<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Opinion</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Thu, 04 Jun 2026 02:15:01 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Thu, 04 Jun 2026 02:15:01 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>آئی ایم ایف کا پاکستان کو پیغام:اصلاحات کریں، ورنہ بھیک کا کٹورا یونہی رہے گا</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40279810/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;پاکستان کے تعاقب میں ایک ایسا عدد لپٹا ہوا ہے، گویا کوئی نحوست ہو، اتنا بڑا کہ ہماری خواہشات کو ڈبو دیتا ہے، ہماری خودمختاری کا مذاق اُڑاتا ہے، اور ہمارے وزیروں کو ایک دارالحکومت سے دوسرے تک بھیک کے کٹورے کے ساتھ اڑانیں بھرنے پر مجبور رکھتا ہے۔ یہ عدد ہے سرکلر ڈیٹ، توانائی اور گیس کے شعبوں کا وہ سیاہ گڑھا جس نے ایک باوقار قوم کو اس حالت تک پہنچا دیا ہے کہ ہمارے اپنے وزیراعظم اسے “عالمی بھیک کا کٹورا” کہنے پر مجبور ہو گئے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اب سامنے آیا ہے آئی ایم ایف کا تازہ ترین گورننس اینڈ کرپشن ڈائگنوسٹک اسیسمنٹ: پاکستان، نومبر 2025، ایک ایسی دستاویز جو جتنی ٹھنڈی ہے، اتنی ہی سنگین بھی۔ یہ کسی معاشی تجزیے سے زیادہ ایک ناکام ریاست کی پوسٹ مارٹم رپورٹ محسوس ہوتی ہے۔ اس میں سفارتی رنگ نہیں، نہ کسی مصلحت کی نرمی، بس ایک کچا چٹھا کہ پاکستان کا توانائی بحران کوئی قدرتی آفت نہیں، کوئی بدقسمتی نہیں، بلکہ ایک انسان ساختہ کرائم سین ہے، سیاسی سرپرستی، ریگولیٹری زوال اور اشرافیہ کے قبضے میں جکڑی ہوئی ریاست کا نتیجہ۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بنیادی سڑن عین اوپر سے شروع ہوتی ہے، وہاں سے جہاں ہم اپنے توانائی شعبے کے نام نہاد نگہبان مقرر کرتے ہیں۔ کہا جاتا ہے کہ نیپرا اور اوگرا کے ارکان اور چیئرمین قابلیت یا میرٹ پر نہیں، تعلقات پر منتخب کیے جاتے ہیں۔ ہر بار جب کسی چیئرمین کی مدت پوری ہوتی ہے تو بہتر صلاحیت کی تلاش نہیں کی جاتی؛ بس ایک اور توسیع، ایک اور سیاسی وفاداری کا صلہ، خصوصاً اوگرا میں۔ یہ ریگولیٹر عوامی مفاد کے محافظ ہونے تھے، مگر وقت کے ساتھ یہ طاقتوروں کی ڈھال اور قومی خزانے کی لوٹ مار میں سہولت کار بنتے چلے گئے۔ افسوس یہ ہے کہ یہ سب کچھ اس قدر معمول بن چکا ہے کہ اب کوئی چونکتا بھی نہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&amp;gt;آئی ایم ایف کی رپورٹ ایک انتہائی چونکا دینے والی چشم کشا حقیقت ہے، اس آرام دہ بیانیے پر ایک کرارا طمانچہ  ہے کہ ہماری مشکلات تکنیکی یا انتظامی نوعیت کی ہیں۔ ایسا نہیں ہے۔ یہ مسائل اخلاقی بھی ہیں اور سیاسی بھی۔ رپورٹ کہتی ہے کہ صرف تین مالی سال میں ایک کھرب روپے سے زائد کے براہِ راست بیل آؤٹس پاور اور پیٹرولیم ڈویژن میں جھونک دیے گئے، کارکردگی بہتر بنانے کے لیے نہیں، بلکہ صرف اس مالیاتی رساؤ کو عارضی طور پر روکنے کے لیے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ہر سال ضمنی گرانٹس، وہ رقوم جو پارلیمانی منظوری کو بائی پاس کرتی ہیں، ایک مرتے ہوئے مریض کو ایمرجنسی خون لگانے کی طرح جاری کی جاتی ہیں تاکہ نظام کسی طرح چلتا رہے۔ مالی سال 24-2023 میں ان تمام ضمنی گرانٹس کا ہر ایک روپیہ بجلی اور پیٹرولیم کے شعبوں کو دیا گیا۔ 2022-21 میں یہ شرح 30 فیصد تھی؛ 2021-20 میں 57 فیصد۔ یہ ایک متوازی بجٹ ہے، طاقتوروں کی چلائی ہوئی ایک خفیہ معیشت، جو کسی کے سامنے جوابدہ نہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ مالی نظم نہیں؛ یہ مالی جنون ہے۔ وہ پیسہ جو اسکولوں اور اسپتالوں پر لگنا چاہیے، اسے ایک اندھے کنویں میں پھینکا جا رہا ہے تاکہ ایک بدعنوان اور بکھرتا ہوا نظام چلتا رہے۔ آئی ایم ایف اسے صاف الفاظ میں بیان کرتا ہے: یہ گرانٹس “اس بنیادی اصول کو کمزور کرتی ہیں کہ اخراجات مقننہ کی منشا کے مطابق ہونے چاہییں۔” مگر سوال یہ ہے کہ مقننہ کی منشا کب کسی ربڑ اسٹیمپ سے بڑھ کر رہی ہے؟&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس تباہی کے بیچوں بیچ ہیں ریاستی ادارے، ڈسکوز اور گیس کمپنیاں، جو اب محض سیاسی سرپرستی اور اقربا پروری کے اوزار بن کر رہ گئی ہیں۔ آئی ایم ایف کے مطابق وفاقی ایس او ایز نے 2024 میں 13 کھرب روپے سے زائد آمدن کے باوجود 30 ارب روپے کا خالص نقصان رپورٹ کیا۔ یہ نااہلی نہیں؛ یہ باقاعدہ ادارہ جاتی چوری ہے۔ بااثر طبقہ بجلی اور گیس مفت استعمال کرتا ہے، اس یقین کے ساتھ کہ بل ریاست ادا کرے گی۔ نتیجہ وہی ہوتا ہے: ڈسٹری بیوٹرز جنریٹرز کو ادائیگی نہیں کر پاتے، جنریٹرز فیول سپلائرز کو نہیں دے پاتے، اور قرض کا چکر  ہر چیز کو نگلتا ہوا تیزی سے گھومتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;معاملات بگاڑنے میں ریگولیٹرز کی کھوکھلی حالت بھی شامل ہے۔ اوگرا میں ایک ہی افسر بیک وقت ممبر آئل اور ممبر گیس کے عہدے سنبھال سکتا ہے، ایک ایسا انتظام جو چیک اینڈ بیلنس کو ختم کر دیتا ہے اور نگرانی کو محض ایک آدابِ گفتگو کی رسم بنا دیتا ہے۔ سوال یہ ہے کہ یہ توسیعات کون دیتا ہے؟ اختیارات کے یہ انضمام کون منظور کرتا ہے؟ یہ ایک چھوٹا سا کلب ہے، اور اس کے تمام ارکان ایک دوسرے سے واقف ہیں۔ نیپرا کی حالت بھی کچھ بہتر نہیں، ٹیرف معاشی حقیقت کے بجائے سیاسی مصلحت کے تحت طے کیے جاتے ہیں، صرف اس لیے کہ ووٹر آئندہ الیکشن تک خاموش رہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسی دوران حکومت مسلسل ضمانتیں بڑھا رہی ہے، آئی ایم ایف کے مطابق 3.4 کھرب روپے کی، جن میں سے زیادہ تر بجلی کے شعبے کے لیے ہیں۔ یہ ٹائم بم ہیں، ایسی ممکنہ ذمہ داریاں جو کسی بھی وقت پھٹ سکتی ہیں۔ جب ایسا ہوگا تو وہی چکر دہرایا جائے گا: ایک اور بے چینی پر مبنی مذاکرات کا دور، ایک اور قرض، آئی ایم ایف کے سامنے ایک اور جھکاؤ۔ اصلاحات میں شراکت دار بننے کے بجائے ہم ایک ایسے مریض بن چکے ہیں جو بیرونی ڈرِپس پر زندہ ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہاں تک کہ اسلام آباد کے اصلاحاتی بیانیے کا نیا پسندیدہ ادارہ، اسپیشل انویسٹمنٹ فسیلیٹیشن کونسل، بھی آئی ایم ایف کی محتاط نظر سے نہیں بچ پایا۔ رپورٹ تہذیب کے ساتھ خبردار کرتی ہے کہ اس کی “وسیع استثنائی حیثیت” “ممکنہ لین دین کے خطرات بڑھا سکتی ہے”، یعنی اگر شفافیت مکمل نہ ہوئی تو یہ بھی مفاد خور طبقے کا نیا کھیل بن سکتا ہے۔ ہمیں نئے مخففات تو بہت پسند ہیں، مگر احتساب سے الرجی برقرار ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;چنانچہ ہم پھر وہیں کھڑے ہیں، ایک بین الاقوامی قرض دہندہ اپنی رپورٹ میں ہماری کمزوریاں اس صاف گوئی سے بیان کر رہا ہے جس سے ہم خود بھی کتراتے ہیں۔ آئی ایم ایف صرف معاشی اصلاحات نہیں مانگ رہا؛ وہ بنیادی ہوش مندی کی استدعا کر رہا ہے۔ خفیہ گرانٹس بند کی جائیں۔ ایس او ایز قانون پر عمل ہو۔ ریگولیٹری اداروں میں سیاسی مداخلت ختم کی جائے۔ توانائی کی قیمت حقیقت کے مطابق مقرر ہو۔ چوری کرنے والوں کو سزا دی جائے، چاہے اس کے پیچھے کسی کی فیکٹری ہو یا کسی کا محل۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مگر یہ سب کچھ ایک ایسی چیز مانگتا ہے جو ہم کہیں رکھ کر بھول گئے ہیں: &lt;strong&gt;ہمت&lt;/strong&gt;۔ کیونکہ اصلاحات کا مطلب ہے اسی طاقت کے جال کو توڑنا جس سے یہ ملک چلتا ہے۔ اس کا مطلب ہے سچ اپنے دوستوں اور حلیفوں سے بھی کہنا، نہ صرف ان غریبوں سے جو پہلے ہی دوسروں کے گناہوں کا بوجھ اٹھا رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سرکلر ڈیٹ کوئی تکنیکی خرابی نہیں ہے۔ یہ ہمارے ناکارہ نظام کا مجموعہ ہے، ہماری حکومت کا عکاس۔ یہی وجہ ہے کہ ہم اپنے بچوں کو تعلیم نہیں دے سکتے، ہمارے اسپتال کھوکھلے ہو رہے ہیں، اور دنیا ہمیں عزت کی نظر سے نہیں بلکہ ترس کی نگاہ سے دیکھتی ہے۔ آئی ایم ایف نے ہمیں تازہ ترین تشخیص دی ہے، حقائق پر مبنی، ڈیٹا سے تقویت یافتہ، اور بے رحمانہ ایماندار۔ دوا کڑوی ہے، مگر انتخاب سادہ ہے: اسے نگلیں، یا بھیک مانگنے کے لیے ہاتھ بڑھاتے رہیں یہاں تک کہ مددگار بھی نظریں چرا لیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اگر ابھی بھی کچھ وقار باقی ہے، تو یہ لمحہ فیصلہ کرنے کا ہے، ہمیشہ بیل آؤٹس پر زندہ رہنا، یا آخرکار اپنے پاؤں پر کھڑا ہونا۔ مگر ہماری عادات کو دیکھتے ہوئے، یہ کٹورا غالباً دوبارہ باہر کے دورے کے لیے صاف کیا جائے گا۔ حقیقی اصلاحات نیپرا اور اوگرا کے تماشے کو ختم کرنے سے شروع ہوتی ہیں، دو ایسے ریگولیٹر جو کچھ بھی منظم نہیں کرتے۔ انہیں شفاف، ٹیکنالوجی پر مبنی نگرانی سے تبدیل کریں، حتیٰ کہ مصنوعی ذہانت بھی ملک کے لیے بہتر خدمات انجام دے سکتی ہے۔ ایسا کریں، اور پاکستان کا معاشی راستہ آخرکار اس کی صلاحیت کے مطابق ہو جائے گا، کیونکہ کوئی بھی قوم اس وقت تک ترقی نہیں کر سکتی جب تک اس کا توانائی کا شعبہ بدعنوانی کا مظہر  بنا رہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2025&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>پاکستان کے تعاقب میں ایک ایسا عدد لپٹا ہوا ہے، گویا کوئی نحوست ہو، اتنا بڑا کہ ہماری خواہشات کو ڈبو دیتا ہے، ہماری خودمختاری کا مذاق اُڑاتا ہے، اور ہمارے وزیروں کو ایک دارالحکومت سے دوسرے تک بھیک کے کٹورے کے ساتھ اڑانیں بھرنے پر مجبور رکھتا ہے۔ یہ عدد ہے سرکلر ڈیٹ، توانائی اور گیس کے شعبوں کا وہ سیاہ گڑھا جس نے ایک باوقار قوم کو اس حالت تک پہنچا دیا ہے کہ ہمارے اپنے وزیراعظم اسے “عالمی بھیک کا کٹورا” کہنے پر مجبور ہو گئے۔</strong></p>
<p>اب سامنے آیا ہے آئی ایم ایف کا تازہ ترین گورننس اینڈ کرپشن ڈائگنوسٹک اسیسمنٹ: پاکستان، نومبر 2025، ایک ایسی دستاویز جو جتنی ٹھنڈی ہے، اتنی ہی سنگین بھی۔ یہ کسی معاشی تجزیے سے زیادہ ایک ناکام ریاست کی پوسٹ مارٹم رپورٹ محسوس ہوتی ہے۔ اس میں سفارتی رنگ نہیں، نہ کسی مصلحت کی نرمی، بس ایک کچا چٹھا کہ پاکستان کا توانائی بحران کوئی قدرتی آفت نہیں، کوئی بدقسمتی نہیں، بلکہ ایک انسان ساختہ کرائم سین ہے، سیاسی سرپرستی، ریگولیٹری زوال اور اشرافیہ کے قبضے میں جکڑی ہوئی ریاست کا نتیجہ۔</p>
<p>بنیادی سڑن عین اوپر سے شروع ہوتی ہے، وہاں سے جہاں ہم اپنے توانائی شعبے کے نام نہاد نگہبان مقرر کرتے ہیں۔ کہا جاتا ہے کہ نیپرا اور اوگرا کے ارکان اور چیئرمین قابلیت یا میرٹ پر نہیں، تعلقات پر منتخب کیے جاتے ہیں۔ ہر بار جب کسی چیئرمین کی مدت پوری ہوتی ہے تو بہتر صلاحیت کی تلاش نہیں کی جاتی؛ بس ایک اور توسیع، ایک اور سیاسی وفاداری کا صلہ، خصوصاً اوگرا میں۔ یہ ریگولیٹر عوامی مفاد کے محافظ ہونے تھے، مگر وقت کے ساتھ یہ طاقتوروں کی ڈھال اور قومی خزانے کی لوٹ مار میں سہولت کار بنتے چلے گئے۔ افسوس یہ ہے کہ یہ سب کچھ اس قدر معمول بن چکا ہے کہ اب کوئی چونکتا بھی نہیں۔</p>
<p>&gt;آئی ایم ایف کی رپورٹ ایک انتہائی چونکا دینے والی چشم کشا حقیقت ہے، اس آرام دہ بیانیے پر ایک کرارا طمانچہ  ہے کہ ہماری مشکلات تکنیکی یا انتظامی نوعیت کی ہیں۔ ایسا نہیں ہے۔ یہ مسائل اخلاقی بھی ہیں اور سیاسی بھی۔ رپورٹ کہتی ہے کہ صرف تین مالی سال میں ایک کھرب روپے سے زائد کے براہِ راست بیل آؤٹس پاور اور پیٹرولیم ڈویژن میں جھونک دیے گئے، کارکردگی بہتر بنانے کے لیے نہیں، بلکہ صرف اس مالیاتی رساؤ کو عارضی طور پر روکنے کے لیے۔</p>
<p>ہر سال ضمنی گرانٹس، وہ رقوم جو پارلیمانی منظوری کو بائی پاس کرتی ہیں، ایک مرتے ہوئے مریض کو ایمرجنسی خون لگانے کی طرح جاری کی جاتی ہیں تاکہ نظام کسی طرح چلتا رہے۔ مالی سال 24-2023 میں ان تمام ضمنی گرانٹس کا ہر ایک روپیہ بجلی اور پیٹرولیم کے شعبوں کو دیا گیا۔ 2022-21 میں یہ شرح 30 فیصد تھی؛ 2021-20 میں 57 فیصد۔ یہ ایک متوازی بجٹ ہے، طاقتوروں کی چلائی ہوئی ایک خفیہ معیشت، جو کسی کے سامنے جوابدہ نہیں۔</p>
<p>یہ مالی نظم نہیں؛ یہ مالی جنون ہے۔ وہ پیسہ جو اسکولوں اور اسپتالوں پر لگنا چاہیے، اسے ایک اندھے کنویں میں پھینکا جا رہا ہے تاکہ ایک بدعنوان اور بکھرتا ہوا نظام چلتا رہے۔ آئی ایم ایف اسے صاف الفاظ میں بیان کرتا ہے: یہ گرانٹس “اس بنیادی اصول کو کمزور کرتی ہیں کہ اخراجات مقننہ کی منشا کے مطابق ہونے چاہییں۔” مگر سوال یہ ہے کہ مقننہ کی منشا کب کسی ربڑ اسٹیمپ سے بڑھ کر رہی ہے؟</p>
<p>اس تباہی کے بیچوں بیچ ہیں ریاستی ادارے، ڈسکوز اور گیس کمپنیاں، جو اب محض سیاسی سرپرستی اور اقربا پروری کے اوزار بن کر رہ گئی ہیں۔ آئی ایم ایف کے مطابق وفاقی ایس او ایز نے 2024 میں 13 کھرب روپے سے زائد آمدن کے باوجود 30 ارب روپے کا خالص نقصان رپورٹ کیا۔ یہ نااہلی نہیں؛ یہ باقاعدہ ادارہ جاتی چوری ہے۔ بااثر طبقہ بجلی اور گیس مفت استعمال کرتا ہے، اس یقین کے ساتھ کہ بل ریاست ادا کرے گی۔ نتیجہ وہی ہوتا ہے: ڈسٹری بیوٹرز جنریٹرز کو ادائیگی نہیں کر پاتے، جنریٹرز فیول سپلائرز کو نہیں دے پاتے، اور قرض کا چکر  ہر چیز کو نگلتا ہوا تیزی سے گھومتا ہے۔</p>
<p>معاملات بگاڑنے میں ریگولیٹرز کی کھوکھلی حالت بھی شامل ہے۔ اوگرا میں ایک ہی افسر بیک وقت ممبر آئل اور ممبر گیس کے عہدے سنبھال سکتا ہے، ایک ایسا انتظام جو چیک اینڈ بیلنس کو ختم کر دیتا ہے اور نگرانی کو محض ایک آدابِ گفتگو کی رسم بنا دیتا ہے۔ سوال یہ ہے کہ یہ توسیعات کون دیتا ہے؟ اختیارات کے یہ انضمام کون منظور کرتا ہے؟ یہ ایک چھوٹا سا کلب ہے، اور اس کے تمام ارکان ایک دوسرے سے واقف ہیں۔ نیپرا کی حالت بھی کچھ بہتر نہیں، ٹیرف معاشی حقیقت کے بجائے سیاسی مصلحت کے تحت طے کیے جاتے ہیں، صرف اس لیے کہ ووٹر آئندہ الیکشن تک خاموش رہے۔</p>
<p>اسی دوران حکومت مسلسل ضمانتیں بڑھا رہی ہے، آئی ایم ایف کے مطابق 3.4 کھرب روپے کی، جن میں سے زیادہ تر بجلی کے شعبے کے لیے ہیں۔ یہ ٹائم بم ہیں، ایسی ممکنہ ذمہ داریاں جو کسی بھی وقت پھٹ سکتی ہیں۔ جب ایسا ہوگا تو وہی چکر دہرایا جائے گا: ایک اور بے چینی پر مبنی مذاکرات کا دور، ایک اور قرض، آئی ایم ایف کے سامنے ایک اور جھکاؤ۔ اصلاحات میں شراکت دار بننے کے بجائے ہم ایک ایسے مریض بن چکے ہیں جو بیرونی ڈرِپس پر زندہ ہے۔</p>
<p>یہاں تک کہ اسلام آباد کے اصلاحاتی بیانیے کا نیا پسندیدہ ادارہ، اسپیشل انویسٹمنٹ فسیلیٹیشن کونسل، بھی آئی ایم ایف کی محتاط نظر سے نہیں بچ پایا۔ رپورٹ تہذیب کے ساتھ خبردار کرتی ہے کہ اس کی “وسیع استثنائی حیثیت” “ممکنہ لین دین کے خطرات بڑھا سکتی ہے”، یعنی اگر شفافیت مکمل نہ ہوئی تو یہ بھی مفاد خور طبقے کا نیا کھیل بن سکتا ہے۔ ہمیں نئے مخففات تو بہت پسند ہیں، مگر احتساب سے الرجی برقرار ہے۔</p>
<p>چنانچہ ہم پھر وہیں کھڑے ہیں، ایک بین الاقوامی قرض دہندہ اپنی رپورٹ میں ہماری کمزوریاں اس صاف گوئی سے بیان کر رہا ہے جس سے ہم خود بھی کتراتے ہیں۔ آئی ایم ایف صرف معاشی اصلاحات نہیں مانگ رہا؛ وہ بنیادی ہوش مندی کی استدعا کر رہا ہے۔ خفیہ گرانٹس بند کی جائیں۔ ایس او ایز قانون پر عمل ہو۔ ریگولیٹری اداروں میں سیاسی مداخلت ختم کی جائے۔ توانائی کی قیمت حقیقت کے مطابق مقرر ہو۔ چوری کرنے والوں کو سزا دی جائے، چاہے اس کے پیچھے کسی کی فیکٹری ہو یا کسی کا محل۔</p>
<p>مگر یہ سب کچھ ایک ایسی چیز مانگتا ہے جو ہم کہیں رکھ کر بھول گئے ہیں: <strong>ہمت</strong>۔ کیونکہ اصلاحات کا مطلب ہے اسی طاقت کے جال کو توڑنا جس سے یہ ملک چلتا ہے۔ اس کا مطلب ہے سچ اپنے دوستوں اور حلیفوں سے بھی کہنا، نہ صرف ان غریبوں سے جو پہلے ہی دوسروں کے گناہوں کا بوجھ اٹھا رہے ہیں۔</p>
<p>سرکلر ڈیٹ کوئی تکنیکی خرابی نہیں ہے۔ یہ ہمارے ناکارہ نظام کا مجموعہ ہے، ہماری حکومت کا عکاس۔ یہی وجہ ہے کہ ہم اپنے بچوں کو تعلیم نہیں دے سکتے، ہمارے اسپتال کھوکھلے ہو رہے ہیں، اور دنیا ہمیں عزت کی نظر سے نہیں بلکہ ترس کی نگاہ سے دیکھتی ہے۔ آئی ایم ایف نے ہمیں تازہ ترین تشخیص دی ہے، حقائق پر مبنی، ڈیٹا سے تقویت یافتہ، اور بے رحمانہ ایماندار۔ دوا کڑوی ہے، مگر انتخاب سادہ ہے: اسے نگلیں، یا بھیک مانگنے کے لیے ہاتھ بڑھاتے رہیں یہاں تک کہ مددگار بھی نظریں چرا لیں۔</p>
<p>اگر ابھی بھی کچھ وقار باقی ہے، تو یہ لمحہ فیصلہ کرنے کا ہے، ہمیشہ بیل آؤٹس پر زندہ رہنا، یا آخرکار اپنے پاؤں پر کھڑا ہونا۔ مگر ہماری عادات کو دیکھتے ہوئے، یہ کٹورا غالباً دوبارہ باہر کے دورے کے لیے صاف کیا جائے گا۔ حقیقی اصلاحات نیپرا اور اوگرا کے تماشے کو ختم کرنے سے شروع ہوتی ہیں، دو ایسے ریگولیٹر جو کچھ بھی منظم نہیں کرتے۔ انہیں شفاف، ٹیکنالوجی پر مبنی نگرانی سے تبدیل کریں، حتیٰ کہ مصنوعی ذہانت بھی ملک کے لیے بہتر خدمات انجام دے سکتی ہے۔ ایسا کریں، اور پاکستان کا معاشی راستہ آخرکار اس کی صلاحیت کے مطابق ہو جائے گا، کیونکہ کوئی بھی قوم اس وقت تک ترقی نہیں کر سکتی جب تک اس کا توانائی کا شعبہ بدعنوانی کا مظہر  بنا رہے۔</p>
<p>کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2025</p>
]]></content:encoded>
      <category>Opinion</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40279810</guid>
      <pubDate>Wed, 26 Nov 2025 16:21:20 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (انجینئر ارشد ایچ عباسی)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2025/11/26152715ef68a87.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2025/11/26152715ef68a87.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
