<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Pakistan</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 15:50:45 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 15:50:45 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>فوری اصلاحات نہ ہونے پر سرمایہ کاروں کے انخلا کا خطرہ بڑھنے لگا</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40279732/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;حکومتی سطح پر فوری اصلاحات کے بغیر، جن کا مقصد ضابطہ جاتی استحکام، آپریشنل اخراجات میں کمی اور کاروبار دوست ماحول کی تشکیل ہو، پاکستان کے لیے موجودہ سرمایہ کاروں کو برقرار رکھنا ہی نہیں بلکہ نئے سرمایہ کاروں کو راغب کرنا بھی مشکل ہوتا جا رہا ہے۔ یہ بات حکومتی عہدیداروں اور انفارمیشن ٹیکنالوجی و ٹیلی کام شعبے کے ماہرین کے ساتھ ہونے والی پس منظر گفتگو میں سامنے آئی، جہاں بتایا گیا کہ خطے کے بلند ترین ٹیکس نظام نے کئی بڑی ملٹی نیشنل کمپنیوں کو پاکستان میں اپنی سرگرمیاں محدود کرنے یا ازسرنو ترتیب دینے پر مجبور کر دیا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ماہرین کے مطابق منافع میں کمی، غیر متوقع پالیسی ماحول اور کمزور سرمایہ کاری فضا نے مائیکروسافٹ، اوبر اور ٹیلی نار جیسی کمپنیوں کو پاکستان میں اپنے طویل المدتی مستقبل پر نظرثانی کرنے پر مجبور کیا ہے۔ یونیورسل سروس فنڈ کے بانی چیف ایگزیکٹو اور آئی سی ٹی پالیسی کنسلٹنٹ پرویز افتخار کا کہنا ہے کہ بھاری ٹیکسوں، اسپیکٹرم کی کمی، غیر یقینی پالیسیوں اور بلند اخراجات، خصوصاً ٹیلی کام شعبے پر کمرشل بجلی نرخوں کے نفاذ نے غیر ملکی کمپنیوں کی سرمایہ کاری کو ناممکن بنا دیا ہے۔ ان کے مطابق ٹیلی کام سروسز کے استعمال پر اس وقت 34.5 فیصد ٹیکس لاگو ہے جس میں 19.5 فیصد جی ایس ٹی اور 15 فیصد ودہولڈنگ ٹیکس شامل ہے، جبکہ مقامی اسمارٹ فونز اور درآمدی آلات پر بھی بھاری ڈیوٹیاں عائد ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وفاقی وزیر آئی ٹی و ٹیلی کام شیزا فاطمہ خواجہ نے خبردار کیا ہے کہ پاکستان میں فائیو جی کی متوقع لانچ خطرے سے دوچار ہے کیونکہ شعبے کے اخراجات بڑھ چکے ہیں، منافع کی شرح کم ہے اور لائسنس فیس ڈالر سے منسلک ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ملک میں صرف 274 میگا ہرٹز اسپیکٹرم دستیاب ہے جو خطے کے دیگر ممالک کے مقابلے میں انتہائی کم ہے، جس سے پورا ٹیلی کام ایکو سسٹم دباؤ کا شکار ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دسمبر 2024 میں ٹیلی نار نے اپنی پاکستان میں موجودگی ختم کرتے ہوئے اپنی سرگرمیاں پی ٹی سی ایل کو فروخت کر دیں جبکہ جولائی 2025 میں مائیکروسافٹ نے پاکستان آفس بند کرنے کا اعلان کیا۔ اگرچہ حکومت کا موقف ہے کہ کمپنی مکمل طور پر نہیں جا رہی بلکہ شراکت داروں کے ذریعے کلاؤڈ بیسڈ ماڈل اپنایا جا رہا ہے، تاہم ماہرین کے نزدیک یہ فیصلہ کاروباری اعتماد میں کمی کی واضح علامت ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اوبر نے اپریل 2024 میں پاکستان میں اپنی ایپ سروس بند کر دی جبکہ کریم نے بھی جولائی 2025 تک اپنی خدمات معطل کرنے کا فیصلہ کیا، جس کی وجہ معاشی دباؤ، بڑھتی مہنگائی اور صارفین کی قوت خرید میں کمی بتائی گئی۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ان تمام فیصلوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ پاکستان میں سرمایہ کاری کا ماحول تیزی سے کمزور ہو رہا ہے، جس پر فوری اور ٹھوس اصلاحات کی اشد ضرورت ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2025&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>حکومتی سطح پر فوری اصلاحات کے بغیر، جن کا مقصد ضابطہ جاتی استحکام، آپریشنل اخراجات میں کمی اور کاروبار دوست ماحول کی تشکیل ہو، پاکستان کے لیے موجودہ سرمایہ کاروں کو برقرار رکھنا ہی نہیں بلکہ نئے سرمایہ کاروں کو راغب کرنا بھی مشکل ہوتا جا رہا ہے۔ یہ بات حکومتی عہدیداروں اور انفارمیشن ٹیکنالوجی و ٹیلی کام شعبے کے ماہرین کے ساتھ ہونے والی پس منظر گفتگو میں سامنے آئی، جہاں بتایا گیا کہ خطے کے بلند ترین ٹیکس نظام نے کئی بڑی ملٹی نیشنل کمپنیوں کو پاکستان میں اپنی سرگرمیاں محدود کرنے یا ازسرنو ترتیب دینے پر مجبور کر دیا ہے۔</strong></p>
<p>ماہرین کے مطابق منافع میں کمی، غیر متوقع پالیسی ماحول اور کمزور سرمایہ کاری فضا نے مائیکروسافٹ، اوبر اور ٹیلی نار جیسی کمپنیوں کو پاکستان میں اپنے طویل المدتی مستقبل پر نظرثانی کرنے پر مجبور کیا ہے۔ یونیورسل سروس فنڈ کے بانی چیف ایگزیکٹو اور آئی سی ٹی پالیسی کنسلٹنٹ پرویز افتخار کا کہنا ہے کہ بھاری ٹیکسوں، اسپیکٹرم کی کمی، غیر یقینی پالیسیوں اور بلند اخراجات، خصوصاً ٹیلی کام شعبے پر کمرشل بجلی نرخوں کے نفاذ نے غیر ملکی کمپنیوں کی سرمایہ کاری کو ناممکن بنا دیا ہے۔ ان کے مطابق ٹیلی کام سروسز کے استعمال پر اس وقت 34.5 فیصد ٹیکس لاگو ہے جس میں 19.5 فیصد جی ایس ٹی اور 15 فیصد ودہولڈنگ ٹیکس شامل ہے، جبکہ مقامی اسمارٹ فونز اور درآمدی آلات پر بھی بھاری ڈیوٹیاں عائد ہیں۔</p>
<p>وفاقی وزیر آئی ٹی و ٹیلی کام شیزا فاطمہ خواجہ نے خبردار کیا ہے کہ پاکستان میں فائیو جی کی متوقع لانچ خطرے سے دوچار ہے کیونکہ شعبے کے اخراجات بڑھ چکے ہیں، منافع کی شرح کم ہے اور لائسنس فیس ڈالر سے منسلک ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ملک میں صرف 274 میگا ہرٹز اسپیکٹرم دستیاب ہے جو خطے کے دیگر ممالک کے مقابلے میں انتہائی کم ہے، جس سے پورا ٹیلی کام ایکو سسٹم دباؤ کا شکار ہے۔</p>
<p>دسمبر 2024 میں ٹیلی نار نے اپنی پاکستان میں موجودگی ختم کرتے ہوئے اپنی سرگرمیاں پی ٹی سی ایل کو فروخت کر دیں جبکہ جولائی 2025 میں مائیکروسافٹ نے پاکستان آفس بند کرنے کا اعلان کیا۔ اگرچہ حکومت کا موقف ہے کہ کمپنی مکمل طور پر نہیں جا رہی بلکہ شراکت داروں کے ذریعے کلاؤڈ بیسڈ ماڈل اپنایا جا رہا ہے، تاہم ماہرین کے نزدیک یہ فیصلہ کاروباری اعتماد میں کمی کی واضح علامت ہے۔</p>
<p>اوبر نے اپریل 2024 میں پاکستان میں اپنی ایپ سروس بند کر دی جبکہ کریم نے بھی جولائی 2025 تک اپنی خدمات معطل کرنے کا فیصلہ کیا، جس کی وجہ معاشی دباؤ، بڑھتی مہنگائی اور صارفین کی قوت خرید میں کمی بتائی گئی۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ان تمام فیصلوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ پاکستان میں سرمایہ کاری کا ماحول تیزی سے کمزور ہو رہا ہے، جس پر فوری اور ٹھوس اصلاحات کی اشد ضرورت ہے۔</p>
<p>کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2025</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40279732</guid>
      <pubDate>Tue, 25 Nov 2025 09:37:39 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (طاہر امین)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2025/11/250934408116b8b.webp" type="image/webp" medium="image" height="768" width="1024">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2025/11/250934408116b8b.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
