<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - News</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Thu, 04 Jun 2026 09:31:20 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Thu, 04 Jun 2026 09:31:20 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>خیبر پختونخوا میں اسٹریٹ اکانومی کو قانونی تحفظ دینے کا فیصلہ</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40279973/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;خیبر پختونخوا کی صوبائی حکومت نے صوبے بھر میں ہزاروں اسٹریٹ ویڈرز (ریڑی بانوں) کے کاروبار کو قانونی تحفظ دینے کا فیصلہ کیا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس مقصد کے لیے حکومت  اسٹریٹ اکانومی جس کی مالیت 380 ارب روپے ہے کو تحفظ فراہم کرنے کے لیے خصوصی قانون سازی متعارف کروا رہی ہے، جس سے ریڑی بانوں کے روزگار کو باضابطہ نظام کا حصہ بنایا جائے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزیراعلیٰ محمد سہیل آفریدی کے مطابق خیبر پختونخوا احساس ریڑھی بان روزگار تحفظ بل 2025 کا مسودہ تیار کر کے صوبائی کابینہ کو بھیج دیا گیا ہے، جس کی منظوری کے بعد اسے صوبائی اسمبلی میں پیش کیا جائے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ اس قانون کی منظوری کے بعد خیبر پختونخوا ملک کا پہلا صوبہ بن جائے گا جہاں اسٹریٹ ویڈرز کے حقوق کو مستقل قانونی تحفظ حاصل ہوگا۔ صوبے بھر میں 1 لاکھ 40 ہزار سے زائد ریڑھی بان اس نظام میں شامل ہوں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزیراعلیٰ نے واضح کیا کہ کسی بھی ادارے، افسر یا نجی فرد کو ریڑھی بانوں کی جگہوں پر ناجائز قبضہ کرنے، انہیں بے دخل کرنے یا دباؤ ڈالنے کی اجازت نہیں ہوگی۔ قانون کے تحت دھونس، زبردستی، غیرقانونی رقوم کا مطالبہ یا ہراسانی سنگین جرم تصور ہوگا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بل میں رجسٹرڈ ریڑھی بانوں کے خلاف کسی بھی انسدادِ تجاوزات کارروائی کے لیے پیشگی نوٹس، شواہد اور قانونی طریقہ کار لازمی قرار دیا گیا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ ریڑھی بانوں کو مائیکرو فنانس، قرضہ، انشورنس اور ہنگامی امداد تک رسائی بھی فراہم کی جائے گی، تاکہ وہ غیر رسمی معیشت سے نکل کر باضابطہ معاشی نظام کا حصہ بن سکیں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>خیبر پختونخوا کی صوبائی حکومت نے صوبے بھر میں ہزاروں اسٹریٹ ویڈرز (ریڑی بانوں) کے کاروبار کو قانونی تحفظ دینے کا فیصلہ کیا ہے۔</strong></p>
<p>اس مقصد کے لیے حکومت  اسٹریٹ اکانومی جس کی مالیت 380 ارب روپے ہے کو تحفظ فراہم کرنے کے لیے خصوصی قانون سازی متعارف کروا رہی ہے، جس سے ریڑی بانوں کے روزگار کو باضابطہ نظام کا حصہ بنایا جائے گا۔</p>
<p>وزیراعلیٰ محمد سہیل آفریدی کے مطابق خیبر پختونخوا احساس ریڑھی بان روزگار تحفظ بل 2025 کا مسودہ تیار کر کے صوبائی کابینہ کو بھیج دیا گیا ہے، جس کی منظوری کے بعد اسے صوبائی اسمبلی میں پیش کیا جائے گا۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ اس قانون کی منظوری کے بعد خیبر پختونخوا ملک کا پہلا صوبہ بن جائے گا جہاں اسٹریٹ ویڈرز کے حقوق کو مستقل قانونی تحفظ حاصل ہوگا۔ صوبے بھر میں 1 لاکھ 40 ہزار سے زائد ریڑھی بان اس نظام میں شامل ہوں گے۔</p>
<p>وزیراعلیٰ نے واضح کیا کہ کسی بھی ادارے، افسر یا نجی فرد کو ریڑھی بانوں کی جگہوں پر ناجائز قبضہ کرنے، انہیں بے دخل کرنے یا دباؤ ڈالنے کی اجازت نہیں ہوگی۔ قانون کے تحت دھونس، زبردستی، غیرقانونی رقوم کا مطالبہ یا ہراسانی سنگین جرم تصور ہوگا۔</p>
<p>بل میں رجسٹرڈ ریڑھی بانوں کے خلاف کسی بھی انسدادِ تجاوزات کارروائی کے لیے پیشگی نوٹس، شواہد اور قانونی طریقہ کار لازمی قرار دیا گیا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ ریڑھی بانوں کو مائیکرو فنانس، قرضہ، انشورنس اور ہنگامی امداد تک رسائی بھی فراہم کی جائے گی، تاکہ وہ غیر رسمی معیشت سے نکل کر باضابطہ معاشی نظام کا حصہ بن سکیں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category/>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40279973</guid>
      <pubDate>Mon, 01 Dec 2025 12:47:14 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ریکارڈر رپورٹ)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2025/12/0112403097f6683.webp" type="image/webp" medium="image" height="682" width="1024">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2025/12/0112403097f6683.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
