<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Pakistan</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Fri, 07 Aug 2026 21:57:40 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Fri, 07 Aug 2026 21:57:40 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>27ویں آئینی ترمیم، پاکستان نے اقوام متحدہ کے انسانی حقوق سربراہ کے بیان کو مسترد کردیا</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40279935/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;پاکستان نے اتوار کو اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق (او ایچ سی ایچ آر) کی جانب سے حال ہی میں منظور ہونے والے 27ویں آئینی ترمیم کے حوالے سے جاری کردہ بیان کو مسترد کرتے ہوئے اسے بے بنیاد قرار دیا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دفتر خارجہ کے بیان میں کہا گیا کہ یہ ترمیم پارلیمنٹ کی دو تہائی اکثریت سے منظور کی گئی اور یہ پاکستان کے جمہوری عمل کا نتیجہ ہے۔ بیان میں کہا گیا کہ آئینی ترامیم اور تمام قوانین صرف منتخب نمائندوں کے دائرہ اختیار میں آتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دفتر خارجہ نے کہا کہ جمہوری اصول پاکستان میں شہری اور سیاسی حقوق کی بنیاد ہیں اور اس بات پر زور دیا کہ یہ ترمیم آئین میں درج شدہ طریقہ کار کے مطابق منظور کی گئی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بیان میں پاکستان کے انسانی وقار، بنیادی آزادیوں اور قانون کی بالادستی کے لیے عزم کا بھی اعادہ کیا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دفتر خارجہ نے تاہم افسوس ظاہر کیا کہ  بیان میں پاکستان کے موقف اور حقیقی صورتحال کی عکاسی نہیں کی گئی اور ہائی کمشنر سے مطالبہ کیا کہ وہ پارلیمنٹ کے خودمختار فیصلوں کا احترام کریں اور ایسی رائے سے گریز کریں جو سیاسی تعصب ظاہر کرتی ہو۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جمعہ کو اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق وولکر ٹرک نے خبردار کیا تھا کہ پاکستان کی حالیہ آئینی ترامیم عدلیہ کی آزادی کو نقصان پہنچانے اور احتساب کے نظام کو کمزور کرنے کا خطرہ پیدا کر سکتی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ 13 نومبر کو منظور شدہ ترمیم بغیر وسیع مشاورت کے اپنائی گئی، جو گزشتہ سال کی 26ویں ترمیم کی طرح ہے۔ اقوام متحدہ کے حقوق کے سربراہ نے کہا کہ نئی وفاقی آئینی عدالت، جو آئینی معاملات میں سپریم کورٹ کے اختیار کی جگہ لے رہا ہے، ایگزیکٹو میں ضرورت سے زیادہ طاقت مرکوز کر سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وولکر ٹرک نے ججز کی تقرری، ترقی اور تبادلے کے نظام میں تبدیلیوں پر بھی تشویش ظاہر کی اور کہا کہ نئی ساخت عدلیہ کو سیاسی اثر و رسوخ کے لیے کھلا چھوڑ سکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ترمیم میں شامل امیونٹی کی دفعات حکومت کے اختیار پر چیک کو کمزور کر سکتی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;صدر آصف علی زرداری نے اس ماہ کے شروع میں پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں سے منظوری کے بعد 27ویں آئینی ترمیم پر دستخط کیے، جو صدارتی منظوری کے بعد آئین کا حصہ بن گئی۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>پاکستان نے اتوار کو اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق (او ایچ سی ایچ آر) کی جانب سے حال ہی میں منظور ہونے والے 27ویں آئینی ترمیم کے حوالے سے جاری کردہ بیان کو مسترد کرتے ہوئے اسے بے بنیاد قرار دیا ہے۔</strong></p>
<p>دفتر خارجہ کے بیان میں کہا گیا کہ یہ ترمیم پارلیمنٹ کی دو تہائی اکثریت سے منظور کی گئی اور یہ پاکستان کے جمہوری عمل کا نتیجہ ہے۔ بیان میں کہا گیا کہ آئینی ترامیم اور تمام قوانین صرف منتخب نمائندوں کے دائرہ اختیار میں آتے ہیں۔</p>
<p>دفتر خارجہ نے کہا کہ جمہوری اصول پاکستان میں شہری اور سیاسی حقوق کی بنیاد ہیں اور اس بات پر زور دیا کہ یہ ترمیم آئین میں درج شدہ طریقہ کار کے مطابق منظور کی گئی ہے۔</p>
<p>بیان میں پاکستان کے انسانی وقار، بنیادی آزادیوں اور قانون کی بالادستی کے لیے عزم کا بھی اعادہ کیا گیا۔</p>
<p>دفتر خارجہ نے تاہم افسوس ظاہر کیا کہ  بیان میں پاکستان کے موقف اور حقیقی صورتحال کی عکاسی نہیں کی گئی اور ہائی کمشنر سے مطالبہ کیا کہ وہ پارلیمنٹ کے خودمختار فیصلوں کا احترام کریں اور ایسی رائے سے گریز کریں جو سیاسی تعصب ظاہر کرتی ہو۔</p>
<p>جمعہ کو اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق وولکر ٹرک نے خبردار کیا تھا کہ پاکستان کی حالیہ آئینی ترامیم عدلیہ کی آزادی کو نقصان پہنچانے اور احتساب کے نظام کو کمزور کرنے کا خطرہ پیدا کر سکتی ہیں۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ 13 نومبر کو منظور شدہ ترمیم بغیر وسیع مشاورت کے اپنائی گئی، جو گزشتہ سال کی 26ویں ترمیم کی طرح ہے۔ اقوام متحدہ کے حقوق کے سربراہ نے کہا کہ نئی وفاقی آئینی عدالت، جو آئینی معاملات میں سپریم کورٹ کے اختیار کی جگہ لے رہا ہے، ایگزیکٹو میں ضرورت سے زیادہ طاقت مرکوز کر سکتا ہے۔</p>
<p>وولکر ٹرک نے ججز کی تقرری، ترقی اور تبادلے کے نظام میں تبدیلیوں پر بھی تشویش ظاہر کی اور کہا کہ نئی ساخت عدلیہ کو سیاسی اثر و رسوخ کے لیے کھلا چھوڑ سکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ترمیم میں شامل امیونٹی کی دفعات حکومت کے اختیار پر چیک کو کمزور کر سکتی ہیں۔</p>
<p>صدر آصف علی زرداری نے اس ماہ کے شروع میں پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں سے منظوری کے بعد 27ویں آئینی ترمیم پر دستخط کیے، جو صدارتی منظوری کے بعد آئین کا حصہ بن گئی۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40279935</guid>
      <pubDate>Mon, 01 Dec 2025 09:59:53 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (بی آر ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2025/12/0109585679bf6a0.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2025/12/0109585679bf6a0.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
