<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Business &amp; Finance</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 17:19:03 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 17:19:03 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>اسٹاک مارکیٹ: منافع سمیٹنے کے رجحان کے دوران 100 انڈیکس مندی کا شکار</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40279738/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;پاکستان اسٹاک مارکیٹ میں منگل کو بھی مندی کا رجحان غالب رہا جس کے نتیجے میں بینچ مارک کے ایس ای 100 انڈیکس میں تقریباً 300 پوائنٹس کی کمی ریکارڈ کی گئی۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مارکیٹ میں کاروبار کا آغاز مثبت زون میں ہوا، ٹریڈنگ کے دوران ایک موقع پر 100 انڈیکس 162,819.85 پوائنٹس کی بلند سطح پر جاپہنچا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم دوپہر کے وقت منافع خوری کا رجحان واپس آگیا جس کے نتیجے میں ٹریڈنگ کے دوران 100 انڈیکس دن کی کم ترین سطح 161,276.81 پوائنٹس تک گرگیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاروبار کے اختتام پر کے ایس ای 100 انڈیکس 291.59 پوائنٹس یا 0.18 فیصد کی کمی سے 161,692.49 پوائنٹس پر بند ہوا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بروکریج ہاؤس ٹاپ لائن سیکیورٹیز نے پوسٹ مارکیٹ رپورٹ میں کہا ہے کہ مقامی اسٹاک مارکیٹ نے آج ایک اتار چڑھاؤ والا سیشن دیکھا، جہاں مارکیٹ میں اتار چڑھاؤ کے سبب منافع اور نقصان کے درمیان جھولتی رہی۔ فیوچرز کانٹریکٹ کی میعاد ختم ہونے سے پہلے رول اوور کا دباؤ اور اہم خبریں نہ ہونے کی وجہ سے سرمایہ کاروں کے جذبات دن بھر نازک رہے۔“&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رپورٹ کے مطابق اہم اسٹاک میں ایف ایف سی، پی او ایل، بینک الفلاح، لک، سسٹمز نے مجموعی طور پر 317 پوائنٹس کا اضافہ کیا۔ دوسری جانب، بینک الحبیب ،این بی پی حبکو، اینگرو ہولڈنگ اور پی پی ایل نے مندی کا دباؤ بڑھایا اور کے ایس ای 100 انڈیکس کو مجموعی طور پر 303 پوائنٹس نیچے لے گئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یاد رہے کہ پیر کو کے ایس ای 100 انڈیکس 118.84 پوائنٹس یا 0.07 فیصد کی کمی سے 161,984.09 پوائنٹس پر بند ہوا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عالمی سطح پر منگل کو ایشیائی اسٹاک مارکیٹس میں تیزی دیکھی گئی کیونکہ یہ توقعات بڑھ گئیں کہ امریکی فیڈرل ریزرو دسمبر میں شرح سود میں کمی کرے گا۔ اسی دوران سرمایہ کاروں نے عالمی ٹیکنالوجی اسٹاکس میں بھرپور سرمایہ کاری کی اور اس خدشے کو نظر انداز کر دیا کہ یہ شعبہ حد سے زیادہ گرم ہورہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایم ایس سی آئی کا جاپان کے علاوہ ایشیا پیسیفک حصص کا وسیع ترین انڈیکس 1 فیصد بڑھ گیا، جس کی قیادت بنیادی طور پر ٹیکنالوجی اسٹاکس نے کی۔ اس اضافے سے انڈیکس نے گزشتہ ہفتے کی 4 فیصد کمی کا کچھ حصہ واپس حاصل کر لیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انڈیکس رواں ماہ میں 3.8 فیصد کی کمی کی جانب بڑھ رہا ہے، جو مارچ کے بعد اس کی پہلی ماہانہ گراوٹ ہوگی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جاپان کا نکی انڈیکس منگل کی ابتدائی ٹریڈنگ میں 0.8 فیصد بڑھ گیا، کیونکہ وہ پیر کو چھٹی کے بعد دوبارہ اوپن ہوا تھا۔ گزشتہ ہفتے انڈیکس میں 3.5 فیصد کی کمی واقع ہوئی تھی جب مارکیٹس پر رسک سے بچنے کے رجحان نے دباؤ ڈال دیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;امریکا میں شرحِ سود میں کمی کے امکانات اس وقت بڑھ رہے ہیں جب فیڈرل ریزرو کے گورنر کرسٹوفر والر نے کہا کہ دستیاب اعداد و شمار کے مطابق امریکی لیبر مارکیٹ اتنی کمزور ہے کہ شرحِ سود میں مزید ایک چوتھائی فیصد (25 بیسس پوائنٹس) کمی کی جا سکتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سی ایم ای کے فیڈ واچ ٹول کے مطابق مارکیٹس دسمبر کے اجلاس میں 25 بیسس پوائنٹس کی کمی کے 85.1 فیصد امکانات ظاہر کر رہے ہیں جو ایک ہفتہ قبل 42.4 فیصد تھے۔ امریکی مرکزی بینک 9 اور 10 دسمبر کو اجلاس کرے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دریں اثنا منگل کے روز انٹر بینک مارکیٹ  میں امریکی ڈالر کے مقابلے میں پاکستانی روپے نے مزید بہتری دکھائی اور اس کی قدر میں 0.02 فیصد اضافہ ہوا۔ کاروبار کے اختتام پر مقامی کرنسی ڈالر کے مقابلے 280.57 روپے پر بند ہوئی، جو امریکی ڈالر کے مقابلے 4 پیسے کا اضافہ ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آل شیئر انڈیکس میں حجم 490.35 ملین سے بڑھ کر 590.53 ملین ہو گیا۔ تاہم، حصص کی کل مالیت پچھلے سیشن کے 23.67 ارب روپے سے کم ہو کر 22.15 ارب روپے رہ گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مجموعی حجم میں ورلڈ کال ٹیلی کام سرِ فہرست رہی جس کے 59.20 ملین حصص کا لین دین ہوا، اس کے بعد بینک مکرمہ کے 45.98 ملین اور پی ٹی سی ایل کے 38.78 ملین حصص رہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;منگل کو 477 کمپنیوں کے حصص کا کاروبار ہوا، جن میں سے 155 میں اضافہ، 284 میں کمی، اور 38 میں استحکام رہا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  w-full sm:w-full  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://i.brecorder.com/primary/2025/11/251810116db4229.webp'&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.brecorder.com/primary/2025/11/251810116db4229.webp'  alt='' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>پاکستان اسٹاک مارکیٹ میں منگل کو بھی مندی کا رجحان غالب رہا جس کے نتیجے میں بینچ مارک کے ایس ای 100 انڈیکس میں تقریباً 300 پوائنٹس کی کمی ریکارڈ کی گئی۔</strong></p>
<p>مارکیٹ میں کاروبار کا آغاز مثبت زون میں ہوا، ٹریڈنگ کے دوران ایک موقع پر 100 انڈیکس 162,819.85 پوائنٹس کی بلند سطح پر جاپہنچا۔</p>
<p>تاہم دوپہر کے وقت منافع خوری کا رجحان واپس آگیا جس کے نتیجے میں ٹریڈنگ کے دوران 100 انڈیکس دن کی کم ترین سطح 161,276.81 پوائنٹس تک گرگیا۔</p>
<p>کاروبار کے اختتام پر کے ایس ای 100 انڈیکس 291.59 پوائنٹس یا 0.18 فیصد کی کمی سے 161,692.49 پوائنٹس پر بند ہوا۔</p>
<p>بروکریج ہاؤس ٹاپ لائن سیکیورٹیز نے پوسٹ مارکیٹ رپورٹ میں کہا ہے کہ مقامی اسٹاک مارکیٹ نے آج ایک اتار چڑھاؤ والا سیشن دیکھا، جہاں مارکیٹ میں اتار چڑھاؤ کے سبب منافع اور نقصان کے درمیان جھولتی رہی۔ فیوچرز کانٹریکٹ کی میعاد ختم ہونے سے پہلے رول اوور کا دباؤ اور اہم خبریں نہ ہونے کی وجہ سے سرمایہ کاروں کے جذبات دن بھر نازک رہے۔“</p>
<p>رپورٹ کے مطابق اہم اسٹاک میں ایف ایف سی، پی او ایل، بینک الفلاح، لک، سسٹمز نے مجموعی طور پر 317 پوائنٹس کا اضافہ کیا۔ دوسری جانب، بینک الحبیب ،این بی پی حبکو، اینگرو ہولڈنگ اور پی پی ایل نے مندی کا دباؤ بڑھایا اور کے ایس ای 100 انڈیکس کو مجموعی طور پر 303 پوائنٹس نیچے لے گئے۔</p>
<p>یاد رہے کہ پیر کو کے ایس ای 100 انڈیکس 118.84 پوائنٹس یا 0.07 فیصد کی کمی سے 161,984.09 پوائنٹس پر بند ہوا تھا۔</p>
<p>عالمی سطح پر منگل کو ایشیائی اسٹاک مارکیٹس میں تیزی دیکھی گئی کیونکہ یہ توقعات بڑھ گئیں کہ امریکی فیڈرل ریزرو دسمبر میں شرح سود میں کمی کرے گا۔ اسی دوران سرمایہ کاروں نے عالمی ٹیکنالوجی اسٹاکس میں بھرپور سرمایہ کاری کی اور اس خدشے کو نظر انداز کر دیا کہ یہ شعبہ حد سے زیادہ گرم ہورہا ہے۔</p>
<p>ایم ایس سی آئی کا جاپان کے علاوہ ایشیا پیسیفک حصص کا وسیع ترین انڈیکس 1 فیصد بڑھ گیا، جس کی قیادت بنیادی طور پر ٹیکنالوجی اسٹاکس نے کی۔ اس اضافے سے انڈیکس نے گزشتہ ہفتے کی 4 فیصد کمی کا کچھ حصہ واپس حاصل کر لیا۔</p>
<p>انڈیکس رواں ماہ میں 3.8 فیصد کی کمی کی جانب بڑھ رہا ہے، جو مارچ کے بعد اس کی پہلی ماہانہ گراوٹ ہوگی۔</p>
<p>جاپان کا نکی انڈیکس منگل کی ابتدائی ٹریڈنگ میں 0.8 فیصد بڑھ گیا، کیونکہ وہ پیر کو چھٹی کے بعد دوبارہ اوپن ہوا تھا۔ گزشتہ ہفتے انڈیکس میں 3.5 فیصد کی کمی واقع ہوئی تھی جب مارکیٹس پر رسک سے بچنے کے رجحان نے دباؤ ڈال دیا تھا۔</p>
<p>امریکا میں شرحِ سود میں کمی کے امکانات اس وقت بڑھ رہے ہیں جب فیڈرل ریزرو کے گورنر کرسٹوفر والر نے کہا کہ دستیاب اعداد و شمار کے مطابق امریکی لیبر مارکیٹ اتنی کمزور ہے کہ شرحِ سود میں مزید ایک چوتھائی فیصد (25 بیسس پوائنٹس) کمی کی جا سکتی ہے۔</p>
<p>سی ایم ای کے فیڈ واچ ٹول کے مطابق مارکیٹس دسمبر کے اجلاس میں 25 بیسس پوائنٹس کی کمی کے 85.1 فیصد امکانات ظاہر کر رہے ہیں جو ایک ہفتہ قبل 42.4 فیصد تھے۔ امریکی مرکزی بینک 9 اور 10 دسمبر کو اجلاس کرے گا۔</p>
<p>دریں اثنا منگل کے روز انٹر بینک مارکیٹ  میں امریکی ڈالر کے مقابلے میں پاکستانی روپے نے مزید بہتری دکھائی اور اس کی قدر میں 0.02 فیصد اضافہ ہوا۔ کاروبار کے اختتام پر مقامی کرنسی ڈالر کے مقابلے 280.57 روپے پر بند ہوئی، جو امریکی ڈالر کے مقابلے 4 پیسے کا اضافہ ہے۔</p>
<p>آل شیئر انڈیکس میں حجم 490.35 ملین سے بڑھ کر 590.53 ملین ہو گیا۔ تاہم، حصص کی کل مالیت پچھلے سیشن کے 23.67 ارب روپے سے کم ہو کر 22.15 ارب روپے رہ گئی۔</p>
<p>مجموعی حجم میں ورلڈ کال ٹیلی کام سرِ فہرست رہی جس کے 59.20 ملین حصص کا لین دین ہوا، اس کے بعد بینک مکرمہ کے 45.98 ملین اور پی ٹی سی ایل کے 38.78 ملین حصص رہے۔</p>
<p>منگل کو 477 کمپنیوں کے حصص کا کاروبار ہوا، جن میں سے 155 میں اضافہ، 284 میں کمی، اور 38 میں استحکام رہا۔</p>
<p>    <figure class='media  w-full sm:w-full  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://i.brecorder.com/primary/2025/11/251810116db4229.webp'>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.brecorder.com/primary/2025/11/251810116db4229.webp'  alt='' /></picture></div>
        
    </figure></p>
]]></content:encoded>
      <category>Business &amp; Finance</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40279738</guid>
      <pubDate>Tue, 25 Nov 2025 19:57:40 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (بی آر ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2025/11/25105117f6d7d76.webp" type="image/webp" medium="image" height="400" width="700">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2025/11/25105117f6d7d76.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
