<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Business &amp; Finance</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Fri, 05 Jun 2026 08:54:27 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Fri, 05 Jun 2026 08:54:27 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>برآمدی صنعتوں پر ایکسپورٹ ڈیولپمنٹ سرچارج ختم کرنے پر حکومت کی ستائش</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40279971/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;کاروباری برادری نے حکومت کی جانب سے برآمدی صنعتوں پر عائد ایکسپورٹ ڈویلپمنٹ سرچارج ختم کرنے کے فیصلے کو سراہا  اور اسے برآمدات کے فروغ کے لیے مثبت قدم قرار دیا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فیڈرل بی ایریا ایسوسی ایشن آف ٹریڈ اینڈ انڈسٹری (فباٹی) کے صدر شیخ محمد تحسین نے کہا کہ سرچارج کے خاتمے سے برآمدکنندگان کو مالی ریلیف ملے گا اور وہ اپنی مصنوعات عالمی منڈی میں زیادہ مسابقتی قیمتوں پر فروخت کر سکیں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے مطالبہ کیا کہ اس سرچارج کے تحت جمع ہونے والے 50 ارب روپے کو شفافیت کے ساتھ برآمدی شعبے کے انفرااسٹرکچر مسائل کے حل پر خرچ کیا جائے۔ ساتھ ہی&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے تجویز دی کہ فنڈز کے استعمال کی نگرانی کے لیے بنائی جانے والی کمیٹی میں معروف کاروباری رہنماؤں اور متعلقہ صنعتوں کے نمائندوں کو شامل کیا جائے اور ہر شہر سے جمع ہونے والے فنڈز کو اسی شہر کی صنعتوں پر لگایا جائے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے صنعتی فضلے کے بہتر انتظام، ماحولیاتی معیار کی پاسداری اور ہنرمند افرادی قوت کی تربیت پر بھی زور دیا، جس سے برآمدی صلاحیت میں اضافہ ہو گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسری جانب پی ایچ ایم اے  کے چیئرمین بابر خان نے کہا کہ مستقبل میں حکومت کو برآمدی شعبے پر ٹیکسوں اور ڈیوٹیز کے نفاذ سے گریز کرنا چاہیے اور توانائی بحران و ٹیکس بوجھ کم کر کے کاروباری ماحول بہتر بنانا چاہیے۔&lt;/p&gt;
&lt;hr /&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>کاروباری برادری نے حکومت کی جانب سے برآمدی صنعتوں پر عائد ایکسپورٹ ڈویلپمنٹ سرچارج ختم کرنے کے فیصلے کو سراہا  اور اسے برآمدات کے فروغ کے لیے مثبت قدم قرار دیا ہے۔</strong></p>
<p>فیڈرل بی ایریا ایسوسی ایشن آف ٹریڈ اینڈ انڈسٹری (فباٹی) کے صدر شیخ محمد تحسین نے کہا کہ سرچارج کے خاتمے سے برآمدکنندگان کو مالی ریلیف ملے گا اور وہ اپنی مصنوعات عالمی منڈی میں زیادہ مسابقتی قیمتوں پر فروخت کر سکیں گے۔</p>
<p>انہوں نے مطالبہ کیا کہ اس سرچارج کے تحت جمع ہونے والے 50 ارب روپے کو شفافیت کے ساتھ برآمدی شعبے کے انفرااسٹرکچر مسائل کے حل پر خرچ کیا جائے۔ ساتھ ہی</p>
<p>انہوں نے تجویز دی کہ فنڈز کے استعمال کی نگرانی کے لیے بنائی جانے والی کمیٹی میں معروف کاروباری رہنماؤں اور متعلقہ صنعتوں کے نمائندوں کو شامل کیا جائے اور ہر شہر سے جمع ہونے والے فنڈز کو اسی شہر کی صنعتوں پر لگایا جائے۔</p>
<p>انہوں نے صنعتی فضلے کے بہتر انتظام، ماحولیاتی معیار کی پاسداری اور ہنرمند افرادی قوت کی تربیت پر بھی زور دیا، جس سے برآمدی صلاحیت میں اضافہ ہو گا۔</p>
<p>دوسری جانب پی ایچ ایم اے  کے چیئرمین بابر خان نے کہا کہ مستقبل میں حکومت کو برآمدی شعبے پر ٹیکسوں اور ڈیوٹیز کے نفاذ سے گریز کرنا چاہیے اور توانائی بحران و ٹیکس بوجھ کم کر کے کاروباری ماحول بہتر بنانا چاہیے۔</p>
<hr />
]]></content:encoded>
      <category>Business &amp; Finance</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40279971</guid>
      <pubDate>Mon, 01 Dec 2025 12:24:18 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ریکارڈر رپورٹ)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2025/12/011217450038a16.webp" type="image/webp" medium="image" height="768" width="1024">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2025/12/011217450038a16.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
