<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Business &amp; Finance</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 21:30:52 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 21:30:52 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>پاکستان میں ڈیجیٹل پیمنٹس کی بڑھتی ہوئی مقبولیت اور نقدی پر انحصار کی کشمکش</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40279797/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;پاکستان میں ای-بینکنگ اور آن لائن لین دین کے استعمال میں بتدریج اضافہ ہو رہا ہے، تاہم، مجموعی آبادی کے تناظر میں اس کو اختیار کرنا محدود  ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایسے لوگ بھی ہیں جو نقد رقم کو ترجیح دیتے ہیں کیونکہ وہ ڈیجیٹل ادائیگی کے طریقے استعمال کرنے میں دشواری محسوس کرتے ہیں یا سمجھتے ہیں کہ اس میں فراڈ کا زیادہ خطرہ ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسری جانب، کچھ افراد نقد رقم لے کر چلنے کو خطرناک سمجھتے ہیں، خاص طور پر ملک میں قانون کے نفاذ کی صورتحال کے پیش نظر، اور وہ ڈیجیٹل ادائیگی کو ترجیح دیتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان کی حکومت نے معیشت کے ڈیجیٹلائزیشن کو تیز کرنے اور ملک کو مکمل ڈیجیٹل اقتصادی فریم ورک کی طرف لے جانے کے لیے اہم اقدامات کیے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;ریٹیل رجحانات اور صارفین کا رویہ&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بزنس ریکارڈر کے سروے کے مطابق، کراچی کے بڑے ریٹیلرز یا سپر مارکیٹس میں تقریباً 30 سے 40 فیصد صارفین بینکنگ چینلز، ڈیبٹ کارڈ یا کریڈٹ کارڈ کے ذریعے ادائیگی کرتے ہیں۔ تاہم، چھوٹے ریٹیل دکانوں میں یہ تناسب صرف پانچ فیصد کے قریب ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایک ریٹیل شاپ کے مالک نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ ان کا مارٹ رات دیر تک کھلا رہتا ہے، اور کراچی کے امن و امان کی صورتحال کو مدنظر رکھتے ہوئے، وہ ادائیگی کے لیے کیو آر کوڈ استعمال کرنے لگے ہیں۔ تاہم، صارفین اب بھی نقد ادائیگی کو ترجیح دیتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسرے مارٹ کے مالک محمد جنید نے کہا کہ آن لائن ادائیگیوں کے بارے میں شعور کی کمی اور مختلف آن لائن ایپس کے استعمال کا محدود علم سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ نوجوان نسل آن لائن ادائیگی کو ترجیح دیتی ہے، چاہے وہ کیو آر کوڈ کے ذریعے ہو یا کارڈ کے ذریعے، جبکہ 50 سال سے زائد عمر کے افراد نقد ادائیگی کو ترجیح دیتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;لیپ ٹاپ کے ریٹیلر محمد دانش نے بزنس ریکارڈر سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ان کی تقریباً 70 سے 80 فیصد ادائیگیاں آن لائن کی جاتی ہیں، چاہے وہ بینک ٹو بینک ٹرانسفر، کارڈ یا کیو آر کوڈ کے ذریعے ہوں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کراچی کی معروف گروسری شاپ کے صارف جنید اقبال نے کہا کہ وہ کارڈ استعمال صرف گروسری خریدنے کے لیے نہیں کرتے بلکہ زیادہ تر ادائیگیاں کارڈ کے ذریعے ہی کرتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے بتایا کہ پہلے کارڈ ادائیگی پر 1.5 فیصد شیڈول چارج لگتا تھا، لیکن اب راست کے ذریعے ادائیگی ہونے پر یہ چارج ختم ہو گیا ہے، جس کی وجہ سے کارڈ کے ذریعے ادائیگی ان کے لیے مزید موزوں ہو گئی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سابق بینکر عمیر عالم نے کہا کہ وہ نقد رقم نہیں رکھتے اور کارڈ کے ذریعے ادائیگی کرنا پسند کرتے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ اگرچہ راست کے ذریعے ادائیگی پر کوئی شیڈول چارج نہیں لگتا، پھر بھی لوگ آن لائن ادائیگی کو ترجیح نہیں دیتے، جو ان کے لیے سمجھ سے باہر ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;پاکستان کے ڈیجیٹل بینکنگ شعبے کے اہم کھلاڑی&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جیز کیش کے ہیڈ آف کمیونیکیشن اینڈ کسٹمر کیئر خیّام صدیقی نے بزنس ریکارڈر کو بتایا کہ ڈیجیٹل بینک اب 54 ملین سے زائد صارفین اور ساڑھے چھ لاکھ سے زائد تاجروں کو خدمات فراہم کر رہا ہے، اور 60 ارب روپے کے کیو ار لین دین کو پروسیس کر چکا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایزی پیسہ کے چیف بزنس آفیسر شہزاد خان نے کہا کہ ڈیجیٹل بینک کے 55 ملین سے زائد رجسٹرڈ صارفین اور چار لاکھ سے زائد رجسٹرڈ کیو آر مرچنٹس ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;شہزاد خان کے مطابق، 2024 کے اختتام تک ڈیجیٹل بینک کے ذریعے کل 2.7 ارب لین دین کی گئی، جس کی مالیت 9.5 ٹریلین روپے ہے، جو پاکستان کے جی ڈی پی کا تقریباً 9 فیصد بنتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;شہزاد خان نے کہا کہ مرکزی بینک اور حکومت کے ذریعے کیے گئے موجودہ اقدامات نقد سے پاک معیشت کو فروغ دینے کے لیے بہت ضروری اصلاحات ہیں، تاہم یہ بھی ضروری ہے کہ تجارتی لین دین کو مزید ڈیجیٹل کیا جائے، خاص طور پر مرچنٹ اور ریٹیل شعبے میں، تاکہ نقد پر مبنی سرگرمیوں کو کم کیا جا سکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ اگر آپ چاہتے ہیں کہ صارفین ڈیجیٹل فنانس کے ذریعے ادائیگی کریں، تو نقد ادائیگی کو زیادہ مہنگا بنانا ہوگا تاکہ وہ ڈیجیٹل فنانس کو منتخب کریں۔ اس کی ایک مثال ریستورانوں میں 5 فیصد کارڈ ٹیکس کے مقابلے میں 16 فیصد نقد ادائیگی ٹیکس ہے۔ یہی طریقہ صنعت میں بھی اپنانا ہوگا تاکہ واقعی ڈیجیٹلائزیشن اور ای-پیمنٹس کی طرف قدم بڑھایا جا سکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;ڈیجیٹل ادائیگیوں میں حفاظتی اقدامات&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان سافٹ ویئر ہاؤسز ایسوسی ایشن (P@SHA) کے سابق چیئرمین محمد زہیب خان نے کہا کہ ہر کیو آر کوڈ کے پیچھے ایک منفرد نمبر موجود ہوتا ہے  اصل سیکیورٹی اس ایپلیکیشن میں ہے جو کیو آر کوڈ کو پڑھتی ہے اور لین دین کو انجام دیتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سابق چیئرمین نے کہا کہ ہر کیو آر کوڈ اپنے منفرد شناختی نمبر کے ساتھ آتا ہے، جو یا تو کسی اکاؤنٹ نمبر یا کسی شخص کے منفرد آئی ڈی سے منسلک ہو سکتا ہے۔ جب ادائیگی کسی ایپ کے ذریعے کی جاتی ہے تو ایپ خود تمام حفاظتی اقدامات کو یقینی بناتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مزید برآں، پاکستان میں ہر فنٹیک ایپلیکیشن جو ادائیگیوں کو پروسیس کرتی ہے، اسے اسٹیٹ بینک آف پاکستان (ایس بی پی) سے منظوری لینا ضروری ہے۔ اس منظوری کے عمل میں سائبر سیکیورٹی، تعمیل، اور گورننس اسٹینڈرڈز کے چیک شامل ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;blockquote class="blockquote-level-1"&gt;
&lt;p&gt;بزنس ریکارڈر کے سروے کے مطابق، کراچی کے بڑے ریٹیلرز یا سپر مارکیٹس میں تقریباً 30 سے 40 فیصد صارفین بینکنگ چینلز، ڈیبٹ کارڈ یا کریڈٹ کارڈ کے ذریعے ادائیگی کرتے ہیں۔ تاہم، چھوٹے ریٹیل دکانوں میں یہ تناسب صرف پانچ فیصد کے قریب ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;/blockquote&gt;
&lt;p&gt;ان کے مطابق پاکستان میں کیو آر کوڈ ادائیگیاں مکمل طور پر محفوظ ہیں کیونکہ تمام لین دین بینکنگ سسٹم اور منظور شدہ فنٹیک کمپنیوں کے ذریعے انجام پاتے ہیں، جو عمل درآمد اور اعتماد کے لیے انتہائی اہم ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے مزید کہا کہ کیش لیس معیشت انتہائی اہمیت کی حامل ہے اور حکومت کا ایک بڑا اقدام ہے۔ کیش لیس نظام شفافیت کو فروغ دیتا ہے اور دستاویزی معیشت کو یقینی بناتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ دنیا بھر میں کریڈٹ کارڈ فراڈز بیمہ کے ذریعے کور کیے جاتے ہیں، اور کسی بھی فراڈ کے صورت میں صارف (کارڈ ہولڈر) کو فوری طور پر رقم واپس کر دی جاتی ہے۔ تاہم، پاکستان میں اگر کریڈٹ کارڈ کے ذریعے فراڈ ہوتا ہے، تو رقم تب تک واپس نہیں کی جاتی جب تک تحقیقات مکمل نہ ہوں۔ اس وقت پاکستان میں فراڈ کے لین دین بیمہ شدہ نہیں ہیں ، کارڈ فوری بلاک کر دیا جاتا ہے اور عموماً ایک ہفتے کے اندر نیا کارڈ جاری کر دیا جاتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے تجویز دی کہ بینکوں کو کریڈٹ کارڈ کے لین دین کو بیمہ کرنا چاہیے تاکہ فراڈ کی صورت میں رقم فوری طور پر واپس کی جا سکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے یہ بھی زور دیا کہ صارفین احتیاطی تدابیر اختیار کریں، جیسے کہ اپنے او ٹی پی (ون ٹائم پاس ورڈ) کو فون کال یا ای میل پر کبھی شیئر نہ کریں، مضبوط پاس ورڈ رکھیں تاکہ فراڈ کے امکانات کم ہوں، اور غیر مجاز یا غیر محفوظ ویب سائٹس پر کارڈ استعمال کرنے سے گریز کریں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے محفوظ آن لائن لین دین کے لیے مرکزی بینک سے منظور شدہ مجاز پیمنٹ گیٹ ویز جیسے پے فاسٹ اور پے پرو کے استعمال کی سفارش کی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;ڈیجیٹل ادائیگیوں میں اضافہ&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسٹیٹ بینک کی تازہ ترین رپورٹ کے مطابق، مالی سال 2024-25 کی تیسری سہ ماہی میں، ڈیجیٹل ادائیگیوں کی تعداد 2 ارب سے تجاوز کر گئی، اور اس کا حصہ کل ریٹیل ادائیگیوں کا 89 فیصد تھا۔ اوور دی کاؤنٹر (او ٹی سی) چینلز پر 267 ملین لین دین کی گئی، جو باقی 11 فیصد حصے پر مشتمل تھی۔ لین دین کے حجم کے لحاظ سے، ڈیجیٹل ادائیگیوں نے صرف 29 فیصد (48 ٹریلین روپے) حصہ لیا، جبکہ 71 فیصد (117 ٹریلین روپے) او ٹی سی چینلز (بینک برانچز اور برانچ لیس بینکنگ ایجنٹس) کے ذریعے ہوا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بینکوں، برانچ لیس بینکنگ پلیئرز، اور ای ایم آئیز (الیکٹرانک منی انسٹیٹیوشن) جو موبائل بینکنگ ایپس کے ذریعے ادائیگی کی خدمات فراہم کرتے ہیں، نے سہ ماہی میں موبائل ایپس کے ذریعے مجموعی طور پر 1,686 ملین ادائیگیاں کیں، جس کی مالیت 27 ٹریلین روپے تھی، حجم میں سہ ماہی کی ترقی 16 فیصد اور قدر میں 22 فیصد رہی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;راست اور ڈیجیٹل پیمنٹ انفراسٹرکچر&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسٹیٹ بینک کے مطابق راست انسٹنٹ پیمنٹ سسٹم کا اپنانا تیسری سہ ماہی میں تیز رفتار سے بڑھ رہا ہے۔ پرسن ٹو پرسن (پی ٹو پی) لین دین 368 ملین (25 فیصد) تک پہنچ گئی، جس کی مالیت 8 ٹریلین روپے (31 فیصد) تھی۔ اسی دوران، راست پرسن ٹو مرچنٹ (پی ٹو ایم) سروس میں تیز توسیع دیکھنے میں آئی، اور سہ ماہی کے اختتام تک 770,000 سے زائد مرچنٹس کو شامل کیا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس سہ ماہی میں، راست پی ٹی ایم لین دین دوگنے سے زیادہ بڑھ کر 1.5 ملین تک پہنچ گئے، جس کی مالیت 4.5 ارب روپے تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس ماہ کے آغاز میں اسٹیٹ بینک نے ایک نیا ڈیجیٹل سرمایہ کاری پلیٹ فارم ‘انويسٹ پاک’ لانچ کیا، جس کا مقصد حکومت کی سیکورٹیز میں سرمایہ کاری کے عمل کو انفرادی اور کارپوریٹ سرمایہ کاروں کے لیے ہموار اور ڈیجیٹل بنانا ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>پاکستان میں ای-بینکنگ اور آن لائن لین دین کے استعمال میں بتدریج اضافہ ہو رہا ہے، تاہم، مجموعی آبادی کے تناظر میں اس کو اختیار کرنا محدود  ہے۔</strong></p>
<p>ایسے لوگ بھی ہیں جو نقد رقم کو ترجیح دیتے ہیں کیونکہ وہ ڈیجیٹل ادائیگی کے طریقے استعمال کرنے میں دشواری محسوس کرتے ہیں یا سمجھتے ہیں کہ اس میں فراڈ کا زیادہ خطرہ ہے۔</p>
<p>دوسری جانب، کچھ افراد نقد رقم لے کر چلنے کو خطرناک سمجھتے ہیں، خاص طور پر ملک میں قانون کے نفاذ کی صورتحال کے پیش نظر، اور وہ ڈیجیٹل ادائیگی کو ترجیح دیتے ہیں۔</p>
<p>پاکستان کی حکومت نے معیشت کے ڈیجیٹلائزیشن کو تیز کرنے اور ملک کو مکمل ڈیجیٹل اقتصادی فریم ورک کی طرف لے جانے کے لیے اہم اقدامات کیے ہیں۔</p>
<p><strong>ریٹیل رجحانات اور صارفین کا رویہ</strong></p>
<p>بزنس ریکارڈر کے سروے کے مطابق، کراچی کے بڑے ریٹیلرز یا سپر مارکیٹس میں تقریباً 30 سے 40 فیصد صارفین بینکنگ چینلز، ڈیبٹ کارڈ یا کریڈٹ کارڈ کے ذریعے ادائیگی کرتے ہیں۔ تاہم، چھوٹے ریٹیل دکانوں میں یہ تناسب صرف پانچ فیصد کے قریب ہے۔</p>
<p>ایک ریٹیل شاپ کے مالک نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ ان کا مارٹ رات دیر تک کھلا رہتا ہے، اور کراچی کے امن و امان کی صورتحال کو مدنظر رکھتے ہوئے، وہ ادائیگی کے لیے کیو آر کوڈ استعمال کرنے لگے ہیں۔ تاہم، صارفین اب بھی نقد ادائیگی کو ترجیح دیتے ہیں۔</p>
<p>دوسرے مارٹ کے مالک محمد جنید نے کہا کہ آن لائن ادائیگیوں کے بارے میں شعور کی کمی اور مختلف آن لائن ایپس کے استعمال کا محدود علم سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ نوجوان نسل آن لائن ادائیگی کو ترجیح دیتی ہے، چاہے وہ کیو آر کوڈ کے ذریعے ہو یا کارڈ کے ذریعے، جبکہ 50 سال سے زائد عمر کے افراد نقد ادائیگی کو ترجیح دیتے ہیں۔</p>
<p>لیپ ٹاپ کے ریٹیلر محمد دانش نے بزنس ریکارڈر سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ان کی تقریباً 70 سے 80 فیصد ادائیگیاں آن لائن کی جاتی ہیں، چاہے وہ بینک ٹو بینک ٹرانسفر، کارڈ یا کیو آر کوڈ کے ذریعے ہوں۔</p>
<p>کراچی کی معروف گروسری شاپ کے صارف جنید اقبال نے کہا کہ وہ کارڈ استعمال صرف گروسری خریدنے کے لیے نہیں کرتے بلکہ زیادہ تر ادائیگیاں کارڈ کے ذریعے ہی کرتے ہیں۔</p>
<p>انہوں نے بتایا کہ پہلے کارڈ ادائیگی پر 1.5 فیصد شیڈول چارج لگتا تھا، لیکن اب راست کے ذریعے ادائیگی ہونے پر یہ چارج ختم ہو گیا ہے، جس کی وجہ سے کارڈ کے ذریعے ادائیگی ان کے لیے مزید موزوں ہو گئی ہے۔</p>
<p>سابق بینکر عمیر عالم نے کہا کہ وہ نقد رقم نہیں رکھتے اور کارڈ کے ذریعے ادائیگی کرنا پسند کرتے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ اگرچہ راست کے ذریعے ادائیگی پر کوئی شیڈول چارج نہیں لگتا، پھر بھی لوگ آن لائن ادائیگی کو ترجیح نہیں دیتے، جو ان کے لیے سمجھ سے باہر ہے۔</p>
<p><strong>پاکستان کے ڈیجیٹل بینکنگ شعبے کے اہم کھلاڑی</strong></p>
<p>جیز کیش کے ہیڈ آف کمیونیکیشن اینڈ کسٹمر کیئر خیّام صدیقی نے بزنس ریکارڈر کو بتایا کہ ڈیجیٹل بینک اب 54 ملین سے زائد صارفین اور ساڑھے چھ لاکھ سے زائد تاجروں کو خدمات فراہم کر رہا ہے، اور 60 ارب روپے کے کیو ار لین دین کو پروسیس کر چکا ہے۔</p>
<p>ایزی پیسہ کے چیف بزنس آفیسر شہزاد خان نے کہا کہ ڈیجیٹل بینک کے 55 ملین سے زائد رجسٹرڈ صارفین اور چار لاکھ سے زائد رجسٹرڈ کیو آر مرچنٹس ہیں۔</p>
<p>شہزاد خان کے مطابق، 2024 کے اختتام تک ڈیجیٹل بینک کے ذریعے کل 2.7 ارب لین دین کی گئی، جس کی مالیت 9.5 ٹریلین روپے ہے، جو پاکستان کے جی ڈی پی کا تقریباً 9 فیصد بنتا ہے۔</p>
<p>شہزاد خان نے کہا کہ مرکزی بینک اور حکومت کے ذریعے کیے گئے موجودہ اقدامات نقد سے پاک معیشت کو فروغ دینے کے لیے بہت ضروری اصلاحات ہیں، تاہم یہ بھی ضروری ہے کہ تجارتی لین دین کو مزید ڈیجیٹل کیا جائے، خاص طور پر مرچنٹ اور ریٹیل شعبے میں، تاکہ نقد پر مبنی سرگرمیوں کو کم کیا جا سکے۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ اگر آپ چاہتے ہیں کہ صارفین ڈیجیٹل فنانس کے ذریعے ادائیگی کریں، تو نقد ادائیگی کو زیادہ مہنگا بنانا ہوگا تاکہ وہ ڈیجیٹل فنانس کو منتخب کریں۔ اس کی ایک مثال ریستورانوں میں 5 فیصد کارڈ ٹیکس کے مقابلے میں 16 فیصد نقد ادائیگی ٹیکس ہے۔ یہی طریقہ صنعت میں بھی اپنانا ہوگا تاکہ واقعی ڈیجیٹلائزیشن اور ای-پیمنٹس کی طرف قدم بڑھایا جا سکے۔</p>
<p><strong>ڈیجیٹل ادائیگیوں میں حفاظتی اقدامات</strong></p>
<p>پاکستان سافٹ ویئر ہاؤسز ایسوسی ایشن (P@SHA) کے سابق چیئرمین محمد زہیب خان نے کہا کہ ہر کیو آر کوڈ کے پیچھے ایک منفرد نمبر موجود ہوتا ہے  اصل سیکیورٹی اس ایپلیکیشن میں ہے جو کیو آر کوڈ کو پڑھتی ہے اور لین دین کو انجام دیتی ہے۔</p>
<p>سابق چیئرمین نے کہا کہ ہر کیو آر کوڈ اپنے منفرد شناختی نمبر کے ساتھ آتا ہے، جو یا تو کسی اکاؤنٹ نمبر یا کسی شخص کے منفرد آئی ڈی سے منسلک ہو سکتا ہے۔ جب ادائیگی کسی ایپ کے ذریعے کی جاتی ہے تو ایپ خود تمام حفاظتی اقدامات کو یقینی بناتی ہے۔</p>
<p>مزید برآں، پاکستان میں ہر فنٹیک ایپلیکیشن جو ادائیگیوں کو پروسیس کرتی ہے، اسے اسٹیٹ بینک آف پاکستان (ایس بی پی) سے منظوری لینا ضروری ہے۔ اس منظوری کے عمل میں سائبر سیکیورٹی، تعمیل، اور گورننس اسٹینڈرڈز کے چیک شامل ہیں۔</p>
<blockquote class="blockquote-level-1">
<p>بزنس ریکارڈر کے سروے کے مطابق، کراچی کے بڑے ریٹیلرز یا سپر مارکیٹس میں تقریباً 30 سے 40 فیصد صارفین بینکنگ چینلز، ڈیبٹ کارڈ یا کریڈٹ کارڈ کے ذریعے ادائیگی کرتے ہیں۔ تاہم، چھوٹے ریٹیل دکانوں میں یہ تناسب صرف پانچ فیصد کے قریب ہے۔</p>
</blockquote>
<p>ان کے مطابق پاکستان میں کیو آر کوڈ ادائیگیاں مکمل طور پر محفوظ ہیں کیونکہ تمام لین دین بینکنگ سسٹم اور منظور شدہ فنٹیک کمپنیوں کے ذریعے انجام پاتے ہیں، جو عمل درآمد اور اعتماد کے لیے انتہائی اہم ہے۔</p>
<p>انہوں نے مزید کہا کہ کیش لیس معیشت انتہائی اہمیت کی حامل ہے اور حکومت کا ایک بڑا اقدام ہے۔ کیش لیس نظام شفافیت کو فروغ دیتا ہے اور دستاویزی معیشت کو یقینی بناتا ہے۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ دنیا بھر میں کریڈٹ کارڈ فراڈز بیمہ کے ذریعے کور کیے جاتے ہیں، اور کسی بھی فراڈ کے صورت میں صارف (کارڈ ہولڈر) کو فوری طور پر رقم واپس کر دی جاتی ہے۔ تاہم، پاکستان میں اگر کریڈٹ کارڈ کے ذریعے فراڈ ہوتا ہے، تو رقم تب تک واپس نہیں کی جاتی جب تک تحقیقات مکمل نہ ہوں۔ اس وقت پاکستان میں فراڈ کے لین دین بیمہ شدہ نہیں ہیں ، کارڈ فوری بلاک کر دیا جاتا ہے اور عموماً ایک ہفتے کے اندر نیا کارڈ جاری کر دیا جاتا ہے۔</p>
<p>انہوں نے تجویز دی کہ بینکوں کو کریڈٹ کارڈ کے لین دین کو بیمہ کرنا چاہیے تاکہ فراڈ کی صورت میں رقم فوری طور پر واپس کی جا سکے۔</p>
<p>انہوں نے یہ بھی زور دیا کہ صارفین احتیاطی تدابیر اختیار کریں، جیسے کہ اپنے او ٹی پی (ون ٹائم پاس ورڈ) کو فون کال یا ای میل پر کبھی شیئر نہ کریں، مضبوط پاس ورڈ رکھیں تاکہ فراڈ کے امکانات کم ہوں، اور غیر مجاز یا غیر محفوظ ویب سائٹس پر کارڈ استعمال کرنے سے گریز کریں۔</p>
<p>انہوں نے محفوظ آن لائن لین دین کے لیے مرکزی بینک سے منظور شدہ مجاز پیمنٹ گیٹ ویز جیسے پے فاسٹ اور پے پرو کے استعمال کی سفارش کی۔</p>
<p><strong>ڈیجیٹل ادائیگیوں میں اضافہ</strong></p>
<p>اسٹیٹ بینک کی تازہ ترین رپورٹ کے مطابق، مالی سال 2024-25 کی تیسری سہ ماہی میں، ڈیجیٹل ادائیگیوں کی تعداد 2 ارب سے تجاوز کر گئی، اور اس کا حصہ کل ریٹیل ادائیگیوں کا 89 فیصد تھا۔ اوور دی کاؤنٹر (او ٹی سی) چینلز پر 267 ملین لین دین کی گئی، جو باقی 11 فیصد حصے پر مشتمل تھی۔ لین دین کے حجم کے لحاظ سے، ڈیجیٹل ادائیگیوں نے صرف 29 فیصد (48 ٹریلین روپے) حصہ لیا، جبکہ 71 فیصد (117 ٹریلین روپے) او ٹی سی چینلز (بینک برانچز اور برانچ لیس بینکنگ ایجنٹس) کے ذریعے ہوا۔</p>
<p>بینکوں، برانچ لیس بینکنگ پلیئرز، اور ای ایم آئیز (الیکٹرانک منی انسٹیٹیوشن) جو موبائل بینکنگ ایپس کے ذریعے ادائیگی کی خدمات فراہم کرتے ہیں، نے سہ ماہی میں موبائل ایپس کے ذریعے مجموعی طور پر 1,686 ملین ادائیگیاں کیں، جس کی مالیت 27 ٹریلین روپے تھی، حجم میں سہ ماہی کی ترقی 16 فیصد اور قدر میں 22 فیصد رہی۔</p>
<p><strong>راست اور ڈیجیٹل پیمنٹ انفراسٹرکچر</strong></p>
<p>اسٹیٹ بینک کے مطابق راست انسٹنٹ پیمنٹ سسٹم کا اپنانا تیسری سہ ماہی میں تیز رفتار سے بڑھ رہا ہے۔ پرسن ٹو پرسن (پی ٹو پی) لین دین 368 ملین (25 فیصد) تک پہنچ گئی، جس کی مالیت 8 ٹریلین روپے (31 فیصد) تھی۔ اسی دوران، راست پرسن ٹو مرچنٹ (پی ٹو ایم) سروس میں تیز توسیع دیکھنے میں آئی، اور سہ ماہی کے اختتام تک 770,000 سے زائد مرچنٹس کو شامل کیا گیا۔</p>
<p>اس سہ ماہی میں، راست پی ٹی ایم لین دین دوگنے سے زیادہ بڑھ کر 1.5 ملین تک پہنچ گئے، جس کی مالیت 4.5 ارب روپے تھی۔</p>
<p>اس ماہ کے آغاز میں اسٹیٹ بینک نے ایک نیا ڈیجیٹل سرمایہ کاری پلیٹ فارم ‘انويسٹ پاک’ لانچ کیا، جس کا مقصد حکومت کی سیکورٹیز میں سرمایہ کاری کے عمل کو انفرادی اور کارپوریٹ سرمایہ کاروں کے لیے ہموار اور ڈیجیٹل بنانا ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Business &amp; Finance</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40279797</guid>
      <pubDate>Wed, 26 Nov 2025 12:32:29 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (عمادالدین)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2025/11/26123009d321809.gif" type="image/gif" medium="image">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2025/11/26123009d321809.gif"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
