<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - World</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 20:08:30 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 20:08:30 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>غزہ کی بقا خطرے میں ہے، اقوام متحدہ کی وارننگ</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40279795/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;اقوام متحدہ نے  خبردار کیا ہے کہ اسرائیل کی غزہ میں جاری جنگ نے فلسطینی علاقے کی معیشت کو تہ و بالا کر دیا ہے اور اس کی بقا کو خطرے میں ڈال دیا ہے، اور عالمی برادری سے فوری اور بھرپور مداخلت کا مطالبہ کیا۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اقوام متحدہ کی تجارتی اور ترقیاتی ایجنسی  کی ایک نئی رپورٹ کے مطابق، غزہ کی پٹی کی دوبارہ تعمیر پر 70 بلین ڈالر سے زائد لاگت آئے گی اور یہ کئی دہائیوں کا کام ہو سکتا ہے۔ رپورٹ میں خبردار کیا گیا کہ جنگ اور پابندیوں نے فلسطینی معیشت کو  بے مثال زوال کی طرف دھکیل دیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رپورٹ میں کہا گیا کہ فوجی کارروائیوں نے بقاء کے ہر ستون کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔ خوراک، رہائش اور صحت کی سہولیات سمیت ہر شعبہ متاثر ہوا اور غزہ ایک انسانی بنائی ہوئی خندق میں ڈوب گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اقوام متحدہ نے کہا کہ مسلسل اور منظم تباہی نے غزہ کے دوبارہ قابلِ رہائش اور معاشرتی طور پر مستحکم ہونے کی صلاحیت پر سنگین شبہات پیدا کر دیے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رپورٹ میں بتایا گیا کہ اکتوبر 2023 میں حماس کے جنوبی اسرائیل پر حملے کے بعد 1,221 افراد ہلاک ہوئے اور غزہ میں دو سالہ تباہ کن جنگ چھڑ گئی۔ اسرائیل کے جوابی حملوں میں 69,000 سے زائد افراد شہید ہوئے، جو اقوام متحدہ کے مطابق صحت کی وزارت کے اعداد و شمار کے مطابق ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;غزہ میں ہونے والی تباہی نے اقتصادی، انسانی، ماحولیاتی اور سماجی بحرانوں کو جنم دیا، اور اسے مکمل بربادی کی جانب دھکیل دیا۔ رپورٹ میں کہا گیا کہ اگر غیر ملکی امداد کی نمایاں سطح کے ساتھ دو ہندسوں کی شرح نمو بھی حاصل ہو، تو غزہ کو اکتوبر 2023 سے پہلے کی فلاحی سطح پر واپس آنے میں کئی دہائیاں لگیں گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اقوام متحدہ کی تجارتی اور ترقیاتی ایجنسی نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا کہ وہ ایک جامع بحالی منصوبہ تیار کرے، جس میں بین الاقوامی امداد، مالیاتی منتقلی کی بحالی اور تجارتی، نقل و حرکت اور سرمایہ کاری کی راہ میں حائل رکاوٹوں کو دور کرنے کے اقدامات شامل ہوں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا کہ غزہ کی پوری آبادی شدید اور کثیر جہتی غربت کا شکار ہے، لہٰذا ہر شخص کو ماہانہ غیر مشروط امدادی رقم فراہم کرنے کے لیے ایک یونیورسل ایمرجنسی بنیادی آمدنی متعارف کرائی جائے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رپورٹ میں بتایا گیا کہ 2023-2024 کے دوران غزہ کی معیشت 87 فیصد سکڑ گئی، جس سے فی کس قومی پیداوار صرف 161 ڈالر رہ گئی، جو عالمی سطح پر انتہائی کم ہے۔ مغربی کنارے کی صورتحال بھی بہتر نہیں، جہاں تشدد، آباد کاری کے پھیلاؤ اور ورکروں کی نقل و حرکت پر پابندیوں نے معیشت کو شدید نقصان پہنچایا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>اقوام متحدہ نے  خبردار کیا ہے کہ اسرائیل کی غزہ میں جاری جنگ نے فلسطینی علاقے کی معیشت کو تہ و بالا کر دیا ہے اور اس کی بقا کو خطرے میں ڈال دیا ہے، اور عالمی برادری سے فوری اور بھرپور مداخلت کا مطالبہ کیا۔</strong></p>
<p>اقوام متحدہ کی تجارتی اور ترقیاتی ایجنسی  کی ایک نئی رپورٹ کے مطابق، غزہ کی پٹی کی دوبارہ تعمیر پر 70 بلین ڈالر سے زائد لاگت آئے گی اور یہ کئی دہائیوں کا کام ہو سکتا ہے۔ رپورٹ میں خبردار کیا گیا کہ جنگ اور پابندیوں نے فلسطینی معیشت کو  بے مثال زوال کی طرف دھکیل دیا ہے۔</p>
<p>رپورٹ میں کہا گیا کہ فوجی کارروائیوں نے بقاء کے ہر ستون کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔ خوراک، رہائش اور صحت کی سہولیات سمیت ہر شعبہ متاثر ہوا اور غزہ ایک انسانی بنائی ہوئی خندق میں ڈوب گیا ہے۔</p>
<p>اقوام متحدہ نے کہا کہ مسلسل اور منظم تباہی نے غزہ کے دوبارہ قابلِ رہائش اور معاشرتی طور پر مستحکم ہونے کی صلاحیت پر سنگین شبہات پیدا کر دیے ہیں۔</p>
<p>رپورٹ میں بتایا گیا کہ اکتوبر 2023 میں حماس کے جنوبی اسرائیل پر حملے کے بعد 1,221 افراد ہلاک ہوئے اور غزہ میں دو سالہ تباہ کن جنگ چھڑ گئی۔ اسرائیل کے جوابی حملوں میں 69,000 سے زائد افراد شہید ہوئے، جو اقوام متحدہ کے مطابق صحت کی وزارت کے اعداد و شمار کے مطابق ہیں۔</p>
<p>غزہ میں ہونے والی تباہی نے اقتصادی، انسانی، ماحولیاتی اور سماجی بحرانوں کو جنم دیا، اور اسے مکمل بربادی کی جانب دھکیل دیا۔ رپورٹ میں کہا گیا کہ اگر غیر ملکی امداد کی نمایاں سطح کے ساتھ دو ہندسوں کی شرح نمو بھی حاصل ہو، تو غزہ کو اکتوبر 2023 سے پہلے کی فلاحی سطح پر واپس آنے میں کئی دہائیاں لگیں گی۔</p>
<p>اقوام متحدہ کی تجارتی اور ترقیاتی ایجنسی نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا کہ وہ ایک جامع بحالی منصوبہ تیار کرے، جس میں بین الاقوامی امداد، مالیاتی منتقلی کی بحالی اور تجارتی، نقل و حرکت اور سرمایہ کاری کی راہ میں حائل رکاوٹوں کو دور کرنے کے اقدامات شامل ہوں۔</p>
<p>رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا کہ غزہ کی پوری آبادی شدید اور کثیر جہتی غربت کا شکار ہے، لہٰذا ہر شخص کو ماہانہ غیر مشروط امدادی رقم فراہم کرنے کے لیے ایک یونیورسل ایمرجنسی بنیادی آمدنی متعارف کرائی جائے۔</p>
<p>رپورٹ میں بتایا گیا کہ 2023-2024 کے دوران غزہ کی معیشت 87 فیصد سکڑ گئی، جس سے فی کس قومی پیداوار صرف 161 ڈالر رہ گئی، جو عالمی سطح پر انتہائی کم ہے۔ مغربی کنارے کی صورتحال بھی بہتر نہیں، جہاں تشدد، آباد کاری کے پھیلاؤ اور ورکروں کی نقل و حرکت پر پابندیوں نے معیشت کو شدید نقصان پہنچایا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40279795</guid>
      <pubDate>Wed, 26 Nov 2025 11:51:45 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (اے ایف پی)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2025/11/26114553591996d.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2025/11/26114553591996d.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
