<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - World</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sat, 06 Jun 2026 19:21:56 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sat, 06 Jun 2026 19:21:56 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>بنگلہ دیشی رہنما خالدہ ضیا کی حالت نازک ، جلا وطن بیٹے کی واپسی غیر یقینی صورتحال کا شکار</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40279951/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;سابق بنگلہ دیشی وزیراعظم اور اپوزیشن رہنما خالدہ ضیا ڈھاکہ کے ایک اسپتال میں  انتہائی نازک حالت میں ہیں جبکہ ان کے جلاوطن بیٹے اور عبوری پارٹی سربراہ طارق رحمان کی واپسی کے حوالے سے غیر یقینی صورتحال برقرار ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پارٹی ذرائع نے اتوار کو بتایا کہ 80 سالہ خالدہ ضیا کو 23 نومبر کو  سینے کے شدید انفکشن پر نجی اسپتال میں داخل کیا گیا تھا،اس عارضے نے ان کے دل اور پھیپھڑوں کو متاثر کیاہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈاکٹرز اور بنگلہ دیش نیشنل پارٹی کے سینئر عہدیداروں نے مزید بتایاکہ ان کی خراب ہوتی صحت اس وقت سامنے آئی ہے جب ان کی سیاسی پارٹی حساس مرحلے سے گزر رہی ہے۔ پارٹی نے حال ہی میں ملکی سیاست میں دوبارہ اہمیت  حاصل کرلی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;واضح رہے کہ  شیخ حسینہ واجد بنگلہ دیش کی طویل عرصے تک  وزیراعظم رہنے کے بعد پچھلے سال طلبہ کی قیادت میں ہونے والے احتجاج کے بعد اقتدار سے علیحدہ ہو گئی تھیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;طارق رحمان جو 2008 سے لندن میں مقیم ہیں نے ہفتہ کو فیس بک پر لکھا کہ ان کی بنگلہ دیش واپسی  مکمل طور پر ان کے اختیار میں نہیں، جس سے سیاسی یا قانونی رکاوٹوں کے بارے میں قیاس آرائیاں شروع ہو گئیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;چند گھنٹوں بعد عبوری حکومت کے سربراہ محمد یونس نے کہا کہ ان کی واپسی پر  کوئی پابندی یا اعتراض نہیں ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;محمد یونس کے پریس سیکرٹری شفیق الحق عالم نے فیس بک پوسٹ میں کہا کہ اس معاملے میں کوئی رکاوٹ نہیں ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;خالدہ ضیا کی حالت نے بنگلہ دیش نیشنل پارٹی کے اندر غیر یقینی صورتحال کو بڑھا دیا ہے، کیونکہ پارٹی اپنی سربراہ کی سنگین بیماری کے دوران اپنی اگلی حکمت عملی پر غور کر رہی ہے، جبکہ عبوری چیئرمین ابھی بیرون ملک ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پارٹی، جس نے 2014 اور 2024 کے متنازع انتخابات کا بائیکاٹ کیا تھا، اگست سے سیاسی منظر نامے میں دوبارہ ابھر کر سامنے آئی ہے اور بنگلہ دیش کے بدلتے ہوئے سیاسی منظرنامے میں اہم  جماعت کے طور پر دیکھی جا رہی ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>سابق بنگلہ دیشی وزیراعظم اور اپوزیشن رہنما خالدہ ضیا ڈھاکہ کے ایک اسپتال میں  انتہائی نازک حالت میں ہیں جبکہ ان کے جلاوطن بیٹے اور عبوری پارٹی سربراہ طارق رحمان کی واپسی کے حوالے سے غیر یقینی صورتحال برقرار ہے۔</strong></p>
<p>پارٹی ذرائع نے اتوار کو بتایا کہ 80 سالہ خالدہ ضیا کو 23 نومبر کو  سینے کے شدید انفکشن پر نجی اسپتال میں داخل کیا گیا تھا،اس عارضے نے ان کے دل اور پھیپھڑوں کو متاثر کیاہے۔</p>
<p>ڈاکٹرز اور بنگلہ دیش نیشنل پارٹی کے سینئر عہدیداروں نے مزید بتایاکہ ان کی خراب ہوتی صحت اس وقت سامنے آئی ہے جب ان کی سیاسی پارٹی حساس مرحلے سے گزر رہی ہے۔ پارٹی نے حال ہی میں ملکی سیاست میں دوبارہ اہمیت  حاصل کرلی ہے۔</p>
<p>واضح رہے کہ  شیخ حسینہ واجد بنگلہ دیش کی طویل عرصے تک  وزیراعظم رہنے کے بعد پچھلے سال طلبہ کی قیادت میں ہونے والے احتجاج کے بعد اقتدار سے علیحدہ ہو گئی تھیں۔</p>
<p>طارق رحمان جو 2008 سے لندن میں مقیم ہیں نے ہفتہ کو فیس بک پر لکھا کہ ان کی بنگلہ دیش واپسی  مکمل طور پر ان کے اختیار میں نہیں، جس سے سیاسی یا قانونی رکاوٹوں کے بارے میں قیاس آرائیاں شروع ہو گئیں۔</p>
<p>چند گھنٹوں بعد عبوری حکومت کے سربراہ محمد یونس نے کہا کہ ان کی واپسی پر  کوئی پابندی یا اعتراض نہیں ہے۔</p>
<p>محمد یونس کے پریس سیکرٹری شفیق الحق عالم نے فیس بک پوسٹ میں کہا کہ اس معاملے میں کوئی رکاوٹ نہیں ہے۔</p>
<p>خالدہ ضیا کی حالت نے بنگلہ دیش نیشنل پارٹی کے اندر غیر یقینی صورتحال کو بڑھا دیا ہے، کیونکہ پارٹی اپنی سربراہ کی سنگین بیماری کے دوران اپنی اگلی حکمت عملی پر غور کر رہی ہے، جبکہ عبوری چیئرمین ابھی بیرون ملک ہیں۔</p>
<p>پارٹی، جس نے 2014 اور 2024 کے متنازع انتخابات کا بائیکاٹ کیا تھا، اگست سے سیاسی منظر نامے میں دوبارہ ابھر کر سامنے آئی ہے اور بنگلہ دیش کے بدلتے ہوئے سیاسی منظرنامے میں اہم  جماعت کے طور پر دیکھی جا رہی ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40279951</guid>
      <pubDate>Sun, 30 Nov 2025 13:57:23 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (رائٹرز)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2025/11/301338372024452.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2025/11/301338372024452.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
