<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Pakistan</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Thu, 04 Jun 2026 04:50:35 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Thu, 04 Jun 2026 04:50:35 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>میکرو اکنامک، شرح مبادلہ اور اصلاحات، سرمایہ کار اب بھی وضاحت چاہتے ہیں، ایس آئی ایف سی عہدیدار</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40279866/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;اسپیشل انویسٹمنٹ فیسیلیٹیشن کونسل (ایس آئی ایف سی) کی ایپکس کمیٹی کے سیکرٹری ڈاکٹر جہانزیب خان نے کہا ہے کہ  سرمایہ کار، بالخصوص خلیجی ممالک سے تعلق رکھنے والے سرمایہ کار پاکستان کے درمیانی مدت کے معاشی فریم ورک، شرح مبادلہ کے استحکام اور طویل المدتی اصلاحاتی وعدوں پر واضح مؤقف چاہتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ سرمایہ کار بڑے فیصلے کرنے سے قبل حکومت کی سنجیدگی کے ٹھوس شواہد دیکھنا چاہتے ہیں۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان بزنس کونسل کے زیر اہتمام “پاکستان میں براہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری: چیلنجز اور مواقع” کے عنوان سے منعقدہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پاکستان کو درآمدی متبادل اور تحفظ پسند پالیسیوں کے بار بار دہرائے جانے والے چکر سے نکل کر 5 سے 10 سالہ ایسی تبدیلی کی جانب جانا ہوگا جو عالمی معیشت سے انضمام کو فروغ دے اور مقامی و غیر ملکی دونوں سرمایہ کاروں کے لیے سازگار ماحول فراہم کرے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈاکٹر جہانزیب خان نے واضح کیا کہ پاکستان کا اصل مسئلہ سرمایہ کاروں کی کمی نہیں بلکہ پالیسیوں میں ہم آہنگی اور انتظامی تسلسل کا فقدان ہے۔ انہوں نے 20 سے 30 ارب ڈالر کی مبینہ سرمایہ کاری کے دعوؤں کو بھی مبالغہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ اعداد و شمار سرمایہ کاروں کی جانب سے بیان کیے گئے ہیں اور پاکستان کو منتخب اور مؤثر سرمایہ کاری کو ترجیح دینی چاہیے، خاص طور پر مینوفیکچرنگ، برآمدات اور نجی شعبے کی ترقی میں۔ انہوں نے خبردار کیا کہ مارکیٹ پر مبنی اور بھاری انفرااسٹرکچر منصوبوں، بالخصوص توانائی اور ٹرانسپورٹ کے شعبوں میں، جہاں پہلے ہی حکومتی واجبات زیادہ ہیں، محتاط رویہ اپنانا ہوگا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ ماضی کی پالیسی غلطیوں سے سبق نہ سیکھنے کی ایک بڑی وجہ مؤثر انفارمیشن سسٹمز کا فقدان ہے۔ سرمایہ کاری، ٹیکس، مالیاتی، زرعی اور توانائی پالیسیاں ایک دوسرے سے کٹ کر چلتی رہیں جس کے باعث گزشتہ دہائی میں سرمایہ کاروں کا اعتماد مجروح ہوا۔ ان کے مطابق ایس آئی ایف سی نے وزارتوں اور صوبوں کے درمیان رابطہ بہتر بنا کر معاشی استحکام میں کردار ادا کیا ہے، تاہم ادارہ جاتی فعالیت اب بھی کمزور پہلو ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈاکٹر جہانزیب خان نے زور دیا کہ سرمایہ کاری کا اصل ہدف محض سرمائے کا حصول نہیں بلکہ پائیدار اور جامع ترقی ہونا چاہیے جو ایس ڈی جی 2030 سے ہم آہنگ ہو۔ ان کا کہنا تھا کہ سرمایہ کاروں کا اعتماد سیاسی استحکام کے ساتھ ساتھ انتظامی تسلسل سے بھی وابستہ ہے، کیونکہ ممالک سیاسی اتار چڑھاؤ کے باوجود مضبوط سول سروس کے باعث اپنا راستہ قائم رکھتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس موقع پر فاطمہ گروپ کے سی ای او فواد مختار نے کہا کہ پاکستان میں بے پناہ صلاحیت موجود ہے اور حکومت و کاروباری طبقے کے باہمی تعاون سے اعتماد پر مبنی ترقی ممکن ہے۔ انہوں نے کہا کہ 25 کروڑ کی آبادی، جس میں 60 فیصد نوجوان ہیں، بڑا آئی ٹی فری لانس نیٹ ورک اور اسٹریٹجک محل وقوع پاکستان کو منفرد بناتا ہے۔ ان کے مطابق ایس آئی ایف سی کے ذریعے سعودی سرمایہ کاروں کے ساتھ براہ راست رابطہ ممکن ہوا ہے اور پالیسی استحکام کی صورت میں پاکستان مزید سرمایہ حاصل کر سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2025&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>اسپیشل انویسٹمنٹ فیسیلیٹیشن کونسل (ایس آئی ایف سی) کی ایپکس کمیٹی کے سیکرٹری ڈاکٹر جہانزیب خان نے کہا ہے کہ  سرمایہ کار، بالخصوص خلیجی ممالک سے تعلق رکھنے والے سرمایہ کار پاکستان کے درمیانی مدت کے معاشی فریم ورک، شرح مبادلہ کے استحکام اور طویل المدتی اصلاحاتی وعدوں پر واضح مؤقف چاہتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ سرمایہ کار بڑے فیصلے کرنے سے قبل حکومت کی سنجیدگی کے ٹھوس شواہد دیکھنا چاہتے ہیں۔</strong></p>
<p>پاکستان بزنس کونسل کے زیر اہتمام “پاکستان میں براہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری: چیلنجز اور مواقع” کے عنوان سے منعقدہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پاکستان کو درآمدی متبادل اور تحفظ پسند پالیسیوں کے بار بار دہرائے جانے والے چکر سے نکل کر 5 سے 10 سالہ ایسی تبدیلی کی جانب جانا ہوگا جو عالمی معیشت سے انضمام کو فروغ دے اور مقامی و غیر ملکی دونوں سرمایہ کاروں کے لیے سازگار ماحول فراہم کرے۔</p>
<p>ڈاکٹر جہانزیب خان نے واضح کیا کہ پاکستان کا اصل مسئلہ سرمایہ کاروں کی کمی نہیں بلکہ پالیسیوں میں ہم آہنگی اور انتظامی تسلسل کا فقدان ہے۔ انہوں نے 20 سے 30 ارب ڈالر کی مبینہ سرمایہ کاری کے دعوؤں کو بھی مبالغہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ اعداد و شمار سرمایہ کاروں کی جانب سے بیان کیے گئے ہیں اور پاکستان کو منتخب اور مؤثر سرمایہ کاری کو ترجیح دینی چاہیے، خاص طور پر مینوفیکچرنگ، برآمدات اور نجی شعبے کی ترقی میں۔ انہوں نے خبردار کیا کہ مارکیٹ پر مبنی اور بھاری انفرااسٹرکچر منصوبوں، بالخصوص توانائی اور ٹرانسپورٹ کے شعبوں میں، جہاں پہلے ہی حکومتی واجبات زیادہ ہیں، محتاط رویہ اپنانا ہوگا۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ ماضی کی پالیسی غلطیوں سے سبق نہ سیکھنے کی ایک بڑی وجہ مؤثر انفارمیشن سسٹمز کا فقدان ہے۔ سرمایہ کاری، ٹیکس، مالیاتی، زرعی اور توانائی پالیسیاں ایک دوسرے سے کٹ کر چلتی رہیں جس کے باعث گزشتہ دہائی میں سرمایہ کاروں کا اعتماد مجروح ہوا۔ ان کے مطابق ایس آئی ایف سی نے وزارتوں اور صوبوں کے درمیان رابطہ بہتر بنا کر معاشی استحکام میں کردار ادا کیا ہے، تاہم ادارہ جاتی فعالیت اب بھی کمزور پہلو ہے۔</p>
<p>ڈاکٹر جہانزیب خان نے زور دیا کہ سرمایہ کاری کا اصل ہدف محض سرمائے کا حصول نہیں بلکہ پائیدار اور جامع ترقی ہونا چاہیے جو ایس ڈی جی 2030 سے ہم آہنگ ہو۔ ان کا کہنا تھا کہ سرمایہ کاروں کا اعتماد سیاسی استحکام کے ساتھ ساتھ انتظامی تسلسل سے بھی وابستہ ہے، کیونکہ ممالک سیاسی اتار چڑھاؤ کے باوجود مضبوط سول سروس کے باعث اپنا راستہ قائم رکھتے ہیں۔</p>
<p>اس موقع پر فاطمہ گروپ کے سی ای او فواد مختار نے کہا کہ پاکستان میں بے پناہ صلاحیت موجود ہے اور حکومت و کاروباری طبقے کے باہمی تعاون سے اعتماد پر مبنی ترقی ممکن ہے۔ انہوں نے کہا کہ 25 کروڑ کی آبادی، جس میں 60 فیصد نوجوان ہیں، بڑا آئی ٹی فری لانس نیٹ ورک اور اسٹریٹجک محل وقوع پاکستان کو منفرد بناتا ہے۔ ان کے مطابق ایس آئی ایف سی کے ذریعے سعودی سرمایہ کاروں کے ساتھ براہ راست رابطہ ممکن ہوا ہے اور پالیسی استحکام کی صورت میں پاکستان مزید سرمایہ حاصل کر سکتا ہے۔</p>
<p>کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2025</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40279866</guid>
      <pubDate>Fri, 28 Nov 2025 09:20:43 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (طاہر امین)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2025/11/28091632137ba59.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="923">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2025/11/28091632137ba59.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
