<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Business &amp; Finance</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 19:45:34 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 19:45:34 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>مقامی اسمارٹ فون مینوفیکچرنگ میں تیزی، برآمدات میں اضافے کی راہ ہموار</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40279807/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;پاکستان میں اسمارٹ فونز کی پیداوار مسلسل بڑھ رہی ہے اور اکتوبر میں یہ مجموعی موبائل فون  کے آئوٹ پٹ کا 53 فیصد تک پہنچ گئی۔ یہ تبدیلی مقامی اور غیر ملکی اسمبلرز کی بڑھتی ہوئی مینوفیکچرنگ صلاحیت اور اسمارٹ ڈیوائسز کی بڑھتی ہوئی قومی طلب کی عکاسی کرتی ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) کی جانب سے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق، رواں سال کے پہلے 10 ماہ کے دوران مقامی سطح پر 25.11 ملین سے زائد موبائل فون تیار کیے گئے۔ ان میں سے اسمارٹ فونز کا حصہ 53 فیصد یا 13.2 ملین یونٹس تھا، جبکہ باقی 47 فیصد یعنی 11.9 ملین یونٹس 2 جی فیچر فونز پر مشتمل تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;چار ماہ قبل، مقامی موبائل فون پیداوار 14.24 ملین یونٹس تھی، جس میں جون 2025 میں فیچر فونز کا حصہ 54 فیصد اور اسمارٹ فونز کا 46 فیصد تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ٹیک فرم وائپر گروپ کے سی ای او اور ‘میڈ اِن پاکستان’ برانڈز کے سرگرم حامی خوشنود آفتاب نے کہا کہ مقامی پیداوار میں بڑھتا ہوا حصہ مینوفیکچرنگ صلاحیت میں توسیع اور مقامی مارکیٹ میں سرمایہ کاری کی عکاسی کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس سے نہ صرف مقامی برانڈز کی مقامی مارکیٹ میں موجودگی مضبوط ہو گی بلکہ انہیں برآمدی مواقع سے فائدہ اٹھانے میں بھی مدد ملے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان میں اسمارٹ ڈیوائسز بشمول اسمارٹ فونز، ٹیبلٹس، لیپ ٹاپس اور پی سیز کی پیداوار میں نمایاں اضافہ کرنے کی بھرپور صلاحیت موجود ہے، بشرطیکہ حکومت سازگار اور سرمایہ کار دوست پالیسیاں متعارف کرائے۔ ان کے مطابق ایسے اقدامات مقامی اور غیر ملکی دونوں سرمایہ کاری کو راغب کریں گے، روزگار کے مواقع پیدا کریں گے اور مقامی صنعت میں ٹیکنالوجی کی منتقلی کو فروغ دیں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;2025 کے پہلے 10 ماہ کے دوران پاکستان نے اپنی موبائل فون کی طلب کا 94 فیصد حصہ مقامی مینوفیکچرنگ اور اسمبلنگ کے ذریعے پورا کیا، جو کہ پانچ سالہ اوسط (2020–2024) 77 فیصد اور نو سالہ اوسط (2016–2024) 52 فیصد کے مقابلے میں نمایاں بہتری ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس پیش رفت کے باوجود ملک میں اسمارٹ فون استعمال کی شرح کم ہے، جہاں صرف 31 فیصد آبادی اسمارٹ ڈیوائسز کی مالک ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;blockquote class="blockquote-level-1"&gt;
&lt;p&gt;خوشنود آفتاب کے مطابق مقامی پیداوار میں بڑھتا ہوا حصہ مینوفیکچرنگ صلاحیت اور مقامی مارکیٹ میں سرمایہ کاری میں اضافے کی عکاسی کرتا ہے، جو نہ صرف مقامی مارکیٹ میں مقامی برانڈز کی موجودگی کو مستحکم کرے گا بلکہ انہیں برآمدی مواقع سے استفادہ کرنے میں بھی مدد دے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;/blockquote&gt;
&lt;p&gt;ایس آئی گلوبل سلوشنز کے سی ای او ڈاکٹر نعمان سعید نے اس بات پر زور دیا کہ اسمارٹ فونز کا وسیع پیمانے پر استعمال شہریوں کو تعلیم، مہارتوں کی ترقی، مالیاتی خدمات اور ڈیجیٹل پلیٹ فارمز تک رسائی فراہم کرنے کے لیے ضروری ہے۔ انہوں نے مشاہدہ کیا کہ جن معیشتوں میں اسمارٹ فون کا پھیلاؤ زیادہ ہے وہ نمایاں ڈیجیٹل فوائد اور معیار زندگی میں بہتری سے لطف اندوز ہوتی ہیں۔ ان کے مطابق پاکستان کو بھی اسی راہ پر گامزن ہونے کے لیے حکومت اور نجی شعبے کو مشترکہ طور پر ملک بھر میں اسمارٹ فون کے استعمال کو فروغ دینا ہو گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے اس امر پر بھی زور دیا کہ معاون پالیسیوں اور ایک مربوط ایکوسسٹم کی ضرورت ہے جس میں حکومت، مقامی اسمبلرز اور سہولت فراہم کرنے والے ادارے شامل ہوں، جیسے کہ بائے ناؤ پے لیٹر سروسز، تاکہ ملک میں اسمارٹ فونز کی رسائی میں اضافہ کیا جا سکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پی ٹی اے کے مطابق 2025 کے پہلے 10 ماہ کے دوران مقامی سطح پر اسمبل کیے جانے والے ٹاپ 10 برانڈز میں سب سے اوپر انفنکس(3.12 ملین یونٹس) رہا، اس کے بعد وی جی او ٹیل (2.82 ملین)، ویوہ (2.27 ملین)، آئی ٹیل(2.06 ملین)، ٹیکنو (1.62 ملین)، سیمسنگ(1.48 ملین)، شاؤمی (1.31 ملین)، کیو موبائل (0.93 ملین)، ریئل می (0.91 ملین) اور  جی فائیو (0.84 ملین یونٹس) شامل ہیں۔ اس وقت ڈسٹری بیوٹرز اور ریٹیلرز کے پاس اضافی اسٹاک موجود ہونے کے باعث مینوفیکچررز نے مزید ذخیرہ جمع ہونے سے بچنے کے لیے پیداوار میں کمی کر دی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انڈسٹری تجزیہ کاروں کا اندازہ ہے کہ آئندہ 12 ماہ کے دوران موبائل فون کی فروخت میں سالانہ بنیاد پر 7 سے 8 فیصد اضافہ متوقع ہے، جس کی وجہ مستحکم شرح مبادلہ، مہنگائی میں کمی اور صارفین کی قوت خرید میں بہتری ہو گی۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>پاکستان میں اسمارٹ فونز کی پیداوار مسلسل بڑھ رہی ہے اور اکتوبر میں یہ مجموعی موبائل فون  کے آئوٹ پٹ کا 53 فیصد تک پہنچ گئی۔ یہ تبدیلی مقامی اور غیر ملکی اسمبلرز کی بڑھتی ہوئی مینوفیکچرنگ صلاحیت اور اسمارٹ ڈیوائسز کی بڑھتی ہوئی قومی طلب کی عکاسی کرتی ہے۔</strong></p>
<p>پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) کی جانب سے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق، رواں سال کے پہلے 10 ماہ کے دوران مقامی سطح پر 25.11 ملین سے زائد موبائل فون تیار کیے گئے۔ ان میں سے اسمارٹ فونز کا حصہ 53 فیصد یا 13.2 ملین یونٹس تھا، جبکہ باقی 47 فیصد یعنی 11.9 ملین یونٹس 2 جی فیچر فونز پر مشتمل تھے۔</p>
<p>چار ماہ قبل، مقامی موبائل فون پیداوار 14.24 ملین یونٹس تھی، جس میں جون 2025 میں فیچر فونز کا حصہ 54 فیصد اور اسمارٹ فونز کا 46 فیصد تھا۔</p>
<p>ٹیک فرم وائپر گروپ کے سی ای او اور ‘میڈ اِن پاکستان’ برانڈز کے سرگرم حامی خوشنود آفتاب نے کہا کہ مقامی پیداوار میں بڑھتا ہوا حصہ مینوفیکچرنگ صلاحیت میں توسیع اور مقامی مارکیٹ میں سرمایہ کاری کی عکاسی کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس سے نہ صرف مقامی برانڈز کی مقامی مارکیٹ میں موجودگی مضبوط ہو گی بلکہ انہیں برآمدی مواقع سے فائدہ اٹھانے میں بھی مدد ملے گی۔</p>
<p>انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان میں اسمارٹ ڈیوائسز بشمول اسمارٹ فونز، ٹیبلٹس، لیپ ٹاپس اور پی سیز کی پیداوار میں نمایاں اضافہ کرنے کی بھرپور صلاحیت موجود ہے، بشرطیکہ حکومت سازگار اور سرمایہ کار دوست پالیسیاں متعارف کرائے۔ ان کے مطابق ایسے اقدامات مقامی اور غیر ملکی دونوں سرمایہ کاری کو راغب کریں گے، روزگار کے مواقع پیدا کریں گے اور مقامی صنعت میں ٹیکنالوجی کی منتقلی کو فروغ دیں گے۔</p>
<p>2025 کے پہلے 10 ماہ کے دوران پاکستان نے اپنی موبائل فون کی طلب کا 94 فیصد حصہ مقامی مینوفیکچرنگ اور اسمبلنگ کے ذریعے پورا کیا، جو کہ پانچ سالہ اوسط (2020–2024) 77 فیصد اور نو سالہ اوسط (2016–2024) 52 فیصد کے مقابلے میں نمایاں بہتری ہے۔</p>
<p>اس پیش رفت کے باوجود ملک میں اسمارٹ فون استعمال کی شرح کم ہے، جہاں صرف 31 فیصد آبادی اسمارٹ ڈیوائسز کی مالک ہے۔</p>
<blockquote class="blockquote-level-1">
<p>خوشنود آفتاب کے مطابق مقامی پیداوار میں بڑھتا ہوا حصہ مینوفیکچرنگ صلاحیت اور مقامی مارکیٹ میں سرمایہ کاری میں اضافے کی عکاسی کرتا ہے، جو نہ صرف مقامی مارکیٹ میں مقامی برانڈز کی موجودگی کو مستحکم کرے گا بلکہ انہیں برآمدی مواقع سے استفادہ کرنے میں بھی مدد دے گا۔</p>
</blockquote>
<p>ایس آئی گلوبل سلوشنز کے سی ای او ڈاکٹر نعمان سعید نے اس بات پر زور دیا کہ اسمارٹ فونز کا وسیع پیمانے پر استعمال شہریوں کو تعلیم، مہارتوں کی ترقی، مالیاتی خدمات اور ڈیجیٹل پلیٹ فارمز تک رسائی فراہم کرنے کے لیے ضروری ہے۔ انہوں نے مشاہدہ کیا کہ جن معیشتوں میں اسمارٹ فون کا پھیلاؤ زیادہ ہے وہ نمایاں ڈیجیٹل فوائد اور معیار زندگی میں بہتری سے لطف اندوز ہوتی ہیں۔ ان کے مطابق پاکستان کو بھی اسی راہ پر گامزن ہونے کے لیے حکومت اور نجی شعبے کو مشترکہ طور پر ملک بھر میں اسمارٹ فون کے استعمال کو فروغ دینا ہو گا۔</p>
<p>انہوں نے اس امر پر بھی زور دیا کہ معاون پالیسیوں اور ایک مربوط ایکوسسٹم کی ضرورت ہے جس میں حکومت، مقامی اسمبلرز اور سہولت فراہم کرنے والے ادارے شامل ہوں، جیسے کہ بائے ناؤ پے لیٹر سروسز، تاکہ ملک میں اسمارٹ فونز کی رسائی میں اضافہ کیا جا سکے۔</p>
<p>پی ٹی اے کے مطابق 2025 کے پہلے 10 ماہ کے دوران مقامی سطح پر اسمبل کیے جانے والے ٹاپ 10 برانڈز میں سب سے اوپر انفنکس(3.12 ملین یونٹس) رہا، اس کے بعد وی جی او ٹیل (2.82 ملین)، ویوہ (2.27 ملین)، آئی ٹیل(2.06 ملین)، ٹیکنو (1.62 ملین)، سیمسنگ(1.48 ملین)، شاؤمی (1.31 ملین)، کیو موبائل (0.93 ملین)، ریئل می (0.91 ملین) اور  جی فائیو (0.84 ملین یونٹس) شامل ہیں۔ اس وقت ڈسٹری بیوٹرز اور ریٹیلرز کے پاس اضافی اسٹاک موجود ہونے کے باعث مینوفیکچررز نے مزید ذخیرہ جمع ہونے سے بچنے کے لیے پیداوار میں کمی کر دی ہے۔</p>
<p>انڈسٹری تجزیہ کاروں کا اندازہ ہے کہ آئندہ 12 ماہ کے دوران موبائل فون کی فروخت میں سالانہ بنیاد پر 7 سے 8 فیصد اضافہ متوقع ہے، جس کی وجہ مستحکم شرح مبادلہ، مہنگائی میں کمی اور صارفین کی قوت خرید میں بہتری ہو گی۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Business &amp; Finance</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40279807</guid>
      <pubDate>Wed, 26 Nov 2025 14:22:30 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (گوہر علی خان)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2025/11/26141813ec79db5.gif" type="image/gif" medium="image">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2025/11/26141813ec79db5.gif"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
