<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Pakistan</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 15:44:24 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 15:44:24 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>مینوفیکچرنگ سیکٹر، ایس آئی ایف سی کی نئی سرمایہ کاری میں رکاوٹوں کی نشاندہی</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40279864/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;اسپیشل انویسٹمنٹ فیسیلیٹیشن کونسل (ایس آئی ایف سی) کے نیشنل کوآرڈینیٹر لیفٹیننٹ جنرل سرفراز احمد نے کہا ہے کہ سپر ٹیکس کے خاتمے اور ٹیکس کی مجموعی شرح میں کمی کے بغیر مینوفیکچرنگ سیکٹر میں نئی سرمایہ کاری کو راغب کرنا ممکن نہیں۔ پاکستان بزنس کونسل کے زیراہتمام منعقدہ سیمینار “ڈائیلاگ آن دی اکانومی” سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے واضح کیا کہ حکومت سپر ٹیکس کے معاملے پر سنجیدگی سے غور کر رہی ہے، جو ایک وقتی انتظام تھا اور اب اسے ختم کرنے کی فوری ضرورت ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ 29 فیصد کارپوریٹ ٹیکس بھی مسابقتی نہیں اور اسے کم کرکے 25 فیصد تک لانا چاہیے، جبکہ انٹر کارپوریٹ ٹیکس کا مکمل خاتمہ ضروری ہے۔ ان کے مطابق مؤثر ٹیکس شرح اس وقت تقریباً 50 فیصد تک جا پہنچی ہے، کیونکہ کارپوریٹ ٹیکس کے بعد سپر ٹیکس، ورکر ویلفیئر کٹوتیاں اور ڈیویڈنڈ ٹیکس باقی ماندہ آمدن کو بھی متاثر کرتے ہیں۔ یہ صورتحال کاروبار کو ٹکڑوں میں تقسیم کرنے کی حوصلہ افزائی کرتی ہے، جو قومی معیشت کے لیے نقصان دہ ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;لیفٹیننٹ جنرل سرفراز نے کہا کہ وزیر خزانہ اور ان کی ٹیم نے ملک کو ڈیفالٹ سے بچا کر معیشت کو استحکام فراہم کیا، تاہم اصل کمی ایک مربوط اور پائیدار گروتھ پلان کی ہے۔ انہوں نے نشاندہی کی کہ پاکستان گزشتہ کئی دہائیوں سے کنزمپشن لیڈ اور قرضوں پر مبنی ترقی کے ماڈل پر چل رہا ہے جو دیرپا نہیں۔ اگر یہی راستہ اپنایا گیا تو نتائج بھی وہی ہوں گے اور دوبارہ بحران جنم لے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے زور دیا کہ ایکسپورٹ لیڈ گروتھ ہی واحد حل ہے، لیکن اس کے لیے صرف ٹیرف میں کمی کافی نہیں بلکہ ٹیکس، توانائی لاگت، ایز آف ڈوئنگ بزنس اور مجموعی کاسٹ آف ڈوئنگ بزنس میں بھی برابری کا میدان فراہم کرنا ہوگا۔ انہوں نے افسوس کا اظہار کیا کہ پاکستان میں کمائی گئی رقم کا بڑا حصہ دبئی، لندن اور دیگر عالمی شہروں کا رخ کر لیتا ہے اور مقامی انفرااسٹرکچر یا کمپلائنس میں دوبارہ سرمایہ کاری نہیں ہوتی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان کے مطابق پاکستان میں موجودہ براہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری (ایف ڈی آئی) 1.2 سے 1.3 ارب ڈالر ہے جو کم از کم دوگنا یا تین گنا ہو کر 2.5 سے 3 ارب ڈالر سالانہ ہونی چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ ایسی ایف ڈی آئی کی حوصلہ شکنی کی جانی چاہیے جو براہ راست ڈالرز ملک میں نہ لائے، سوائے ان منصوبوں کے جو طویل المدتی اور بنیادی انفرااسٹرکچر سے متعلق ہوں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;لیفٹیننٹ جنرل سرفراز احمد نے کہا کہ جب تک مقامی سرمایہ کار آگے بڑھ کر سرمایہ کاری نہیں کریں گے، بیرونی سرمایہ بھی نہیں آئے گا۔ انہوں نے توانائی کے شعبے کو ڈی ریگولیٹ کرنے، شرح سود میں کمی اور پالیسیوں کے تسلسل کی ضرورت پر بھی زور دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ مہنگائی میں کمی کے ساتھ مانیٹری پالیسی کو زمینی حقائق کے مطابق ہونا چاہیے تاکہ سرمایہ کاری کا عمل تیز ہو سکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2025&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>اسپیشل انویسٹمنٹ فیسیلیٹیشن کونسل (ایس آئی ایف سی) کے نیشنل کوآرڈینیٹر لیفٹیننٹ جنرل سرفراز احمد نے کہا ہے کہ سپر ٹیکس کے خاتمے اور ٹیکس کی مجموعی شرح میں کمی کے بغیر مینوفیکچرنگ سیکٹر میں نئی سرمایہ کاری کو راغب کرنا ممکن نہیں۔ پاکستان بزنس کونسل کے زیراہتمام منعقدہ سیمینار “ڈائیلاگ آن دی اکانومی” سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے واضح کیا کہ حکومت سپر ٹیکس کے معاملے پر سنجیدگی سے غور کر رہی ہے، جو ایک وقتی انتظام تھا اور اب اسے ختم کرنے کی فوری ضرورت ہے۔</strong></p>
<p>انہوں نے کہا کہ 29 فیصد کارپوریٹ ٹیکس بھی مسابقتی نہیں اور اسے کم کرکے 25 فیصد تک لانا چاہیے، جبکہ انٹر کارپوریٹ ٹیکس کا مکمل خاتمہ ضروری ہے۔ ان کے مطابق مؤثر ٹیکس شرح اس وقت تقریباً 50 فیصد تک جا پہنچی ہے، کیونکہ کارپوریٹ ٹیکس کے بعد سپر ٹیکس، ورکر ویلفیئر کٹوتیاں اور ڈیویڈنڈ ٹیکس باقی ماندہ آمدن کو بھی متاثر کرتے ہیں۔ یہ صورتحال کاروبار کو ٹکڑوں میں تقسیم کرنے کی حوصلہ افزائی کرتی ہے، جو قومی معیشت کے لیے نقصان دہ ہے۔</p>
<p>لیفٹیننٹ جنرل سرفراز نے کہا کہ وزیر خزانہ اور ان کی ٹیم نے ملک کو ڈیفالٹ سے بچا کر معیشت کو استحکام فراہم کیا، تاہم اصل کمی ایک مربوط اور پائیدار گروتھ پلان کی ہے۔ انہوں نے نشاندہی کی کہ پاکستان گزشتہ کئی دہائیوں سے کنزمپشن لیڈ اور قرضوں پر مبنی ترقی کے ماڈل پر چل رہا ہے جو دیرپا نہیں۔ اگر یہی راستہ اپنایا گیا تو نتائج بھی وہی ہوں گے اور دوبارہ بحران جنم لے گا۔</p>
<p>انہوں نے زور دیا کہ ایکسپورٹ لیڈ گروتھ ہی واحد حل ہے، لیکن اس کے لیے صرف ٹیرف میں کمی کافی نہیں بلکہ ٹیکس، توانائی لاگت، ایز آف ڈوئنگ بزنس اور مجموعی کاسٹ آف ڈوئنگ بزنس میں بھی برابری کا میدان فراہم کرنا ہوگا۔ انہوں نے افسوس کا اظہار کیا کہ پاکستان میں کمائی گئی رقم کا بڑا حصہ دبئی، لندن اور دیگر عالمی شہروں کا رخ کر لیتا ہے اور مقامی انفرااسٹرکچر یا کمپلائنس میں دوبارہ سرمایہ کاری نہیں ہوتی۔</p>
<p>ان کے مطابق پاکستان میں موجودہ براہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری (ایف ڈی آئی) 1.2 سے 1.3 ارب ڈالر ہے جو کم از کم دوگنا یا تین گنا ہو کر 2.5 سے 3 ارب ڈالر سالانہ ہونی چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ ایسی ایف ڈی آئی کی حوصلہ شکنی کی جانی چاہیے جو براہ راست ڈالرز ملک میں نہ لائے، سوائے ان منصوبوں کے جو طویل المدتی اور بنیادی انفرااسٹرکچر سے متعلق ہوں۔</p>
<p>لیفٹیننٹ جنرل سرفراز احمد نے کہا کہ جب تک مقامی سرمایہ کار آگے بڑھ کر سرمایہ کاری نہیں کریں گے، بیرونی سرمایہ بھی نہیں آئے گا۔ انہوں نے توانائی کے شعبے کو ڈی ریگولیٹ کرنے، شرح سود میں کمی اور پالیسیوں کے تسلسل کی ضرورت پر بھی زور دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ مہنگائی میں کمی کے ساتھ مانیٹری پالیسی کو زمینی حقائق کے مطابق ہونا چاہیے تاکہ سرمایہ کاری کا عمل تیز ہو سکے۔</p>
<p>کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2025</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40279864</guid>
      <pubDate>Fri, 28 Nov 2025 08:56:43 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (حمزہ حبیب)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2025/11/28085424203bf6e.webp" type="image/webp" medium="image" height="768" width="1024">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2025/11/28085424203bf6e.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
