<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Business &amp; Finance</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 20:36:58 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 20:36:58 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ریکوڈک کے فنانشل کلوز سے متعلق مثبت پیش رفت سے آگاہ کر دیا گیا ہے، وزارت پیٹرولیم</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40279817/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;پٹرولیم کے وفاقی وزیر علی پرویز ملک کو بدھ کے روز ریکو ڈِک تانبہ و سونا منصوبے کے فنانشل کلوز سے متعلق “مثبت پیش رفت” سے آگاہ کیا گیا۔ انہوں نے او جی ڈی سی ایل کے حکام اور بین الاقوامی لا فرم مل بینک کے ساتھ ملاقات میں پاکستان کے کان کنی اور تیل و گیس کے شعبوں میں وسیع تر سرمایہ کاری کے مواقع پر بھی بات چیت کی ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ریکو ڈِک بلوچستان میں واقع تانبے اور سونے کا ایک وسیع ذخیرہ ہے، جسے دنیا کے بڑے ذخائر میں سے ایک سمجھا جاتا ہے۔ یہ منصوبہ بیرک گولڈ اور پاکستانی شراکت داروں کا مشترکہ منصوبہ (جائنٹ وینچر) ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;7 ارب ڈالر مالیت کا یہ منصوبہ 2028 کے اختتام تک پیداوار شروع کرنے کی توقع ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وفاقی وزیر برائے پیٹرولیم علی پرویز ملک، او جی ڈی سی ایل کے مینجنگ ڈائریکٹر احمد حیات لاک، اور بین الاقوامی لا فرم مل بینک کے لندن سے تعلق رکھنے والے پارٹنر منیب حسین کے درمیان ایک ملاقات منعقد ہوئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزارت پیٹرولیم نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ شرکاء نے توانائی اور قدرتی وسائل کے شعبے میں اہم پیش رفت کا جائزہ لیا، جن میں ریکو ڈِک تانبہ و سونا منصوبے کی فنانسنگ کی موجودہ صورتحال بھی شامل تھی۔ منصوبے کے فنانسرز کے نمائندے منیب حسین نے وزیر اور او جی ڈی سی ایل کی قیادت کو بریفنگ دیتے ہوئے ریکو ڈِک منصوبے کے فنانشل کلوز کے حصول سے متعلق مثبت اپ ڈیٹس شیئر کیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بیرِک 2022 میں پاکستان واپس آئی تھی جب کئی سال سے جاری قانونی تنازعہ حل ہوا، اور اُس کے بعد سے یہ کان ملک کے لیے ایک نمایاں فلیگ شپ سرمایہ کاری بن چکی ہے، کیونکہ پاکستان اپنے معدنیات کے شعبے میں مزید سرمایہ کھینچنے کی کوشش کر رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزارت کے مطابق بدھ کی ملاقات میں پاکستان کے کان کنی اور تیل و گیس کے شعبوں میں اضافی مواقع پر بھی بات چیت ہوئی، “اور تمام فریقین نے اسٹریٹجک سرمایہ کاری اور شعبہ جاتی ترقی کی حمایت کے عزم کا اظہار کیا”۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ پیش رفت ایک روز بعد سامنے آئی جب بیریک مائننگ کارپ کے عبوری سی ای او نے کہا کہ کمپنی پاکستان میں ریکو ڈِک تانبہ کان منصوبے کے لیے پرعزم ہے، اور ممکنہ انخلا کی رپورٹس کی تردید کی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انخلا کی یہ رپورٹس اس وقت سامنے آئیں جب رائٹرز نے ذرائع کے حوالے سے بتایا کہ بیریک کے بورڈ نے کمپنی کے اثاثوں کی تقسیم کا امکان زیر غور لایا ہے، جس میں ریکو ڈِک کان اور کمپنی کے افریقی اثاثوں کی ممکنہ فروخت بھی شامل ہوسکتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;او جی ڈی سی ایل نے بھی ان رپورٹس کو مسترد کرتے ہوئے سرمایہ کاروں کو یقین دلایا کہ ایسی کسی تبدیلی کا ریکو ڈِک منصوبے پر کوئی اثر نہیں ہوگا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;گزشتہ ہفتے وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے عرب نیوز سے گفتگو میں کہا تھا کہ ریکو ڈِک مائننگ منصوبے کا فنانشل کلوز “قریب” ہے، اور اہم بین الاقوامی شراکت دار اپنی شمولیت کو حتمی شکل دے رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان کا کہنا تھا کہ “ریکو ڈِک کے لیے فنانشل کلوز بنیادی طور پر بس ہونے ہی والا ہے۔”&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان نے معدنیات اور کان کنی کے شعبوں میں سرمایہ کاری کے حصول کے لیے اپنی بین الاقوامی کوششوں میں توسیع کر دی ہے، اور حالیہ روابط امریکہ، فرانس اور جرمنی کے ساتھ قائم کیے گئے ہیں، کیونکہ اسلام آباد اپنے وسائل کی صلاحیت کو کھولنے کے لیے ٹیکنالوجی، مہارت اور طویل المدتی شراکت داریاں تلاش کر رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس سال ستمبر میں پاکستان اور امریکہ نے 500 ملین ڈالر مالیت کا ایک مفاہمتی یادداشت (ایم او یو) پر دستخط کیے، جس کا مقصد اہم معدنیات کے شعبے میں تعاون کو مضبوط بنانا تھا۔ یہ معاہدہ دونوں ممالک کے درمیان گہرے معاشی اور اسٹریٹجک تعلقات کی طرف ایک اہم قدم قرار دیا جا رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بعد ازاں اکتوبر میں پاکستان نے اپنی نایاب ارضی عناصر ( ریئر ارتھ ایلیمنٹ) اور اہم معدنیات کی پہلی کھیپ امریکہ میں یو ایس اسٹریٹجک میٹلز ( یو ایس ایس ایم ) کو روانہ کی۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>پٹرولیم کے وفاقی وزیر علی پرویز ملک کو بدھ کے روز ریکو ڈِک تانبہ و سونا منصوبے کے فنانشل کلوز سے متعلق “مثبت پیش رفت” سے آگاہ کیا گیا۔ انہوں نے او جی ڈی سی ایل کے حکام اور بین الاقوامی لا فرم مل بینک کے ساتھ ملاقات میں پاکستان کے کان کنی اور تیل و گیس کے شعبوں میں وسیع تر سرمایہ کاری کے مواقع پر بھی بات چیت کی ہے۔</strong></p>
<p>ریکو ڈِک بلوچستان میں واقع تانبے اور سونے کا ایک وسیع ذخیرہ ہے، جسے دنیا کے بڑے ذخائر میں سے ایک سمجھا جاتا ہے۔ یہ منصوبہ بیرک گولڈ اور پاکستانی شراکت داروں کا مشترکہ منصوبہ (جائنٹ وینچر) ہے۔</p>
<p>7 ارب ڈالر مالیت کا یہ منصوبہ 2028 کے اختتام تک پیداوار شروع کرنے کی توقع ہے۔</p>
<p>وفاقی وزیر برائے پیٹرولیم علی پرویز ملک، او جی ڈی سی ایل کے مینجنگ ڈائریکٹر احمد حیات لاک، اور بین الاقوامی لا فرم مل بینک کے لندن سے تعلق رکھنے والے پارٹنر منیب حسین کے درمیان ایک ملاقات منعقد ہوئی۔</p>
<p>وزارت پیٹرولیم نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ شرکاء نے توانائی اور قدرتی وسائل کے شعبے میں اہم پیش رفت کا جائزہ لیا، جن میں ریکو ڈِک تانبہ و سونا منصوبے کی فنانسنگ کی موجودہ صورتحال بھی شامل تھی۔ منصوبے کے فنانسرز کے نمائندے منیب حسین نے وزیر اور او جی ڈی سی ایل کی قیادت کو بریفنگ دیتے ہوئے ریکو ڈِک منصوبے کے فنانشل کلوز کے حصول سے متعلق مثبت اپ ڈیٹس شیئر کیں۔</p>
<p>بیرِک 2022 میں پاکستان واپس آئی تھی جب کئی سال سے جاری قانونی تنازعہ حل ہوا، اور اُس کے بعد سے یہ کان ملک کے لیے ایک نمایاں فلیگ شپ سرمایہ کاری بن چکی ہے، کیونکہ پاکستان اپنے معدنیات کے شعبے میں مزید سرمایہ کھینچنے کی کوشش کر رہا ہے۔</p>
<p>وزارت کے مطابق بدھ کی ملاقات میں پاکستان کے کان کنی اور تیل و گیس کے شعبوں میں اضافی مواقع پر بھی بات چیت ہوئی، “اور تمام فریقین نے اسٹریٹجک سرمایہ کاری اور شعبہ جاتی ترقی کی حمایت کے عزم کا اظہار کیا”۔</p>
<p>یہ پیش رفت ایک روز بعد سامنے آئی جب بیریک مائننگ کارپ کے عبوری سی ای او نے کہا کہ کمپنی پاکستان میں ریکو ڈِک تانبہ کان منصوبے کے لیے پرعزم ہے، اور ممکنہ انخلا کی رپورٹس کی تردید کی۔</p>
<p>انخلا کی یہ رپورٹس اس وقت سامنے آئیں جب رائٹرز نے ذرائع کے حوالے سے بتایا کہ بیریک کے بورڈ نے کمپنی کے اثاثوں کی تقسیم کا امکان زیر غور لایا ہے، جس میں ریکو ڈِک کان اور کمپنی کے افریقی اثاثوں کی ممکنہ فروخت بھی شامل ہوسکتی ہے۔</p>
<p>او جی ڈی سی ایل نے بھی ان رپورٹس کو مسترد کرتے ہوئے سرمایہ کاروں کو یقین دلایا کہ ایسی کسی تبدیلی کا ریکو ڈِک منصوبے پر کوئی اثر نہیں ہوگا۔</p>
<p>گزشتہ ہفتے وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے عرب نیوز سے گفتگو میں کہا تھا کہ ریکو ڈِک مائننگ منصوبے کا فنانشل کلوز “قریب” ہے، اور اہم بین الاقوامی شراکت دار اپنی شمولیت کو حتمی شکل دے رہے ہیں۔</p>
<p>ان کا کہنا تھا کہ “ریکو ڈِک کے لیے فنانشل کلوز بنیادی طور پر بس ہونے ہی والا ہے۔”</p>
<p>پاکستان نے معدنیات اور کان کنی کے شعبوں میں سرمایہ کاری کے حصول کے لیے اپنی بین الاقوامی کوششوں میں توسیع کر دی ہے، اور حالیہ روابط امریکہ، فرانس اور جرمنی کے ساتھ قائم کیے گئے ہیں، کیونکہ اسلام آباد اپنے وسائل کی صلاحیت کو کھولنے کے لیے ٹیکنالوجی، مہارت اور طویل المدتی شراکت داریاں تلاش کر رہا ہے۔</p>
<p>اس سال ستمبر میں پاکستان اور امریکہ نے 500 ملین ڈالر مالیت کا ایک مفاہمتی یادداشت (ایم او یو) پر دستخط کیے، جس کا مقصد اہم معدنیات کے شعبے میں تعاون کو مضبوط بنانا تھا۔ یہ معاہدہ دونوں ممالک کے درمیان گہرے معاشی اور اسٹریٹجک تعلقات کی طرف ایک اہم قدم قرار دیا جا رہا ہے۔</p>
<p>بعد ازاں اکتوبر میں پاکستان نے اپنی نایاب ارضی عناصر ( ریئر ارتھ ایلیمنٹ) اور اہم معدنیات کی پہلی کھیپ امریکہ میں یو ایس اسٹریٹجک میٹلز ( یو ایس ایس ایم ) کو روانہ کی۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Business &amp; Finance</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40279817</guid>
      <pubDate>Wed, 26 Nov 2025 22:35:34 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ریحان ایوب)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2025/11/262219557d9003e.webp" type="image/webp" medium="image" height="683" width="1024">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2025/11/262219557d9003e.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
