<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - World</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 17:34:19 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 17:34:19 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>نائجیریا میں شدت پسندوں کے بڑھتے حملوں کے باعث بھوک ریکارڈ سطح پر پہنچ گئی</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40279763/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;اقوام متحدہ کے ورلڈ فوڈ پروگرام (ڈبلیو ایف پی) نے خبردار کیا ہے کہ شمالی نائجیریا میں شدت پسند حملوں اور بڑھتی ہوئی بدامنی کے باعث بھوک کی صورتحال خطرناک حد تک بڑھ چکی ہے اور اگر فوری اقدامات نہ کیے گئے تو 2026 تک تقریباً 3 کروڑ 50 لاکھ افراد شدید غذائی قلت کا شکار ہو سکتے ہیں۔ ادارے کے مطابق اس کے مالی وسائل دسمبر میں ختم ہو جائیں گے، جس کے بعد ہنگامی امداد جاری رکھنا ممکن نہیں رہے گا۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈبلیو ایف پی نے بتایا کہ کیڈر ہارمونائز کے تازہ ترین تجزیے کے مطابق نائجیریا میں غذائی عدم تحفظ کی یہ بلند ترین سطح ہے جو نگرانی کے آغاز کے بعد ریکارڈ کی گئی ہے۔ سال 2025 کے دوران شدت پسند گروہوں، جن میں القاعدہ سے وابستہ جماعت نصرت الاسلام والمسلمین اور اسلامک اسٹیٹ ویسٹ افریقہ پروونس شامل ہیں، کی جانب سے حملوں میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ حالیہ واقعات میں آئی ایس ڈبلیو اے پی کے جنگجوؤں کے ہاتھوں ایک بریگیڈیئر جنرل کی ہلاکت اور مسلح ڈاکوؤں کے ہاتھوں 300 سے زائد کیتھولک طلبہ کا اغوا بھی شامل ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈبلیو ایف پی کے نائجیریا میں کنٹری ڈائریکٹر ڈیوڈ اسٹیونسن نے کہا کہ بغاوت کی پیش قدمی شمالی علاقوں کے استحکام کے لیے سنگین خطرہ بن چکی ہے جس کے اثرات نائجیریا سے باہر بھی محسوس کیے جا سکتے ہیں۔ ان کے مطابق مقامی آبادی کو مسلسل حملوں اور معاشی دباؤ کا سامنا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دیہی زرعی کمیونٹیز سب سے زیادہ متاثر ہیں، جہاں بورنو، اداماوا اور یوبی ریاستوں میں تقریباً 60 لاکھ افراد کو بنیادی خوراک تک رسائی حاصل نہیں، جبکہ بورنو کے 15 ہزار افراد قحط جیسی صورتحال سے دوچار ہو سکتے ہیں۔ بچوں میں غذائی قلت کی شرح بورنو، سوکوٹو، یوبی اور زمفارا میں سب سے زیادہ ریکارڈ کی گئی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ادارے نے مزید بتایا کہ شمال مشرقی علاقوں میں تقریباً 10 لاکھ افراد ڈبلیو ایف پی کی امداد پر انحصار کر رہے ہیں، تاہم فنڈز کی کمی کے باعث جولائی میں غذائیت کے پروگرام محدود کر دیے گئے جس سے 3 لاکھ سے زائد بچے متاثر ہوئے۔ کئی جگہوں پر کلینکس بند ہونے سے غذائی قلت کی صورتحال سنگین سے انتہائی سنگین حد تک پہنچ گئی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈبلیو ایف پی نے خبردار کیا ہے کہ اگر فوری مالی معاونت فراہم نہ کی گئی تو 2026 میں لاکھوں افراد کو خوراک اور غذائی امداد میسر نہیں ہو سکے گی، جس سے انسانی بحران مزید شدت اختیار کر سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>اقوام متحدہ کے ورلڈ فوڈ پروگرام (ڈبلیو ایف پی) نے خبردار کیا ہے کہ شمالی نائجیریا میں شدت پسند حملوں اور بڑھتی ہوئی بدامنی کے باعث بھوک کی صورتحال خطرناک حد تک بڑھ چکی ہے اور اگر فوری اقدامات نہ کیے گئے تو 2026 تک تقریباً 3 کروڑ 50 لاکھ افراد شدید غذائی قلت کا شکار ہو سکتے ہیں۔ ادارے کے مطابق اس کے مالی وسائل دسمبر میں ختم ہو جائیں گے، جس کے بعد ہنگامی امداد جاری رکھنا ممکن نہیں رہے گا۔</strong></p>
<p>ڈبلیو ایف پی نے بتایا کہ کیڈر ہارمونائز کے تازہ ترین تجزیے کے مطابق نائجیریا میں غذائی عدم تحفظ کی یہ بلند ترین سطح ہے جو نگرانی کے آغاز کے بعد ریکارڈ کی گئی ہے۔ سال 2025 کے دوران شدت پسند گروہوں، جن میں القاعدہ سے وابستہ جماعت نصرت الاسلام والمسلمین اور اسلامک اسٹیٹ ویسٹ افریقہ پروونس شامل ہیں، کی جانب سے حملوں میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ حالیہ واقعات میں آئی ایس ڈبلیو اے پی کے جنگجوؤں کے ہاتھوں ایک بریگیڈیئر جنرل کی ہلاکت اور مسلح ڈاکوؤں کے ہاتھوں 300 سے زائد کیتھولک طلبہ کا اغوا بھی شامل ہے۔</p>
<p>ڈبلیو ایف پی کے نائجیریا میں کنٹری ڈائریکٹر ڈیوڈ اسٹیونسن نے کہا کہ بغاوت کی پیش قدمی شمالی علاقوں کے استحکام کے لیے سنگین خطرہ بن چکی ہے جس کے اثرات نائجیریا سے باہر بھی محسوس کیے جا سکتے ہیں۔ ان کے مطابق مقامی آبادی کو مسلسل حملوں اور معاشی دباؤ کا سامنا ہے۔</p>
<p>دیہی زرعی کمیونٹیز سب سے زیادہ متاثر ہیں، جہاں بورنو، اداماوا اور یوبی ریاستوں میں تقریباً 60 لاکھ افراد کو بنیادی خوراک تک رسائی حاصل نہیں، جبکہ بورنو کے 15 ہزار افراد قحط جیسی صورتحال سے دوچار ہو سکتے ہیں۔ بچوں میں غذائی قلت کی شرح بورنو، سوکوٹو، یوبی اور زمفارا میں سب سے زیادہ ریکارڈ کی گئی ہے۔</p>
<p>ادارے نے مزید بتایا کہ شمال مشرقی علاقوں میں تقریباً 10 لاکھ افراد ڈبلیو ایف پی کی امداد پر انحصار کر رہے ہیں، تاہم فنڈز کی کمی کے باعث جولائی میں غذائیت کے پروگرام محدود کر دیے گئے جس سے 3 لاکھ سے زائد بچے متاثر ہوئے۔ کئی جگہوں پر کلینکس بند ہونے سے غذائی قلت کی صورتحال سنگین سے انتہائی سنگین حد تک پہنچ گئی ہے۔</p>
<p>ڈبلیو ایف پی نے خبردار کیا ہے کہ اگر فوری مالی معاونت فراہم نہ کی گئی تو 2026 میں لاکھوں افراد کو خوراک اور غذائی امداد میسر نہیں ہو سکے گی، جس سے انسانی بحران مزید شدت اختیار کر سکتا ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40279763</guid>
      <pubDate>Tue, 25 Nov 2025 15:24:36 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (رائٹرز)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2025/11/25151959aea2f6b.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2025/11/25151959aea2f6b.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
