<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Business &amp; Finance</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 14:43:55 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 14:43:55 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>پاکستان نے ملائیشیا کو گوشت برآمد کرنے کے منصوبے کو حتمی شکل دے دی</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40279892/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;وزارتِ تجارت نے جمعہ کو بتایا کہ ملائیشیا کو گوشت برآمد کرنے کے منصوبے کو حتمی شکل دینے کے لیے ایک اعلیٰ سطح اجلاس منعقد ہوا۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزیراعظم کے معاون خصوصی ہارون اختر خان نے اجلاس میں وفاقی وزیر برائے قومی غذائی تحفظ رانا تنویر حسین اور وفاقی وزیر برائے تجارت جام کمال خان کے ساتھ مشترکہ طور پر شرکت کی۔ اجلاس میں وزارتِ تجارت، وزارتِ قومی غذائی تحفظ، سرکاری و نجی شعبے کے اسٹیک ہولڈرز اور تکنیکی مشیروں کے نمائندے بھی موجود تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اجلاس میں کمیٹی نے ملائیشیا کو گوشت کی برآمدات کا حتمی کاروباری منصوبہ پیش کیا جو بین الاقوامی حلال گوشت مارکیٹ میں پاکستان کی رسائی کو بڑھانے کی جانب ایک اہم قدم ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;معاون خصوصی ہارون اختر خان نے کمیٹی اراکین اور متعلقہ وزارتوں کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ گوشت کی برآمدات کے لیے مؤثر کاروباری فریم ورک تیار کر لیا گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وفاقی وزیر برائے تجارت جام کمال خان نے تمام اسٹیک ہولڈرز کی مشترکہ خدمات کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ یہ پیکج تمام متعلقہ شعبوں کے مشترکہ اقدامات اور اتفاق رائے کا نتیجہ ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حکومت نے آئندہ 3 سے 5 سال میں ملائیشیا کو گوشت برآمدات کا ہدف 200 ملین ڈالر مقرر کیا ہے۔ اجلاس میں انکشاف کیا گیا کہ پاکستان اس وقت ملائیشیا کو محض 38 ہزار ڈالر مالیت کا بھینس کا گوشت برآمد کرتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کمیٹی نے برآمدات کو متاثر کرنے والے بڑے چیلنجز کی نشاندہی کی جن میں فٹ اینڈ ماؤتھ بیماری، پروسیسنگ میں کمی اور لاجسٹک رکاوٹیں شامل ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس موقع پر ہارون اختر خان نے اعلان کیا کہ حلال گوشت کے شعبے کو صنعتی حیثیت دی جائے گی، جس سے برآمدات میں اضافہ ہوگا اور پاکستان کی معیشت مضبوط ہوگی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے مزید کہا کہ کاروباری منصوبہ باہمی مشاورت کے ساتھ تیار کیا گیا ہے اور ہر شعبے اور اسٹیک ہولڈر کو مخصوص کام اور وقت کی حدیں تفویض کی گئی ہیں تاکہ 200 ملین ڈالر کے ہدف کو حاصل کیا جا سکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس دوران جام کمال خان نے مالی سہولیات کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ برآمدی لاگت کو کم کرنے کے لیے بینکاری شعبہ، صوبائی و وفاقی حکومتیں اور اسٹیٹ بینک آف پاکستان اہم کردار ادا کریں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وفاقی وزیر رانا تنویر حسین نے کہا کہ ملائیشیا کے معیار کے مطابق جدید ذبح خانے قائم کیے جائیں گے جس سے تعمیل میں آسانی ہوگی اور تجارتی صلاحیت کو تقویت ملے گی۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>وزارتِ تجارت نے جمعہ کو بتایا کہ ملائیشیا کو گوشت برآمد کرنے کے منصوبے کو حتمی شکل دینے کے لیے ایک اعلیٰ سطح اجلاس منعقد ہوا۔</strong></p>
<p>وزیراعظم کے معاون خصوصی ہارون اختر خان نے اجلاس میں وفاقی وزیر برائے قومی غذائی تحفظ رانا تنویر حسین اور وفاقی وزیر برائے تجارت جام کمال خان کے ساتھ مشترکہ طور پر شرکت کی۔ اجلاس میں وزارتِ تجارت، وزارتِ قومی غذائی تحفظ، سرکاری و نجی شعبے کے اسٹیک ہولڈرز اور تکنیکی مشیروں کے نمائندے بھی موجود تھے۔</p>
<p>اجلاس میں کمیٹی نے ملائیشیا کو گوشت کی برآمدات کا حتمی کاروباری منصوبہ پیش کیا جو بین الاقوامی حلال گوشت مارکیٹ میں پاکستان کی رسائی کو بڑھانے کی جانب ایک اہم قدم ہے۔</p>
<p>معاون خصوصی ہارون اختر خان نے کمیٹی اراکین اور متعلقہ وزارتوں کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ گوشت کی برآمدات کے لیے مؤثر کاروباری فریم ورک تیار کر لیا گیا ہے۔</p>
<p>وفاقی وزیر برائے تجارت جام کمال خان نے تمام اسٹیک ہولڈرز کی مشترکہ خدمات کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ یہ پیکج تمام متعلقہ شعبوں کے مشترکہ اقدامات اور اتفاق رائے کا نتیجہ ہے۔</p>
<p>حکومت نے آئندہ 3 سے 5 سال میں ملائیشیا کو گوشت برآمدات کا ہدف 200 ملین ڈالر مقرر کیا ہے۔ اجلاس میں انکشاف کیا گیا کہ پاکستان اس وقت ملائیشیا کو محض 38 ہزار ڈالر مالیت کا بھینس کا گوشت برآمد کرتا ہے۔</p>
<p>کمیٹی نے برآمدات کو متاثر کرنے والے بڑے چیلنجز کی نشاندہی کی جن میں فٹ اینڈ ماؤتھ بیماری، پروسیسنگ میں کمی اور لاجسٹک رکاوٹیں شامل ہیں۔</p>
<p>اس موقع پر ہارون اختر خان نے اعلان کیا کہ حلال گوشت کے شعبے کو صنعتی حیثیت دی جائے گی، جس سے برآمدات میں اضافہ ہوگا اور پاکستان کی معیشت مضبوط ہوگی۔</p>
<p>انہوں نے مزید کہا کہ کاروباری منصوبہ باہمی مشاورت کے ساتھ تیار کیا گیا ہے اور ہر شعبے اور اسٹیک ہولڈر کو مخصوص کام اور وقت کی حدیں تفویض کی گئی ہیں تاکہ 200 ملین ڈالر کے ہدف کو حاصل کیا جا سکے۔</p>
<p>اس دوران جام کمال خان نے مالی سہولیات کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ برآمدی لاگت کو کم کرنے کے لیے بینکاری شعبہ، صوبائی و وفاقی حکومتیں اور اسٹیٹ بینک آف پاکستان اہم کردار ادا کریں گے۔</p>
<p>وفاقی وزیر رانا تنویر حسین نے کہا کہ ملائیشیا کے معیار کے مطابق جدید ذبح خانے قائم کیے جائیں گے جس سے تعمیل میں آسانی ہوگی اور تجارتی صلاحیت کو تقویت ملے گی۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Business &amp; Finance</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40279892</guid>
      <pubDate>Sat, 29 Nov 2025 11:56:37 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (بی آر ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2025/11/29115614539e6ce.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2025/11/29115614539e6ce.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
