<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - World</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 20:36:41 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 20:36:41 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>حسینہ واجد کو بدعنوانی کے الزام میں 21 برس قید کی سزا</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40279878/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;بنگلہ دیش کی ایک عدالت نے جمعرات کو سابق وزیراعظم شیخ حسینہ کو بدعنوانی کے الزام میں 21 سال قید کی سزا سنا دی، یہ فیصلہ اس کے ایک ہفتے بعد آیا جب انہیں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے الزامات میں موت کی سزا سنائی گئی تھی۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;78 سالہ حسینہ واجد اس وقت بھارت میں مقیم ہیں اور عدالت کے حکم کے باوجود بنگلہ دیش واپس نہیں آئیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;17 نومبر کو انہیں غیر حاضر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے جرم میں پھانسی کی سزا سنائی گئی تھی، جس کا تعلق پچھلے سال طلبہ کی قیادت میں احتجاج کے دوران ان کی حکومت کی جانب سے ہونے والے خونریز کریک ڈاؤن سے تھا، جس نے آخرکار انہیں اقتدار سے محروم کر دیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس کے علاوہ اینٹی کرپشن کمیشن (اے سی سی) نے دارالحکومت ڈھاکہ کے ایک مضافاتی علاقے میں قیمتی زمینوں کے ناجائز حصول کے الزام پر سابق وزیراعظم کے خلاف تین دیگر مقدمات دائر کیے تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عدالت نے فیصلہ سناتے ہوئے کہا کہ حسینہ واجد کا رویہ اختیارات کے ناجائز استعمال، ناقابلِ نگرانی طاقت، اور عوامی املاک پر لالچی نظریے کی بنیاد پر مسلسل بدعنوانی کی عکاسی کرتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عدالت نے مزید کہا کہ حسینہ واجد نے سرکاری زمین کو نجی اثاثہ سمجھا، اور ریاستی وسائل پر نظر رکھی، اور اپنے قریبی رشتہ داروں کے فائدے کے لیے سرکاری کارروائیوں میں مداخلت کی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حسینہ واجد کے امریکی نژاد بیٹے سجیب واجد اور بیٹی سیما واجد جو اقوام متحدہ میں اعلیٰ عہدے پر فائز رہ چکی ہیں، کو پانچ پانچ سال قید کی سزا سنائی گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حسینہ واجد نے 5 اگست 2024 کو بنگلہ دیش چھوڑ دیا تھا، جب طلبہ کی قیادت میں مظاہروں کے بعد ان کے آمرانہ طرز حکمرانی کے خلاف احتجاج بڑھ گیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پبلک پراسیکیوٹر خان معین الحق نے کہا کہ وہ بدعنوانی کے مقدمات میں اس فیصلے کے خلاف اپیل کریں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے اے ایف پی کو بتایا کہ ہم فیصلے سے مطمئن نہیں ہیں کیونکہ ہم نے زیادہ سے زیادہ سزا کا مطالبہ کیا تھا۔ ہم اپنے کلائنٹ، اینٹی کرپشن کمیشن، سے مشورہ کریں گے اور آئندہ کارروائی کا فیصلہ کریں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حسینہ واجد کے دور حکومت کے خاتمے کے بعد سے بنگلہ دیش سیاسی بحران میں ہے اور فروری 2026 میں ہونے والے انتخابات کے لیے انتخابی مہم کے دوران تشدد کے واقعات سامنے آئے ہیں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>بنگلہ دیش کی ایک عدالت نے جمعرات کو سابق وزیراعظم شیخ حسینہ کو بدعنوانی کے الزام میں 21 سال قید کی سزا سنا دی، یہ فیصلہ اس کے ایک ہفتے بعد آیا جب انہیں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے الزامات میں موت کی سزا سنائی گئی تھی۔</strong></p>
<p>78 سالہ حسینہ واجد اس وقت بھارت میں مقیم ہیں اور عدالت کے حکم کے باوجود بنگلہ دیش واپس نہیں آئیں۔</p>
<p>17 نومبر کو انہیں غیر حاضر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے جرم میں پھانسی کی سزا سنائی گئی تھی، جس کا تعلق پچھلے سال طلبہ کی قیادت میں احتجاج کے دوران ان کی حکومت کی جانب سے ہونے والے خونریز کریک ڈاؤن سے تھا، جس نے آخرکار انہیں اقتدار سے محروم کر دیا۔</p>
<p>اس کے علاوہ اینٹی کرپشن کمیشن (اے سی سی) نے دارالحکومت ڈھاکہ کے ایک مضافاتی علاقے میں قیمتی زمینوں کے ناجائز حصول کے الزام پر سابق وزیراعظم کے خلاف تین دیگر مقدمات دائر کیے تھے۔</p>
<p>عدالت نے فیصلہ سناتے ہوئے کہا کہ حسینہ واجد کا رویہ اختیارات کے ناجائز استعمال، ناقابلِ نگرانی طاقت، اور عوامی املاک پر لالچی نظریے کی بنیاد پر مسلسل بدعنوانی کی عکاسی کرتا ہے۔</p>
<p>عدالت نے مزید کہا کہ حسینہ واجد نے سرکاری زمین کو نجی اثاثہ سمجھا، اور ریاستی وسائل پر نظر رکھی، اور اپنے قریبی رشتہ داروں کے فائدے کے لیے سرکاری کارروائیوں میں مداخلت کی۔</p>
<p>حسینہ واجد کے امریکی نژاد بیٹے سجیب واجد اور بیٹی سیما واجد جو اقوام متحدہ میں اعلیٰ عہدے پر فائز رہ چکی ہیں، کو پانچ پانچ سال قید کی سزا سنائی گئی۔</p>
<p>حسینہ واجد نے 5 اگست 2024 کو بنگلہ دیش چھوڑ دیا تھا، جب طلبہ کی قیادت میں مظاہروں کے بعد ان کے آمرانہ طرز حکمرانی کے خلاف احتجاج بڑھ گیا تھا۔</p>
<p>پبلک پراسیکیوٹر خان معین الحق نے کہا کہ وہ بدعنوانی کے مقدمات میں اس فیصلے کے خلاف اپیل کریں گے۔</p>
<p>انہوں نے اے ایف پی کو بتایا کہ ہم فیصلے سے مطمئن نہیں ہیں کیونکہ ہم نے زیادہ سے زیادہ سزا کا مطالبہ کیا تھا۔ ہم اپنے کلائنٹ، اینٹی کرپشن کمیشن، سے مشورہ کریں گے اور آئندہ کارروائی کا فیصلہ کریں گے۔</p>
<p>حسینہ واجد کے دور حکومت کے خاتمے کے بعد سے بنگلہ دیش سیاسی بحران میں ہے اور فروری 2026 میں ہونے والے انتخابات کے لیے انتخابی مہم کے دوران تشدد کے واقعات سامنے آئے ہیں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40279878</guid>
      <pubDate>Fri, 28 Nov 2025 11:42:06 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (اے ایف پی)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2025/11/281139265bab8e8.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2025/11/281139265bab8e8.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
