<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Pakistan</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 19:18:27 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 19:18:27 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ابوظہبی انویسٹمنٹ گروپ کی خاموشی، نجکاری ڈویژن ایئرپورٹس آؤٹ سورسنگ منصوبے پر نظرثانی پر مجبور</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40279927/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;باخبر ذرائع نے بزنس ریکارڈر کو بتایا کہ ابوظہبی انویسٹمنٹ گروپ کی جانب سے اسلام آباد انٹرنیشنل ایئرپورٹ کو حکومت سے حکومت کی بنیاد پر سنبھالنے سے متعلق مسلسل خاموشی نے نجکاری ڈویژن کو تین بڑے ہوائی اڈوں کی آؤٹ سورسنگ کے منصوبے پر نظرثانی پر مجبور کر دیا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ذرائع کے مطابق کابینہ کی نجکاری کمیٹی (سی سی او پی) کا اجلاس 28 نومبر 2025 کو ڈپٹی وزیراعظم/وزیر خارجہ سینیٹر اسحاق ڈار کی زیر صدارت ہوا، جس میں اسلام آباد انٹرنیشنل ایئرپورٹ، کراچی کے جناح انٹرنیشنل ایئرپورٹ اور لاہور کے علامہ اقبال انٹرنیشنل ایئرپورٹ کی آؤٹ سورسنگ کا معاملہ زیر غور آیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نجکاری ڈویژن نے اجلاس کو بتایا کہ ابوظہبی انویسٹمنٹ گروپ اسلام آباد ایئرپورٹ کے ٹرانزیکشن کے حوالے سے مسلسل غیر فعال ہے اور پاکستانی حکام کی بار بار سرکاری رابطہ کاری کا کوئی جواب نہیں دے رہا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ذرائع کا کہنا ہے کہ کمیٹی نے علامہ اقبال انٹرنیشنل ایئرپورٹ اور جناح انٹرنیشنل ایئرپورٹ کو فعال نجکاری فہرست میں شامل کرنے پر اتفاق کیا۔ ساتھ ہی یہ ہدایت بھی دی گئی کہ ابوظہبی انویسٹمنٹ گروپ کو اسلام آباد ایئرپورٹ پر اپنے مؤقف کے بارے میں آخری مراسلہ بھیجا جائے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ذرائع نے مزید بتایا کہ اگر اماراتی فریق کی جانب سے جواب موصول نہ ہوا تو نجکاری ڈویژن کو اختیار ہوگا کہ آئندہ جمعہ کو تینوں ہوائی اڈوں کو اوپن مسابقتی بولی کے لیے پیش کر دے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نجکاری ڈویژن نے کمیٹی کو مزید بتایا کہ پاکستان ایئرپورٹس اتھارٹی (پی اے اے) سروس کے معیار میں بہتری، مؤثر انتظام اور بین الاقوامی بہترین طریقوں کے مطابق نجی سرمایہ کاری و مہارت کے حصول کے لیے تینوں بڑے ہوائی اڈوں کے آپریشنز کو آؤٹ سورس کرنا چاہتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آؤٹ سورسنگ کا دائرہ کار لینڈ سائیڈ اور ایپرن ایریاز تک محدود ہے۔ لینڈ سائیڈ میں عوامی رسائی والے علاقے شامل ہیں، جیسے ٹرمینلز، پارکنگ اور کمرشل سہولیات۔ ایپرن ایریا میں طیاروں کی پارکنگ، لوڈنگ، ان لوڈنگ، فیولنگ اور بورڈنگ کے مقامات شامل ہیں۔ ایئر سائیڈ، یعنی رن ویز اور ٹیکسی ویز، سکیورٹی اور ریگولیٹری تقاضوں کے باعث مکمل طور پر ریاست کے کنٹرول میں رہیں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس اقدام سے ریونیو میں اضافہ، اثاثوں کے بہتر استعمال اور انفراسٹرکچر و سروس ڈیلیوری میں بہتری کے لیے پبلک پرائیویٹ تعاون کے حکومتی وژن کو فروغ ملنے کی توقع کی جا رہی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس سے قبل پاکستان ایئرپورٹس اتھارٹی نے اسلام آباد انٹرنیشنل ایئرپورٹ کی آؤٹ سورسنگ کا آغاز پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ اتھارٹی (پی تھری اے) کے فریم ورک کے تحت کیا تھا اور انٹرنیشنل فنانس کارپوریشن (آئی ایف سی) کو فنانشل ایڈوائزر مقرر کیا تھا۔ تمام ضروری مراحل مکمل کرنے کے بعد پیپرا کے قواعد کے تحت درخواستِ برائے تجویز (آر ایف پی) جاری کی گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اب یہ ٹرانزیکشن انٹرگورنمنٹل کمرشل ٹرانزیکشنز ایکٹ 2022 کے تحت آگے بڑھائی جا رہی ہے۔ دیگر دو ایئرپورٹس کی آؤٹ سورسنگ ابھی ابتدائی مرحلے میں ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزیراعظم کی جانب سے عمل تیز کرنے کی ہدایت کے بعد وزیراعظم کے مشیر برائے نجکاری نے وزارت دفاع اور پاکستان ایئرپورٹس اتھارٹی کے سینئر حکام کے ساتھ متعدد اجلاس کیے تاکہ مختلف آپشنز کا جائزہ لیا جا سکے۔ ترجیحی بنیادوں پر فیصلہ کیا گیا کہ تینوں ایئرپورٹس کے معاملات کو فعال نجکاری فہرست میں رکھا جائے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نجکاری کا مسودہ وزارتِ دفاع کو بھیجا گیا، جو پی اے اے کی نگران وزارت ہے، اور اس نے تینوں ایئرپورٹس کو فعال فہرست میں شامل کرنے کی حمایت کی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بعد ازاں یہ معاملہ نجکاری کمیشن (پی سی) بورڈ کے اجلاس میں پیش کیا گیا، جس نے کمیٹی کی منظوری سے مشروط اس تجویز کی توثیق کی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان سفارشات کی روشنی میں کابینہ کی نجکاری کمیٹی نے تینوں ہوائی اڈوں کی آؤٹ سورسنگ کو فعال نجکاری فہرست میں شامل کرنے کی منظوری دے دی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2025&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>باخبر ذرائع نے بزنس ریکارڈر کو بتایا کہ ابوظہبی انویسٹمنٹ گروپ کی جانب سے اسلام آباد انٹرنیشنل ایئرپورٹ کو حکومت سے حکومت کی بنیاد پر سنبھالنے سے متعلق مسلسل خاموشی نے نجکاری ڈویژن کو تین بڑے ہوائی اڈوں کی آؤٹ سورسنگ کے منصوبے پر نظرثانی پر مجبور کر دیا ہے۔</strong></p>
<p>ذرائع کے مطابق کابینہ کی نجکاری کمیٹی (سی سی او پی) کا اجلاس 28 نومبر 2025 کو ڈپٹی وزیراعظم/وزیر خارجہ سینیٹر اسحاق ڈار کی زیر صدارت ہوا، جس میں اسلام آباد انٹرنیشنل ایئرپورٹ، کراچی کے جناح انٹرنیشنل ایئرپورٹ اور لاہور کے علامہ اقبال انٹرنیشنل ایئرپورٹ کی آؤٹ سورسنگ کا معاملہ زیر غور آیا۔</p>
<p>نجکاری ڈویژن نے اجلاس کو بتایا کہ ابوظہبی انویسٹمنٹ گروپ اسلام آباد ایئرپورٹ کے ٹرانزیکشن کے حوالے سے مسلسل غیر فعال ہے اور پاکستانی حکام کی بار بار سرکاری رابطہ کاری کا کوئی جواب نہیں دے رہا۔</p>
<p>ذرائع کا کہنا ہے کہ کمیٹی نے علامہ اقبال انٹرنیشنل ایئرپورٹ اور جناح انٹرنیشنل ایئرپورٹ کو فعال نجکاری فہرست میں شامل کرنے پر اتفاق کیا۔ ساتھ ہی یہ ہدایت بھی دی گئی کہ ابوظہبی انویسٹمنٹ گروپ کو اسلام آباد ایئرپورٹ پر اپنے مؤقف کے بارے میں آخری مراسلہ بھیجا جائے۔</p>
<p>ذرائع نے مزید بتایا کہ اگر اماراتی فریق کی جانب سے جواب موصول نہ ہوا تو نجکاری ڈویژن کو اختیار ہوگا کہ آئندہ جمعہ کو تینوں ہوائی اڈوں کو اوپن مسابقتی بولی کے لیے پیش کر دے۔</p>
<p>نجکاری ڈویژن نے کمیٹی کو مزید بتایا کہ پاکستان ایئرپورٹس اتھارٹی (پی اے اے) سروس کے معیار میں بہتری، مؤثر انتظام اور بین الاقوامی بہترین طریقوں کے مطابق نجی سرمایہ کاری و مہارت کے حصول کے لیے تینوں بڑے ہوائی اڈوں کے آپریشنز کو آؤٹ سورس کرنا چاہتی ہے۔</p>
<p>آؤٹ سورسنگ کا دائرہ کار لینڈ سائیڈ اور ایپرن ایریاز تک محدود ہے۔ لینڈ سائیڈ میں عوامی رسائی والے علاقے شامل ہیں، جیسے ٹرمینلز، پارکنگ اور کمرشل سہولیات۔ ایپرن ایریا میں طیاروں کی پارکنگ، لوڈنگ، ان لوڈنگ، فیولنگ اور بورڈنگ کے مقامات شامل ہیں۔ ایئر سائیڈ، یعنی رن ویز اور ٹیکسی ویز، سکیورٹی اور ریگولیٹری تقاضوں کے باعث مکمل طور پر ریاست کے کنٹرول میں رہیں گے۔</p>
<p>اس اقدام سے ریونیو میں اضافہ، اثاثوں کے بہتر استعمال اور انفراسٹرکچر و سروس ڈیلیوری میں بہتری کے لیے پبلک پرائیویٹ تعاون کے حکومتی وژن کو فروغ ملنے کی توقع کی جا رہی ہے۔</p>
<p>اس سے قبل پاکستان ایئرپورٹس اتھارٹی نے اسلام آباد انٹرنیشنل ایئرپورٹ کی آؤٹ سورسنگ کا آغاز پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ اتھارٹی (پی تھری اے) کے فریم ورک کے تحت کیا تھا اور انٹرنیشنل فنانس کارپوریشن (آئی ایف سی) کو فنانشل ایڈوائزر مقرر کیا تھا۔ تمام ضروری مراحل مکمل کرنے کے بعد پیپرا کے قواعد کے تحت درخواستِ برائے تجویز (آر ایف پی) جاری کی گئی۔</p>
<p>اب یہ ٹرانزیکشن انٹرگورنمنٹل کمرشل ٹرانزیکشنز ایکٹ 2022 کے تحت آگے بڑھائی جا رہی ہے۔ دیگر دو ایئرپورٹس کی آؤٹ سورسنگ ابھی ابتدائی مرحلے میں ہے۔</p>
<p>وزیراعظم کی جانب سے عمل تیز کرنے کی ہدایت کے بعد وزیراعظم کے مشیر برائے نجکاری نے وزارت دفاع اور پاکستان ایئرپورٹس اتھارٹی کے سینئر حکام کے ساتھ متعدد اجلاس کیے تاکہ مختلف آپشنز کا جائزہ لیا جا سکے۔ ترجیحی بنیادوں پر فیصلہ کیا گیا کہ تینوں ایئرپورٹس کے معاملات کو فعال نجکاری فہرست میں رکھا جائے۔</p>
<p>نجکاری کا مسودہ وزارتِ دفاع کو بھیجا گیا، جو پی اے اے کی نگران وزارت ہے، اور اس نے تینوں ایئرپورٹس کو فعال فہرست میں شامل کرنے کی حمایت کی۔</p>
<p>بعد ازاں یہ معاملہ نجکاری کمیشن (پی سی) بورڈ کے اجلاس میں پیش کیا گیا، جس نے کمیٹی کی منظوری سے مشروط اس تجویز کی توثیق کی۔</p>
<p>ان سفارشات کی روشنی میں کابینہ کی نجکاری کمیٹی نے تینوں ہوائی اڈوں کی آؤٹ سورسنگ کو فعال نجکاری فہرست میں شامل کرنے کی منظوری دے دی۔</p>
<p>کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2025</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40279927</guid>
      <pubDate>Sun, 30 Nov 2025 09:34:24 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (مشتاق گھمن)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2025/11/30093106c3d7c2a.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2025/11/30093106c3d7c2a.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
