<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Pakistan</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Thu, 04 Jun 2026 01:00:59 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Thu, 04 Jun 2026 01:00:59 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>وزیرِ اعلیٰ سندھ نے پیدائش، اموات اور میرج رجسٹریشن کے لیے موبائل ایپ متعارف کرا دی</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40279902/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;وزیرِ اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے  سول رجسٹریشن مینجمنٹ سسٹم (سی آر ایم ایس) موبائل ایپ کا آغاز کر دیا، جس کے ذریعے پیدائش، اموات، شادی اور طلاق کی رجسٹریشن کو پیپر لیس ، جدید اور ٹیکنالوجی پر مبنی نظام کے تحت بآسانی ممکن بنایا گیا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزیراعلیٰ ہاؤس کے مطابق  مراد علی شاہ  نے بتایا کہ وسیع تر الیکٹرانک سول رجسٹریشن اینڈ وائیٹل اسٹیٹسٹکس (ای سی آر وی ایس) سسٹم کی منظوری تقریباً 47 کروڑ 12 لاکھ 54 ہزار روپے کے بجٹ سے دی گئی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ نظام صوبے کے 30 اضلاع اور 769 صحت مراکز کا احاطہ کرے گا، جس کے ذریعے سرکاری اور نجی اسپتالوں میں 85 فیصد پیدائشوں کی ڈیجیٹل رجسٹریشن یقینی بنائی جائے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان کے مطابق اس نظام میں حفاظتی ٹیکہ جات، بیماریوں کی نگرانی اور مریضوں کی شناخت سے متعلق ڈیٹا بھی منسلک کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ یہ صوبائی حکومت کے  ڈیجیٹل سندھ  کے سفر میں اہم سنگ میل ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعلیٰ نے مزید کہا کہ سندھ حکومت شفافیت، کارکردگی اور عوامی سہولت کو بہتر بنانے کیلئے حکومتی خدمات کی ڈیجیٹلائزیشن کے لیے مکمل طور پر پرعزم ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ یہ آغاز کاغذی کارروائی سے ٹیکنالوجی پر مبنی نظام کی طرف منتقلی کا بڑا قدم ہے، جو شفافیت، کارکردگی اور عوامی اعتماد کو مضبوط کرتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مراد علی شاہ نے بتایا کہ سندھ کابینہ کے تمام امور پہلے ہی مکمل طور پر ڈیجیٹل کیے جا چکے ہیں، تاہم پیدائش اور اموات کی رجسٹریشن طویل عرصے سے کم سطح پر رہی، جس کی بڑی وجہ یہ تھی کہ کم آمدنی والے خاندان نادرا کی فیسیں ادا نہیں کر سکتے تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ اس رکاوٹ کو دور کرنے کے لیے سندھ کابینہ نے فیصلہ کیا ہے کہ پیدائش اور اموات کی رجسٹریشن کے تمام نادرا اخراجات صوبائی حکومت برداشت کرے گی۔ انہوں نے مزید بتایا کہ اس اصلاحات میں نادرا نے بھرپور تعاون کیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سی آر ایم ایس موبائل ایپ نادرا کے تعاون سے تیار کی گئی ہے، جو قطاروں، کاغذی کارروائی اور تاخیر کو ختم کرے گی۔ یہ شہریوں کو  خصوصاً دور دراز علاقوں میں رہنے والوں کو سرکاری دفاتر جائے بغیر اہم واقعات کی رجسٹریشن کی سہولت فراہم کرتی ہے۔ اس نظام کے ذریعے درست اور واحد ڈیجیٹل ریکارڈ صوبائی ڈیٹا بیس سے منسلک ہوں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزیراعلیٰ نے کہا کہ درست اور بروقت سول رجسٹریشن سے مردم شماری کا حقیقی وقت پر ڈیٹا میسر آئے گا، جس سے حکومت بہتر منصوبہ بندی کر سکے گی۔انہوں نے کہا کہ آن لائن ایڈریس تبدیلی جیسے اقدامات بھی وقت کی اہم ضرورت ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے اعلان کیا کہ سندھ بھر میں پیدائش کے فوراً بعد بچوں کی رجسٹریشن کو جلد لازمی قرار دیا جائے گا۔ پانچ سال بعد بچوں کی اسکولنگ اور منصوبہ بندی اسی ڈیٹا کی بنیاد پر ہوگی۔ انہوں نے ہدایت کی کہ اسپتال ہر نوزائیدہ کی پیدائش کی فوری رجسٹریشن کریں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے مزید کہا کہ یونین کونسل سطح پر عملدرآمد اس اصلاحات کا سب سے اہم مرحلہ ہے اور یو سی نمائندگان کی کارکردگی رجسٹریشن کی شرح کی بنیاد پر جانچی جائے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزیراعلیٰ سندھ نے صحت کے شعبے سے متعلق اس نئے نظام کی اہمیت کو بھی اجاگر کیا، خاص طور پر حفاظتی ٹیکہ جات، بیماریوں کی نگرانی اور مریضوں کی شناخت کے حوالے سےاہمیت پر روشنی ڈالی۔انہوں نے کہا انضمام شدہ ڈیٹا الیکٹرانک امیونائزیشن رجسٹری جیسے پروگراموں اور تھیلیسیمیا جیسی بیماریوں کے لیے ہدف  والے اقدامات میں مدد دے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;صوبائی وزیرِ صحت ڈاکٹر عذرا فضل پیچوہو نے وزیراعلیٰ کو بتایا کہ صوبے کے 769 صحت مراکز کے ذریعے سرکاری و نجی اسپتالوں میں 85 فیصد پیدائشوں کی ڈیجیٹل رجسٹریشن ایپ کے ذریعے کی جائے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;hr /&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>وزیرِ اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے  سول رجسٹریشن مینجمنٹ سسٹم (سی آر ایم ایس) موبائل ایپ کا آغاز کر دیا، جس کے ذریعے پیدائش، اموات، شادی اور طلاق کی رجسٹریشن کو پیپر لیس ، جدید اور ٹیکنالوجی پر مبنی نظام کے تحت بآسانی ممکن بنایا گیا ہے۔</strong></p>
<p>وزیراعلیٰ ہاؤس کے مطابق  مراد علی شاہ  نے بتایا کہ وسیع تر الیکٹرانک سول رجسٹریشن اینڈ وائیٹل اسٹیٹسٹکس (ای سی آر وی ایس) سسٹم کی منظوری تقریباً 47 کروڑ 12 لاکھ 54 ہزار روپے کے بجٹ سے دی گئی ہے۔</p>
<p>یہ نظام صوبے کے 30 اضلاع اور 769 صحت مراکز کا احاطہ کرے گا، جس کے ذریعے سرکاری اور نجی اسپتالوں میں 85 فیصد پیدائشوں کی ڈیجیٹل رجسٹریشن یقینی بنائی جائے گی۔</p>
<p>ان کے مطابق اس نظام میں حفاظتی ٹیکہ جات، بیماریوں کی نگرانی اور مریضوں کی شناخت سے متعلق ڈیٹا بھی منسلک کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ یہ صوبائی حکومت کے  ڈیجیٹل سندھ  کے سفر میں اہم سنگ میل ہے۔</p>
<p>افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعلیٰ نے مزید کہا کہ سندھ حکومت شفافیت، کارکردگی اور عوامی سہولت کو بہتر بنانے کیلئے حکومتی خدمات کی ڈیجیٹلائزیشن کے لیے مکمل طور پر پرعزم ہے۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ یہ آغاز کاغذی کارروائی سے ٹیکنالوجی پر مبنی نظام کی طرف منتقلی کا بڑا قدم ہے، جو شفافیت، کارکردگی اور عوامی اعتماد کو مضبوط کرتا ہے۔</p>
<p>مراد علی شاہ نے بتایا کہ سندھ کابینہ کے تمام امور پہلے ہی مکمل طور پر ڈیجیٹل کیے جا چکے ہیں، تاہم پیدائش اور اموات کی رجسٹریشن طویل عرصے سے کم سطح پر رہی، جس کی بڑی وجہ یہ تھی کہ کم آمدنی والے خاندان نادرا کی فیسیں ادا نہیں کر سکتے تھے۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ اس رکاوٹ کو دور کرنے کے لیے سندھ کابینہ نے فیصلہ کیا ہے کہ پیدائش اور اموات کی رجسٹریشن کے تمام نادرا اخراجات صوبائی حکومت برداشت کرے گی۔ انہوں نے مزید بتایا کہ اس اصلاحات میں نادرا نے بھرپور تعاون کیا ہے۔</p>
<p>سی آر ایم ایس موبائل ایپ نادرا کے تعاون سے تیار کی گئی ہے، جو قطاروں، کاغذی کارروائی اور تاخیر کو ختم کرے گی۔ یہ شہریوں کو  خصوصاً دور دراز علاقوں میں رہنے والوں کو سرکاری دفاتر جائے بغیر اہم واقعات کی رجسٹریشن کی سہولت فراہم کرتی ہے۔ اس نظام کے ذریعے درست اور واحد ڈیجیٹل ریکارڈ صوبائی ڈیٹا بیس سے منسلک ہوں گے۔</p>
<p>وزیراعلیٰ نے کہا کہ درست اور بروقت سول رجسٹریشن سے مردم شماری کا حقیقی وقت پر ڈیٹا میسر آئے گا، جس سے حکومت بہتر منصوبہ بندی کر سکے گی۔انہوں نے کہا کہ آن لائن ایڈریس تبدیلی جیسے اقدامات بھی وقت کی اہم ضرورت ہیں۔</p>
<p>انہوں نے اعلان کیا کہ سندھ بھر میں پیدائش کے فوراً بعد بچوں کی رجسٹریشن کو جلد لازمی قرار دیا جائے گا۔ پانچ سال بعد بچوں کی اسکولنگ اور منصوبہ بندی اسی ڈیٹا کی بنیاد پر ہوگی۔ انہوں نے ہدایت کی کہ اسپتال ہر نوزائیدہ کی پیدائش کی فوری رجسٹریشن کریں۔</p>
<p>انہوں نے مزید کہا کہ یونین کونسل سطح پر عملدرآمد اس اصلاحات کا سب سے اہم مرحلہ ہے اور یو سی نمائندگان کی کارکردگی رجسٹریشن کی شرح کی بنیاد پر جانچی جائے گی۔</p>
<p>وزیراعلیٰ سندھ نے صحت کے شعبے سے متعلق اس نئے نظام کی اہمیت کو بھی اجاگر کیا، خاص طور پر حفاظتی ٹیکہ جات، بیماریوں کی نگرانی اور مریضوں کی شناخت کے حوالے سےاہمیت پر روشنی ڈالی۔انہوں نے کہا انضمام شدہ ڈیٹا الیکٹرانک امیونائزیشن رجسٹری جیسے پروگراموں اور تھیلیسیمیا جیسی بیماریوں کے لیے ہدف  والے اقدامات میں مدد دے گا۔</p>
<p>صوبائی وزیرِ صحت ڈاکٹر عذرا فضل پیچوہو نے وزیراعلیٰ کو بتایا کہ صوبے کے 769 صحت مراکز کے ذریعے سرکاری و نجی اسپتالوں میں 85 فیصد پیدائشوں کی ڈیجیٹل رجسٹریشن ایپ کے ذریعے کی جائے گی۔</p>
<hr />
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40279902</guid>
      <pubDate>Fri, 28 Nov 2025 17:41:29 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (بی آر ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2025/11/28172037d59fd3f.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2025/11/28172037d59fd3f.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
