<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Pakistan</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 14:39:23 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 14:39:23 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>اقوام متحدہ کی 27 وین آئینی ترامیم پر اظہار تشویش</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40279921/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق فولکر ترک نے پاکستان میں جلدبازی میں کی گئی تازہ ترین آئینی ترامیم پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے اور کہا ہے کہ یہ تبدیلیاں عدلیہ کی آزادی اور قانون کی حکمرانی کے اصولوں کو شدید نقصان پہنچاتی ہیں۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے نشاندہی کی کہ حالیہ ترمیم، بالکل 2024 کی 26ویں ترمیم کی طرح، قانونی برادری اور سول سوسائٹی کے ساتھ مناسب مشاورت اور بحث کے بغیر منظور کی گئی، اور یہ اختیارات کی تقسیم کے بنیادی اصول کے منافی ہے جو انسانی حقوق کے تحفظ کو یقینی بناتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بیان میں کہا گیا کہ 13 نومبر کو منظور شدہ ترامیم کے تحت نیا وفاقی آئینی عدالت  آئینی مقدمات کی سماعت کے اختیارات حاصل کرے گا، جبکہ سپریم کورٹ اب صرف سول اور فوجداری مقدمات تک محدود ہوگی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے ادارے نے ججوں کی تقرری، ترقی اور تبادلے کے نظام میں کی گئی تبدیلیوں پر تشویش ظاہر کی، جن سے عدلیہ کی ساختی خودمختاری کمزور ہو رہی ہے۔ وفاقی آئینی عدالت کے پہلے چیف جسٹس اور ججوں کا تقرر پہلے ہی صدر نے وزیر اعظم کی مشاورت سے کر دیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فولکر ترک نے کہا کہ یہ ترامیم عدلیہ کو سیاسی مداخلت اور ایگزیکٹو کنٹرول کے تابع کرسکتی ہیں اور نہ ایگزیکٹو نہ مقننہ کو عدلیہ پر اثر انداز ہونے کا اختیار ہونا چاہیے۔ عدلیہ کو اپنے فیصلوں میں مکمل آزادی حاصل ہونی چاہیے تاکہ وہ قانون کو مساوی طور پر نافذ کرے اور تمام شہریوں کے حقوق انسانی کا تحفظ یقینی بنائے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے مزید کہا کہ ترمیم میں شامل وسیع حفاظتی شقیں احتساب کے اصول کو کمزور کرتی ہیں، جو انسانی حقوق کے نظام کی بنیاد ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فولکر ترک نے خدشہ ظاہر کیا کہ یہ ترامیم جمہوریت اور قانون کی بالادستی پر دور رس اثرات مرتب کر سکتی ہیں، جنہیں پاکستانی عوام قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق فولکر ترک نے پاکستان میں جلدبازی میں کی گئی تازہ ترین آئینی ترامیم پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے اور کہا ہے کہ یہ تبدیلیاں عدلیہ کی آزادی اور قانون کی حکمرانی کے اصولوں کو شدید نقصان پہنچاتی ہیں۔</strong></p>
<p>انہوں نے نشاندہی کی کہ حالیہ ترمیم، بالکل 2024 کی 26ویں ترمیم کی طرح، قانونی برادری اور سول سوسائٹی کے ساتھ مناسب مشاورت اور بحث کے بغیر منظور کی گئی، اور یہ اختیارات کی تقسیم کے بنیادی اصول کے منافی ہے جو انسانی حقوق کے تحفظ کو یقینی بناتا ہے۔</p>
<p>بیان میں کہا گیا کہ 13 نومبر کو منظور شدہ ترامیم کے تحت نیا وفاقی آئینی عدالت  آئینی مقدمات کی سماعت کے اختیارات حاصل کرے گا، جبکہ سپریم کورٹ اب صرف سول اور فوجداری مقدمات تک محدود ہوگی۔</p>
<p>اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے ادارے نے ججوں کی تقرری، ترقی اور تبادلے کے نظام میں کی گئی تبدیلیوں پر تشویش ظاہر کی، جن سے عدلیہ کی ساختی خودمختاری کمزور ہو رہی ہے۔ وفاقی آئینی عدالت کے پہلے چیف جسٹس اور ججوں کا تقرر پہلے ہی صدر نے وزیر اعظم کی مشاورت سے کر دیا ہے۔</p>
<p>فولکر ترک نے کہا کہ یہ ترامیم عدلیہ کو سیاسی مداخلت اور ایگزیکٹو کنٹرول کے تابع کرسکتی ہیں اور نہ ایگزیکٹو نہ مقننہ کو عدلیہ پر اثر انداز ہونے کا اختیار ہونا چاہیے۔ عدلیہ کو اپنے فیصلوں میں مکمل آزادی حاصل ہونی چاہیے تاکہ وہ قانون کو مساوی طور پر نافذ کرے اور تمام شہریوں کے حقوق انسانی کا تحفظ یقینی بنائے۔</p>
<p>انہوں نے مزید کہا کہ ترمیم میں شامل وسیع حفاظتی شقیں احتساب کے اصول کو کمزور کرتی ہیں، جو انسانی حقوق کے نظام کی بنیاد ہیں۔</p>
<p>فولکر ترک نے خدشہ ظاہر کیا کہ یہ ترامیم جمہوریت اور قانون کی بالادستی پر دور رس اثرات مرتب کر سکتی ہیں، جنہیں پاکستانی عوام قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40279921</guid>
      <pubDate>Sat, 29 Nov 2025 16:05:27 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (بی آر ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2025/11/291601316e2af9d.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2025/11/291601316e2af9d.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
