<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - World</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 19:00:54 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 19:00:54 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>چین سے بڑھتی کشیدگی، جاپانی وزیراعظم کا صدر ٹرمپ سے ٹیلیفونک رابطہ</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40279764/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;جاپان کی وزیرِ اعظم سانے تاکائچی اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے درمیان منگل کو ٹیلیفونک رابطہ ہوا جس میں چین کے ساتھ کشیدہ ہوتے تعلقات اور خطے کی بدلتی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ یہ گفتگو ایسے وقت میں ہوئی جب حال ہی میں تاکائچی کے تائیوان سے متعلق بیان کے بعد جاپان اور چین کے درمیان سفارتی کشیدگی میں نمایاں اضافہ دیکھا گیا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جاپانی پارلیمنٹ میں ایک سوال کے جواب میں تاکائچی نے کہا تھا کہ اگر چین تائیوان پر حملہ کرتا ہے تو جاپان ممکنہ طور پر فوجی ردعمل دے سکتا ہے۔ اس بیان پر بیجنگ نے سخت ردعمل ظاہر کیا اور جاپان کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے جاپانی سیاحت کے بائیکاٹ سمیت کئی اقدامات کیے۔ چین تائیوان کو اپنی سرزمین کا حصہ قرار دیتا ہے جبکہ تائیوان کی حکومت اس مؤقف کو مسترد کرتے ہوئے کہتی ہے کہ اس کے مستقبل کا فیصلہ صرف تائیوان کے عوام کریں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;چینی صدر شی جن پنگ نے پیر کے روز صدر ٹرمپ سے بھی فون پر گفتگو کی تھی جس میں انہوں نے کہا کہ تائیوان کی چین میں واپسی بیجنگ کے عالمی نظام کے وژن کا ایک بنیادی حصہ ہے۔ تاہم ٹرمپ نے بعد ازاں اپنے بیان میں تائیوان کا ذکر نہیں کیا بلکہ تجارتی مذاکرات میں پیش رفت کا حوالہ دیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;منگل کو تاکائچی نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ صدر ٹرمپ نے انہیں امریکہ اور چین کے تعلقات کی موجودہ صورتحال سے آگاہ کیا۔ انہوں نے مزید بتایا کہ ٹرمپ نے دونوں ممالک کے مضبوط دوستانہ تعلقات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ وہ کسی بھی وقت جاپانی وزیرِ اعظم سے رابطے کا خیر مقدم کریں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسری جانب تائیوان کے وزیرِ اعظم چو جنگ تائی نے کہا کہ تائیوان کے 23 ملین عوام کے لیے چین میں واپسی کوئی آپشن نہیں ہے۔ جاپان کے چیف کیبنٹ سیکریٹری مینورو کیہارا نے بھی اس بات پر زور دیا کہ امریکہ اور چین کے درمیان تعلقات کا استحکام نہ صرف جاپان بلکہ پوری عالمی برادری کے لیے نہایت اہم ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مبصرین کے مطابق خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی عالمی سلامتی اور سفارتی توازن کے لیے ایک بڑا چیلنج بن چکی ہے، جبکہ جاپان اور امریکہ کی مشاورت اس صورتحال میں غیر معمولی اہمیت رکھتی ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>جاپان کی وزیرِ اعظم سانے تاکائچی اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے درمیان منگل کو ٹیلیفونک رابطہ ہوا جس میں چین کے ساتھ کشیدہ ہوتے تعلقات اور خطے کی بدلتی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ یہ گفتگو ایسے وقت میں ہوئی جب حال ہی میں تاکائچی کے تائیوان سے متعلق بیان کے بعد جاپان اور چین کے درمیان سفارتی کشیدگی میں نمایاں اضافہ دیکھا گیا ہے۔</strong></p>
<p>جاپانی پارلیمنٹ میں ایک سوال کے جواب میں تاکائچی نے کہا تھا کہ اگر چین تائیوان پر حملہ کرتا ہے تو جاپان ممکنہ طور پر فوجی ردعمل دے سکتا ہے۔ اس بیان پر بیجنگ نے سخت ردعمل ظاہر کیا اور جاپان کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے جاپانی سیاحت کے بائیکاٹ سمیت کئی اقدامات کیے۔ چین تائیوان کو اپنی سرزمین کا حصہ قرار دیتا ہے جبکہ تائیوان کی حکومت اس مؤقف کو مسترد کرتے ہوئے کہتی ہے کہ اس کے مستقبل کا فیصلہ صرف تائیوان کے عوام کریں گے۔</p>
<p>چینی صدر شی جن پنگ نے پیر کے روز صدر ٹرمپ سے بھی فون پر گفتگو کی تھی جس میں انہوں نے کہا کہ تائیوان کی چین میں واپسی بیجنگ کے عالمی نظام کے وژن کا ایک بنیادی حصہ ہے۔ تاہم ٹرمپ نے بعد ازاں اپنے بیان میں تائیوان کا ذکر نہیں کیا بلکہ تجارتی مذاکرات میں پیش رفت کا حوالہ دیا۔</p>
<p>منگل کو تاکائچی نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ صدر ٹرمپ نے انہیں امریکہ اور چین کے تعلقات کی موجودہ صورتحال سے آگاہ کیا۔ انہوں نے مزید بتایا کہ ٹرمپ نے دونوں ممالک کے مضبوط دوستانہ تعلقات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ وہ کسی بھی وقت جاپانی وزیرِ اعظم سے رابطے کا خیر مقدم کریں گے۔</p>
<p>دوسری جانب تائیوان کے وزیرِ اعظم چو جنگ تائی نے کہا کہ تائیوان کے 23 ملین عوام کے لیے چین میں واپسی کوئی آپشن نہیں ہے۔ جاپان کے چیف کیبنٹ سیکریٹری مینورو کیہارا نے بھی اس بات پر زور دیا کہ امریکہ اور چین کے درمیان تعلقات کا استحکام نہ صرف جاپان بلکہ پوری عالمی برادری کے لیے نہایت اہم ہے۔</p>
<p>مبصرین کے مطابق خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی عالمی سلامتی اور سفارتی توازن کے لیے ایک بڑا چیلنج بن چکی ہے، جبکہ جاپان اور امریکہ کی مشاورت اس صورتحال میں غیر معمولی اہمیت رکھتی ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40279764</guid>
      <pubDate>Tue, 25 Nov 2025 15:30:09 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (رائٹرز)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2025/11/25152754a764dcd.webp" type="image/webp" medium="image" height="639" width="960">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2025/11/25152754a764dcd.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
