<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Editorials</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Thu, 04 Jun 2026 02:10:50 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Thu, 04 Jun 2026 02:10:50 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>لیبر مارکیٹ پر دباؤ</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40279885/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;پاکستان بیورو آف اسٹیٹسٹکس (پی بی ایس) کی جانب سے چار سال کے طویل وقفے کے بعد جاری کی گئی تازہ ترین لیبر فورس سروے (ایل ایف  ایس) جو 25 نومبر کو شائع ہوئی ملک کی اقتصادی سمت کی پریشان کن تصویر پیش کرتی ہے۔ بے روزگاری کم ہونے کے بجائے ایک سنگین مسئلہ بنی ہوئی ہے اور وقت کے ساتھ مزید بگڑتی جارہی ہے جو ایک ایسی معیشت کی عکاسی کرتی ہے جو مستقل اور باعزت روزگار پیدا کرنے میں روز بروز ناکام ہورہی ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بے روزگاری کی شرح 21 سال کی بلند ترین سطح یعنی 7.1 فیصد تک پہنچ گئی ہے اور جب اسے حقیقی اعدادوشمار میں دیکھا جائے تو صورتحال اور بھی تشویشناک نظر آتی ہے: بے روزگار پاکستانیوں کی تعداد میں 2020-21 (آخری بار جب ایل ایف ایس سروے کیا گیا تھا) کے مقابلے میں 31 فیصد تقریباً 14 لاکھ افراد کا اضافہ ہوا ہے، جو 45 لاکھ سے بڑھ کر 2024-25 میں 59 لاکھ ہو گئی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مزید یہ کہ بے روزگاری میں اضافہ  جینڈر عمر کے گروپ اور دیہی و شہری دونوں آبادیوں میں پھیلا ہوا ہے، جو ہر آبادیاتی گروپ اور خطے میں دباؤ کا شکار ایک لیبر مارکیٹ کو ظاہر کرتا ہے۔  نوجوانوں میں بے روزگاری خاص طور پر شدید ہے، کیونکہ 15-29 سال کے افراد میں بے روزگاری کی شرح 10.3 فیصد (2020-21) سے بڑھ کر 11.5 فیصد ہو گئی ہے، اسی عرصے کے دوران مردوں میں بے روزگاری معمولی اضافہ کرتے ہوئے 5.5 فیصد سے 5.9 فیصد تک پہنچ گئی جبکہ خواتین میں یہ زیادہ تیزی سے بڑھ کر 8.9 فیصد سے 9.7 فیصد ہو گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسری جانب دیہی علاقوں میں بے روزگاری کی شرح 5.8 فیصد سے بڑھ کر 6.3 فیصد ہو گئی ہے جبکہ شہری علاقوں میں یہ 7.3 فیصد سے بڑھ کر 8 فیصد تک پہنچ گئی ہے۔ بے روزگاری میں یہ عمومی اضافہ لیبر فورس میں شمولیت کے اضافے کے ساتھ بھی منسلک ہے، کیونکہ 10 سال اور اس سے زائد عمر کے 47.7 فیصد افراد ، تقریباً 85.6 ملین لوگ کام کر رہے ہیں یا کام تلاش کر رہے ہیں جس کا مطلب ہے کہ 2021 کے بعد سے ہر سال تقریباً 3.5 ملین نئے افراد لیبر فورس میں شامل ہو رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;موجودہ صورتحال ایک گہرے اور جڑ پکڑنے والے ہنر اور تعلیم کے خلاء کی عکاسی کرتی ہے، جہاں تیزی سے بڑھتی ہوئی نوجوان لیبر فورس کے پاس مارکیٹ کی مطلوبہ صلاحیتیں نہیں ہیں  جس کی وجہ سے یہ دستیاب مواقع کے لیے مناسب طور پر تیار نہیں ہے۔ مزید برآں معیشت مزید کمزور ہو چکی ہے کیونکہ (ملک میں) غیر ملکی براہ راست سرمایہ کاری (ایف ڈی آئی) میں ٹھہراؤ ہے، مقامی سرمایہ کاری میں کمی آ رہی ہے اور ملٹی نیشنل کمپنیوں کا پاکستان سے مسلسل انخلا ہو رہا ہے، جس سے روزگار کے امکانات مزید محدود ہو گئے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم، اس بحران سے نمٹنے کے لیے مؤثر حکمت عملی بنانے کی بجائے، پالیسی ساز اکثر اس کے بنیادی اسباب کی صحیح تشخیص کرنے میں بھی ناکام نظر آتے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال نے بڑھتی ہوئی بے روزگاری کا سبب سخت آئی ایم ایف پروگرام اور موسمیاتی آفات قرار دیا جو حکومتی ذمہ داری سے چشم پوشی اور حکمران طبقے کی اپنی پالیسی ناکامیوں اور معیشت کے طویل المدتی بدانتظامی سے توجہ ہٹانے کی واضح مثال ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حقیقت یہ ہے کہ سرمایہ کاری ہمیشہ حفاظت اور استحکام کی طرف مائل ہوتی ہے۔ حکمرانوں کو خود سے یہ سوال کرنا چاہیے: کیا انہوں نے ایسا اقتصادی، سیاسی اور سکیورٹی ماحول قائم کرنے کی کوشش کی ہے جہاں کاروبار اور روزگار پیدا کرنے والے افراد پروان چڑھ سکیں؟ یا، ان کی پالیسیاں متعدد محاذوں پر عدم استحکام میں اضافے کا سبب بنی ہیں جس کے نتیجے میں سرمایہ کاری اور روزگار کے حقیقی مواقع دب کر رہ گئے ہیں؟مزید برآں، چونکہ ایک بنیادی مسئلہ ہنر کی کمی ہے، کیا اس کو دور کرنے کے لیے کوئی مؤثر حکمت عملی موجود ہے؟ یہ بات قابل ذکر ہے کہ بزنس ریکارڈر نے بارہا ملک بھر میں پولی ٹیکنک تعلیم اور پیشہ ورانہ تربیت پر زور دینے کی سفارش کی ہے، کیونکہ اس سے نوجوان پاکستانیوں کو صنعتی شعبے کے لیے تیار ہنر فراہم کیے جا سکتے ہیں اور ایسے عملی کیریئر کے راستے کھل سکتے ہیں جنہیں موجودہ تعلیمی نظام نظر انداز کر دیتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ اتنا ہی ضروری ہے کہ چھوٹے اور درمیانے کاروباری شعبے (ایس ایم ایز) کو مضبوط بنایا جائے جو قدرتی طور پر محنت کش ہے اور بڑے پیمانے پر روزگار فراہم کر سکتا ہے اور دیہی علاقوں کو بھی فعال بنایا جائے، جہاں روزگار کے مواقع بڑھانے سے مزدوروں کے ہجوم کو زیادہ آباد شہروں کی طرف جانے سے روکا جاسکتا ہے اور شہری بے روزگاری کے دباؤ میں کمی کی جاسکتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سب سے بڑھ کر یہ ضروری ہے کہ ایک ایسے نظام میں ساختی اصلاحات کی جائیں جو حکمران اشرافیہ کے قبضے کا شکار ہے اور یہ وہ میدان ہے جہاں متواتر حکومتیں ناکام رہی ہیں کیونکہ اس کا مطلب ہے کہ مضبوط مفادات کو چیلنج کیا جائے۔ جب تک یہ بنیادی رکاوٹ دور نہیں ہوتی، بے روزگاری کم کرنے کی کوششیں جزوی اور ناکافی رہیں گی، جس کے نتیجے میں لاکھوں نوجوان پاکستانی محدود مواقع کے چکر میں پھنسے رہیں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2025&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>پاکستان بیورو آف اسٹیٹسٹکس (پی بی ایس) کی جانب سے چار سال کے طویل وقفے کے بعد جاری کی گئی تازہ ترین لیبر فورس سروے (ایل ایف  ایس) جو 25 نومبر کو شائع ہوئی ملک کی اقتصادی سمت کی پریشان کن تصویر پیش کرتی ہے۔ بے روزگاری کم ہونے کے بجائے ایک سنگین مسئلہ بنی ہوئی ہے اور وقت کے ساتھ مزید بگڑتی جارہی ہے جو ایک ایسی معیشت کی عکاسی کرتی ہے جو مستقل اور باعزت روزگار پیدا کرنے میں روز بروز ناکام ہورہی ہے۔</strong></p>
<p>بے روزگاری کی شرح 21 سال کی بلند ترین سطح یعنی 7.1 فیصد تک پہنچ گئی ہے اور جب اسے حقیقی اعدادوشمار میں دیکھا جائے تو صورتحال اور بھی تشویشناک نظر آتی ہے: بے روزگار پاکستانیوں کی تعداد میں 2020-21 (آخری بار جب ایل ایف ایس سروے کیا گیا تھا) کے مقابلے میں 31 فیصد تقریباً 14 لاکھ افراد کا اضافہ ہوا ہے، جو 45 لاکھ سے بڑھ کر 2024-25 میں 59 لاکھ ہو گئی ہے۔</p>
<p>مزید یہ کہ بے روزگاری میں اضافہ  جینڈر عمر کے گروپ اور دیہی و شہری دونوں آبادیوں میں پھیلا ہوا ہے، جو ہر آبادیاتی گروپ اور خطے میں دباؤ کا شکار ایک لیبر مارکیٹ کو ظاہر کرتا ہے۔  نوجوانوں میں بے روزگاری خاص طور پر شدید ہے، کیونکہ 15-29 سال کے افراد میں بے روزگاری کی شرح 10.3 فیصد (2020-21) سے بڑھ کر 11.5 فیصد ہو گئی ہے، اسی عرصے کے دوران مردوں میں بے روزگاری معمولی اضافہ کرتے ہوئے 5.5 فیصد سے 5.9 فیصد تک پہنچ گئی جبکہ خواتین میں یہ زیادہ تیزی سے بڑھ کر 8.9 فیصد سے 9.7 فیصد ہو گئی۔</p>
<p>دوسری جانب دیہی علاقوں میں بے روزگاری کی شرح 5.8 فیصد سے بڑھ کر 6.3 فیصد ہو گئی ہے جبکہ شہری علاقوں میں یہ 7.3 فیصد سے بڑھ کر 8 فیصد تک پہنچ گئی ہے۔ بے روزگاری میں یہ عمومی اضافہ لیبر فورس میں شمولیت کے اضافے کے ساتھ بھی منسلک ہے، کیونکہ 10 سال اور اس سے زائد عمر کے 47.7 فیصد افراد ، تقریباً 85.6 ملین لوگ کام کر رہے ہیں یا کام تلاش کر رہے ہیں جس کا مطلب ہے کہ 2021 کے بعد سے ہر سال تقریباً 3.5 ملین نئے افراد لیبر فورس میں شامل ہو رہے ہیں۔</p>
<p>موجودہ صورتحال ایک گہرے اور جڑ پکڑنے والے ہنر اور تعلیم کے خلاء کی عکاسی کرتی ہے، جہاں تیزی سے بڑھتی ہوئی نوجوان لیبر فورس کے پاس مارکیٹ کی مطلوبہ صلاحیتیں نہیں ہیں  جس کی وجہ سے یہ دستیاب مواقع کے لیے مناسب طور پر تیار نہیں ہے۔ مزید برآں معیشت مزید کمزور ہو چکی ہے کیونکہ (ملک میں) غیر ملکی براہ راست سرمایہ کاری (ایف ڈی آئی) میں ٹھہراؤ ہے، مقامی سرمایہ کاری میں کمی آ رہی ہے اور ملٹی نیشنل کمپنیوں کا پاکستان سے مسلسل انخلا ہو رہا ہے، جس سے روزگار کے امکانات مزید محدود ہو گئے ہیں۔</p>
<p>تاہم، اس بحران سے نمٹنے کے لیے مؤثر حکمت عملی بنانے کی بجائے، پالیسی ساز اکثر اس کے بنیادی اسباب کی صحیح تشخیص کرنے میں بھی ناکام نظر آتے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال نے بڑھتی ہوئی بے روزگاری کا سبب سخت آئی ایم ایف پروگرام اور موسمیاتی آفات قرار دیا جو حکومتی ذمہ داری سے چشم پوشی اور حکمران طبقے کی اپنی پالیسی ناکامیوں اور معیشت کے طویل المدتی بدانتظامی سے توجہ ہٹانے کی واضح مثال ہے۔</p>
<p>حقیقت یہ ہے کہ سرمایہ کاری ہمیشہ حفاظت اور استحکام کی طرف مائل ہوتی ہے۔ حکمرانوں کو خود سے یہ سوال کرنا چاہیے: کیا انہوں نے ایسا اقتصادی، سیاسی اور سکیورٹی ماحول قائم کرنے کی کوشش کی ہے جہاں کاروبار اور روزگار پیدا کرنے والے افراد پروان چڑھ سکیں؟ یا، ان کی پالیسیاں متعدد محاذوں پر عدم استحکام میں اضافے کا سبب بنی ہیں جس کے نتیجے میں سرمایہ کاری اور روزگار کے حقیقی مواقع دب کر رہ گئے ہیں؟مزید برآں، چونکہ ایک بنیادی مسئلہ ہنر کی کمی ہے، کیا اس کو دور کرنے کے لیے کوئی مؤثر حکمت عملی موجود ہے؟ یہ بات قابل ذکر ہے کہ بزنس ریکارڈر نے بارہا ملک بھر میں پولی ٹیکنک تعلیم اور پیشہ ورانہ تربیت پر زور دینے کی سفارش کی ہے، کیونکہ اس سے نوجوان پاکستانیوں کو صنعتی شعبے کے لیے تیار ہنر فراہم کیے جا سکتے ہیں اور ایسے عملی کیریئر کے راستے کھل سکتے ہیں جنہیں موجودہ تعلیمی نظام نظر انداز کر دیتا ہے۔</p>
<p>یہ اتنا ہی ضروری ہے کہ چھوٹے اور درمیانے کاروباری شعبے (ایس ایم ایز) کو مضبوط بنایا جائے جو قدرتی طور پر محنت کش ہے اور بڑے پیمانے پر روزگار فراہم کر سکتا ہے اور دیہی علاقوں کو بھی فعال بنایا جائے، جہاں روزگار کے مواقع بڑھانے سے مزدوروں کے ہجوم کو زیادہ آباد شہروں کی طرف جانے سے روکا جاسکتا ہے اور شہری بے روزگاری کے دباؤ میں کمی کی جاسکتی ہے۔</p>
<p>سب سے بڑھ کر یہ ضروری ہے کہ ایک ایسے نظام میں ساختی اصلاحات کی جائیں جو حکمران اشرافیہ کے قبضے کا شکار ہے اور یہ وہ میدان ہے جہاں متواتر حکومتیں ناکام رہی ہیں کیونکہ اس کا مطلب ہے کہ مضبوط مفادات کو چیلنج کیا جائے۔ جب تک یہ بنیادی رکاوٹ دور نہیں ہوتی، بے روزگاری کم کرنے کی کوششیں جزوی اور ناکافی رہیں گی، جس کے نتیجے میں لاکھوں نوجوان پاکستانی محدود مواقع کے چکر میں پھنسے رہیں گے۔</p>
<p>کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2025</p>
]]></content:encoded>
      <category>Editorials</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40279885</guid>
      <pubDate>Fri, 28 Nov 2025 14:40:22 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (اداریہ)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2025/11/28123840ee15a3a.webp" type="image/webp" medium="image" height="768" width="1024">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2025/11/28123840ee15a3a.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
