<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Pakistan</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Thu, 04 Jun 2026 01:43:47 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Thu, 04 Jun 2026 01:43:47 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>مسابقتی کمیشن: کارٹل بنانے اور گنے کی قیمت فکس کرنے پر 10 شوگرملوں کو شوکاز</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40279907/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;مسابقتی کمیشن آف پاکستان (سی سی پی) نےکرشنگ میں تاخیر اور گنے کی خریداری قیمت 400 روپے فی من مقرر کرنے کے لئے کارٹل بنانے کے الزام پر  پنجاب کی 10 شوگر ملوں کو  شوکاز نوٹس جاری کر دیے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سی سی پی کے مطابق  شوگر ملوں نے 10 نومبر 2025 کو فاطمہ شوگر ملز میں ایک اجلاس منعقد کیا جس میں انہوں نے مشترکہ طور پر فیصلہ کیا کہ وہ پنجاب شوگر کین کمشنر کی سرکاری طور پر جاری کردہ 15 نومبر کی تاریخ کے بجائے 28 نومبر سے کرشنگ شروع کریں گے۔ مزید یہ کہ ملوں نے باہمی طور پر گنے کی خریداری کی قیمت 400 روپے فی من مقرر کرنے پر بھی اتفاق کیا جو کہ مشترکہ اور گٹھ جوڑ پر مبنی فیصلہ سازی کے زمرے میں آتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;واضح رہے کہ شوکاز نوٹس ایک باقاعدہ دستاویز ہوتی ہے جو کسی اتھارٹی کی جانب سے جاری کی جاتی ہے، جس میں کسی فرد یا ادارے سے اس اقدام کی وضاحت طلب کی جاتی ہے جو قواعد، پالیسیوں یا قوانین کی خلاف ورزی کے زمرے میں آتا ہو۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اجلاس کی صدارت  فاطمہ شوگر ملز کے ریزیڈنٹ ڈائریکٹر رانا جمیل احمد شاہد نے کی۔ اجلاس میں شیخو شوگر ملز، تھل انڈسٹریز کارپوریشن، تاندلیانوالہ شوگر ملز (رحمن ہاجرا یونٹ)، جے کے ون شوگر ملز، اشرف شوگر ملز اور کشمیر شوگر ملز کے نمائندگان نے شرکت کی جبکہ سراج شوگر ملز، ٹو سٹار شوگر ملز اور حق باہو شوگر ملز کے نمائندگان نے اجلاس میں آن لائن شرکت کی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;واضح رہے کہ کسی بھی مارکیٹ میں فریقین کا گٹھ جوڑ بنا کر قیمتوں کو فکس کرنا یا دیگر کاروباری فیصلے کرنا کمپٹیشن ایکٹ 2010 کے سیکشن 4 کی خلاف ورزی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;شوگر مل مالکان اور کسانوں کے درمیان مذاکرات کی طاقت میں واضح عدم توازن ہے۔ اصولی طور پر گنے کی قیمت ہر ایک مل اور کسان کے درمیان الگ الگ بات چیت کے ذریعے، طلب و رسد کے قدرتی عمل کے تحت طے ہونی چاہیے۔ تاہم مارکیٹ فورسز کو کام کرنے دینے کے بجائے تمام مل مالکان نے اجتماعی اور یکطرفہ طور پر قیمت 400 روپے فی 40 کلو مقرر کر دی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کمپٹیشن کمیشن نے ان شواہد کی روشنی میں مندرجہ بالا شوگز ملز کو شوکاز جاری کرتے ہوئے 14 دن کے اندر تحریری جواب جمع کرانے کی ہدایت کی ہے کہ کیوں نہ ان ملوں کے خلاف ممنوعہ معاہدوں، گنے کی مارکیٹ کو متاثر کرنا اور کرشنگ میں تاخیر سے ناجائز تجارتی فائدہ حاصل کرنے میں شامل ہونے پر قانونی کارروائی کی جائے۔ابتدائی سیزن میں گنے کی کرشنگ میں تاخیر سے مارکیٹ میں چینی کی سپلائی متاثر ہو سکتی ہے جس سے مارکیٹ میں مصنوعی قلت پیدا ہونے اور ریٹیل چینی کی قیمتوں میں اضافے کا خدشہ ہو سکتا ہے&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;چیئرمین کمپٹیشن کمیشن ڈاکٹر کبیر احمد سدھو نے تمام کاروباری ایسوسی ایشنز پر واضح کیا ہے کہ کسی بھی تجارتی تنظیم یا ایسوسی ایشن کا پلیٹ فارم کارٹل بنانے یا اجتماعی کاروباری فیصلے کرنے کے لئے استعمال نہیں ہونا چاہیے۔ انہوں نے تنبیہ کی ہے کہ کسی تجارتی ایسوسی ایشن کی کمپٹیشن مخالف سرگرمیوں میں ملوث ہونے پر سخت کارروائی کی جائے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2025&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>مسابقتی کمیشن آف پاکستان (سی سی پی) نےکرشنگ میں تاخیر اور گنے کی خریداری قیمت 400 روپے فی من مقرر کرنے کے لئے کارٹل بنانے کے الزام پر  پنجاب کی 10 شوگر ملوں کو  شوکاز نوٹس جاری کر دیے۔</strong></p>
<p>سی سی پی کے مطابق  شوگر ملوں نے 10 نومبر 2025 کو فاطمہ شوگر ملز میں ایک اجلاس منعقد کیا جس میں انہوں نے مشترکہ طور پر فیصلہ کیا کہ وہ پنجاب شوگر کین کمشنر کی سرکاری طور پر جاری کردہ 15 نومبر کی تاریخ کے بجائے 28 نومبر سے کرشنگ شروع کریں گے۔ مزید یہ کہ ملوں نے باہمی طور پر گنے کی خریداری کی قیمت 400 روپے فی من مقرر کرنے پر بھی اتفاق کیا جو کہ مشترکہ اور گٹھ جوڑ پر مبنی فیصلہ سازی کے زمرے میں آتا ہے۔</p>
<p>واضح رہے کہ شوکاز نوٹس ایک باقاعدہ دستاویز ہوتی ہے جو کسی اتھارٹی کی جانب سے جاری کی جاتی ہے، جس میں کسی فرد یا ادارے سے اس اقدام کی وضاحت طلب کی جاتی ہے جو قواعد، پالیسیوں یا قوانین کی خلاف ورزی کے زمرے میں آتا ہو۔</p>
<p>اجلاس کی صدارت  فاطمہ شوگر ملز کے ریزیڈنٹ ڈائریکٹر رانا جمیل احمد شاہد نے کی۔ اجلاس میں شیخو شوگر ملز، تھل انڈسٹریز کارپوریشن، تاندلیانوالہ شوگر ملز (رحمن ہاجرا یونٹ)، جے کے ون شوگر ملز، اشرف شوگر ملز اور کشمیر شوگر ملز کے نمائندگان نے شرکت کی جبکہ سراج شوگر ملز، ٹو سٹار شوگر ملز اور حق باہو شوگر ملز کے نمائندگان نے اجلاس میں آن لائن شرکت کی۔</p>
<p>واضح رہے کہ کسی بھی مارکیٹ میں فریقین کا گٹھ جوڑ بنا کر قیمتوں کو فکس کرنا یا دیگر کاروباری فیصلے کرنا کمپٹیشن ایکٹ 2010 کے سیکشن 4 کی خلاف ورزی ہے۔</p>
<p>شوگر مل مالکان اور کسانوں کے درمیان مذاکرات کی طاقت میں واضح عدم توازن ہے۔ اصولی طور پر گنے کی قیمت ہر ایک مل اور کسان کے درمیان الگ الگ بات چیت کے ذریعے، طلب و رسد کے قدرتی عمل کے تحت طے ہونی چاہیے۔ تاہم مارکیٹ فورسز کو کام کرنے دینے کے بجائے تمام مل مالکان نے اجتماعی اور یکطرفہ طور پر قیمت 400 روپے فی 40 کلو مقرر کر دی۔</p>
<p>کمپٹیشن کمیشن نے ان شواہد کی روشنی میں مندرجہ بالا شوگز ملز کو شوکاز جاری کرتے ہوئے 14 دن کے اندر تحریری جواب جمع کرانے کی ہدایت کی ہے کہ کیوں نہ ان ملوں کے خلاف ممنوعہ معاہدوں، گنے کی مارکیٹ کو متاثر کرنا اور کرشنگ میں تاخیر سے ناجائز تجارتی فائدہ حاصل کرنے میں شامل ہونے پر قانونی کارروائی کی جائے۔ابتدائی سیزن میں گنے کی کرشنگ میں تاخیر سے مارکیٹ میں چینی کی سپلائی متاثر ہو سکتی ہے جس سے مارکیٹ میں مصنوعی قلت پیدا ہونے اور ریٹیل چینی کی قیمتوں میں اضافے کا خدشہ ہو سکتا ہے</p>
<p>چیئرمین کمپٹیشن کمیشن ڈاکٹر کبیر احمد سدھو نے تمام کاروباری ایسوسی ایشنز پر واضح کیا ہے کہ کسی بھی تجارتی تنظیم یا ایسوسی ایشن کا پلیٹ فارم کارٹل بنانے یا اجتماعی کاروباری فیصلے کرنے کے لئے استعمال نہیں ہونا چاہیے۔ انہوں نے تنبیہ کی ہے کہ کسی تجارتی ایسوسی ایشن کی کمپٹیشن مخالف سرگرمیوں میں ملوث ہونے پر سخت کارروائی کی جائے گی۔</p>
<p>کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2025</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40279907</guid>
      <pubDate>Sat, 29 Nov 2025 10:49:48 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (سہیل سرفراز)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2025/11/291032096f61bf3.webp" type="image/webp" medium="image" height="768" width="1024">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2025/11/291032096f61bf3.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
