<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Pakistan</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Thu, 04 Jun 2026 13:14:40 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Thu, 04 Jun 2026 13:14:40 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>اسٹیٹ بینک نے ارکان پارلیمنٹ کے اکاؤنٹس بلاک کرنے کے احکامات نہیں دئیے، وزیر خزانہ</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40279873/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;وزیر خزانہ سینیٹر محمد اورنگزیب نے جمعرات کو سینیٹ میں وضاحت کی کہ اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے نہ تو موجودہ اور نہ ہی سابق اراکین پارلیمنٹ کے بینک اکاؤنٹس بلاک کرنے کی کوئی ہدایت جاری کی ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ اسٹیٹ  بینک نے اس کے بجائے ایک ایسا نظام وضع کیا ہے جو اراکین پارلیمنٹ کے اکاؤنٹس سے متعلق کسی بھی مسئلے کو حل کرنے میں مدد فراہم کرے۔ یہ بیان انہوں نے سینیٹ میں سینیٹر جان محمد کی جانب سے پیش کردہ نوٹس کے جواب میں دیا۔ وزیر خزانہ نے بتایا کہ جولائی 2019 میں سیاسی طور پر حساس افراد کے اکاؤنٹس کے حوالے سے ایک سرکلر جاری کیا گیا تھا، لیکن اس میں پارلیمانی اراکین کے اکاؤنٹس کو منجمد یا بلاک کرنے کی کوئی ہدایت شامل نہیں تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزیر خزانہ نے کہا کہ اسٹیٹ بینک نے ایک فوکل پرسن مقرر کیا ہے جو اراکین پارلیمنٹ کے اکاؤنٹس سے متعلق معاملات کو دیکھے گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ تمام تجارتی بینکوں کو بھی ہدایت دی گئی ہے کہ وہ فوکل پرسنز مقرر کریں تاکہ پارلیمانی اراکین کی معاونت کی جا سکے اور کسی بھی شکایت کو حل کیا جا سکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;محمد اورنگزیب کے مطابق، اب تمام تجارتی بینکوں نے اپنے فوکل پرسنز نامزد کر دیے ہیں۔ یہ اہلکار اراکین پارلیمنٹ کو رہنمائی فراہم کرنے، اکاؤنٹس سے متعلق سوالات حل کرنے اور مرکزی بینک کے ساتھ بروقت رابطے کو یقینی بنانے کے ذمہ دار ہوں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزیر خزانہ نے کہا کہ اس کا مقصد اراکین پارلیمنٹ اور بینکوں کے درمیان رابطے کو منظم کرنا ہے تاکہ کسی بھی مسئلے کو بروقت حل کیا جا سکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ موجودہ یا سابق پارلیمانی اراکین کے خلاف کوئی امتیازی کارروائی نہیں کی گئی۔ وزیر خزانہ نے کہا کہ اسٹیٹ بینک کا کردار بینکاری شعبے کو ریگولیٹ کرنا اور معیاری ضوابط کی پاسداری کو یقینی بنانا ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>وزیر خزانہ سینیٹر محمد اورنگزیب نے جمعرات کو سینیٹ میں وضاحت کی کہ اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے نہ تو موجودہ اور نہ ہی سابق اراکین پارلیمنٹ کے بینک اکاؤنٹس بلاک کرنے کی کوئی ہدایت جاری کی ہے۔</strong></p>
<p>انہوں نے کہا کہ اسٹیٹ  بینک نے اس کے بجائے ایک ایسا نظام وضع کیا ہے جو اراکین پارلیمنٹ کے اکاؤنٹس سے متعلق کسی بھی مسئلے کو حل کرنے میں مدد فراہم کرے۔ یہ بیان انہوں نے سینیٹ میں سینیٹر جان محمد کی جانب سے پیش کردہ نوٹس کے جواب میں دیا۔ وزیر خزانہ نے بتایا کہ جولائی 2019 میں سیاسی طور پر حساس افراد کے اکاؤنٹس کے حوالے سے ایک سرکلر جاری کیا گیا تھا، لیکن اس میں پارلیمانی اراکین کے اکاؤنٹس کو منجمد یا بلاک کرنے کی کوئی ہدایت شامل نہیں تھی۔</p>
<p>وزیر خزانہ نے کہا کہ اسٹیٹ بینک نے ایک فوکل پرسن مقرر کیا ہے جو اراکین پارلیمنٹ کے اکاؤنٹس سے متعلق معاملات کو دیکھے گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ تمام تجارتی بینکوں کو بھی ہدایت دی گئی ہے کہ وہ فوکل پرسنز مقرر کریں تاکہ پارلیمانی اراکین کی معاونت کی جا سکے اور کسی بھی شکایت کو حل کیا جا سکے۔</p>
<p>محمد اورنگزیب کے مطابق، اب تمام تجارتی بینکوں نے اپنے فوکل پرسنز نامزد کر دیے ہیں۔ یہ اہلکار اراکین پارلیمنٹ کو رہنمائی فراہم کرنے، اکاؤنٹس سے متعلق سوالات حل کرنے اور مرکزی بینک کے ساتھ بروقت رابطے کو یقینی بنانے کے ذمہ دار ہوں گے۔</p>
<p>وزیر خزانہ نے کہا کہ اس کا مقصد اراکین پارلیمنٹ اور بینکوں کے درمیان رابطے کو منظم کرنا ہے تاکہ کسی بھی مسئلے کو بروقت حل کیا جا سکے۔</p>
<p>انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ موجودہ یا سابق پارلیمانی اراکین کے خلاف کوئی امتیازی کارروائی نہیں کی گئی۔ وزیر خزانہ نے کہا کہ اسٹیٹ بینک کا کردار بینکاری شعبے کو ریگولیٹ کرنا اور معیاری ضوابط کی پاسداری کو یقینی بنانا ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40279873</guid>
      <pubDate>Fri, 28 Nov 2025 10:29:17 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (اے پی پی)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2025/11/2810273277a460d.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2025/11/2810273277a460d.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
