<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Pakistan</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Thu, 04 Jun 2026 03:10:47 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Thu, 04 Jun 2026 03:10:47 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>وزیراعلیٰ پنجاب نے پٹرول سے چلنے والے موٹر سائیکل رکشوں کی پیداوار پر پابندی عائد کردی</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40279900/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کی زیر صدارت انسدادِ اسموگ کیلئے کابینہ کمیٹی کا اہم اجلاس منعقد ہوا جس میں فضائی آلودگی پر قابو پانے اور صوبے میں صاف ماحول یقینی بنانے کے سلسلے میں کئی اہم فیصلے کیے گئے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اجلاس میں پٹرول  سے چلنے والے موٹر سائیکل رکشوں کی پروڈکشن پر پابندی لگانے کا فیصلہ کیا گیا جبکہ پٹرول سے چلنے والی موٹر سائیکلوں کی پیداوار بھی مرحلہ وار بند کرنے کا اصولی فیصلہ ہوا۔ صوبے کے تمام سرکاری اداروں کے لیے یہ شرط بھی لازمی قرار دی گئی کہ مستقبل میں صرف الیکٹرک اور ہائبرڈ گاڑیاں اور الیکٹرک موٹر سائیکلیں ہی خریدی جائیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;گھروں کی سطح پر پانی سے گاڑیاں دھونے پر مکمل پابندی بھی عائد کر دی گئی ہے جبکہ پنجاب بھر میں جدید دنیا کی طرح رنگ دار کوڑے دان لگانے کا فیصلہ کیا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اجلاس میں یہ فیصلہ کیا گیا کہ  ماحول کو نقصان پہنچانے والی کسی بھی سرگرمی کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔ پلاسٹک یا زہریلا دھواں پیدا کرنے والی اشیاء جلانے پر سخت کارروائی اور سزائیں دینے کی ہدایت بھی جاری کی گئی۔ زیادہ دھواں چھوڑنے والی گاڑیوں کی چیکنگ کیلئے پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے تحت ورکشاپس مقرر کرنے کی منظوری دی گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اجلاس میں سینئر وزیر پنجاب مریم اورنگزیب نے اسموگ کے تدارک اور فضائی معیار کی بہتری کیلئے کیے گئے اقدامات پر بریفنگ پیش کی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مریم اورنگزیب کے مطابق پنجاب کا پہلا اسٹیٹ آف دی آرٹ ایئر کوالٹی مانیٹرنگ نیٹ ورک قائم کر دیا گیا ہے، جبکہ اے کیو آئی فورکاسٹ سسٹم سے اسموگ اور فضائی معیار کی بروقت نشاندہی ممکن ہو چکی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ اسموگ گنز کے استعمال سے مقامی مقامات پر آلودگی میں نمایاں کمی آئی ہے جبکہ مختلف علاقوں میں آلودگی کے خاتمے کا جامع آپریشن جاری ہے۔ لاہور اور مضافات میں فصلیں جلانے کے واقعات میں  88 فیصد کمی آئی ہے، اور ان واقعات کی روک تھام کے لیے ڈرون ٹیکنالوجی سے نگرانی کی جا رہی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان کا پہلا ایکو چیٹ بوٹ بھی متعارف کرایا گیا ہے جس کے ساتھ موبائل ایپلی کیشن اور عوامی ڈیش بورڈ بھی شروع کیا گیا ہے۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ پنجاب کے 18 اضلاع میں 41 ایئر کوالٹی مانیٹرز کام کر رہے ہیں جبکہ مزید 100 سینسرز کی تنصیب کے لیے اگلے سال کی ڈیڈ لائن مقرر کر دی گئی ہے۔ پنجاب کے پہلے ایمیشن ٹیسٹنگ سسٹم کے ذریعے اب تک 3 لاکھ گاڑیوں کی ٹیسٹنگ مکمل کی جاچکی ہے۔ حکام نے آگاہ کیا کہ پنجاب سیف سٹیز اتھارٹی (پی ایس سی اے) میں ایک مستقل ماحولیاتی نگرانی کے لیے اسموگ وار روم قائم کیا گیا ہے۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ 8,500 سی سی ٹی وی کیمروں کے ذریعے صنعتوں، گاڑیوں کی دھلائی کے اسٹیشنز اور گرد و غبار کے ہاٹ اسپاٹس کی ڈیجیٹل نگرانی جاری ہے۔ مزید بتایا گیا کہ 450 سے زائد آلودگی پھیلانے والی صنعتی یونٹس کو منہدم کیا گیا اور 23 کروڑ روپے کے جرمانے عائد کیے گئے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حکام نے آگاہ کیا کہ صنعتی ماحولیاتی کنٹرول اقدامات جیسے کہ سی سی ٹی وی کیمروں کی تنصیب، نائٹ مانیٹرنگ سسٹمز اور آٹھ خصوصی نائٹ اسکواڈز اب مکمل طور پر فعال ہیں۔ انہوں نے مزید بتایا کہ ان اسکواڈز نے 100 سے زائد ایسے صنعتی یونٹس کو مسمار کیا جو ماحولیاتی نقصان کا باعث بن رہے تھے۔ علاوہ ازیں 2,200 اینٹوں کے بھٹوں کو مسمار کیا گیا اور 2,336 بھٹوں کو سیل کیا گیا ہے۔ حکام نے مزید آگاہ کیا کہ پنجاب نے پلاسٹک بیگز کے خلاف اپنی اب تک کی سب سے بڑی مہم شروع کی ہے، جس میں 26 ہزار کاروباری اداروں نے خطرناک پلاسٹک کے استعمال سے باز رہنے کا عہد کیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ صوبے بھر میں ٹائر جلانے، بیٹری جلانے اور فیٹ میلنک مراکز کے خلاف کریک ڈاؤن جاری ہے اور شہری گرین پنجاب ایپ، 1373 ہیلپ لائن اور ایکو واچ ایپ کے ذریعے شکایات درج کرا سکتے ہیں۔ متعلقہ حکام نے آگاہ کیا کہ اسکولوں، کالجوں اور یونیورسٹیز میں آگاہی مہمات جاری ہیں اور پہلی بار صوبے میں پنجاب گرین اسکول سرٹیفیکیشن پروگرام بھی متعارف کرایا گیا ہے۔ انہوں نے درخت لگانے کی مہمات میں نمایاں پیش رفت کے بارے میں بھی بتایا، جس کے تحت لاہور کے گرد 112 کلومیٹر کے رقبے میں 21 لاکھ درختوں کی سبز پٹی قائم کی گئی ہے۔ اضافی پودے لگانے میں رنگ روڈ کے ساتھ 2 لاکھ درخت، “لنگز آف لاہور” پروجیکٹ کے تحت 4 لاکھ درخت، ہیڈیرا میں 15 ہزار درخت، اور 30 پارکوں اور 40 کلومیٹر ریلوے ٹریک کے ساتھ بڑے پیمانے پر پودے شامل ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2025&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کی زیر صدارت انسدادِ اسموگ کیلئے کابینہ کمیٹی کا اہم اجلاس منعقد ہوا جس میں فضائی آلودگی پر قابو پانے اور صوبے میں صاف ماحول یقینی بنانے کے سلسلے میں کئی اہم فیصلے کیے گئے۔</strong></p>
<p>اجلاس میں پٹرول  سے چلنے والے موٹر سائیکل رکشوں کی پروڈکشن پر پابندی لگانے کا فیصلہ کیا گیا جبکہ پٹرول سے چلنے والی موٹر سائیکلوں کی پیداوار بھی مرحلہ وار بند کرنے کا اصولی فیصلہ ہوا۔ صوبے کے تمام سرکاری اداروں کے لیے یہ شرط بھی لازمی قرار دی گئی کہ مستقبل میں صرف الیکٹرک اور ہائبرڈ گاڑیاں اور الیکٹرک موٹر سائیکلیں ہی خریدی جائیں۔</p>
<p>گھروں کی سطح پر پانی سے گاڑیاں دھونے پر مکمل پابندی بھی عائد کر دی گئی ہے جبکہ پنجاب بھر میں جدید دنیا کی طرح رنگ دار کوڑے دان لگانے کا فیصلہ کیا گیا۔</p>
<p>اجلاس میں یہ فیصلہ کیا گیا کہ  ماحول کو نقصان پہنچانے والی کسی بھی سرگرمی کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔ پلاسٹک یا زہریلا دھواں پیدا کرنے والی اشیاء جلانے پر سخت کارروائی اور سزائیں دینے کی ہدایت بھی جاری کی گئی۔ زیادہ دھواں چھوڑنے والی گاڑیوں کی چیکنگ کیلئے پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے تحت ورکشاپس مقرر کرنے کی منظوری دی گئی۔</p>
<p>اجلاس میں سینئر وزیر پنجاب مریم اورنگزیب نے اسموگ کے تدارک اور فضائی معیار کی بہتری کیلئے کیے گئے اقدامات پر بریفنگ پیش کی۔</p>
<p>مریم اورنگزیب کے مطابق پنجاب کا پہلا اسٹیٹ آف دی آرٹ ایئر کوالٹی مانیٹرنگ نیٹ ورک قائم کر دیا گیا ہے، جبکہ اے کیو آئی فورکاسٹ سسٹم سے اسموگ اور فضائی معیار کی بروقت نشاندہی ممکن ہو چکی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ اسموگ گنز کے استعمال سے مقامی مقامات پر آلودگی میں نمایاں کمی آئی ہے جبکہ مختلف علاقوں میں آلودگی کے خاتمے کا جامع آپریشن جاری ہے۔ لاہور اور مضافات میں فصلیں جلانے کے واقعات میں  88 فیصد کمی آئی ہے، اور ان واقعات کی روک تھام کے لیے ڈرون ٹیکنالوجی سے نگرانی کی جا رہی ہے۔</p>
<p>پاکستان کا پہلا ایکو چیٹ بوٹ بھی متعارف کرایا گیا ہے جس کے ساتھ موبائل ایپلی کیشن اور عوامی ڈیش بورڈ بھی شروع کیا گیا ہے۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ پنجاب کے 18 اضلاع میں 41 ایئر کوالٹی مانیٹرز کام کر رہے ہیں جبکہ مزید 100 سینسرز کی تنصیب کے لیے اگلے سال کی ڈیڈ لائن مقرر کر دی گئی ہے۔ پنجاب کے پہلے ایمیشن ٹیسٹنگ سسٹم کے ذریعے اب تک 3 لاکھ گاڑیوں کی ٹیسٹنگ مکمل کی جاچکی ہے۔ حکام نے آگاہ کیا کہ پنجاب سیف سٹیز اتھارٹی (پی ایس سی اے) میں ایک مستقل ماحولیاتی نگرانی کے لیے اسموگ وار روم قائم کیا گیا ہے۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ 8,500 سی سی ٹی وی کیمروں کے ذریعے صنعتوں، گاڑیوں کی دھلائی کے اسٹیشنز اور گرد و غبار کے ہاٹ اسپاٹس کی ڈیجیٹل نگرانی جاری ہے۔ مزید بتایا گیا کہ 450 سے زائد آلودگی پھیلانے والی صنعتی یونٹس کو منہدم کیا گیا اور 23 کروڑ روپے کے جرمانے عائد کیے گئے ہیں۔</p>
<p>حکام نے آگاہ کیا کہ صنعتی ماحولیاتی کنٹرول اقدامات جیسے کہ سی سی ٹی وی کیمروں کی تنصیب، نائٹ مانیٹرنگ سسٹمز اور آٹھ خصوصی نائٹ اسکواڈز اب مکمل طور پر فعال ہیں۔ انہوں نے مزید بتایا کہ ان اسکواڈز نے 100 سے زائد ایسے صنعتی یونٹس کو مسمار کیا جو ماحولیاتی نقصان کا باعث بن رہے تھے۔ علاوہ ازیں 2,200 اینٹوں کے بھٹوں کو مسمار کیا گیا اور 2,336 بھٹوں کو سیل کیا گیا ہے۔ حکام نے مزید آگاہ کیا کہ پنجاب نے پلاسٹک بیگز کے خلاف اپنی اب تک کی سب سے بڑی مہم شروع کی ہے، جس میں 26 ہزار کاروباری اداروں نے خطرناک پلاسٹک کے استعمال سے باز رہنے کا عہد کیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ صوبے بھر میں ٹائر جلانے، بیٹری جلانے اور فیٹ میلنک مراکز کے خلاف کریک ڈاؤن جاری ہے اور شہری گرین پنجاب ایپ، 1373 ہیلپ لائن اور ایکو واچ ایپ کے ذریعے شکایات درج کرا سکتے ہیں۔ متعلقہ حکام نے آگاہ کیا کہ اسکولوں، کالجوں اور یونیورسٹیز میں آگاہی مہمات جاری ہیں اور پہلی بار صوبے میں پنجاب گرین اسکول سرٹیفیکیشن پروگرام بھی متعارف کرایا گیا ہے۔ انہوں نے درخت لگانے کی مہمات میں نمایاں پیش رفت کے بارے میں بھی بتایا، جس کے تحت لاہور کے گرد 112 کلومیٹر کے رقبے میں 21 لاکھ درختوں کی سبز پٹی قائم کی گئی ہے۔ اضافی پودے لگانے میں رنگ روڈ کے ساتھ 2 لاکھ درخت، “لنگز آف لاہور” پروجیکٹ کے تحت 4 لاکھ درخت، ہیڈیرا میں 15 ہزار درخت، اور 30 پارکوں اور 40 کلومیٹر ریلوے ٹریک کے ساتھ بڑے پیمانے پر پودے شامل ہیں۔</p>
<p>کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2025</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40279900</guid>
      <pubDate>Fri, 28 Nov 2025 16:36:54 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ریکارڈر رپورٹ)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2025/11/2816341764858d2.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2025/11/2816341764858d2.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
