<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Business &amp; Finance</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 23:37:03 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 23:37:03 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>نان فائلرز کے خلاف اقدامات تک ایف بی آر کی ڈیجیٹلائزیشن موثر نہیں ہوسکتی، ماہرین</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40279925/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;ٹیکس ماہرین نے فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کی ڈیجیٹلائزیشن کی کوششوں کو ناکافی قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ صرف ٹیکس نظام کو ڈیجیٹل کرنا کافی نہیں، بلکہ ایک مربوط پالیسی بھی بنائی جائے تاکہ  نان فائلرز کو ٹیکس نیٹ میں لایا جا سکے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کراچی ٹیکس بار ایسوسی ایشن ( کے ٹی بی اے) کے نائب صدر فائق رضا نے بزنس ریکارڈر کو بتایا کہ ٹیکس ٹو جی ڈی پی (مجموعی ملکی پیداوار) کا تناسب نمایاں طور پر بڑھنا چاہیے۔ اس وقت پاکستان کا ٹیکس ٹو جی ڈی پی تناسب 10 سے 11 فیصد کے درمیان ہے، جسے ایف بی آر 2027-28 تک 18 فیصد تک لے جانے کا ہدف رکھتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ ”تاہم اس کے برعکس صرف ریٹرن فائلنگ کا جی ڈی پی کے ساتھ تناسب بڑھ رہا ہے، جو آمدنی میں کوئی خاص فرق نہیں ڈال رہا۔“&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کے ٹی بی اے کے عہدیدار کے مطابق فائلرز کا 50 فیصد وہ لوگ ہیں جو صرف ایڈوانس ٹیکس سے بچنے کے لیے ریٹرن فائل کرتے ہیں اور ٹیکس کی مجموعی وصولی میں کچھ حصہ نہیں ڈالتے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے زور دیا کہ ٹیکس کی بنیاد کو بڑھانے کے لیے نان فائلرز کو ٹیکس نیٹ میں لانے کیلئے عملی اقدامات کی اشد ضرورت ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فائق رضا نے زور دیا کہ صرف ریٹرن فائلنگ کے جی ڈی پی کے ساتھ تناسب کو بڑھانے پر نہیں بلکہ ٹیکس بیس کو وسیع کرنے پر توجہ دی جائے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&amp;gt;”جب [ایف بی آر] کا نظام ڈیجیٹل ہو جائے گا، تو محکمہ کو بھی اپ گریڈ کرنے کی ضرورت ہوگی، تاکہ ٹیکس دہندہ سے معلومات طلب کرنے کی بجائے تمام معلومات خود بخود حکام کے پاس دستیاب ہوں۔“&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ٹیکس سسٹم ڈیجیٹلائزیشن پروجیکٹ کی پروجیکٹ اسٹیئرنگ کمیٹی کا اجلاس گزشتہ ہفتے ایف بی آر ہیڈکوارٹر میں ہوا، جس میں وزیرِ خزانہ محمد اورنگزیب کو ایف بی آر کی مجموعی ڈیجیٹلائزیشن کے عمل سے آگاہ کیا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اجلاس میں اس بات پر زور دیا گیا کہ جدید ٹیکنالوجی کے استعمال اور ایف بی آر کے نظام کی خودکاری سے ملک کی معیشت کو زیادہ رسمی اور دستاویزی بنایا جا سکتا ہے، جو ملک کی پائیدار معاشی ترقی کے لیے اہم ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دریں اثنا، ٹیکس ماہر عمران اعوان نے کہا کہ ایف بی آر کی ڈیجیٹلائزیشن کی کوششیں زیادہ تر موجودہ ٹیکس دہندگان پر مرکوز نظر آتی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے افسوس کے ساتھ کہا کہ “غیر فائلرز کا ذکر نہیں ہے، اور غیر دستاویزی لین دین کا پتہ لگانے کے لیے کوئی واضح طریقہ کار بھی مرتب نہیں کیا گیا۔”&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایف بی آر کے آن لائن پورٹل آئی آر آئی ایس (آئریس) کے حوالے سے، جس میں فائلرز خود اپنے ریٹرنز جمع کرا سکتے ہیں، اعوان نے کہا کہ حال ہی میں جمع کیے گئے انکم ٹیکس ریٹرنز کے دوران بھی پورٹل سست روی یا ویب سائٹ کریش جیسے بڑے مسائل سامنے آئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ “ جب نظام مکمل طور پر ڈیجیٹل ہو جائے گا، تو محکمہ کو بھی اپ گریڈ کرنے کی ضرورت ہوگی، تاکہ ٹیکس دہندہ سے معلومات طلب کرنے کی بجائے تمام معلومات خود بخود حکام کے پاس دستیاب ہوں۔”&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ٹیکس سسٹم ڈیجیٹلائزیشن پروجیکٹ کی پروجیکٹ اسٹیئرنگ کمیٹی کا اجلاس گزشتہ ہفتے ایف بی آر ہیڈکوارٹر میں ہوا، جس میں وزیرِ خزانہ محمد اورنگزیب کو ایف بی آر کی مجموعی ڈیجیٹلائزیشن کے عمل سے آگاہ کیا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اجلاس میں اس بات پر زور دیا گیا کہ جدید ٹیکنالوجی کے استعمال اور ایف بی آر کے نظام کے خودکار طریقے سے کام کرنے کی بدولت ملک کی معیشت کو زیادہ رسمی اور دستاویزی بنایا جا سکتا ہے، جو ملک کی پائیدار معاشی ترقی کے لیے اہم ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دریں اثنا ٹیکس ماہر عمران اعوان نے کہا کہ ایف بی آر کی ڈیجیٹلائزیشن کی کوششیں زیادہ تر موجودہ ٹیکس دہندگان پر مرکوز نظر آتی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے افسوس کے ساتھ کہا کہ “ نان فائلرز کا ذکر نہیں ہے، اور غیر دستاویزی لین دین کا پتہ لگانے کے لیے کوئی واضح طریقہ کار بھی مرتب نہیں کیا گیا۔”&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایف بی آر کے آن لائن پورٹل آئی آر آئی ایس (آئریس) کے حوالے سے، جس میں فائلرز خود اپنے ریٹرنز جمع کرا سکتے ہیں، عمران اعوان نے کہا کہ حال ہی میں جمع کیے گئے انکم ٹیکس ریٹرنز کے دوران بھی پورٹل سست روی یا ویب سائٹ کریش جیسے بڑے مسائل سامنے آئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ “جب نظام مکمل طور پر ڈیجیٹل ہو جائے گا، تو محکمہ کو بھی اپ گریڈ کرنے کی ضرورت ہوگی، تاکہ ٹیکس دہندہ سے معلومات طلب کرنے کی بجائے تمام معلومات خود بخود حکام کے پاس دستیاب ہوں۔”&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایف بی آر کے نظام کی ڈیجیٹلائزیشن کے فوائد کی نشاندہی کرتے ہوئے، عمران اعوان نے کہا کہ اس سے نہ صرف ٹیکس جمع کروانا آسان ہو جائے گا، بلکہ ٹیکس دہندگان اور ٹیکس اتھارٹی دونوں کو فائدہ پہنچے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ٹیکس ماہر نے مزید کہا کہ جب نظام مکمل طور پر ڈیجیٹل ہو جائے گا، تو ٹیکس اتھارٹی کے پاس فائلرز کے مکمل ڈیٹا موجود ہوگا، جس کے بعد ٹیکس افسران کا کردار کم سے کم ہو جائے گا، فائلرز کے لیے عمل آسان ہوگا اور نان فائلرز کو نظام میں لانے کا عمل بھی سہل ہو جائے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایف بی آر نے ٹیکس سال 2025 کے لیے انکم ٹیکس ریٹرنز میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;31 اکتوبر 2025 تک کل 5.9 ملین ٹیکس ریٹرنز جمع کروائے گئے، جو پچھلے سال اسی مدت میں 5 ملین ریٹرنز تھے، جس میں 17.6 فیصد کا اضافہ ہوا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان میں سے 3.6 ملین ٹیکس دہندگان نے ریٹرنز کے ساتھ ٹیکس کی ادائیگی بھی کی، جو 2024 کی اسی مدت کے مقابلے میں 18.6 فیصد اضافہ ظاہر کرتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مزید برآں انفرادی ٹیکس دہندگان نے پچھلے سال کے مقابلے میں تقریباً 9 ارب روپے زیادہ ادا کیے، جو 60 ارب روپے سے بڑھ کر 69 ارب روپے تک پہنچ گئے، یعنی انفرادی ٹیکس کی ادائیگی میں 15 فیصد اضافہ ہوا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>ٹیکس ماہرین نے فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کی ڈیجیٹلائزیشن کی کوششوں کو ناکافی قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ صرف ٹیکس نظام کو ڈیجیٹل کرنا کافی نہیں، بلکہ ایک مربوط پالیسی بھی بنائی جائے تاکہ  نان فائلرز کو ٹیکس نیٹ میں لایا جا سکے۔</strong></p>
<p>کراچی ٹیکس بار ایسوسی ایشن ( کے ٹی بی اے) کے نائب صدر فائق رضا نے بزنس ریکارڈر کو بتایا کہ ٹیکس ٹو جی ڈی پی (مجموعی ملکی پیداوار) کا تناسب نمایاں طور پر بڑھنا چاہیے۔ اس وقت پاکستان کا ٹیکس ٹو جی ڈی پی تناسب 10 سے 11 فیصد کے درمیان ہے، جسے ایف بی آر 2027-28 تک 18 فیصد تک لے جانے کا ہدف رکھتا ہے۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ ”تاہم اس کے برعکس صرف ریٹرن فائلنگ کا جی ڈی پی کے ساتھ تناسب بڑھ رہا ہے، جو آمدنی میں کوئی خاص فرق نہیں ڈال رہا۔“</p>
<p>کے ٹی بی اے کے عہدیدار کے مطابق فائلرز کا 50 فیصد وہ لوگ ہیں جو صرف ایڈوانس ٹیکس سے بچنے کے لیے ریٹرن فائل کرتے ہیں اور ٹیکس کی مجموعی وصولی میں کچھ حصہ نہیں ڈالتے۔</p>
<p>انہوں نے زور دیا کہ ٹیکس کی بنیاد کو بڑھانے کے لیے نان فائلرز کو ٹیکس نیٹ میں لانے کیلئے عملی اقدامات کی اشد ضرورت ہے۔</p>
<p>فائق رضا نے زور دیا کہ صرف ریٹرن فائلنگ کے جی ڈی پی کے ساتھ تناسب کو بڑھانے پر نہیں بلکہ ٹیکس بیس کو وسیع کرنے پر توجہ دی جائے۔</p>
<p>&gt;”جب [ایف بی آر] کا نظام ڈیجیٹل ہو جائے گا، تو محکمہ کو بھی اپ گریڈ کرنے کی ضرورت ہوگی، تاکہ ٹیکس دہندہ سے معلومات طلب کرنے کی بجائے تمام معلومات خود بخود حکام کے پاس دستیاب ہوں۔“</p>
<p>ٹیکس سسٹم ڈیجیٹلائزیشن پروجیکٹ کی پروجیکٹ اسٹیئرنگ کمیٹی کا اجلاس گزشتہ ہفتے ایف بی آر ہیڈکوارٹر میں ہوا، جس میں وزیرِ خزانہ محمد اورنگزیب کو ایف بی آر کی مجموعی ڈیجیٹلائزیشن کے عمل سے آگاہ کیا گیا۔</p>
<p>اجلاس میں اس بات پر زور دیا گیا کہ جدید ٹیکنالوجی کے استعمال اور ایف بی آر کے نظام کی خودکاری سے ملک کی معیشت کو زیادہ رسمی اور دستاویزی بنایا جا سکتا ہے، جو ملک کی پائیدار معاشی ترقی کے لیے اہم ہے۔</p>
<p>دریں اثنا، ٹیکس ماہر عمران اعوان نے کہا کہ ایف بی آر کی ڈیجیٹلائزیشن کی کوششیں زیادہ تر موجودہ ٹیکس دہندگان پر مرکوز نظر آتی ہیں۔</p>
<p>انہوں نے افسوس کے ساتھ کہا کہ “غیر فائلرز کا ذکر نہیں ہے، اور غیر دستاویزی لین دین کا پتہ لگانے کے لیے کوئی واضح طریقہ کار بھی مرتب نہیں کیا گیا۔”</p>
<p>ایف بی آر کے آن لائن پورٹل آئی آر آئی ایس (آئریس) کے حوالے سے، جس میں فائلرز خود اپنے ریٹرنز جمع کرا سکتے ہیں، اعوان نے کہا کہ حال ہی میں جمع کیے گئے انکم ٹیکس ریٹرنز کے دوران بھی پورٹل سست روی یا ویب سائٹ کریش جیسے بڑے مسائل سامنے آئے۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ “ جب نظام مکمل طور پر ڈیجیٹل ہو جائے گا، تو محکمہ کو بھی اپ گریڈ کرنے کی ضرورت ہوگی، تاکہ ٹیکس دہندہ سے معلومات طلب کرنے کی بجائے تمام معلومات خود بخود حکام کے پاس دستیاب ہوں۔”</p>
<p>ٹیکس سسٹم ڈیجیٹلائزیشن پروجیکٹ کی پروجیکٹ اسٹیئرنگ کمیٹی کا اجلاس گزشتہ ہفتے ایف بی آر ہیڈکوارٹر میں ہوا، جس میں وزیرِ خزانہ محمد اورنگزیب کو ایف بی آر کی مجموعی ڈیجیٹلائزیشن کے عمل سے آگاہ کیا گیا۔</p>
<p>اجلاس میں اس بات پر زور دیا گیا کہ جدید ٹیکنالوجی کے استعمال اور ایف بی آر کے نظام کے خودکار طریقے سے کام کرنے کی بدولت ملک کی معیشت کو زیادہ رسمی اور دستاویزی بنایا جا سکتا ہے، جو ملک کی پائیدار معاشی ترقی کے لیے اہم ہے۔</p>
<p>دریں اثنا ٹیکس ماہر عمران اعوان نے کہا کہ ایف بی آر کی ڈیجیٹلائزیشن کی کوششیں زیادہ تر موجودہ ٹیکس دہندگان پر مرکوز نظر آتی ہیں۔</p>
<p>انہوں نے افسوس کے ساتھ کہا کہ “ نان فائلرز کا ذکر نہیں ہے، اور غیر دستاویزی لین دین کا پتہ لگانے کے لیے کوئی واضح طریقہ کار بھی مرتب نہیں کیا گیا۔”</p>
<p>ایف بی آر کے آن لائن پورٹل آئی آر آئی ایس (آئریس) کے حوالے سے، جس میں فائلرز خود اپنے ریٹرنز جمع کرا سکتے ہیں، عمران اعوان نے کہا کہ حال ہی میں جمع کیے گئے انکم ٹیکس ریٹرنز کے دوران بھی پورٹل سست روی یا ویب سائٹ کریش جیسے بڑے مسائل سامنے آئے۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ “جب نظام مکمل طور پر ڈیجیٹل ہو جائے گا، تو محکمہ کو بھی اپ گریڈ کرنے کی ضرورت ہوگی، تاکہ ٹیکس دہندہ سے معلومات طلب کرنے کی بجائے تمام معلومات خود بخود حکام کے پاس دستیاب ہوں۔”</p>
<p>ایف بی آر کے نظام کی ڈیجیٹلائزیشن کے فوائد کی نشاندہی کرتے ہوئے، عمران اعوان نے کہا کہ اس سے نہ صرف ٹیکس جمع کروانا آسان ہو جائے گا، بلکہ ٹیکس دہندگان اور ٹیکس اتھارٹی دونوں کو فائدہ پہنچے گا۔</p>
<p>ٹیکس ماہر نے مزید کہا کہ جب نظام مکمل طور پر ڈیجیٹل ہو جائے گا، تو ٹیکس اتھارٹی کے پاس فائلرز کے مکمل ڈیٹا موجود ہوگا، جس کے بعد ٹیکس افسران کا کردار کم سے کم ہو جائے گا، فائلرز کے لیے عمل آسان ہوگا اور نان فائلرز کو نظام میں لانے کا عمل بھی سہل ہو جائے گا۔</p>
<p>ایف بی آر نے ٹیکس سال 2025 کے لیے انکم ٹیکس ریٹرنز میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا ہے۔</p>
<p>31 اکتوبر 2025 تک کل 5.9 ملین ٹیکس ریٹرنز جمع کروائے گئے، جو پچھلے سال اسی مدت میں 5 ملین ریٹرنز تھے، جس میں 17.6 فیصد کا اضافہ ہوا۔</p>
<p>ان میں سے 3.6 ملین ٹیکس دہندگان نے ریٹرنز کے ساتھ ٹیکس کی ادائیگی بھی کی، جو 2024 کی اسی مدت کے مقابلے میں 18.6 فیصد اضافہ ظاہر کرتا ہے۔</p>
<p>مزید برآں انفرادی ٹیکس دہندگان نے پچھلے سال کے مقابلے میں تقریباً 9 ارب روپے زیادہ ادا کیے، جو 60 ارب روپے سے بڑھ کر 69 ارب روپے تک پہنچ گئے، یعنی انفرادی ٹیکس کی ادائیگی میں 15 فیصد اضافہ ہوا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Business &amp; Finance</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40279925</guid>
      <pubDate>Sat, 29 Nov 2025 20:09:46 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (عمادالدین)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2025/11/29193338255aa5d.webp" type="image/webp" medium="image" height="853" width="1280">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2025/11/29193338255aa5d.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
