<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Pakistan</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 14:39:00 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 14:39:00 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>موبائل ورلڈ کانگریس، مقامی زبانوں پر مبنی اے آئی تکنیکی ضرورت نہیں بلکہ خودمختاری کا مسئلہ</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40279931/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;آرٹیفیشل انٹیلی جنس دنیا میں طاقت کے توازن کو تیزی سے بدل رہی ہے، اور پاکستان جیسے ممالک کے لیے سوال یہ نہیں رہا کہ اے آئی اپنانی ہے یا نہیں، بلکہ یہ ہے کہ کیا وہ اسے اپنی شرائط پر تشکیل دے سکتے ہیں۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوحہ میں منعقد ہونے والے موبائل ورلڈ کانگریس میں یہ موضوع مرکزی حیثیت رکھتا تھا، جہاں جاز کے سی ای او عامر ابراہیم نے مؤقف اختیار کیا کہ خودمختار اے آئی کی بنیاد زبان سے شروع ہوتی ہے، اور ترقی پذیر ممالک کو ایسے اے آئی سسٹمز بنانے چاہئیں جو ان کی اپنی لسانی اور ثقافتی حقیقتوں سے جڑے ہوں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اعلیٰ سطح سیشن “سورن اے آئی اینڈ دی نیو ڈیجیٹل پاور میپ” سے خطاب کرتے ہوئے عامر ابراہیم نے کہا کہ عالمی اے آئی ماڈلز جو زیادہ تر مغربی ڈیٹا سیٹس پر تربیت یافتہ ہیں، پاکستان جیسے ممالک کی لسانی باریکیوں، لہجوں اور اظہار کی مختلف صورتوں کو مکمل طور پر نہیں سمجھ سکتے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے زور دیا کہ 24 کروڑ آبادی والے اور کثیر لسانی ملک کے لیے مقامی زبانوں پر مبنی اے آئی محض تکنیکی ضرورت نہیں بلکہ خودمختاری کا مسئلہ ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان کے مطابق ماڈلز کو ہماری زبان، ہمارے تناظر اور ہمارے لوگوں کو سمجھنا چاہیے، اور حقیقی ڈیجیٹل خودمختاری کے لیے ایسے مقامی اے آئی ماڈلز ناگزیر ہیں جو ہماری شناخت اور سماجی ساخت کی عکاسی کریں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ بحث ایسے وقت سامنے آئی ہے جب پاکستان اپنی اے آئی جدت کو تیز رفتار بنا رہا ہے۔ 2024 کے آخر میں جاز نے نسٹ اور این آئی بی ٹی کے ساتھ مل کر ملک کا پہلا مقامی زبانوں کا ایل ایل ایم تیار کرنے کا منصوبہ شروع کیا، جسے خاص طور پر اردو، پنجابی، پشتو اور دیگر کم وسائل رکھنے والی زبانوں کے لیے تربیت دیا جا رہا ہے۔ اس کا مقصد پاکستان کے “اے آئی لینگویج گیپ” کو کم کرنا ہے تاکہ اساتذہ، کسان، ہیلتھ ورکرز اور عام شہری اپنی زبان میں اے آئی سے فائدہ اٹھا سکیں، جو جامع ڈیجیٹل تبدیلی کی سمت ایک اہم قدم ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم عامر ابراہیم نے خبردار کیا کہ اے آئی میں خودمختاری کے لیے مضبوط ڈیجیٹل بنیاد ضروری ہے۔ جیسے جیسے زراعت، صحت، فنانس اور عوامی خدمات تک اے آئی کا استعمال بڑھ رہا ہے، ڈیٹا کا استعمال بھی کئی گنا بڑھ جائے گا۔ پاکستان کے ڈیٹا سینٹرز کو اگلی نسل کے اے آئی ورک لوڈز کے لیے کہیں زیادہ بجلی، کولنگ اور مضبوط انفراسٹرکچر درکار ہوگا۔ صاف توانائی اور موسم سے موافق انفراسٹرکچر کے بغیر،  پاکستان کی ٹیکنالوجی کی خواہشات اس کی صلاحیت سے آگے نکل سکتی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ خدشہ اس لیے بھی اہم ہے کہ موسمیاتی عدم استحکام میں اضافہ ہو رہا ہے۔ دنیا کے کاربن اخراج میں ایک فیصد سے بھی کم حصہ ڈالنے کے باوجود پاکستان دنیا کے موسمیاتی طور پر سب سے زیادہ غیر محفوظ ممالک میں شمار ہوتا ہے۔ 2025 کے تباہ کن سیلابوں نے لاکھوں افراد کو بے گھر کیا اور 822 ارب روپے سے زائد کا نقصان پہنچایا۔ ایسے ممالک کے لیے عامر ابراہیم کے مطابق ڈیجیٹل لچک موسمیاتی لچک سے جڑی ہونی چاہیے، چاہے وہ نیٹ ورکس ہوں، توانائی کے نظام یا اے آئی کے لیے درکار ڈیٹا انفراسٹرکچر۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ ایم ڈبلیو سی دوحہ جیسے فورمز تعاون، پالیسی ہم آہنگی اور نجی و سرکاری شعبے کی مشترکہ منصوبہ بندی کے لیے اہم موقع فراہم کرتے ہیں، تاکہ پاکستان کا ڈیجیٹل مستقبل عالمی ٹیکنالوجیز کے ساتھ ساتھ مقامی مہارت، پائیدار انفراسٹرکچر اور خودمختار صلاحیت پر بھی استوار ہو۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2025&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>آرٹیفیشل انٹیلی جنس دنیا میں طاقت کے توازن کو تیزی سے بدل رہی ہے، اور پاکستان جیسے ممالک کے لیے سوال یہ نہیں رہا کہ اے آئی اپنانی ہے یا نہیں، بلکہ یہ ہے کہ کیا وہ اسے اپنی شرائط پر تشکیل دے سکتے ہیں۔</strong></p>
<p>دوحہ میں منعقد ہونے والے موبائل ورلڈ کانگریس میں یہ موضوع مرکزی حیثیت رکھتا تھا، جہاں جاز کے سی ای او عامر ابراہیم نے مؤقف اختیار کیا کہ خودمختار اے آئی کی بنیاد زبان سے شروع ہوتی ہے، اور ترقی پذیر ممالک کو ایسے اے آئی سسٹمز بنانے چاہئیں جو ان کی اپنی لسانی اور ثقافتی حقیقتوں سے جڑے ہوں۔</p>
<p>اعلیٰ سطح سیشن “سورن اے آئی اینڈ دی نیو ڈیجیٹل پاور میپ” سے خطاب کرتے ہوئے عامر ابراہیم نے کہا کہ عالمی اے آئی ماڈلز جو زیادہ تر مغربی ڈیٹا سیٹس پر تربیت یافتہ ہیں، پاکستان جیسے ممالک کی لسانی باریکیوں، لہجوں اور اظہار کی مختلف صورتوں کو مکمل طور پر نہیں سمجھ سکتے۔</p>
<p>انہوں نے زور دیا کہ 24 کروڑ آبادی والے اور کثیر لسانی ملک کے لیے مقامی زبانوں پر مبنی اے آئی محض تکنیکی ضرورت نہیں بلکہ خودمختاری کا مسئلہ ہے۔</p>
<p>ان کے مطابق ماڈلز کو ہماری زبان، ہمارے تناظر اور ہمارے لوگوں کو سمجھنا چاہیے، اور حقیقی ڈیجیٹل خودمختاری کے لیے ایسے مقامی اے آئی ماڈلز ناگزیر ہیں جو ہماری شناخت اور سماجی ساخت کی عکاسی کریں۔</p>
<p>یہ بحث ایسے وقت سامنے آئی ہے جب پاکستان اپنی اے آئی جدت کو تیز رفتار بنا رہا ہے۔ 2024 کے آخر میں جاز نے نسٹ اور این آئی بی ٹی کے ساتھ مل کر ملک کا پہلا مقامی زبانوں کا ایل ایل ایم تیار کرنے کا منصوبہ شروع کیا، جسے خاص طور پر اردو، پنجابی، پشتو اور دیگر کم وسائل رکھنے والی زبانوں کے لیے تربیت دیا جا رہا ہے۔ اس کا مقصد پاکستان کے “اے آئی لینگویج گیپ” کو کم کرنا ہے تاکہ اساتذہ، کسان، ہیلتھ ورکرز اور عام شہری اپنی زبان میں اے آئی سے فائدہ اٹھا سکیں، جو جامع ڈیجیٹل تبدیلی کی سمت ایک اہم قدم ہے۔</p>
<p>تاہم عامر ابراہیم نے خبردار کیا کہ اے آئی میں خودمختاری کے لیے مضبوط ڈیجیٹل بنیاد ضروری ہے۔ جیسے جیسے زراعت، صحت، فنانس اور عوامی خدمات تک اے آئی کا استعمال بڑھ رہا ہے، ڈیٹا کا استعمال بھی کئی گنا بڑھ جائے گا۔ پاکستان کے ڈیٹا سینٹرز کو اگلی نسل کے اے آئی ورک لوڈز کے لیے کہیں زیادہ بجلی، کولنگ اور مضبوط انفراسٹرکچر درکار ہوگا۔ صاف توانائی اور موسم سے موافق انفراسٹرکچر کے بغیر،  پاکستان کی ٹیکنالوجی کی خواہشات اس کی صلاحیت سے آگے نکل سکتی ہیں۔</p>
<p>یہ خدشہ اس لیے بھی اہم ہے کہ موسمیاتی عدم استحکام میں اضافہ ہو رہا ہے۔ دنیا کے کاربن اخراج میں ایک فیصد سے بھی کم حصہ ڈالنے کے باوجود پاکستان دنیا کے موسمیاتی طور پر سب سے زیادہ غیر محفوظ ممالک میں شمار ہوتا ہے۔ 2025 کے تباہ کن سیلابوں نے لاکھوں افراد کو بے گھر کیا اور 822 ارب روپے سے زائد کا نقصان پہنچایا۔ ایسے ممالک کے لیے عامر ابراہیم کے مطابق ڈیجیٹل لچک موسمیاتی لچک سے جڑی ہونی چاہیے، چاہے وہ نیٹ ورکس ہوں، توانائی کے نظام یا اے آئی کے لیے درکار ڈیٹا انفراسٹرکچر۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ ایم ڈبلیو سی دوحہ جیسے فورمز تعاون، پالیسی ہم آہنگی اور نجی و سرکاری شعبے کی مشترکہ منصوبہ بندی کے لیے اہم موقع فراہم کرتے ہیں، تاکہ پاکستان کا ڈیجیٹل مستقبل عالمی ٹیکنالوجیز کے ساتھ ساتھ مقامی مہارت، پائیدار انفراسٹرکچر اور خودمختار صلاحیت پر بھی استوار ہو۔</p>
<p>کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2025</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40279931</guid>
      <pubDate>Sun, 30 Nov 2025 10:14:22 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (طاہر امین)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2025/11/30100947825520c.gif" type="image/gif" medium="image">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2025/11/30100947825520c.gif"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
