<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Business &amp; Finance</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 23:36:25 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 23:36:25 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ماہرین کا 0.25 فیصد ایکسپورٹ ڈیولپمنٹ سرچارج کےخاتمے کا خیرمقدم، برآمدات کے فروغ کیلئے اہم قدم قرار</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40279753/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;ماہرین اور صنعتی رہنماؤں نے حکومت کے 0.25 فیصد ایکسپورٹ ڈیولپمنٹ سرچارج (ای ڈی ایس) کو واپس لینے کے فیصلے کا خیرمقدم کیا ہے اور اسے برآمدکنندگان کے لیے بروقت ریلیف اور بڑھتی ہوئی لاگت کے دباؤ کے درمیان پاکستان کی مسابقتی صلاحیت کو فروغ دینے کے لیے اہم قدم قرار دیا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جے ایس گلوبل کے ہیڈ آف ریسرچ وقاص غنی نے منگل کو بزنس ریکارڈر کو بتایا کہ ای ڈی ایس کے ختم ہونے سے برآمد کنندگان کو ریلیف ملا ہے، خاص طور پر اس وقت جب لاگت کے دباؤ مسابقتی صلاحیت کو متاثر کر رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے مزید کہا کہ اگرچہ مالی اثرات کم ہیں لیکن اہم پیغام یہ ہے کہ پالیسی آخرکار برآمد پر مبنی ترقی کے ساتھ ہم آہنگ ہو رہی ہے۔ اب کلیدی بات یہ ہے کہ اس اقدام کے ساتھ وسیع تر تجارتی سہولت کاری اور ساختی اصلاحات بھی کی جائیں تاکہ کاروبار کرنے کی لاگت میں کمی لائی جا سکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایک اہم پیش رفت کے طور پر حکومت نے پیر کو برآمدات پر 0.25 فیصد ای ڈی ایس کو فوری طور پر ختم کرنے کا فیصلہ کیا۔ یہ فیصلہ وزیر اعظم شہباز شریف کی صدارت میں ہونے والے اجلاس میں کیا گیا، جس میں ماہرین بھی شریک تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزیر اعظم نے اس سے قبل ایک مخصوص ورکنگ گروپ برائے ای ڈی ایس قائم کیا تھا، جس کی سربراہی مصدق ذوالقرنین کر رہے تھے تاکہ ایکسپورٹ ڈیولپمنٹ فنڈ (ای ڈی ایف) کا دوبارہ جائزہ لیا جائے اور اصلاحات کی تجاویز پیش کی جائیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزیراعظم نے یہ بھی ہدایت دی کہ ایک عبوری اسٹیئرنگ کمیٹی قائم کی جائے، جس کی قیادت نجی شعبے کے نمائندے کریں تاکہ موجودہ 52 ارب روپے کے ای ڈی ایف فنڈ کے استعمال کی نگرانی کی جاسکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ورکنگ گروپ کے چیئرمین اور انٹرلوپ لمیٹڈ کے سی ای او مصدق ذوالقرنین نے اس فیصلے کو برآمدی شعبے کے لیے نہایت ضروری ریلیف قرار دیا اور ورکنگ گروپ کی سفارشات پر فوری عملدرآمد کا حکم دینے پر وزیر اعظم کا شکریہ ادا کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;برآمدی شعبے کے نمائندوں نے بھی اس رائے کی تائید کی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;چیف ایگزیکٹو آف صداقت لمیٹڈ اور پاکستان ٹیکسٹائل ایکسپورٹرز ایسوسی ایشن (پی ٹی ای اے) کے چیئرمین خرم مختار نے اس فیصلے کو برآمد کنندگان کی مسابقتی صلاحیت بڑھانے کی جانب ایک معنی خیز قدم قرار دیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  w-full  w-full  media--stretch  media--embed  media--uneven media--tweet' data-original-src='https://x.com/mukhtarkhurram/status/1992922628043272421?'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--twitter  '&gt;&lt;span&gt;
    &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
        &lt;a href="https://twitter.com/mukhtarkhurram/status/1992922628043272421?"&gt;&lt;/a&gt;
    &lt;/blockquote&gt;
&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر کہا کہ آئیں باقی زیر التوا اصلاحات کو مکمل کرنے کے لئے مل کر کام جاری رکھیں تاکہ ہمارا برآمدی شعبہ مزید مسابقتی اور مضبوط بن سکے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>ماہرین اور صنعتی رہنماؤں نے حکومت کے 0.25 فیصد ایکسپورٹ ڈیولپمنٹ سرچارج (ای ڈی ایس) کو واپس لینے کے فیصلے کا خیرمقدم کیا ہے اور اسے برآمدکنندگان کے لیے بروقت ریلیف اور بڑھتی ہوئی لاگت کے دباؤ کے درمیان پاکستان کی مسابقتی صلاحیت کو فروغ دینے کے لیے اہم قدم قرار دیا ہے۔</strong></p>
<p>جے ایس گلوبل کے ہیڈ آف ریسرچ وقاص غنی نے منگل کو بزنس ریکارڈر کو بتایا کہ ای ڈی ایس کے ختم ہونے سے برآمد کنندگان کو ریلیف ملا ہے، خاص طور پر اس وقت جب لاگت کے دباؤ مسابقتی صلاحیت کو متاثر کر رہے ہیں۔</p>
<p>انہوں نے مزید کہا کہ اگرچہ مالی اثرات کم ہیں لیکن اہم پیغام یہ ہے کہ پالیسی آخرکار برآمد پر مبنی ترقی کے ساتھ ہم آہنگ ہو رہی ہے۔ اب کلیدی بات یہ ہے کہ اس اقدام کے ساتھ وسیع تر تجارتی سہولت کاری اور ساختی اصلاحات بھی کی جائیں تاکہ کاروبار کرنے کی لاگت میں کمی لائی جا سکے۔</p>
<p>ایک اہم پیش رفت کے طور پر حکومت نے پیر کو برآمدات پر 0.25 فیصد ای ڈی ایس کو فوری طور پر ختم کرنے کا فیصلہ کیا۔ یہ فیصلہ وزیر اعظم شہباز شریف کی صدارت میں ہونے والے اجلاس میں کیا گیا، جس میں ماہرین بھی شریک تھے۔</p>
<p>وزیر اعظم نے اس سے قبل ایک مخصوص ورکنگ گروپ برائے ای ڈی ایس قائم کیا تھا، جس کی سربراہی مصدق ذوالقرنین کر رہے تھے تاکہ ایکسپورٹ ڈیولپمنٹ فنڈ (ای ڈی ایف) کا دوبارہ جائزہ لیا جائے اور اصلاحات کی تجاویز پیش کی جائیں۔</p>
<p>وزیراعظم نے یہ بھی ہدایت دی کہ ایک عبوری اسٹیئرنگ کمیٹی قائم کی جائے، جس کی قیادت نجی شعبے کے نمائندے کریں تاکہ موجودہ 52 ارب روپے کے ای ڈی ایف فنڈ کے استعمال کی نگرانی کی جاسکے۔</p>
<p>ورکنگ گروپ کے چیئرمین اور انٹرلوپ لمیٹڈ کے سی ای او مصدق ذوالقرنین نے اس فیصلے کو برآمدی شعبے کے لیے نہایت ضروری ریلیف قرار دیا اور ورکنگ گروپ کی سفارشات پر فوری عملدرآمد کا حکم دینے پر وزیر اعظم کا شکریہ ادا کیا۔</p>
<p>برآمدی شعبے کے نمائندوں نے بھی اس رائے کی تائید کی۔</p>
<p>چیف ایگزیکٹو آف صداقت لمیٹڈ اور پاکستان ٹیکسٹائل ایکسپورٹرز ایسوسی ایشن (پی ٹی ای اے) کے چیئرمین خرم مختار نے اس فیصلے کو برآمد کنندگان کی مسابقتی صلاحیت بڑھانے کی جانب ایک معنی خیز قدم قرار دیا۔</p>
<p>    <figure class='media  w-full  w-full  media--stretch  media--embed  media--uneven media--tweet' data-original-src='https://x.com/mukhtarkhurram/status/1992922628043272421?'>
        <div class='media__item  media__item--twitter  '><span>
    <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
        <a href="https://twitter.com/mukhtarkhurram/status/1992922628043272421?"></a>
    </blockquote>
</span></div>
        
    </figure></p>
<p>انہوں نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر کہا کہ آئیں باقی زیر التوا اصلاحات کو مکمل کرنے کے لئے مل کر کام جاری رکھیں تاکہ ہمارا برآمدی شعبہ مزید مسابقتی اور مضبوط بن سکے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Business &amp; Finance</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40279753</guid>
      <pubDate>Tue, 25 Nov 2025 15:03:26 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (علی احمد)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2025/11/251257067e0fd0b.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2025/11/251257067e0fd0b.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
