<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Pakistan</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 14:38:56 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 14:38:56 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>وزیر خزانہ نے صنعتوں کو مضبوط بنانے کیلئے ٹیرف میں اصلاحات کا منصوبے پیش کردیا</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40279819/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;وفاقی وزیر برائے خزانہ و محصولات محمد اورنگزیب نے بدھ کے روز اعلان کیا ہے کہ حکومت معیشت کو مستحکم بنانے اور  صنعتی شعبے کو سہارا دینے کے لیے ساختی اصلاحات کی وسیع حکمت عملی کے تحت ٹیرف کو معقول بنانے کیلئے حقائق پر مبنی جائزہ شروع کرنے جا رہی ہے۔ پاکستان بزنس کونسل کے ڈائیلاگ آن دی اکانومی 2025 سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ درآمدی و برآمدی ٹیرف کو زیادہ منطقی، مربوط اور قومی اقتصادی اہداف کے مطابق بنانے کے لیے جامع تجزیہ کیا جائے گا تاکہ صنعتوں کو پائیدار بنیادوں پر ترقی دی جا سکے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزیر خزانہ نے رواں سال کے لیے 3.5 فیصد اقتصادی شرح نمو کی پیش گوئی کرتے ہوئے کہا کہ آئندہ 2 سے 3 برسوں میں یہ شرح 4 فیصد تک پہنچ سکتی ہے جبکہ درمیانی مدت میں زراعت، مینوفیکچرنگ اور خدمات کے شعبوں میں مسلسل بہتری کی صورت میں معاشی ترقی 6 سے 7 فیصد تک جا سکتی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ 11ویں قومی مالیاتی کمیشن ایوارڈ کا افتتاحی اجلاس 4 دسمبر کو منعقد ہوگا اور صوبوں کے ساتھ مسلسل رابطے قومی مالیاتی معاہدے کے تحت قائم تعاون کی فضا کو مزید مضبوط کریں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;blockquote class="blockquote-level-1"&gt;
&lt;p&gt;ٹیرف کو معقول بنانے سے مراد کسی ملک کے درآمدی اور برآمدی ٹیکسز (ٹیرف) کو اس انداز سے ترتیب دینا ہے کہ وہ زیادہ منطقی، یکساں اور قومی اقتصادی اہداف کے لیے معاون ہوں۔&lt;/p&gt;
&lt;/blockquote&gt;
&lt;p&gt;محمد اورنگزیب نے اعتراف کیا کہ بلند ٹیکسز، مہنگی توانائی اور فنانسنگ کی بلند لاگت کاروباری طبقے کے لیے مشکلات پیدا کر رہی ہیں، تاہم انہوں نے یقین دلایا کہ ریلیف مرحلہ وار فراہم کیا جائے گا۔ انہوں نے بتایا کہ وزیراعظم شہباز شریف نے برآمدی سرچارج کے خاتمے اور ایکسپورٹ ڈیولپمنٹ فنڈ کی نگرانی نجی شعبے کے سپرد کرنے کی منظوری دے دی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ حکومت کا فوکس اب پالیسی ڈیزائن سے عمل درآمد کی جانب منتقل ہو چکا ہے اور ٹیکسیشن سسٹم میں ڈیجیٹلائزیشن کے جامع منصوبے کے تحت بڑی تبدیلیاں لائی جا رہی ہیں۔ ٹیکس پالیسی سے متعلق اختیارات ایف بی آر سے منتقل ہو کر وزارت خزانہ کو دے دیے گئے ہیں جہاں ٹیکس پالیسی آفس اور ایڈوائزری کونسل قائم کی جا رہی ہے، جس میں ابتدائی طور پر ماہرین تعلیم اور بعد ازاں نجی شعبے کے نمائندے شامل ہوں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزیر خزانہ نے حکومتی اخراجات میں کمی کے لیے رائٹ سائزنگ کے اقدامات کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ وفاقی وزارتوں کا نصف سے زائد جائزہ مکمل ہو چکا ہے اور 54,000 خالی اسامیاں ختم کر کے سالانہ 56 ارب روپے کی بچت کی گئی ہے۔ بعض وزارتوں اور اداروں کے انضمام یا خاتمے کی بھی تصدیق کی گئی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈیجیٹل پاکستان کو حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ڈیجیٹل ادائیگیوں کے فروغ، سرکاری لین دین کی ڈیجیٹلائزیشن اور مالی شمولیت کے ذریعے کیش پر مبنی معیشت کو ڈاکیومنٹڈ اکانومی میں تبدیل کیا جا رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;قرضوں کے انتظام سے متعلق انہوں نے بتایا کہ ڈیٹ مینجمنٹ آفس کو بین الاقوامی معیار کے مطابق اپ گریڈ کیا جا رہا ہے جس سے قرضوں کی اوسط مدت 4 سال ہو گئی ہے اور ری فنانسنگ رسک میں کمی آئی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ بہتر قرض مینجمنٹ سے حکومت کو ممکنہ طور پر ایک ٹریلین روپے تک کی بچت ہو سکتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے نئی کنٹری بیوٹری پنشن اسکیم کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ جولائی 2024 سے نافذ اس نظام کے تحت 9,000 سے زائد نئے سرکاری ملازمین شامل ہو چکے ہیں جبکہ دفاعی افواج کے لیے بھی آئندہ سال یہی نظام متعارف کرایا جائے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;محمد اورنگزیب نے اعلان کیا کہ پاکستان  نئے چینی سال سے قبل اپنا پہلا پانڈا بانڈ جاری کرنے جا رہا ہے جبکہ ڈیجیٹل اور کرپٹو اکانومی کے لیے پاکستان ورچوئل اثاثہ ریگولیٹری اتھارٹی کو فعال کر دیا گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ سیکیورٹی، میکرو اکنامک استحکام اور منافع کی ترسیل غیر ملکی سرمایہ کاری کے لیے ناگزیر ہیں۔ عالمی سرمایہ کاروں کی نئی دلچسپی توانائی، مائننگ اور ٹیکنالوجی کے شعبوں میں نظر آ رہی ہے جو معیشت کی بحالی کا مثبت اشارہ ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سابق وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل نے خبردار کیا کہ موجودہ خسارے پائیدار نہیں اور تجویز دی کہ اضافی آمدنی کا 80 فیصد وفاق کو دیا جائے۔ ماہر معیشت قیصر بنگالی نے 18ویں ترمیم کے بعد وزارتوں میں کمی نہ ہونے پر تنقید کرتے ہوئے قابل تقسیم پول میں براہ راست اور بالواسطہ ٹیکس کی نئی تقسیم تجویز کی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2025&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>وفاقی وزیر برائے خزانہ و محصولات محمد اورنگزیب نے بدھ کے روز اعلان کیا ہے کہ حکومت معیشت کو مستحکم بنانے اور  صنعتی شعبے کو سہارا دینے کے لیے ساختی اصلاحات کی وسیع حکمت عملی کے تحت ٹیرف کو معقول بنانے کیلئے حقائق پر مبنی جائزہ شروع کرنے جا رہی ہے۔ پاکستان بزنس کونسل کے ڈائیلاگ آن دی اکانومی 2025 سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ درآمدی و برآمدی ٹیرف کو زیادہ منطقی، مربوط اور قومی اقتصادی اہداف کے مطابق بنانے کے لیے جامع تجزیہ کیا جائے گا تاکہ صنعتوں کو پائیدار بنیادوں پر ترقی دی جا سکے۔</strong></p>
<p>وزیر خزانہ نے رواں سال کے لیے 3.5 فیصد اقتصادی شرح نمو کی پیش گوئی کرتے ہوئے کہا کہ آئندہ 2 سے 3 برسوں میں یہ شرح 4 فیصد تک پہنچ سکتی ہے جبکہ درمیانی مدت میں زراعت، مینوفیکچرنگ اور خدمات کے شعبوں میں مسلسل بہتری کی صورت میں معاشی ترقی 6 سے 7 فیصد تک جا سکتی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ 11ویں قومی مالیاتی کمیشن ایوارڈ کا افتتاحی اجلاس 4 دسمبر کو منعقد ہوگا اور صوبوں کے ساتھ مسلسل رابطے قومی مالیاتی معاہدے کے تحت قائم تعاون کی فضا کو مزید مضبوط کریں گے۔</p>
<blockquote class="blockquote-level-1">
<p>ٹیرف کو معقول بنانے سے مراد کسی ملک کے درآمدی اور برآمدی ٹیکسز (ٹیرف) کو اس انداز سے ترتیب دینا ہے کہ وہ زیادہ منطقی، یکساں اور قومی اقتصادی اہداف کے لیے معاون ہوں۔</p>
</blockquote>
<p>محمد اورنگزیب نے اعتراف کیا کہ بلند ٹیکسز، مہنگی توانائی اور فنانسنگ کی بلند لاگت کاروباری طبقے کے لیے مشکلات پیدا کر رہی ہیں، تاہم انہوں نے یقین دلایا کہ ریلیف مرحلہ وار فراہم کیا جائے گا۔ انہوں نے بتایا کہ وزیراعظم شہباز شریف نے برآمدی سرچارج کے خاتمے اور ایکسپورٹ ڈیولپمنٹ فنڈ کی نگرانی نجی شعبے کے سپرد کرنے کی منظوری دے دی ہے۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ حکومت کا فوکس اب پالیسی ڈیزائن سے عمل درآمد کی جانب منتقل ہو چکا ہے اور ٹیکسیشن سسٹم میں ڈیجیٹلائزیشن کے جامع منصوبے کے تحت بڑی تبدیلیاں لائی جا رہی ہیں۔ ٹیکس پالیسی سے متعلق اختیارات ایف بی آر سے منتقل ہو کر وزارت خزانہ کو دے دیے گئے ہیں جہاں ٹیکس پالیسی آفس اور ایڈوائزری کونسل قائم کی جا رہی ہے، جس میں ابتدائی طور پر ماہرین تعلیم اور بعد ازاں نجی شعبے کے نمائندے شامل ہوں گے۔</p>
<p>وزیر خزانہ نے حکومتی اخراجات میں کمی کے لیے رائٹ سائزنگ کے اقدامات کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ وفاقی وزارتوں کا نصف سے زائد جائزہ مکمل ہو چکا ہے اور 54,000 خالی اسامیاں ختم کر کے سالانہ 56 ارب روپے کی بچت کی گئی ہے۔ بعض وزارتوں اور اداروں کے انضمام یا خاتمے کی بھی تصدیق کی گئی ہے۔</p>
<p>ڈیجیٹل پاکستان کو حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ڈیجیٹل ادائیگیوں کے فروغ، سرکاری لین دین کی ڈیجیٹلائزیشن اور مالی شمولیت کے ذریعے کیش پر مبنی معیشت کو ڈاکیومنٹڈ اکانومی میں تبدیل کیا جا رہا ہے۔</p>
<p>قرضوں کے انتظام سے متعلق انہوں نے بتایا کہ ڈیٹ مینجمنٹ آفس کو بین الاقوامی معیار کے مطابق اپ گریڈ کیا جا رہا ہے جس سے قرضوں کی اوسط مدت 4 سال ہو گئی ہے اور ری فنانسنگ رسک میں کمی آئی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ بہتر قرض مینجمنٹ سے حکومت کو ممکنہ طور پر ایک ٹریلین روپے تک کی بچت ہو سکتی ہے۔</p>
<p>انہوں نے نئی کنٹری بیوٹری پنشن اسکیم کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ جولائی 2024 سے نافذ اس نظام کے تحت 9,000 سے زائد نئے سرکاری ملازمین شامل ہو چکے ہیں جبکہ دفاعی افواج کے لیے بھی آئندہ سال یہی نظام متعارف کرایا جائے گا۔</p>
<p>محمد اورنگزیب نے اعلان کیا کہ پاکستان  نئے چینی سال سے قبل اپنا پہلا پانڈا بانڈ جاری کرنے جا رہا ہے جبکہ ڈیجیٹل اور کرپٹو اکانومی کے لیے پاکستان ورچوئل اثاثہ ریگولیٹری اتھارٹی کو فعال کر دیا گیا ہے۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ سیکیورٹی، میکرو اکنامک استحکام اور منافع کی ترسیل غیر ملکی سرمایہ کاری کے لیے ناگزیر ہیں۔ عالمی سرمایہ کاروں کی نئی دلچسپی توانائی، مائننگ اور ٹیکنالوجی کے شعبوں میں نظر آ رہی ہے جو معیشت کی بحالی کا مثبت اشارہ ہے۔</p>
<p>سابق وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل نے خبردار کیا کہ موجودہ خسارے پائیدار نہیں اور تجویز دی کہ اضافی آمدنی کا 80 فیصد وفاق کو دیا جائے۔ ماہر معیشت قیصر بنگالی نے 18ویں ترمیم کے بعد وزارتوں میں کمی نہ ہونے پر تنقید کرتے ہوئے قابل تقسیم پول میں براہ راست اور بالواسطہ ٹیکس کی نئی تقسیم تجویز کی۔</p>
<p>کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2025</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40279819</guid>
      <pubDate>Thu, 27 Nov 2025 08:58:39 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (طاہر امین)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2025/11/270855078e01453.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2025/11/270855078e01453.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
