<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Pakistan</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 20:52:38 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 20:52:38 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>824 ارب روپے کا سیلاب سے بچائو کا پروگرام منظوری کیلئے مشترکہ مفادات کونسل کو بھیج دیا گیا</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40279733/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;وزارت آبپاشی نے نیشنل فلڈ پروٹیکشن پروگرام چوتھے مرحلے (این ایف پی پی-فور) کی منظوری کے لیے  مشترکہ مفادات کونسل  کو پیش کر دیا ہے، جس کی مجموعی لاگت 824.493 ارب روپے ہے۔ صوبوں نے اپنے مالی حصے فراہم کرنے سے انکار کر دیا ہے۔ سینیٹ کی واٹر ریسورسز اسٹینڈنگ کمیٹی کے اجلاس میں سیکریٹری وزارتِ آبپاشی سید علی مرتضیٰ نے بتایا کہ این ایف پی پی-فور) میں کل 375 منصوبے شامل ہیں جن میں سے 170 سب پراجیکٹس پہلے مرحلے میں 195.625 ارب روپے کی لاگت سے شروع ہوں گے جبکہ دوسرے مرحلے میں 205 سب پراجیکٹس پر 629.868 ارب روپے لاگت آئے گی۔ کل تخمینی لاگت میں سے صوبائی حصے 746.961 ارب اور وفاقی حصہ 77.533 ارب روپے ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سیکریٹری آبپاشی نے کہا کہ این ایف پی پی-فور کی تمام قانونی کارروائیاں مکمل کر لی گئی ہیں اور امید ہے کہ مشترکہ مفادات کونسل کے اگلے اجلاس میں اسے منظوری دے گا۔ اجلاس میں کمیٹی نے دریاؤں اور نہروں کے اطراف تجاوزات کے خاتمے میں وزارت، متعلقہ اداروں اور صوبائی حکومتوں کے درمیان تعاون کی کمی پر شدید تشویش کا اظہار کیا۔ سیکریٹری نے بتایا کہ وزارت صرف خطوط کے ذریعے اپ ڈیٹس حاصل کر سکتی ہے، اور اکثر جوابات میں تاخیر ہوتی ہے۔ کمیٹی کے چیئرمین نے وزیراعظم کو خط لکھنے کا فیصلہ کیا تاکہ وفاقی سیکریٹری کی بے بسی کی نشاندہی کی جا سکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;چیئرمین نے وزارت اور صوبوں کو اضافی دو ماہ کی مہلت دیتے ہوئے ہدایت کی کہ تمام تجاوزات ختم کی جائیں تاکہ مستقبل میں سیلاب سے جانی اور مالی نقصان سے بچا جا سکے۔ سیکریٹری آبپاشی نے مزید بتایا کہ ڈیم سیفٹی کونسل قائم کرنے کے لیے ڈرافٹ بل تیار کیا جا چکا ہے جس میں ایشیائی ترقیاتی بینک کی مدد شامل ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وفاقی منصوبہ بندی اور واپڈا حکام نے بتایا کہ چناب، دریائے سندھ، دیامر بھاشا اور مہمند ڈیم سمیت مختلف منصوبے جاری ہیں جن کی مجموعی لاگت 26 ارب امریکی ڈالر ہے۔ چناب کا پانی 23 ملین ایکڑ فٹ سالانہ پاکستان کے آبپاشی نظام میں فراہم کرتا ہے اور مکمل حصہ بھارت میں ہے، جس سے بھارت پاکستان کی پانی کی رسد متاثر کر سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان کی موجودہ آبادی 251 ملین ہے جو 2050 تک 315 ملین تک پہنچ جائے گی، جس سے زرعی اور شہری ضروریات کے لیے اضافی 70 ملین ایکڑ فٹ پانی درکار ہوگا۔ وزارت نے بتایا کہ پانچ قلیل مدتی ڈیم منصوبے 2030 تک مکمل کیے جائیں گے، جن میں دیامر بھاشا، مہمند، کرم تانگی-II، نالونگ اور نائی گج ڈیم شامل ہیں، جو مجموعی طور پر 11.13 ملین ایکڑ فٹ پانی ذخیرہ کرنے کی صلاحیت بڑھائیں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;صوبوں میں تجاوزات کی صورتحال: پنجاب میں 1,790 سے زائد ختم، 897 باقی؛ سندھ میں 6 ختم، 158 باقی؛ خیبر پختونخوا میں 126 ختم، 251 باقی؛ بلوچستان میں کئی شناخت، کوئی ختم نہیں۔ آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان سے ڈیٹا موصول نہیں ہوا۔ چیئرمین نے صوبوں اور وزارت کو دو ماہ میں تمام تجاوزات ختم کرنے کی ہدایت دی۔ کمیٹی نے سپارکو کی عدم تعمیل کو بھی نوٹس میں لیا اور اسے سینٹ کمیٹی کے وقار کی خلاف ورزی قرار دیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2025&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>وزارت آبپاشی نے نیشنل فلڈ پروٹیکشن پروگرام چوتھے مرحلے (این ایف پی پی-فور) کی منظوری کے لیے  مشترکہ مفادات کونسل  کو پیش کر دیا ہے، جس کی مجموعی لاگت 824.493 ارب روپے ہے۔ صوبوں نے اپنے مالی حصے فراہم کرنے سے انکار کر دیا ہے۔ سینیٹ کی واٹر ریسورسز اسٹینڈنگ کمیٹی کے اجلاس میں سیکریٹری وزارتِ آبپاشی سید علی مرتضیٰ نے بتایا کہ این ایف پی پی-فور) میں کل 375 منصوبے شامل ہیں جن میں سے 170 سب پراجیکٹس پہلے مرحلے میں 195.625 ارب روپے کی لاگت سے شروع ہوں گے جبکہ دوسرے مرحلے میں 205 سب پراجیکٹس پر 629.868 ارب روپے لاگت آئے گی۔ کل تخمینی لاگت میں سے صوبائی حصے 746.961 ارب اور وفاقی حصہ 77.533 ارب روپے ہے۔</strong></p>
<p>سیکریٹری آبپاشی نے کہا کہ این ایف پی پی-فور کی تمام قانونی کارروائیاں مکمل کر لی گئی ہیں اور امید ہے کہ مشترکہ مفادات کونسل کے اگلے اجلاس میں اسے منظوری دے گا۔ اجلاس میں کمیٹی نے دریاؤں اور نہروں کے اطراف تجاوزات کے خاتمے میں وزارت، متعلقہ اداروں اور صوبائی حکومتوں کے درمیان تعاون کی کمی پر شدید تشویش کا اظہار کیا۔ سیکریٹری نے بتایا کہ وزارت صرف خطوط کے ذریعے اپ ڈیٹس حاصل کر سکتی ہے، اور اکثر جوابات میں تاخیر ہوتی ہے۔ کمیٹی کے چیئرمین نے وزیراعظم کو خط لکھنے کا فیصلہ کیا تاکہ وفاقی سیکریٹری کی بے بسی کی نشاندہی کی جا سکے۔</p>
<p>چیئرمین نے وزارت اور صوبوں کو اضافی دو ماہ کی مہلت دیتے ہوئے ہدایت کی کہ تمام تجاوزات ختم کی جائیں تاکہ مستقبل میں سیلاب سے جانی اور مالی نقصان سے بچا جا سکے۔ سیکریٹری آبپاشی نے مزید بتایا کہ ڈیم سیفٹی کونسل قائم کرنے کے لیے ڈرافٹ بل تیار کیا جا چکا ہے جس میں ایشیائی ترقیاتی بینک کی مدد شامل ہے۔</p>
<p>وفاقی منصوبہ بندی اور واپڈا حکام نے بتایا کہ چناب، دریائے سندھ، دیامر بھاشا اور مہمند ڈیم سمیت مختلف منصوبے جاری ہیں جن کی مجموعی لاگت 26 ارب امریکی ڈالر ہے۔ چناب کا پانی 23 ملین ایکڑ فٹ سالانہ پاکستان کے آبپاشی نظام میں فراہم کرتا ہے اور مکمل حصہ بھارت میں ہے، جس سے بھارت پاکستان کی پانی کی رسد متاثر کر سکتا ہے۔</p>
<p>پاکستان کی موجودہ آبادی 251 ملین ہے جو 2050 تک 315 ملین تک پہنچ جائے گی، جس سے زرعی اور شہری ضروریات کے لیے اضافی 70 ملین ایکڑ فٹ پانی درکار ہوگا۔ وزارت نے بتایا کہ پانچ قلیل مدتی ڈیم منصوبے 2030 تک مکمل کیے جائیں گے، جن میں دیامر بھاشا، مہمند، کرم تانگی-II، نالونگ اور نائی گج ڈیم شامل ہیں، جو مجموعی طور پر 11.13 ملین ایکڑ فٹ پانی ذخیرہ کرنے کی صلاحیت بڑھائیں گے۔</p>
<p>صوبوں میں تجاوزات کی صورتحال: پنجاب میں 1,790 سے زائد ختم، 897 باقی؛ سندھ میں 6 ختم، 158 باقی؛ خیبر پختونخوا میں 126 ختم، 251 باقی؛ بلوچستان میں کئی شناخت، کوئی ختم نہیں۔ آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان سے ڈیٹا موصول نہیں ہوا۔ چیئرمین نے صوبوں اور وزارت کو دو ماہ میں تمام تجاوزات ختم کرنے کی ہدایت دی۔ کمیٹی نے سپارکو کی عدم تعمیل کو بھی نوٹس میں لیا اور اسے سینٹ کمیٹی کے وقار کی خلاف ورزی قرار دیا۔</p>
<p>کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2025</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40279733</guid>
      <pubDate>Tue, 25 Nov 2025 10:02:46 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (مشتاق گھمن)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2025/11/25100032db08256.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2025/11/25100032db08256.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
