<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Opinion</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 20:08:56 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 20:08:56 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ترقی کا ناکارہ ماڈل</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40279922/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;250 ملین (25 کروڑ ) آبادی کا ملک 4 فیصد سے کم معاشی نمو پر زندہ نہیں رہ سکتا، خاص طور پر جب بے روزگاری 21 سال کی بلند ترین سطح 7.1 فیصد تک پہنچ چکی ہو اور غربت، جیسا کہ ورلڈ بینک بتاتا ہے، بڑھ کر حیران کن 44.7 فیصد ہو گئی ہو۔ پاکستان کے سرکاری معاشی منتظمین بالآخر وہ بات زبان پر لے ہی آئے جو ماہرینِ معاشیات، کاروباری حلقے اور عام شہری مدتوں سے جانتے تھے: ملک کا ترقیاتی ماڈل ناکارہ ہوچکا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;گزشتہ ہفتے الگ الگ مگر یکجا ہوتے ہوئے بیانات میں، اسٹیٹ بینک آف پاکستان (ایس بی پی) کے گورنر جمیل احمد اور وزیرِ خزانہ محمد اورنگزیب نے اعتراف کیا کہ استحکام کی پالیسیاں اب زندگی کا معمول بن چکی ہیں، کہ پاکستان کی ترقی کی موجودہ سمت قابلِ عمل نہیں رہی، اور یہ کہ عارضی، جھٹکوں جیسی ترقی کا پرانا فارمولا اب ختم ہونا چاہیے۔ ان کی صاف گوئی قابلِ تحسین ہے، مگر یہ اس ناگوار حقیقت کو بھی بے نقاب کرتی ہے کہ پاکستان اپنے موجودہ معاشی ڈھانچے کی حدیں مکمل طور پر کھو چکا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دہائیوں تک پاکستان نے ایک ایسی معیشت چلائی ہے جو کھپت، بیرونی قرضوں، درآمدی انحصار اور وقتاً فوقتاً نافذ ہونے والے آئی ایم ایف کے استحکام پروگراموں سے چلتی رہی۔ اس ماڈل نے کبھی کبھار 5 سے 6 فیصد کی وقتی شرح نمو تو دی، مگر اس کے فوراً بعد ادائیگیوں کے توازن (بی او پی) کے نئے بحران جنم لیتے رہے۔ اصلاحات کی جگہ ہر حکومت نے بریک لگا کر اونچے سودی نرخوں، درآمدات پر دباؤ، بھاری ٹیکسوں اور توانائی نرخوں میں اضافے جیسے اقدامات اختیار کیے۔ یوں استحکام ایک معمول بن گیا، استثنا نہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&amp;gt;گورنر جمیل احمد کی تشخیص برسوں کی تردید کو چیر کر رکھ دیتی ہے۔ پاکستان کی طویل المدتی شرحِ نمو مسلسل گراوٹ کا شکار رہی ہے: گزشتہ 30 برس میں اوسط 3.9 فیصد سے کم ہو کر گزشتہ دو دہائیوں میں 3.5 فیصد، اور پچھلے پانچ برس میں مزید گھٹ کر 3.4 فیصد تک آ گئی۔ اس سے بھی زیادہ تشویشناک پہلو کاروباری چکر کا سکڑ جانا ہے، ترقی کے ادوار مختصر ہوتے جا رہے ہیں، سست روی زیادہ بار آ رہی ہے، اور بحالی پہلے سے کہیں زیادہ سست ہو چکی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایس بی پی کے گورنر کا پیغام واضح ہے: استحکام پاکستان کی مستقل معاشی حالت نہیں بن سکتا۔ یہ ایک اصلاحی آلے کے طور پر بنایا گیا تھا، نہ کہ ڈھانچے کا حصہ۔ مگر پاکستان نے ترقی سے زیادہ وقت استحکام پر گزار دیا ہے۔ ٹیکس نظام تخلیقی کے بجائے استحصالی ہو چکا ہے؛ توانائی کے نرخ اُن نااہلیوں کے ازالے کے لیے بڑھائے جاتے ہیں جنہیں کوئی نہیں ٹھیک کرتا؛ اور مالیاتی پابندیوں کے باوجود سرکاری خرچ مسلسل بڑھتا رہتا ہے۔ اس کا بوجھ غیرمتناسب طور پر کاروبار اور گھریلو صارفین پر پڑتا ہے، مسابقت کو گھٹاتا ہے اور سرمایہ کاری کو دبا دیتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ادھر وزیرِ خزانہ محمد اورنگزیب نے معاشی گفتگو کو تیز رفتار نمو کے اہداف سے ہٹاتے ہوئے پائیدار ترقی پر توجہ مرکوز کرنی شروع کر دی ہے۔ وہ تسلیم کرتے ہیں کہ ملک 5 سے 6 فیصد شرحِ نمو کے ایک اور ایسے دور کا متحمل نہیں ہو سکتا جو سستے قرض، سبسڈائزڈ درآمدات یا غیرپائیدار مالیاتی پالیسیوں کے سہارے حاصل کیا جائے۔ ایسی تیز رفتاریاں کچھ دیر کی داد تو سمیٹ لیتی ہیں، مگر ساتھ ہی اگلا بحران بھی لے آتی ہیں۔ ان کا “مستحکم، پائیدار ترقی” پر زور سیاسی بیانیے کے مقابلے میں کہیں زیادہ حقیقت پسندانہ، اور زیادہ صاف گو ، ہے جس کا پاکستان کئی برسوں سے سامنا کر رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اہم بات یہ ہے کہ وزیرِ خزانہ نے پھر دہرایا کہ برآمدات پر مبنی ترقی ہی واحد قابلِ عمل راستہ ہے۔ پاکستان یہ بات بے شمار بار کہہ چکا ہے، مگر ہر حکومت نے ایک ایسی معیشت تشکیل دی جو برآمدکنندگان کو غیرمستحکم شرحِ مبادلہ، مہنگے خام مال، ریفنڈز میں تاخیر اور دائمی غیریقینی کے ذریعے سزا دیتی ہے۔ جب معیشت خود اندرونی، کرایہ خوری پر مبنی اور ڈھانچہ جاتی تبدیلی سے مزاحم ہو، تو برآمدات پر مبنی ترقی ممکن ہی نہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزیر موصوف کا ایک پڑوسی ملک کے بارے میں 8 فیصد شرحِ نمو کے باوجود بیروزگاری کے مسائل کا حوالہ اس حقیقت کی جانب اشارہ تھا کہ اگر مجموعی ملکی پیداوار (جی ڈی پی) کا اضافہ وسیع معاشی خوشحالی پیدا نہ کرے تو اس کی چمک دھوکہ دیتی ہے۔ اگر ان کا اشارہ بھارت کی طرف ہے تو ورلڈ بینک کی اکتوبر 2025 کی رپورٹ اس کے بارے میں یوں کہتی ہے: “گزشتہ دہائی میں بھارت نے غربت میں نمایاں کمی کی ہے، جہاں انتہائی غربت (یومیہ 2.15 ڈالر سے کم آمدن) 2011-12 میں 16.2 فیصد سے گر کر 2022-23 میں 2.3 فیصد رہ گئی، یعنی 171 ملین (17 کروڑ 10 لاکھ) افراد اس خط (غربت) سے اوپر آ گئے۔”&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان میں جاری اپنا مباحثہ، انہوں نے کہا، صرف زیادہ پیداواری حجم کے بارے میں نہیں بلکہ “نمایندہ ترقی” کے بارے میں ہونا چاہیے، ایسی ترقی جو روزگار پیدا کرے، عدم مساوات کم کرے اور مواقع میں اضافہ کرے۔ یہ بیانیاتی تبدیلی اہم ہے، مگر یہ محض بیانات سے ممکن نہیں۔ اس کے لیے اُن اشرافیائی سودوں ( اشرافیہ کے مفاد کے سودے یا طاقتور طبقے کے معاہدے) کو توڑنا ہوگا جو معاشی پالیسی کا تعین کرتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دونوں حکام نے صنعتی بحالی کو بھی ترجیح قرار دیا ہے، اور آنے والی صنعتی پالیسی سے توقع ہے کہ پیداوار کی بحالی پر توجہ دے گی۔ مگر بنیادی مسائل حل کیے بغیر صنعتی بحالی ایک خواہش ہی رہے گی: مہنگی توانائی، پالیسی کی عدم تسلسل، غیرمستحکم ٹیرف، کمزور لاجسٹکس، اور ایسا ٹیکس ڈھانچہ جو رسمی شعبے کی حوصلہ شکنی کرتا ہے۔ جب صنعت کو دستاویزی، پیداواری اور برآمدی ہونا مہنگا پڑے تو صنعتی ترقی ممکن نہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حکومت کی رواں سال 3.5 فیصد اور آئندہ دو سے تین برسوں میں تقریباً 4 فیصد شرح نمو کی پیشگوئی اس صورت میں ممکن ہے کہ زرعی شعبہ جو اپنا حالیہ بہتری یا نمو دکھا رہا ہے، کو برقرار رکھے اور بیرونی شعبہ مستحکم رہے۔ مگر 3 سے 4 فیصد کی اس محدود دائرے سے آزاد ہونے کے لیے حقیقی ڈھانچہ جاتی اصلاحات درکار ہوں گی، نہ کہ سطحی تبدیلیاں، نہ عارضی مرمت، نہ عارضی یا وقتی اقدامات۔ اصلاحات کے بغیر پاکستان اسی چکر میں پھنسارہے گا جس کا دونوں حکام، گورنر اور وزیر، بالواسطہ اعتراف کر چکے ہیں: ایک ایسا بار بار لوٹ آنے والا عروج و زوال کا چکر جو خود پیدا کردہ ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان بیانات کے پس منظر میں حقیقت اس سے بھی زیادہ سخت ہے۔ پاکستان کا معاشی بحران عارضی نہیں؛ یہ ساختی ہے۔ صرف استحکام سے حکمرانی کی ناکامیوں، غیرمسابقہ جاتی معاشی ڈھانچے، دائمی مالیاتی بےضابطگی اور پالیسی پر اشرافیہ کے قبضے کا ازالہ نہیں ہو سکتا۔ نہ ہی پائیدار ترقی اُس ماحول میں جنم لے سکتی ہے جہاں سرمایہ کاری کو غیریقینی روکے، ادارے کمزور ہوں، اور پیداواری صلاحیت جمود کا شکار رہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;گورنر درست کہتے ہیں: ہمارا موجودہ ترقیاتی ماڈل 250 ملین (25 کروڑ) آبادی کو سنبھال نہیں سکتا۔ اور وزیرِ خزانہ بھی ٹھیک کہتے ہیں: پاکستان کو ماضی کو نہیں دہرانا چاہیے۔ مگر مسئلے کو پہچان لینا پہلا قدم ہے۔ ملک کو اپنے کھپت زدہ، درآمدی انحصار والے، قرض پر چلنے والے ماڈل کی جگہ ایک ایسے ماڈل کی ضرورت ہے جو بچت، سرمایہ کاری، پیداواریت، برآمدات اور ادارہ جاتی اصلاحات پر مبنی ہو۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہی اصل چیلنج ہے، اور ان بیانات کے پیچھے اصل سچ۔ سیاسی طبقے کو ماننا ہوگا کہ پاکستان اصلاحات کی قیمت ادا کیے بغیر آگے نہیں بڑھ سکتا۔ اور کاروباری طبقے کو سمجھنا ہوگا کہ مسابقت کے بغیر پائیدار منافع ممکن نہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2025&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>250 ملین (25 کروڑ ) آبادی کا ملک 4 فیصد سے کم معاشی نمو پر زندہ نہیں رہ سکتا، خاص طور پر جب بے روزگاری 21 سال کی بلند ترین سطح 7.1 فیصد تک پہنچ چکی ہو اور غربت، جیسا کہ ورلڈ بینک بتاتا ہے، بڑھ کر حیران کن 44.7 فیصد ہو گئی ہو۔ پاکستان کے سرکاری معاشی منتظمین بالآخر وہ بات زبان پر لے ہی آئے جو ماہرینِ معاشیات، کاروباری حلقے اور عام شہری مدتوں سے جانتے تھے: ملک کا ترقیاتی ماڈل ناکارہ ہوچکا ہے۔</strong></p>
<p>گزشتہ ہفتے الگ الگ مگر یکجا ہوتے ہوئے بیانات میں، اسٹیٹ بینک آف پاکستان (ایس بی پی) کے گورنر جمیل احمد اور وزیرِ خزانہ محمد اورنگزیب نے اعتراف کیا کہ استحکام کی پالیسیاں اب زندگی کا معمول بن چکی ہیں، کہ پاکستان کی ترقی کی موجودہ سمت قابلِ عمل نہیں رہی، اور یہ کہ عارضی، جھٹکوں جیسی ترقی کا پرانا فارمولا اب ختم ہونا چاہیے۔ ان کی صاف گوئی قابلِ تحسین ہے، مگر یہ اس ناگوار حقیقت کو بھی بے نقاب کرتی ہے کہ پاکستان اپنے موجودہ معاشی ڈھانچے کی حدیں مکمل طور پر کھو چکا ہے۔</p>
<p>دہائیوں تک پاکستان نے ایک ایسی معیشت چلائی ہے جو کھپت، بیرونی قرضوں، درآمدی انحصار اور وقتاً فوقتاً نافذ ہونے والے آئی ایم ایف کے استحکام پروگراموں سے چلتی رہی۔ اس ماڈل نے کبھی کبھار 5 سے 6 فیصد کی وقتی شرح نمو تو دی، مگر اس کے فوراً بعد ادائیگیوں کے توازن (بی او پی) کے نئے بحران جنم لیتے رہے۔ اصلاحات کی جگہ ہر حکومت نے بریک لگا کر اونچے سودی نرخوں، درآمدات پر دباؤ، بھاری ٹیکسوں اور توانائی نرخوں میں اضافے جیسے اقدامات اختیار کیے۔ یوں استحکام ایک معمول بن گیا، استثنا نہیں۔</p>
<p>&gt;گورنر جمیل احمد کی تشخیص برسوں کی تردید کو چیر کر رکھ دیتی ہے۔ پاکستان کی طویل المدتی شرحِ نمو مسلسل گراوٹ کا شکار رہی ہے: گزشتہ 30 برس میں اوسط 3.9 فیصد سے کم ہو کر گزشتہ دو دہائیوں میں 3.5 فیصد، اور پچھلے پانچ برس میں مزید گھٹ کر 3.4 فیصد تک آ گئی۔ اس سے بھی زیادہ تشویشناک پہلو کاروباری چکر کا سکڑ جانا ہے، ترقی کے ادوار مختصر ہوتے جا رہے ہیں، سست روی زیادہ بار آ رہی ہے، اور بحالی پہلے سے کہیں زیادہ سست ہو چکی ہے۔</p>
<p>ایس بی پی کے گورنر کا پیغام واضح ہے: استحکام پاکستان کی مستقل معاشی حالت نہیں بن سکتا۔ یہ ایک اصلاحی آلے کے طور پر بنایا گیا تھا، نہ کہ ڈھانچے کا حصہ۔ مگر پاکستان نے ترقی سے زیادہ وقت استحکام پر گزار دیا ہے۔ ٹیکس نظام تخلیقی کے بجائے استحصالی ہو چکا ہے؛ توانائی کے نرخ اُن نااہلیوں کے ازالے کے لیے بڑھائے جاتے ہیں جنہیں کوئی نہیں ٹھیک کرتا؛ اور مالیاتی پابندیوں کے باوجود سرکاری خرچ مسلسل بڑھتا رہتا ہے۔ اس کا بوجھ غیرمتناسب طور پر کاروبار اور گھریلو صارفین پر پڑتا ہے، مسابقت کو گھٹاتا ہے اور سرمایہ کاری کو دبا دیتا ہے۔</p>
<p>ادھر وزیرِ خزانہ محمد اورنگزیب نے معاشی گفتگو کو تیز رفتار نمو کے اہداف سے ہٹاتے ہوئے پائیدار ترقی پر توجہ مرکوز کرنی شروع کر دی ہے۔ وہ تسلیم کرتے ہیں کہ ملک 5 سے 6 فیصد شرحِ نمو کے ایک اور ایسے دور کا متحمل نہیں ہو سکتا جو سستے قرض، سبسڈائزڈ درآمدات یا غیرپائیدار مالیاتی پالیسیوں کے سہارے حاصل کیا جائے۔ ایسی تیز رفتاریاں کچھ دیر کی داد تو سمیٹ لیتی ہیں، مگر ساتھ ہی اگلا بحران بھی لے آتی ہیں۔ ان کا “مستحکم، پائیدار ترقی” پر زور سیاسی بیانیے کے مقابلے میں کہیں زیادہ حقیقت پسندانہ، اور زیادہ صاف گو ، ہے جس کا پاکستان کئی برسوں سے سامنا کر رہا ہے۔</p>
<p>اہم بات یہ ہے کہ وزیرِ خزانہ نے پھر دہرایا کہ برآمدات پر مبنی ترقی ہی واحد قابلِ عمل راستہ ہے۔ پاکستان یہ بات بے شمار بار کہہ چکا ہے، مگر ہر حکومت نے ایک ایسی معیشت تشکیل دی جو برآمدکنندگان کو غیرمستحکم شرحِ مبادلہ، مہنگے خام مال، ریفنڈز میں تاخیر اور دائمی غیریقینی کے ذریعے سزا دیتی ہے۔ جب معیشت خود اندرونی، کرایہ خوری پر مبنی اور ڈھانچہ جاتی تبدیلی سے مزاحم ہو، تو برآمدات پر مبنی ترقی ممکن ہی نہیں۔</p>
<p>وزیر موصوف کا ایک پڑوسی ملک کے بارے میں 8 فیصد شرحِ نمو کے باوجود بیروزگاری کے مسائل کا حوالہ اس حقیقت کی جانب اشارہ تھا کہ اگر مجموعی ملکی پیداوار (جی ڈی پی) کا اضافہ وسیع معاشی خوشحالی پیدا نہ کرے تو اس کی چمک دھوکہ دیتی ہے۔ اگر ان کا اشارہ بھارت کی طرف ہے تو ورلڈ بینک کی اکتوبر 2025 کی رپورٹ اس کے بارے میں یوں کہتی ہے: “گزشتہ دہائی میں بھارت نے غربت میں نمایاں کمی کی ہے، جہاں انتہائی غربت (یومیہ 2.15 ڈالر سے کم آمدن) 2011-12 میں 16.2 فیصد سے گر کر 2022-23 میں 2.3 فیصد رہ گئی، یعنی 171 ملین (17 کروڑ 10 لاکھ) افراد اس خط (غربت) سے اوپر آ گئے۔”</p>
<p>پاکستان میں جاری اپنا مباحثہ، انہوں نے کہا، صرف زیادہ پیداواری حجم کے بارے میں نہیں بلکہ “نمایندہ ترقی” کے بارے میں ہونا چاہیے، ایسی ترقی جو روزگار پیدا کرے، عدم مساوات کم کرے اور مواقع میں اضافہ کرے۔ یہ بیانیاتی تبدیلی اہم ہے، مگر یہ محض بیانات سے ممکن نہیں۔ اس کے لیے اُن اشرافیائی سودوں ( اشرافیہ کے مفاد کے سودے یا طاقتور طبقے کے معاہدے) کو توڑنا ہوگا جو معاشی پالیسی کا تعین کرتے ہیں۔</p>
<p>دونوں حکام نے صنعتی بحالی کو بھی ترجیح قرار دیا ہے، اور آنے والی صنعتی پالیسی سے توقع ہے کہ پیداوار کی بحالی پر توجہ دے گی۔ مگر بنیادی مسائل حل کیے بغیر صنعتی بحالی ایک خواہش ہی رہے گی: مہنگی توانائی، پالیسی کی عدم تسلسل، غیرمستحکم ٹیرف، کمزور لاجسٹکس، اور ایسا ٹیکس ڈھانچہ جو رسمی شعبے کی حوصلہ شکنی کرتا ہے۔ جب صنعت کو دستاویزی، پیداواری اور برآمدی ہونا مہنگا پڑے تو صنعتی ترقی ممکن نہیں۔</p>
<p>حکومت کی رواں سال 3.5 فیصد اور آئندہ دو سے تین برسوں میں تقریباً 4 فیصد شرح نمو کی پیشگوئی اس صورت میں ممکن ہے کہ زرعی شعبہ جو اپنا حالیہ بہتری یا نمو دکھا رہا ہے، کو برقرار رکھے اور بیرونی شعبہ مستحکم رہے۔ مگر 3 سے 4 فیصد کی اس محدود دائرے سے آزاد ہونے کے لیے حقیقی ڈھانچہ جاتی اصلاحات درکار ہوں گی، نہ کہ سطحی تبدیلیاں، نہ عارضی مرمت، نہ عارضی یا وقتی اقدامات۔ اصلاحات کے بغیر پاکستان اسی چکر میں پھنسارہے گا جس کا دونوں حکام، گورنر اور وزیر، بالواسطہ اعتراف کر چکے ہیں: ایک ایسا بار بار لوٹ آنے والا عروج و زوال کا چکر جو خود پیدا کردہ ہے۔</p>
<p>ان بیانات کے پس منظر میں حقیقت اس سے بھی زیادہ سخت ہے۔ پاکستان کا معاشی بحران عارضی نہیں؛ یہ ساختی ہے۔ صرف استحکام سے حکمرانی کی ناکامیوں، غیرمسابقہ جاتی معاشی ڈھانچے، دائمی مالیاتی بےضابطگی اور پالیسی پر اشرافیہ کے قبضے کا ازالہ نہیں ہو سکتا۔ نہ ہی پائیدار ترقی اُس ماحول میں جنم لے سکتی ہے جہاں سرمایہ کاری کو غیریقینی روکے، ادارے کمزور ہوں، اور پیداواری صلاحیت جمود کا شکار رہے۔</p>
<p>گورنر درست کہتے ہیں: ہمارا موجودہ ترقیاتی ماڈل 250 ملین (25 کروڑ) آبادی کو سنبھال نہیں سکتا۔ اور وزیرِ خزانہ بھی ٹھیک کہتے ہیں: پاکستان کو ماضی کو نہیں دہرانا چاہیے۔ مگر مسئلے کو پہچان لینا پہلا قدم ہے۔ ملک کو اپنے کھپت زدہ، درآمدی انحصار والے، قرض پر چلنے والے ماڈل کی جگہ ایک ایسے ماڈل کی ضرورت ہے جو بچت، سرمایہ کاری، پیداواریت، برآمدات اور ادارہ جاتی اصلاحات پر مبنی ہو۔</p>
<p>یہی اصل چیلنج ہے، اور ان بیانات کے پیچھے اصل سچ۔ سیاسی طبقے کو ماننا ہوگا کہ پاکستان اصلاحات کی قیمت ادا کیے بغیر آگے نہیں بڑھ سکتا۔ اور کاروباری طبقے کو سمجھنا ہوگا کہ مسابقت کے بغیر پائیدار منافع ممکن نہیں۔</p>
<p>کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2025</p>
]]></content:encoded>
      <category>Opinion</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40279922</guid>
      <pubDate>Sat, 29 Nov 2025 22:18:25 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (فرحت علی)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2025/11/291606549a9613b.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2025/11/291606549a9613b.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
