<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Pakistan</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 21:37:33 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 21:37:33 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں ، پاکستان کا اقوام متحدہ کی رپورٹ پر اظہار تشویش</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40279815/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;پاکستان نے مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں سے متعلق اقوام متحدہ کی رپورٹ پر تشویش کا اظہار کیا۔ اقوام متحدہ کی رپورٹ کشمیری عوام کو درپیش انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کو نمایاں کرتی ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان نے بدھ 24 نومبر کو اقوام متحدہ (یواین) کی اس رپورٹ پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے ،جس میں مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی نشاندہی کی گئی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ترجمان دفترِ خارجہ (ایف او) نے بدھ کو جاری بیان میں کہاکہ پاکستان اقوامِ متحدہ کے خصوصی طریقۂ کار کے ماہرین کی جانب سے ہندوستان کی غیر قانونی کارروائیوں سے متعلق تازہ ترین مشاہدات پر شدید تشویش کا اظہار کرتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان کو ماہرین کے ان مشاہدات پر سخت تشویش ہے کہ بھارت کے اقدامات کے نتیجے میں تقریباً 2,800 افراد  جن میں صحافی، طلبہ اور انسانی حقوق کے کارکن بھی شامل ہیں کی بڑے پیمانے پر بلاجواز گرفتاریاں اور حراست میں رکھنا شامل ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دفترِ خارجہ نے کہا کہ  پبلک سیفٹی ایکٹ (پی ایس اے) اور غیر قانونی سرگرمیوں کی روک تھام کے ایکٹ (یو اے پی اے) جیسے سخت قوانین کا مسلسل استعمال غیر معینہ اور بلاجواز حراستوں کو ممکن بناتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تشدد، دوران حراست ہلاکتیں،قانونی عمل سے محرومی، اہلِ خانہ سے ملاقاتوں کی ممانعت،گھروں کی مسماری اور جبری بے دخلی، بار بار مواصلاتی بلیک آؤٹ اور صحافتی آزادی کا گلا گھونٹناجن میں 8,000 سوشل میڈیا اکاؤنٹس کی بندش بھی شامل ہے، نیز بھارت بھر میں کشمیریوں اور مسلم کمیونٹیز کے خلاف نفرت انگیز تقاریر، لنچنگ اور ہراسانی کے واقعات انتہائی افسوسناک اور تشویشناک ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دفترِ خارجہ نے کہا کہ یہ مشاہدات پاکستان کے دیرینہ خدشات کی توثیق کرتے ہیں، جن میں  کشمیری مسلمانوں کے ریاستی سرپرستی میں استحصال اور بھارت میں اقلیتوں کے خلاف امتیازی سلوک شامل ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسلام آباد نے بھارت سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی  جبری پالیسیوں کو ترک کرے اور مقبوضہ کشمیر  میں بلاجواز حراست میں رکھے گئے تمام افراد کو فوری اور بغیر کسی شرط کے رہا کرے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دفترِ خارجہ نے مزید کہاکہ ہم بھارت پر زور دیتے ہیں کہ وہ تمام مذہبی اقلیتوں، خصوصاً مسلمانوں اور عیسائیوں پر ہونے والے ظلم و ستم کو ختم کرنے کے لیے عملی اقدامات کرے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں اور کشمیری عوام کی خواہشات کے مطابق جموں و کشمیر کے تنازعے کے پرامن، منصفانہ اور دیرپا حل کے لیے اپنی وابستگی کا اعادہ کرتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ہم بھارت سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ اپنے جابرانہ اقدامات روکے، آبادیاتی اور قانونی تبدیلیوں کو واپس لے، بنیادی آزادیوں کو بحال کرے اور سنجیدگی سے بامعنی مذاکرات میں شریک ہو۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان کشمیری عوام کی اپنی سرزمین پر غیر ملکی تسلط کے خلاف منصفانہ جدوجہد میں اخلاقی، سیاسی اور سفارتی حمایت جاری رکھے گا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>پاکستان نے مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں سے متعلق اقوام متحدہ کی رپورٹ پر تشویش کا اظہار کیا۔ اقوام متحدہ کی رپورٹ کشمیری عوام کو درپیش انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کو نمایاں کرتی ہے۔</strong></p>
<p>پاکستان نے بدھ 24 نومبر کو اقوام متحدہ (یواین) کی اس رپورٹ پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے ،جس میں مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی نشاندہی کی گئی ہے۔</p>
<p>ترجمان دفترِ خارجہ (ایف او) نے بدھ کو جاری بیان میں کہاکہ پاکستان اقوامِ متحدہ کے خصوصی طریقۂ کار کے ماہرین کی جانب سے ہندوستان کی غیر قانونی کارروائیوں سے متعلق تازہ ترین مشاہدات پر شدید تشویش کا اظہار کرتا ہے۔</p>
<p>پاکستان کو ماہرین کے ان مشاہدات پر سخت تشویش ہے کہ بھارت کے اقدامات کے نتیجے میں تقریباً 2,800 افراد  جن میں صحافی، طلبہ اور انسانی حقوق کے کارکن بھی شامل ہیں کی بڑے پیمانے پر بلاجواز گرفتاریاں اور حراست میں رکھنا شامل ہے۔</p>
<p>دفترِ خارجہ نے کہا کہ  پبلک سیفٹی ایکٹ (پی ایس اے) اور غیر قانونی سرگرمیوں کی روک تھام کے ایکٹ (یو اے پی اے) جیسے سخت قوانین کا مسلسل استعمال غیر معینہ اور بلاجواز حراستوں کو ممکن بناتا ہے۔</p>
<p>تشدد، دوران حراست ہلاکتیں،قانونی عمل سے محرومی، اہلِ خانہ سے ملاقاتوں کی ممانعت،گھروں کی مسماری اور جبری بے دخلی، بار بار مواصلاتی بلیک آؤٹ اور صحافتی آزادی کا گلا گھونٹناجن میں 8,000 سوشل میڈیا اکاؤنٹس کی بندش بھی شامل ہے، نیز بھارت بھر میں کشمیریوں اور مسلم کمیونٹیز کے خلاف نفرت انگیز تقاریر، لنچنگ اور ہراسانی کے واقعات انتہائی افسوسناک اور تشویشناک ہیں۔</p>
<p>دفترِ خارجہ نے کہا کہ یہ مشاہدات پاکستان کے دیرینہ خدشات کی توثیق کرتے ہیں، جن میں  کشمیری مسلمانوں کے ریاستی سرپرستی میں استحصال اور بھارت میں اقلیتوں کے خلاف امتیازی سلوک شامل ہے۔</p>
<p>اسلام آباد نے بھارت سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی  جبری پالیسیوں کو ترک کرے اور مقبوضہ کشمیر  میں بلاجواز حراست میں رکھے گئے تمام افراد کو فوری اور بغیر کسی شرط کے رہا کرے۔</p>
<p>دفترِ خارجہ نے مزید کہاکہ ہم بھارت پر زور دیتے ہیں کہ وہ تمام مذہبی اقلیتوں، خصوصاً مسلمانوں اور عیسائیوں پر ہونے والے ظلم و ستم کو ختم کرنے کے لیے عملی اقدامات کرے۔</p>
<p>پاکستان اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں اور کشمیری عوام کی خواہشات کے مطابق جموں و کشمیر کے تنازعے کے پرامن، منصفانہ اور دیرپا حل کے لیے اپنی وابستگی کا اعادہ کرتا ہے۔</p>
<p>ہم بھارت سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ اپنے جابرانہ اقدامات روکے، آبادیاتی اور قانونی تبدیلیوں کو واپس لے، بنیادی آزادیوں کو بحال کرے اور سنجیدگی سے بامعنی مذاکرات میں شریک ہو۔</p>
<p>پاکستان کشمیری عوام کی اپنی سرزمین پر غیر ملکی تسلط کے خلاف منصفانہ جدوجہد میں اخلاقی، سیاسی اور سفارتی حمایت جاری رکھے گا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40279815</guid>
      <pubDate>Wed, 26 Nov 2025 17:57:32 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (بی آر ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2025/11/2617430306639e4.webp" type="image/webp" medium="image" height="400" width="600">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2025/11/2617430306639e4.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
