<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - World</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 14:59:52 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 14:59:52 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>وائٹ ہاؤس کے قریب نیشنل گارڈ کے اہلکاروں پر فائرنگ، دو اہلکا شدید زخمی</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40279823/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;وائٹ ہاؤس کے قریب بدھ کے روز نامعلوم مسلح شخص کے حملے میں نیشنل گارڈ کے دو اہلکار شدید زخمی ہو گئے، جبکہ حملہ آور بھی فائرنگ کے تبادلے میں زخمی حالت میں گرفتار کر لیا گیا۔ حکام کے مطابق یہ ایک منظم اور گھات لگا کر کیا گیا حملہ تھا جس کی تفتیش دہشت گردی کے واقعے کے طور پر کی جا رہی ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تحقیقات کے مطابق مشتبہ شخص کی شناخت رحمان اللہ لیکنوال کے نام سے ہوئی ہے، جو 29 سالہ افغان شہری ہے اور واشنگٹن اسٹیٹ میں مقیم تھا۔ ایک عدالتی عہدیدار کے مطابق وہ 2021 میں افغانستان جنگ کے دوران امریکی افواج کی مدد کرنے والے افراد کے لیے مخصوص ویزا پروگرام کے تحت امریکا آیا تھا، تاہم اس کا ویزا ختم ہو چکا تھا اور وہ غیر قانونی طور پر ملک میں مقیم تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;واقعہ دوپہر تقریباً 2 بجکر 15 منٹ پر  نیشنل گارڈ کے مغربی ورجینیا سے تعلق رکھنے والے اہلکاروں کے ساتھ پیش آیا جو وائٹ ہاؤس کے قریب معمول کی نگرانی پر مامور تھے۔ پولیس کے مطابق مشتبہ شخص ایک موڑ سے نکل کر اچانک اہلکاروں پر فائرنگ کرنے لگا۔ جوابی کارروائی کے بعد دیگر گارڈ اہلکاروں نے اسے قابو میں کر لیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فائرنگ کے بعد وائٹ ہاؤس کو لاک ڈاؤن کر دیا گیا اور وفاقی و مقامی سیکیورٹی اداروں نے علاقے کو گھیرے میں لے لیا۔ زخمی اہلکاروں کو قریبی اسپتال منتقل کیا گیا جہاں ان کی حالت تشویشناک بتائی جا رہی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;واقعے کے وقت صدر ڈونلڈ ٹرمپ فلوریڈا میں موجود تھے۔ انہوں نے سوشل میڈیا پیغام میں حملہ آور کو سخت سزا دینے کے عزم کا اظہار کرتے ہوئے نیشنل گارڈ کی تعریف کی اور واشنگٹن میں مزید 500 اہلکار تعینات کرنے کا حکم دیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عینی شاہدین کے مطابق واقعے کے بعد علاقے میں شدید افراتفری پھیل گئی، لوگ خوف کے باعث بھاگتے نظر آئے اور سڑکوں پر بدنظمی کا ماحول پیدا ہو گیا۔ بعض افراد نے بتایا کہ انہوں نے زخمی اہلکاروں کو زمین پر پڑے دیکھا جبکہ طبی عملہ انہیں بچانے کی کوشش کرتا رہا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;واضح رہے کہ نیشنل گارڈ اہلکار گزشتہ چند ماہ سے دارالحکومت میں تعینات ہیں، جس پر مقامی حکام اور بعض سیاسی حلقوں کی جانب سے تنقید بھی کی جاتی رہی ہے، تاہم حکومت کا مؤقف ہے کہ اس اقدام کا مقصد سیکیورٹی صورتحال کو بہتر بنانا ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>وائٹ ہاؤس کے قریب بدھ کے روز نامعلوم مسلح شخص کے حملے میں نیشنل گارڈ کے دو اہلکار شدید زخمی ہو گئے، جبکہ حملہ آور بھی فائرنگ کے تبادلے میں زخمی حالت میں گرفتار کر لیا گیا۔ حکام کے مطابق یہ ایک منظم اور گھات لگا کر کیا گیا حملہ تھا جس کی تفتیش دہشت گردی کے واقعے کے طور پر کی جا رہی ہے۔</strong></p>
<p>تحقیقات کے مطابق مشتبہ شخص کی شناخت رحمان اللہ لیکنوال کے نام سے ہوئی ہے، جو 29 سالہ افغان شہری ہے اور واشنگٹن اسٹیٹ میں مقیم تھا۔ ایک عدالتی عہدیدار کے مطابق وہ 2021 میں افغانستان جنگ کے دوران امریکی افواج کی مدد کرنے والے افراد کے لیے مخصوص ویزا پروگرام کے تحت امریکا آیا تھا، تاہم اس کا ویزا ختم ہو چکا تھا اور وہ غیر قانونی طور پر ملک میں مقیم تھا۔</p>
<p>واقعہ دوپہر تقریباً 2 بجکر 15 منٹ پر  نیشنل گارڈ کے مغربی ورجینیا سے تعلق رکھنے والے اہلکاروں کے ساتھ پیش آیا جو وائٹ ہاؤس کے قریب معمول کی نگرانی پر مامور تھے۔ پولیس کے مطابق مشتبہ شخص ایک موڑ سے نکل کر اچانک اہلکاروں پر فائرنگ کرنے لگا۔ جوابی کارروائی کے بعد دیگر گارڈ اہلکاروں نے اسے قابو میں کر لیا۔</p>
<p>فائرنگ کے بعد وائٹ ہاؤس کو لاک ڈاؤن کر دیا گیا اور وفاقی و مقامی سیکیورٹی اداروں نے علاقے کو گھیرے میں لے لیا۔ زخمی اہلکاروں کو قریبی اسپتال منتقل کیا گیا جہاں ان کی حالت تشویشناک بتائی جا رہی ہے۔</p>
<p>واقعے کے وقت صدر ڈونلڈ ٹرمپ فلوریڈا میں موجود تھے۔ انہوں نے سوشل میڈیا پیغام میں حملہ آور کو سخت سزا دینے کے عزم کا اظہار کرتے ہوئے نیشنل گارڈ کی تعریف کی اور واشنگٹن میں مزید 500 اہلکار تعینات کرنے کا حکم دیا۔</p>
<p>عینی شاہدین کے مطابق واقعے کے بعد علاقے میں شدید افراتفری پھیل گئی، لوگ خوف کے باعث بھاگتے نظر آئے اور سڑکوں پر بدنظمی کا ماحول پیدا ہو گیا۔ بعض افراد نے بتایا کہ انہوں نے زخمی اہلکاروں کو زمین پر پڑے دیکھا جبکہ طبی عملہ انہیں بچانے کی کوشش کرتا رہا۔</p>
<p>واضح رہے کہ نیشنل گارڈ اہلکار گزشتہ چند ماہ سے دارالحکومت میں تعینات ہیں، جس پر مقامی حکام اور بعض سیاسی حلقوں کی جانب سے تنقید بھی کی جاتی رہی ہے، تاہم حکومت کا مؤقف ہے کہ اس اقدام کا مقصد سیکیورٹی صورتحال کو بہتر بنانا ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40279823</guid>
      <pubDate>Thu, 27 Nov 2025 09:52:06 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (رائٹرز)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2025/11/27094927de77206.webp" type="image/webp" medium="image" height="640" width="960">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2025/11/27094927de77206.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
