِ واپسی حقیقت چھپائی جا رہی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;خاندان نے متعدد بار عمران خان کے ذاتی معالج کو رسائی دینے کی درخواست کی، لیکن ایک سال سے زائد عرصے سے انہیں طبی معائنے کی اجازت نہیں ملی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزارتِ داخلہ نے تبصرہ کرنے سے گریز کیا۔ جیل کے ایک اہلکار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر رائٹرز کو بتایا کہ بانی کی صحت ٹھیک ہے اور انہیں کسی ہائی سیکیورٹی سہولت میں منتقل کرنے کا کوئی منصوبہ نہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;72 سالہ عمران خان اگست 2023 سے جیل میں ہیں، متعدد مقدمات میں سزا پا چکے ہیں جنہیں وہ اپنی 2022 کی برطرفی کے بعد سیاسی طور پر محرک قرار دیتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان کی پہلی سزا توشہ خانہ کیس میں سرکاری تحائف کی غیرقانونی فروخت کے الزام پر سنائی گئی۔ بعد کے فیصلوں میں مزید طویل قید کی سزائیں شامل ہوئیں، جن میں سفارتی سائفر لیک کرنے کے الزام میں 10 سال اور القادر ٹرسٹ کیس میں 14 سال قید شامل ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پی ٹی آئی کا مؤقف ہے کہ یہ مقدمات انہیں عوام اور انتخابات سے باہر رکھنے کی کوشش ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;hr /&gt;
&lt;h3&gt;&lt;a id="معلومات-کی-عدم-دستیابی-خاندان-کی-تشویش-بڑھا-رہی-ہے" href="#معلومات-کی-عدم-دستیابی-خاندان-کی-تشویش-بڑھا-رہی-ہے" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;&lt;strong&gt;معلومات کی عدم دستیابی، خاندان کی تشویش بڑھا رہی ہے&lt;/strong&gt;&lt;/h3&gt;
&lt;p&gt;خاندان کا کہنا ہے کہ رابطے کی کمی نے اس خوف کو جنم دیا ہے کہ عمران خان کو جان بوجھ کر عوامی نظر سے دور رکھا جا رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ٹی وی چینلز کو ان کا نام اور تصویر نشر نہ کرنے کی ہدایات دی گئی ہیں، جس کے باعث ان کی قید کے بعد صرف ایک مبہم سی عدالت کی تصویر ہی منظرِعام پر رہی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;قاسم خان نے کہا یہ تنہائی منصوبہ بندی کے تحت ہے۔ وہ ان سے خوفزدہ ہیں۔ وہ پاکستان کے مقبول ترین رہنما ہیں اور جانتے ہیں کہ انہیں جمہوریت کے ذریعے شکست نہیں دی جا سکتی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;قاسم اور ان کے بڑے بھائی سلیمان عیسیٰ خان اپنی والدہ جمائما گولڈ اسمتھ کے ساتھ لندن میں مقیم اور پاکستانی سیاست سے ہمیشہ دور رہے ہیں۔ دونوں شاذونادر ہی اپنے والد کے حوالے سے گفتگو کرتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;قاسم کے مطابق آخری بار انہوں نے اپنے والد کو نومبر 2022 میں دیکھا تھا، جب وہ حملے میں زخمی ہونے کے بعد پاکستان گئے تھے۔ وہ منظر آج تک ذہن میں نقش ہے۔ ایسے حال میں والد کو دیکھنا بھلایا نہیں جا سکتا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ اب جب ہفتوں سے کوئی رابطہ نہیں اور نہ زندگی کی کوئی علامت تو اس یاد کی نوعیت بھی بدل گئی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;خاندان داخلی و خارجی فورمز، بشمول بین الاقوامی انسانی حقوق تنظیموں سے رجوع کر رہا ہے اور عدالت کے حکم کے مطابق ملاقات فوری بحال کرنے کا مطالبہ کرتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;قاسم نے کہا یہ صرف سیاسی تنازعہ نہیں، ایک انسانی حقوق کا بحران ہے۔ ہر سمت سے دباؤ ڈالنا ضروری ہے۔ ہم ان سے حوصلہ لیتے ہیں، لیکن ہمیں جاننا ہے کہ وہ محفوظ ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;hr /&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>سابق وزیرِاعظم عمران خان کے بیٹوں نے تشویش ظاہر کی ہے کہ حکام ان کے والد کی صحت سے متعلق کوئی ناقابلِ تلافی بات چھپا رہے ہیں، کیونکہ تین ہفتوں سے زائد عرصہ گزر جانے کے باوجود ان کے زندہ ہونے کا کوئی ثبوت سامنے نہیں آیا۔</strong></p>
<p>عدالتی حکم کے باوجود جیل میں ملاقاتوں کی اجازت نہ ملنے اور ممکنہ جیل منتقلی کی افواہوں کے دوران عمران خان کے بیٹے قاسم خان نے رائٹرز کو بتایا کہ خاندان کو ابھی تک کوئی براہِ راست یا قابلِ تصدیق رابطہ نہیں ملا۔</p>
<p>انہوں نے تحریری بیان میں کہا یہ نہ جاننا کہ آپ کے والد محفوظ ہیں، زخمی ہیں یا زندہ بھی ہیں یا نہیں ذہنی اذیت کی ایک شکل ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ کئی ماہ سے کسی آزاد ذریعے سے رابطے کی تصدیق نہیں ہوئی۔</p>
<p>انہوں نے مزید کہا کہ آج ہمارے پاس ان کی حالت کے بارے میں کوئی قابلِ تصدیق معلومات نہیں۔ ہمارا سب سے بڑا خوف یہی ہے کہ ہم سے کوئی ناقابلِ واپسی حقیقت چھپائی جا رہی ہے۔</p>
<p>خاندان نے متعدد بار عمران خان کے ذاتی معالج کو رسائی دینے کی درخواست کی، لیکن ایک سال سے زائد عرصے سے انہیں طبی معائنے کی اجازت نہیں ملی۔</p>
<p>وزارتِ داخلہ نے تبصرہ کرنے سے گریز کیا۔ جیل کے ایک اہلکار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر رائٹرز کو بتایا کہ بانی کی صحت ٹھیک ہے اور انہیں کسی ہائی سیکیورٹی سہولت میں منتقل کرنے کا کوئی منصوبہ نہیں۔</p>
<p>72 سالہ عمران خان اگست 2023 سے جیل میں ہیں، متعدد مقدمات میں سزا پا چکے ہیں جنہیں وہ اپنی 2022 کی برطرفی کے بعد سیاسی طور پر محرک قرار دیتے ہیں۔</p>
<p>ان کی پہلی سزا توشہ خانہ کیس میں سرکاری تحائف کی غیرقانونی فروخت کے الزام پر سنائی گئی۔ بعد کے فیصلوں میں مزید طویل قید کی سزائیں شامل ہوئیں، جن میں سفارتی سائفر لیک کرنے کے الزام میں 10 سال اور القادر ٹرسٹ کیس میں 14 سال قید شامل ہیں۔</p>
<p>پی ٹی آئی کا مؤقف ہے کہ یہ مقدمات انہیں عوام اور انتخابات سے باہر رکھنے کی کوشش ہیں۔</p>
<hr />
<h3><a id="معلومات-کی-عدم-دستیابی-خاندان-کی-تشویش-بڑھا-رہی-ہے" href="#معلومات-کی-عدم-دستیابی-خاندان-کی-تشویش-بڑھا-رہی-ہے" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a><strong>معلومات کی عدم دستیابی، خاندان کی تشویش بڑھا رہی ہے</strong></h3>
<p>خاندان کا کہنا ہے کہ رابطے کی کمی نے اس خوف کو جنم دیا ہے کہ عمران خان کو جان بوجھ کر عوامی نظر سے دور رکھا جا رہا ہے۔</p>
<p>ٹی وی چینلز کو ان کا نام اور تصویر نشر نہ کرنے کی ہدایات دی گئی ہیں، جس کے باعث ان کی قید کے بعد صرف ایک مبہم سی عدالت کی تصویر ہی منظرِعام پر رہی ہے۔</p>
<p>قاسم خان نے کہا یہ تنہائی منصوبہ بندی کے تحت ہے۔ وہ ان سے خوفزدہ ہیں۔ وہ پاکستان کے مقبول ترین رہنما ہیں اور جانتے ہیں کہ انہیں جمہوریت کے ذریعے شکست نہیں دی جا سکتی۔</p>
<p>قاسم اور ان کے بڑے بھائی سلیمان عیسیٰ خان اپنی والدہ جمائما گولڈ اسمتھ کے ساتھ لندن میں مقیم اور پاکستانی سیاست سے ہمیشہ دور رہے ہیں۔ دونوں شاذونادر ہی اپنے والد کے حوالے سے گفتگو کرتے ہیں۔</p>
<p>قاسم کے مطابق آخری بار انہوں نے اپنے والد کو نومبر 2022 میں دیکھا تھا، جب وہ حملے میں زخمی ہونے کے بعد پاکستان گئے تھے۔ وہ منظر آج تک ذہن میں نقش ہے۔ ایسے حال میں والد کو دیکھنا بھلایا نہیں جا سکتا۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ اب جب ہفتوں سے کوئی رابطہ نہیں اور نہ زندگی کی کوئی علامت تو اس یاد کی نوعیت بھی بدل گئی ہے۔</p>
<p>خاندان داخلی و خارجی فورمز، بشمول بین الاقوامی انسانی حقوق تنظیموں سے رجوع کر رہا ہے اور عدالت کے حکم کے مطابق ملاقات فوری بحال کرنے کا مطالبہ کرتا ہے۔</p>
<p>قاسم نے کہا یہ صرف سیاسی تنازعہ نہیں، ایک انسانی حقوق کا بحران ہے۔ ہر سمت سے دباؤ ڈالنا ضروری ہے۔ ہم ان سے حوصلہ لیتے ہیں، لیکن ہمیں جاننا ہے کہ وہ محفوظ ہیں۔</p>
<hr />
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40279975</guid>
      <pubDate>Mon, 01 Dec 2025 14:24:25 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (رائٹرز)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2025/12/01125623f4620e5.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2025/12/01125623f4620e5.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
