<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Pakistan</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 17:10:19 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 17:10:19 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>پاکستان حماس کو غیر مسلح کرنے کے عمل میں شامل نہیں ہوگا، اسحاق ڈار</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40279934/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;ڈپٹی وزیر اعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ پاکستان غزہ میں تعیناتی کے لیے اپنی افواج فراہم کرنے کے لیے تیار ہے، تاہم انہوں نے یہ واضح کیا کہ پاکستان حماس کو غیر مسلح کرنے کے کسی عمل میں شامل نہیں ہوگا۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ہفتے کو یہاں ایک نیوز کانفرنس میں اسحاق ڈار نے کہا کہ پاکستان افغانستان کے مسائل کو طاقت کے استعمال سے حل کر سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر ہم بھارت کو سبق سکھا سکتے ہیں تو افغانستان کوئی بڑی مشکل نہیں، تاہم انہوں نے کہا کہ پاکستان اس حد تک جانا نہیں چاہتا۔ انہوں نے کہا کہ ہم افغانستان میں داخل ہو کر اپنے بھائیوں کو قتل نہیں کرنا چاہتے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایک سوال کے جواب میں اسحاق ڈار نے بتایا کہ حماس کی غیر مسلح کرنے کا معاملہ سب سے پہلے ریاض میں ہونے والی ایک ملاقات کے دوران اٹھا، جہاں دو ریاستی حل  پر تفصیل سے بات ہوئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے وضاحت کی ہمارا کام غزہ میں امن قائم رکھنا ہے، امن نافذ کرنا نہیں۔ ہم یقیناً افواج فراہم کرنے کے لیے تیار ہیں — وزیر اعظم پہلے ہی اعلان کر چکے ہیں کہ فیلڈ مارشل سے مشاورت کے بعد ہم حصہ ڈالیں گے — لیکن یہ فیصلہ تب تک نہیں کیا جا سکتا جب تک امن فورس کے مینڈیٹ اور ٹی او آر طے نہ ہوں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان اور افغانستان کے موجودہ تعلقات کے حوالے سے وزیر خارجہ نے کہا کہ کابل  وعدے پورے کرنے میں ناکام رہا، خاص طور پر  کالعدم ٹی ٹی پی کے حوالے سے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ افغانستان کے اپنے دورے کے دوران انہوں نے افغان قیادت سے کالعدم ٹی ٹی پی کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا اور کابل کو بتایا کہ پاکستان نہیں چاہتا کہ افغان زمین پاکستان کے خلاف استعمال ہو۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ پاکستان نے کابل سے کیے گئے وعدے پورے کیے، لیکن طالبان نے دہشت گردی کے خلاف وعدہ پورا نہیں کیا اور ٹی ٹی پی کو قابو میں نہیں کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزیر خارجہ نے کہا کہ انہوں نے افغانستان کو واضح کیا کہ امن ہی واحد راستہ ہے۔ طالبان کے وزیر خارجہ ملا متقی نے کہا کہ ہم نے کئی ٹی ٹی پی ارکان کو جیل بھیجا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ طالبان کے ساتھ ملاقات میں ہم نے یہ واضح کیا کہ پاکستان افغانستان میں امن چاہتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان چاہتا ہے کہ افغانستان ایک مستحکم اور خوشحال ملک بنے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ پاکستان نے افغانستان سے درخواست کی کہ وہ ٹی ٹی پی کو پاک-افغان سرحد سے ہٹا دے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسرے متبادل کے طور پر پاکستان نے تجویز دی کہ کابل ٹی ٹی پی کو پاکستان کے حوالے کرے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2025&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>ڈپٹی وزیر اعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ پاکستان غزہ میں تعیناتی کے لیے اپنی افواج فراہم کرنے کے لیے تیار ہے، تاہم انہوں نے یہ واضح کیا کہ پاکستان حماس کو غیر مسلح کرنے کے کسی عمل میں شامل نہیں ہوگا۔</strong></p>
<p>ہفتے کو یہاں ایک نیوز کانفرنس میں اسحاق ڈار نے کہا کہ پاکستان افغانستان کے مسائل کو طاقت کے استعمال سے حل کر سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر ہم بھارت کو سبق سکھا سکتے ہیں تو افغانستان کوئی بڑی مشکل نہیں، تاہم انہوں نے کہا کہ پاکستان اس حد تک جانا نہیں چاہتا۔ انہوں نے کہا کہ ہم افغانستان میں داخل ہو کر اپنے بھائیوں کو قتل نہیں کرنا چاہتے۔</p>
<p>ایک سوال کے جواب میں اسحاق ڈار نے بتایا کہ حماس کی غیر مسلح کرنے کا معاملہ سب سے پہلے ریاض میں ہونے والی ایک ملاقات کے دوران اٹھا، جہاں دو ریاستی حل  پر تفصیل سے بات ہوئی۔</p>
<p>انہوں نے وضاحت کی ہمارا کام غزہ میں امن قائم رکھنا ہے، امن نافذ کرنا نہیں۔ ہم یقیناً افواج فراہم کرنے کے لیے تیار ہیں — وزیر اعظم پہلے ہی اعلان کر چکے ہیں کہ فیلڈ مارشل سے مشاورت کے بعد ہم حصہ ڈالیں گے — لیکن یہ فیصلہ تب تک نہیں کیا جا سکتا جب تک امن فورس کے مینڈیٹ اور ٹی او آر طے نہ ہوں۔</p>
<p>پاکستان اور افغانستان کے موجودہ تعلقات کے حوالے سے وزیر خارجہ نے کہا کہ کابل  وعدے پورے کرنے میں ناکام رہا، خاص طور پر  کالعدم ٹی ٹی پی کے حوالے سے۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ افغانستان کے اپنے دورے کے دوران انہوں نے افغان قیادت سے کالعدم ٹی ٹی پی کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا اور کابل کو بتایا کہ پاکستان نہیں چاہتا کہ افغان زمین پاکستان کے خلاف استعمال ہو۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ پاکستان نے کابل سے کیے گئے وعدے پورے کیے، لیکن طالبان نے دہشت گردی کے خلاف وعدہ پورا نہیں کیا اور ٹی ٹی پی کو قابو میں نہیں کیا۔</p>
<p>وزیر خارجہ نے کہا کہ انہوں نے افغانستان کو واضح کیا کہ امن ہی واحد راستہ ہے۔ طالبان کے وزیر خارجہ ملا متقی نے کہا کہ ہم نے کئی ٹی ٹی پی ارکان کو جیل بھیجا ہے۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ طالبان کے ساتھ ملاقات میں ہم نے یہ واضح کیا کہ پاکستان افغانستان میں امن چاہتا ہے۔</p>
<p>انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان چاہتا ہے کہ افغانستان ایک مستحکم اور خوشحال ملک بنے۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ پاکستان نے افغانستان سے درخواست کی کہ وہ ٹی ٹی پی کو پاک-افغان سرحد سے ہٹا دے۔</p>
<p>دوسرے متبادل کے طور پر پاکستان نے تجویز دی کہ کابل ٹی ٹی پی کو پاکستان کے حوالے کرے۔</p>
<p>کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2025</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40279934</guid>
      <pubDate>Sun, 30 Nov 2025 10:48:22 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ریکارڈر رپورٹ)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2025/11/30104628177f991.webp" type="image/webp" medium="image" height="768" width="1024">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2025/11/30104628177f991.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
