<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Pakistan</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 18:41:26 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 18:41:26 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>پاکستان اور ایران کا دوطرفہ تجارت 10 ارب ڈالر تک بڑھانے کا ہدف</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40279786/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;پاکستان اور ایران نے منگل کے روز اقتصادی تعاون کو فروغ دینے کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے آئندہ برسوں میں دوطرفہ تجارت کو 10 ارب ڈالر تک بڑھانے کا ہدف مقرر کیا ہے۔ یہ عزم  صدر آصف علی زرداری اور ایران کی سپریم نیشنل سیکیورٹی کونسل کے سیکریٹری ڈاکٹر علی اردشیر لاریجانی کے درمیان ایوانِ صدر میں ہونے والی ملاقات کے دوران ظاہر کیا گیا، جہاں دونوں رہنماؤں نے اس ہدف کے حصول کے لیے واضح روڈ میپ تیار کرنے پر اتفاق کیا۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈاکٹر علی لاریجانی نے ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی حسینی خامنہ ای اور صدر مسعود پزشکیان کی جانب سے صدر آصف  زرداری کے لیے نیک تمناؤں اور خیرسگالی کے پیغامات پہنچائے۔ انہوں نے رواں سال کے اوائل میں ہونے والی 12 روزہ جنگ کے دوران پاکستان کی سفارتی اور اخلاقی حمایت پر شکریہ ادا کیا اور حالیہ واقعات میں پاکستان کی مسلح افواج کی بہادری کو سراہتے ہوئے کہا کہ پاکستان کی فتح دراصل ہماری فتح ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے بتایا کہ ایرانی صدر کے دورہ پاکستان کے بعد ایرانی حکومت نے پاکستانی مصنوعات کو ترجیحی رسائی دینے کے لیے متعدد ہدایات جاری کی ہیں، جس سے 10 ارب ڈالر کے تجارتی ہدف کے حصول کی راہ ہموار ہو گی۔ ملاقات میں علاقائی اور عالمی صورتحال کے علاوہ سیکیورٹی اور انسداد دہشت گردی سے متعلق امور پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;صدر آصف علی زرداری نے ڈاکٹر علی لاریجانی کا خیرمقدم کیا اور سپریم نیشنل سیکیورٹی کونسل کا عہدہ سنبھالنے پر انہیں مبارکباد دی۔ انہوں نے کہا کہ اسلام آباد اور تہران کے درمیان مسلسل روابط دوطرفہ تعلقات میں مثبت پیش رفت کی عکاسی کرتے ہیں اور انہوں نے اگست میں ایرانی صدر سے ملاقات کو خوشگوار یادوں میں شمار کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;صدر آصف زرداری نے حالیہ سیلاب کے بعد ایران کی جانب سے اظہار یکجہتی اور ایرانی ہلال احمر کی انسانی امداد پر بھی شکریہ ادا کیا اور کہا کہ ہمسایہ ممالک کے درمیان تعاون دونوں اقوام کے مشترکہ مفاد میں ہے۔ ایران پاکستان گیس پائپ لائن کے حوالے سے انہوں نے باہمی طور پر قابل عمل حل کی ضرورت پر زور دیا اور پاکستان کی بڑھتی توانائی ضروریات کا ذکر کیا۔ انہوں نے اسلام آباد میں ہونے والے حالیہ تکنیکی مذاکرات کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان تہران میں مزید بات چیت کا منتظر ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;صدر آصف زرداری نے کہا کہ پاکستان اور ایران کے تعلقات تاریخ، مذہب اور ثقافت کی گہری بنیادوں پر استوار ہیں۔ انہوں نے بھارت کے ساتھ جنگ کے دوران ایران کی حمایت اور اسرائیلی جارحیت کے بعد ایران کے لیے پاکستان کی سیاسی و سفارتی حمایت کا اعادہ کیا۔ انہوں نے مقبوضہ کشمیر اور فلسطین کے عوام کے لیے ایران کے اصولی مؤقف کو بھی سراہا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;صدر آصف زرداری نے دوطرفہ تجارت بڑھانے کے لیے ریلوے رابطے کو ترجیحی بنیادوں پر مضبوط بنانے پر زور دیا اور کہا کہ بہتر رابطہ کاری سے کاروباری حلقوں اور زائرین کو سہولت ملے گی، جس سے دونوں ممالک کے درمیان اقتصادی تعاون مزید گہرا ہو گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2025&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>پاکستان اور ایران نے منگل کے روز اقتصادی تعاون کو فروغ دینے کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے آئندہ برسوں میں دوطرفہ تجارت کو 10 ارب ڈالر تک بڑھانے کا ہدف مقرر کیا ہے۔ یہ عزم  صدر آصف علی زرداری اور ایران کی سپریم نیشنل سیکیورٹی کونسل کے سیکریٹری ڈاکٹر علی اردشیر لاریجانی کے درمیان ایوانِ صدر میں ہونے والی ملاقات کے دوران ظاہر کیا گیا، جہاں دونوں رہنماؤں نے اس ہدف کے حصول کے لیے واضح روڈ میپ تیار کرنے پر اتفاق کیا۔</strong></p>
<p>ڈاکٹر علی لاریجانی نے ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی حسینی خامنہ ای اور صدر مسعود پزشکیان کی جانب سے صدر آصف  زرداری کے لیے نیک تمناؤں اور خیرسگالی کے پیغامات پہنچائے۔ انہوں نے رواں سال کے اوائل میں ہونے والی 12 روزہ جنگ کے دوران پاکستان کی سفارتی اور اخلاقی حمایت پر شکریہ ادا کیا اور حالیہ واقعات میں پاکستان کی مسلح افواج کی بہادری کو سراہتے ہوئے کہا کہ پاکستان کی فتح دراصل ہماری فتح ہے۔</p>
<p>انہوں نے بتایا کہ ایرانی صدر کے دورہ پاکستان کے بعد ایرانی حکومت نے پاکستانی مصنوعات کو ترجیحی رسائی دینے کے لیے متعدد ہدایات جاری کی ہیں، جس سے 10 ارب ڈالر کے تجارتی ہدف کے حصول کی راہ ہموار ہو گی۔ ملاقات میں علاقائی اور عالمی صورتحال کے علاوہ سیکیورٹی اور انسداد دہشت گردی سے متعلق امور پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔</p>
<p>صدر آصف علی زرداری نے ڈاکٹر علی لاریجانی کا خیرمقدم کیا اور سپریم نیشنل سیکیورٹی کونسل کا عہدہ سنبھالنے پر انہیں مبارکباد دی۔ انہوں نے کہا کہ اسلام آباد اور تہران کے درمیان مسلسل روابط دوطرفہ تعلقات میں مثبت پیش رفت کی عکاسی کرتے ہیں اور انہوں نے اگست میں ایرانی صدر سے ملاقات کو خوشگوار یادوں میں شمار کیا۔</p>
<p>صدر آصف زرداری نے حالیہ سیلاب کے بعد ایران کی جانب سے اظہار یکجہتی اور ایرانی ہلال احمر کی انسانی امداد پر بھی شکریہ ادا کیا اور کہا کہ ہمسایہ ممالک کے درمیان تعاون دونوں اقوام کے مشترکہ مفاد میں ہے۔ ایران پاکستان گیس پائپ لائن کے حوالے سے انہوں نے باہمی طور پر قابل عمل حل کی ضرورت پر زور دیا اور پاکستان کی بڑھتی توانائی ضروریات کا ذکر کیا۔ انہوں نے اسلام آباد میں ہونے والے حالیہ تکنیکی مذاکرات کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان تہران میں مزید بات چیت کا منتظر ہے۔</p>
<p>صدر آصف زرداری نے کہا کہ پاکستان اور ایران کے تعلقات تاریخ، مذہب اور ثقافت کی گہری بنیادوں پر استوار ہیں۔ انہوں نے بھارت کے ساتھ جنگ کے دوران ایران کی حمایت اور اسرائیلی جارحیت کے بعد ایران کے لیے پاکستان کی سیاسی و سفارتی حمایت کا اعادہ کیا۔ انہوں نے مقبوضہ کشمیر اور فلسطین کے عوام کے لیے ایران کے اصولی مؤقف کو بھی سراہا۔</p>
<p>صدر آصف زرداری نے دوطرفہ تجارت بڑھانے کے لیے ریلوے رابطے کو ترجیحی بنیادوں پر مضبوط بنانے پر زور دیا اور کہا کہ بہتر رابطہ کاری سے کاروباری حلقوں اور زائرین کو سہولت ملے گی، جس سے دونوں ممالک کے درمیان اقتصادی تعاون مزید گہرا ہو گا۔</p>
<p>کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2025</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40279786</guid>
      <pubDate>Wed, 26 Nov 2025 09:38:24 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (نوید بٹ)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2025/11/26093611dde3506.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2025/11/26093611dde3506.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
