<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Markets - Energy</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 23:01:06 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 23:01:06 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>یوکرین امن مذاکرات، خام تیل کی قیمتیں کم ہونے کے بعد دوبارہ بڑھنے لگیں</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40279785/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;عالمی منڈی میں بدھ کے روز تیل کی قیمتوں میں معمولی بحالی دیکھنے میں آئی، کیونکہ گزشتہ سیشن میں قیمتوں کے ایک ماہ کی کم ترین سطح پر پہنچنے کے بعد سرمایہ کاروں نے محتاط خریداری شروع کر دی۔ قیمتوں میں کمی کی بنیادی وجہ یہ تھی کہ یوکرین اور روس کے درمیان ممکنہ امن معاہدے کے آثار نمایاں ہوئے ہیں، جس کے نتیجے میں روسی تیل کی فراہمی پر عائد بین الاقوامی پابندیوں کے خاتمے کی توقع پیدا ہو گئی ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;برینٹ خام تیل کے فیوچرز 19 سینٹ یا 0.3 فیصد اضافے کے ساتھ 62.67 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئے، جبکہ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ خام تیل 14 سینٹ یا 0.24 فیصد اضافے سے 58.09 ڈالر فی بیرل پر ٹریڈ ہوتا رہا۔ اس سے قبل منگل کو دونوں کی قیمتوں 89 سینٹ کمی کے ساتھ بند ہوئی تھی، جس کی وجہ یوکرینی صدر ولودومیر زیلنسکی کا یورپی رہنماؤں سے خطاب تھا، جس میں انہوں نے بتایا تھا کہ وہ امریکہ کی حمایت یافتہ امن فریم ورک کو آگے بڑھانے کے لیے تیار ہیں اور صرف چند نکات پر اختلاف باقی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مارکیٹ تجزیہ کار ٹونی سائکامور کے مطابق اگر یہ معاہدہ طے پا جاتا ہے تو مغربی ممالک روسی توانائی کی برآمدات پر عائد پابندیاں تیزی سے ختم کر سکتے ہیں، جس سے امریکی خام تیل کی قیمتیں ممکنہ طور پر 55 ڈالر فی بیرل تک گر سکتی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ فی الحال مارکیٹ مزید وضاحت کی منتظر ہے، تاہم اگر مذاکرات ناکام نہ ہوئے تو قیمتوں پر دباؤ برقرار رہ سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی کہا ہے کہ انہوں نے اپنے نمائندوں کو روسی صدر ولادیمیر پیوٹن اور یوکرینی حکام سے علیحدہ علیحدہ ملاقاتوں کی ہدایت کی ہے، جبکہ ایک یوکرینی عہدیدار کے مطابق زیلنسکی آئندہ چند روز میں معاہدے کو حتمی شکل دینے کے لیے امریکہ کا دورہ بھی کر سکتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسری جانب برطانیہ، یورپ اور امریکہ نے حالیہ دنوں میں روس پر پابندیاں مزید سخت کیں، جس کے نتیجے میں بھارت کی جانب سے روسی تیل کی خریداری دسمبر میں تین سال کی کم ترین سطح پر آ سکتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تیل کی قیمتوں کو کچھ سہارا امریکی فیڈرل ریزرو کی جانب سے دسمر میں شرح سود میں ممکنہ کمی کی توقعات نے بھی دیا ہے، کیونکہ حالیہ اقتصادی اعداد و شمار سے ظاہر ہوا ہے کہ خوردہ فروخت میں کمی اور مہنگائی میں نرمی آئی ہے۔ کم شرح سود سے معاشی سرگرمیوں میں اضافہ اور تیل کی طلب میں بہتری کی امید کی جا رہی ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>عالمی منڈی میں بدھ کے روز تیل کی قیمتوں میں معمولی بحالی دیکھنے میں آئی، کیونکہ گزشتہ سیشن میں قیمتوں کے ایک ماہ کی کم ترین سطح پر پہنچنے کے بعد سرمایہ کاروں نے محتاط خریداری شروع کر دی۔ قیمتوں میں کمی کی بنیادی وجہ یہ تھی کہ یوکرین اور روس کے درمیان ممکنہ امن معاہدے کے آثار نمایاں ہوئے ہیں، جس کے نتیجے میں روسی تیل کی فراہمی پر عائد بین الاقوامی پابندیوں کے خاتمے کی توقع پیدا ہو گئی ہے۔</strong></p>
<p>برینٹ خام تیل کے فیوچرز 19 سینٹ یا 0.3 فیصد اضافے کے ساتھ 62.67 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئے، جبکہ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ خام تیل 14 سینٹ یا 0.24 فیصد اضافے سے 58.09 ڈالر فی بیرل پر ٹریڈ ہوتا رہا۔ اس سے قبل منگل کو دونوں کی قیمتوں 89 سینٹ کمی کے ساتھ بند ہوئی تھی، جس کی وجہ یوکرینی صدر ولودومیر زیلنسکی کا یورپی رہنماؤں سے خطاب تھا، جس میں انہوں نے بتایا تھا کہ وہ امریکہ کی حمایت یافتہ امن فریم ورک کو آگے بڑھانے کے لیے تیار ہیں اور صرف چند نکات پر اختلاف باقی ہے۔</p>
<p>مارکیٹ تجزیہ کار ٹونی سائکامور کے مطابق اگر یہ معاہدہ طے پا جاتا ہے تو مغربی ممالک روسی توانائی کی برآمدات پر عائد پابندیاں تیزی سے ختم کر سکتے ہیں، جس سے امریکی خام تیل کی قیمتیں ممکنہ طور پر 55 ڈالر فی بیرل تک گر سکتی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ فی الحال مارکیٹ مزید وضاحت کی منتظر ہے، تاہم اگر مذاکرات ناکام نہ ہوئے تو قیمتوں پر دباؤ برقرار رہ سکتا ہے۔</p>
<p>امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی کہا ہے کہ انہوں نے اپنے نمائندوں کو روسی صدر ولادیمیر پیوٹن اور یوکرینی حکام سے علیحدہ علیحدہ ملاقاتوں کی ہدایت کی ہے، جبکہ ایک یوکرینی عہدیدار کے مطابق زیلنسکی آئندہ چند روز میں معاہدے کو حتمی شکل دینے کے لیے امریکہ کا دورہ بھی کر سکتے ہیں۔</p>
<p>دوسری جانب برطانیہ، یورپ اور امریکہ نے حالیہ دنوں میں روس پر پابندیاں مزید سخت کیں، جس کے نتیجے میں بھارت کی جانب سے روسی تیل کی خریداری دسمبر میں تین سال کی کم ترین سطح پر آ سکتی ہے۔</p>
<p>تیل کی قیمتوں کو کچھ سہارا امریکی فیڈرل ریزرو کی جانب سے دسمر میں شرح سود میں ممکنہ کمی کی توقعات نے بھی دیا ہے، کیونکہ حالیہ اقتصادی اعداد و شمار سے ظاہر ہوا ہے کہ خوردہ فروخت میں کمی اور مہنگائی میں نرمی آئی ہے۔ کم شرح سود سے معاشی سرگرمیوں میں اضافہ اور تیل کی طلب میں بہتری کی امید کی جا رہی ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Markets</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40279785</guid>
      <pubDate>Wed, 26 Nov 2025 09:29:34 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (رائٹرز)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2025/11/2609264452efcaa.webp" type="image/webp" medium="image" height="320" width="480">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2025/11/2609264452efcaa.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
