<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Pakistan</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 21:59:49 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 21:59:49 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>افغانستان کے ساتھ جنگ بندی برقرار نہیں ہے، ترجمان دفترخارجہ</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40279910/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;پاکستان نے کہا ہے کہ افغانستان کے ساتھ جنگ بندی برقرار نہیں ہے کیونکہ افغان سرزمین کا استعمال کرتے ہوئے پاکستان میں دہشت گرد تنظیموں کے حملے جاری ہیں، جنگ بندی مفاہمت کا مقصد خالصتاً ایسے حملوں کو روکنا تھا۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دفتر خارجہ کے ترجمان طاہر حسین اندرابی نے  پریس بریفنگ میں بتایا کہ پاکستان افغانستان جنگ بندی کا مطلب روایتی جنگ بندی نہیں ہے جو کسی جنگ یا تنازعہ کی صورت حال کے بعد نافذ کی گئی ہے بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ افغان حمایت یافتہ دہشت گرد پراکسی پاکستان میں کوئی دہشتگرد حملہ نہیں کریں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ اس جنگ بندی کے بعد بڑے دہشت گرد حملے ہوئے ہیں لہذا اس معنی میں جنگ بندی برقرار نہیں ہے کیونکہ جنگ بندی ٹی ٹی پی، ایف اے کے اور افغان شہریوں کی طرف سے افغان سرزمین کا استعمال پاکستان کے خلاف دہشت گردانہ حملے بند کرنے کے بارے میں تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ترجمان نے کہا کہ اس لئے اگر افغان شہری حملے کر رہے ہیں جیسا کہ انہوں نے اسلام آباد اور دیگر جگہوں پر کیا تو ہم جنگ بندی کے بارے میں زیادہ پر امید نہیں ہو سکتے۔ افغانستان سے کسی بھی حملے کے خطرے کے بارے میں پوچھے جانے پر انہوں نے کہا کہ پاکستانی سکیورٹی فورسز پوری طرح چوکس ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ ہماری فوجی تیاری مضبوط ہے، ہمیں جن سکیورٹی چیلنجز کا سامنا ہے ان سے سنجیدگی کے ساتھ نمٹا جائے گا جس کی پاکستان اہلیت رکھتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ترجمان نے سعودی عرب کی طرف سے کسی بھی ثالثی کی پیشکش کے بارے میں کہا کہ وہ ایسی کسی ٹھوس پیشکش سے آگاہ نہیں ہیں تاہم ہم ثالثی کا خیرمقدم کرتے ہیں۔ ترجمان نے افغانستان سے دہشت گردی کا شکار ہونے والے ممالک کے درمیان ہم آہنگی خاص طور پر تاجکستان میں حملے کے بارے میں سوال پر کہا کہ ان تمام ممالک کے پاس ان مسائل پر بات چیت اور ہم آہنگی کا ایک مضبوط طریقہ کار ہے لہٰذا علاقائی ممالک باخبر ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ پاکستان تمام دوطرفہ اور کثیر جہتی فورمز پر ان رابطوں پر عمل پیرا ہے اور آنے والے دنوں میں اس طرح کی مشترکہ کوآرڈینیشن کو بڑھانے کی ضرورت ہے۔ افغان طالبان کے اس بیان پر جس میں تاجکستان میں حملے کےلئے ”بعض عناصر“ پر الزام لگایا گیاہے، طاہر حسین اندرابی نے کہا کہ ہم یہی کہہ رہے ہیں کہ ان عناصر کو کنٹرول کریں اور یہ عناصر افغان سرزمین پر موجود ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس سے قبل ترجمان دفتر خارجہ نے واشنگٹن میں فائرنگ کے واقعے کی مذمت کی اور اسے دہشت گردی کا گھنائونا فعل قرار دیا۔ انہوں نے پاکستان کی جانب سے امریکا سے تعزیت کا اظہار کیا۔ ترجمان نے کہا کہ پاکستان نے دو دہائیوں سے افغانستان سے واضح تعلق کے ساتھ اسی طرح کے دہشت گردی کے واقعات کو برداشت کیا ہے، یہ واقعہ دنیا بھر میں دہشت گردی کے پریشان کن دوبارہ سر اٹھانے کا اشارہ دیتا ہے۔ انہوں نے تاجکستان میں 3 چینی شہریوں کے قتل کی بھی مذمت کی اور اس بات کا اعادہ کیا کہ افغان سرزمین کو دہشت گردی کے لیے استعمال نہیں ہونا چاہیے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ترجمان نے طالبان کی سرپرستی میں افغانستان سے کام کرنے والے گروہوں کے خلاف ٹھوس اور قابل تصدیق کارروائی کا بھی مطالبہ کیا۔ انہوں نے اس بات کا اعادہ کیا کہ پاکستان اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی متعلقہ قراردادوں اور کشمیری عوام کی امنگوں کے مطابق تنازعہ جموں و کشمیر کے پرامن، منصفانہ اور پائیدار حل کے لیے پرعزم ہے اور وہ کشمیری عوام کی منصفانہ جدوجہد میں ان کی اخلاقی، سیاسی اور سفارتی حمایت جاری رکھے گا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>پاکستان نے کہا ہے کہ افغانستان کے ساتھ جنگ بندی برقرار نہیں ہے کیونکہ افغان سرزمین کا استعمال کرتے ہوئے پاکستان میں دہشت گرد تنظیموں کے حملے جاری ہیں، جنگ بندی مفاہمت کا مقصد خالصتاً ایسے حملوں کو روکنا تھا۔</strong></p>
<p>دفتر خارجہ کے ترجمان طاہر حسین اندرابی نے  پریس بریفنگ میں بتایا کہ پاکستان افغانستان جنگ بندی کا مطلب روایتی جنگ بندی نہیں ہے جو کسی جنگ یا تنازعہ کی صورت حال کے بعد نافذ کی گئی ہے بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ افغان حمایت یافتہ دہشت گرد پراکسی پاکستان میں کوئی دہشتگرد حملہ نہیں کریں گے۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ اس جنگ بندی کے بعد بڑے دہشت گرد حملے ہوئے ہیں لہذا اس معنی میں جنگ بندی برقرار نہیں ہے کیونکہ جنگ بندی ٹی ٹی پی، ایف اے کے اور افغان شہریوں کی طرف سے افغان سرزمین کا استعمال پاکستان کے خلاف دہشت گردانہ حملے بند کرنے کے بارے میں تھی۔</p>
<p>ترجمان نے کہا کہ اس لئے اگر افغان شہری حملے کر رہے ہیں جیسا کہ انہوں نے اسلام آباد اور دیگر جگہوں پر کیا تو ہم جنگ بندی کے بارے میں زیادہ پر امید نہیں ہو سکتے۔ افغانستان سے کسی بھی حملے کے خطرے کے بارے میں پوچھے جانے پر انہوں نے کہا کہ پاکستانی سکیورٹی فورسز پوری طرح چوکس ہیں۔</p>
<p>انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ ہماری فوجی تیاری مضبوط ہے، ہمیں جن سکیورٹی چیلنجز کا سامنا ہے ان سے سنجیدگی کے ساتھ نمٹا جائے گا جس کی پاکستان اہلیت رکھتا ہے۔</p>
<p>ترجمان نے سعودی عرب کی طرف سے کسی بھی ثالثی کی پیشکش کے بارے میں کہا کہ وہ ایسی کسی ٹھوس پیشکش سے آگاہ نہیں ہیں تاہم ہم ثالثی کا خیرمقدم کرتے ہیں۔ ترجمان نے افغانستان سے دہشت گردی کا شکار ہونے والے ممالک کے درمیان ہم آہنگی خاص طور پر تاجکستان میں حملے کے بارے میں سوال پر کہا کہ ان تمام ممالک کے پاس ان مسائل پر بات چیت اور ہم آہنگی کا ایک مضبوط طریقہ کار ہے لہٰذا علاقائی ممالک باخبر ہیں۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ پاکستان تمام دوطرفہ اور کثیر جہتی فورمز پر ان رابطوں پر عمل پیرا ہے اور آنے والے دنوں میں اس طرح کی مشترکہ کوآرڈینیشن کو بڑھانے کی ضرورت ہے۔ افغان طالبان کے اس بیان پر جس میں تاجکستان میں حملے کےلئے ”بعض عناصر“ پر الزام لگایا گیاہے، طاہر حسین اندرابی نے کہا کہ ہم یہی کہہ رہے ہیں کہ ان عناصر کو کنٹرول کریں اور یہ عناصر افغان سرزمین پر موجود ہیں۔</p>
<p>اس سے قبل ترجمان دفتر خارجہ نے واشنگٹن میں فائرنگ کے واقعے کی مذمت کی اور اسے دہشت گردی کا گھنائونا فعل قرار دیا۔ انہوں نے پاکستان کی جانب سے امریکا سے تعزیت کا اظہار کیا۔ ترجمان نے کہا کہ پاکستان نے دو دہائیوں سے افغانستان سے واضح تعلق کے ساتھ اسی طرح کے دہشت گردی کے واقعات کو برداشت کیا ہے، یہ واقعہ دنیا بھر میں دہشت گردی کے پریشان کن دوبارہ سر اٹھانے کا اشارہ دیتا ہے۔ انہوں نے تاجکستان میں 3 چینی شہریوں کے قتل کی بھی مذمت کی اور اس بات کا اعادہ کیا کہ افغان سرزمین کو دہشت گردی کے لیے استعمال نہیں ہونا چاہیے۔</p>
<p>ترجمان نے طالبان کی سرپرستی میں افغانستان سے کام کرنے والے گروہوں کے خلاف ٹھوس اور قابل تصدیق کارروائی کا بھی مطالبہ کیا۔ انہوں نے اس بات کا اعادہ کیا کہ پاکستان اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی متعلقہ قراردادوں اور کشمیری عوام کی امنگوں کے مطابق تنازعہ جموں و کشمیر کے پرامن، منصفانہ اور پائیدار حل کے لیے پرعزم ہے اور وہ کشمیری عوام کی منصفانہ جدوجہد میں ان کی اخلاقی، سیاسی اور سفارتی حمایت جاری رکھے گا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40279910</guid>
      <pubDate>Sat, 29 Nov 2025 12:02:01 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (فدا حسین)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2025/11/29115130d45cc4f.webp" type="image/webp" medium="image" height="768" width="1024">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2025/11/29115130d45cc4f.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
