<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - World</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sun, 19 Jul 2026 11:38:46 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sun, 19 Jul 2026 11:38:46 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>روسی صدر کا 4 اور 5 دسمبر کو بھارت کا دورہ ، مودی سے ملاقات کریں گے، کریملن</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40279904/</link>
      <description>&lt;p&gt;روس کے صدر ولادیمیر پوتن وزیر اعظم نریندر مودی کی دعوت پر 4 اور 5 دسمبر کو بھارت کا دورہ کریں گے۔ دورے کا مقصد دوطرفہ تعلقات اور عالمی امور پر بات چیت کرنا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کریملن اور بھارت کے دفترِ خارجہ نے جمعے کو بتایا کہ پوتن دورے کے دوران مودی سے ملاقات کریں گے اور بھارتی صدر دروپدی مرمو کے ساتھ الگ اجلاس بھی کریں گے۔ اس موقع پر متعدد  بین الحکومتی اور تجارتی دستاویزات پر دستخط متوقع ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;واضح رہے کہ پوتن آخری بار دسمبر 2021 میں بھارت آئے تھے، چند ماہ قبل ہی انہوں نے فروری 2022 میں یوکرین میں فوجی کارروائی کا حکم دیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کریملن نے بیان میں کہا کہ یہ دورہ روس بھارت تعلقات کے وسیع ایجنڈے پر جامع بات چیت کا اہم موقع فراہم کرے گا، کیونکہ یہ تعلقات ایک خصوصی اور اسٹریٹجک شراکت داری کے طور پر جانے جاتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;روس اور بھارت کے تعلقات سیاسی، تجارتی، اقتصادی، سائنسی، تکنیکی، ثقافتی اور انسانی ہمدردی کے شعبوں تک پھیلے ہوئے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ادھر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ بار بار بھارت سے مطالبہ کر چکے ہیں کہ وہ روس سے تیل کی خریداری بند کرے۔ بھارت روسی تیل کا ایک بڑا خریدار رہا ہے، مگر تجارتی اور ریفائنری ذرائع کے مطابق دسمبر میں بھارت کی روسی تیل کی درآمدات کم سے کم تین سال میں سب سے کم سطح تک پہنچنے کا امکان ہے، جبکہ نومبر میں یہ کئی ماہ کی بلند ترین سطح پر تھیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ریفائنرز نے متبادل ذرائع کی طرف رجوع کیا ہے، تاکہ مغربی پابندیوں کی خلاف ورزی سے بچا جا سکے۔&lt;/p&gt;
&lt;hr /&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>روس کے صدر ولادیمیر پوتن وزیر اعظم نریندر مودی کی دعوت پر 4 اور 5 دسمبر کو بھارت کا دورہ کریں گے۔ دورے کا مقصد دوطرفہ تعلقات اور عالمی امور پر بات چیت کرنا ہے۔</p>
<p>کریملن اور بھارت کے دفترِ خارجہ نے جمعے کو بتایا کہ پوتن دورے کے دوران مودی سے ملاقات کریں گے اور بھارتی صدر دروپدی مرمو کے ساتھ الگ اجلاس بھی کریں گے۔ اس موقع پر متعدد  بین الحکومتی اور تجارتی دستاویزات پر دستخط متوقع ہیں۔</p>
<p>واضح رہے کہ پوتن آخری بار دسمبر 2021 میں بھارت آئے تھے، چند ماہ قبل ہی انہوں نے فروری 2022 میں یوکرین میں فوجی کارروائی کا حکم دیا تھا۔</p>
<p>کریملن نے بیان میں کہا کہ یہ دورہ روس بھارت تعلقات کے وسیع ایجنڈے پر جامع بات چیت کا اہم موقع فراہم کرے گا، کیونکہ یہ تعلقات ایک خصوصی اور اسٹریٹجک شراکت داری کے طور پر جانے جاتے ہیں۔</p>
<p>روس اور بھارت کے تعلقات سیاسی، تجارتی، اقتصادی، سائنسی، تکنیکی، ثقافتی اور انسانی ہمدردی کے شعبوں تک پھیلے ہوئے ہیں۔</p>
<p>ادھر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ بار بار بھارت سے مطالبہ کر چکے ہیں کہ وہ روس سے تیل کی خریداری بند کرے۔ بھارت روسی تیل کا ایک بڑا خریدار رہا ہے، مگر تجارتی اور ریفائنری ذرائع کے مطابق دسمبر میں بھارت کی روسی تیل کی درآمدات کم سے کم تین سال میں سب سے کم سطح تک پہنچنے کا امکان ہے، جبکہ نومبر میں یہ کئی ماہ کی بلند ترین سطح پر تھیں۔</p>
<p>ریفائنرز نے متبادل ذرائع کی طرف رجوع کیا ہے، تاکہ مغربی پابندیوں کی خلاف ورزی سے بچا جا سکے۔</p>
<hr />
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40279904</guid>
      <pubDate>Fri, 28 Nov 2025 19:45:45 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (رائٹرز)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2025/11/28193227d4aebdc.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2025/11/28193227d4aebdc.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
