<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Business &amp; Finance</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 17:19:03 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 17:19:03 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ملائشیا کے ساتھ مال برداری اخراجات میں کمی کیلئے براہِ راست فیڈر لائنز کی پاکستانی تجویز</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40279760/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;پاکستان اور ملائشیا ایک نئے تعاون کے فریم ورک پر غور کر رہے ہیں ،تاکہ میرین (سمندری) تربیت کو بڑھایا  اور بندرگاہی شعبے میں تعاون کو گہرا کیا جا سکے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ پیش رفت منگل کو برطانیہ میں میرین سرگرمیوں کے دوران ہونے والے اعلیٰ سطح کے اجلاس کے بعد سامنے آئی، جس میں ملائشیا کے نائب وزیر برائے ٹرانسپورٹ داتوک ہسبی بن حبیبوللہ اور وفاقی وزیر برائے میرین امور محمد جنید انور چودھری، نے شرکت کی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سرکاری بیان کے مطابق اجلاس میں دونوں فریقین نے موجودہ تعاون کا جائزہ لیتے ہوئے سمندری شعبے میں دوطرفہ تعلقات مضبوط بنانے کے نئے راستے تلاش کرنے پر اتفاق کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جنید چودھری نے تجارتی راستوں پر مضبوط عملی تعاون بڑھانے کی ضرورت پر زور دیا اور پاکستان اور ملائشیا کے درمیان براہِ راست فیڈر شپنگ لائنز قائم کرنے کی تجویز دی، جس سے انڈونیشیا کے لیے رابطہ بھی ممکن ہو، تاکہ ٹرانسپورٹ کا وقت کم ہو اور مال برداری کے اخراجات میں کمی آئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وفاقی وزیر نے کہا کہ تجویز کردہ فیڈر لنکس پاکستان کے چاول کی جنوب مشرقی ایشیا میں برآمدات کو فروغ دے سکتے ہیں، جبکہ ساتھ ہی ملائشیا اور انڈونیشیا سے خوردنی تیل کی درآمدات کو بھی منظم کیا جا سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے مزید کہا کہ یہ منصوبہ پاکستان کی وسیع حکمت عملی کے مطابق ہے، جس کا مقصد آسان کے رکن ممالک کے ساتھ سمندری رابطے مضبوط بنانا  ہے، جہاں پاکستانی زرعی مصنوعات کی طلب میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ملائشیا کے لیے یہ اقدام اپنے میرین تربیتی نیٹ ورک کو وسیع کرنے اور علاقائی لاجسٹکس کو بہتر بنانے کا موقع فراہم کرتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جنید انور چودھری نے میرین کیڈٹس کے تبادلے اور سیافر ٹریننگ کو بہتر بنانے کے لیے ایک مفاہمتی یادداشت  پر دستخط کی پیشکش بھی کی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جس کے تحت پاکستان کے کیڈٹس ملائشیا میں تربیت حاصل کریں گے اور ملائشیا کے کیڈٹس پاکستان میں خصوصی تربیتی پروگرامز میں شریک ہوں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وفاقی وزیر نے کہا یہ تبادلہ دونوں ممالک کے نوجوان سیافرز کی پیشہ ورانہ ترقی میں مدد  اور میرین شعبے میں طویل المدتی تعاون مضبوط کرے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جنید چودھری نے پاکستان کے ڈیجیٹل پورٹ سلوشنز  بشمول کراچی پورٹ اور پورٹ قاسم پر فعال پاکستان سنگل ونڈو پلیٹ فارم تک رسائی دینے کی پیشکش بھی کی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دونوں فریقین نے ایم او یو  کے دائرہ کار، تربیتی ماڈیولز اور کیڈٹ تبادلے کے نفاذ کے طریقہ کار کو حتمی شکل دینے کے لیے آئندہ ہفتوں میں مزید تکنیکی مشاورت کرنے پر اتفاق کیا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>پاکستان اور ملائشیا ایک نئے تعاون کے فریم ورک پر غور کر رہے ہیں ،تاکہ میرین (سمندری) تربیت کو بڑھایا  اور بندرگاہی شعبے میں تعاون کو گہرا کیا جا سکے۔</strong></p>
<p>یہ پیش رفت منگل کو برطانیہ میں میرین سرگرمیوں کے دوران ہونے والے اعلیٰ سطح کے اجلاس کے بعد سامنے آئی، جس میں ملائشیا کے نائب وزیر برائے ٹرانسپورٹ داتوک ہسبی بن حبیبوللہ اور وفاقی وزیر برائے میرین امور محمد جنید انور چودھری، نے شرکت کی۔</p>
<p>سرکاری بیان کے مطابق اجلاس میں دونوں فریقین نے موجودہ تعاون کا جائزہ لیتے ہوئے سمندری شعبے میں دوطرفہ تعلقات مضبوط بنانے کے نئے راستے تلاش کرنے پر اتفاق کیا۔</p>
<p>جنید چودھری نے تجارتی راستوں پر مضبوط عملی تعاون بڑھانے کی ضرورت پر زور دیا اور پاکستان اور ملائشیا کے درمیان براہِ راست فیڈر شپنگ لائنز قائم کرنے کی تجویز دی، جس سے انڈونیشیا کے لیے رابطہ بھی ممکن ہو، تاکہ ٹرانسپورٹ کا وقت کم ہو اور مال برداری کے اخراجات میں کمی آئے۔</p>
<p>وفاقی وزیر نے کہا کہ تجویز کردہ فیڈر لنکس پاکستان کے چاول کی جنوب مشرقی ایشیا میں برآمدات کو فروغ دے سکتے ہیں، جبکہ ساتھ ہی ملائشیا اور انڈونیشیا سے خوردنی تیل کی درآمدات کو بھی منظم کیا جا سکتا ہے۔</p>
<p>انہوں نے مزید کہا کہ یہ منصوبہ پاکستان کی وسیع حکمت عملی کے مطابق ہے، جس کا مقصد آسان کے رکن ممالک کے ساتھ سمندری رابطے مضبوط بنانا  ہے، جہاں پاکستانی زرعی مصنوعات کی طلب میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔</p>
<p>ملائشیا کے لیے یہ اقدام اپنے میرین تربیتی نیٹ ورک کو وسیع کرنے اور علاقائی لاجسٹکس کو بہتر بنانے کا موقع فراہم کرتا ہے۔</p>
<p>جنید انور چودھری نے میرین کیڈٹس کے تبادلے اور سیافر ٹریننگ کو بہتر بنانے کے لیے ایک مفاہمتی یادداشت  پر دستخط کی پیشکش بھی کی۔</p>
<p>جس کے تحت پاکستان کے کیڈٹس ملائشیا میں تربیت حاصل کریں گے اور ملائشیا کے کیڈٹس پاکستان میں خصوصی تربیتی پروگرامز میں شریک ہوں گے۔</p>
<p>وفاقی وزیر نے کہا یہ تبادلہ دونوں ممالک کے نوجوان سیافرز کی پیشہ ورانہ ترقی میں مدد  اور میرین شعبے میں طویل المدتی تعاون مضبوط کرے گا۔</p>
<p>جنید چودھری نے پاکستان کے ڈیجیٹل پورٹ سلوشنز  بشمول کراچی پورٹ اور پورٹ قاسم پر فعال پاکستان سنگل ونڈو پلیٹ فارم تک رسائی دینے کی پیشکش بھی کی۔</p>
<p>دونوں فریقین نے ایم او یو  کے دائرہ کار، تربیتی ماڈیولز اور کیڈٹ تبادلے کے نفاذ کے طریقہ کار کو حتمی شکل دینے کے لیے آئندہ ہفتوں میں مزید تکنیکی مشاورت کرنے پر اتفاق کیا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Business &amp; Finance</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40279760</guid>
      <pubDate>Tue, 25 Nov 2025 14:49:25 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (بی آر ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2025/11/25143958c0e4d19.webp" type="image/webp" medium="image" height="1302" width="1800">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2025/11/25143958c0e4d19.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
