<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Markets - Energy</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 22:25:07 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 22:25:07 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>اضافی رسد کے خدشات کے باعث خام تیل کی قیمتیں گرگئیں</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40279731/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;عالمی منڈی میں منگل کے روز تیل کی قیمتوں میں معمولی کمی دیکھی گئی، کیونکہ اگلے سال رسد  بڑھنے کے خدشات نے روسی تیل کی ترسیل پر پابندیوں سے متعلق تشویش کو پسِ پشت ڈال دیا۔ یوکرین جنگ کے خاتمے کے لیے جاری سفارتی کوششوں کے غیر نتیجہ خیز رہنے کے باوجود مارکیٹ کا عمومی رجحان محتاط رہا۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;برینٹ خام تیل کے فیوچرز میں 17 سینٹ کی کمی ریکارڈ کی گئی اور یہ 63.20 ڈالر فی بیرل پر آ گیا، جبکہ ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ خام تیل 12 سینٹ کم ہو کر 58.71 ڈالر فی بیرل پر ٹریڈ ہوا۔ اس سے قبل پیر کو دونوں بینچ مارکس میں 1.3 فیصد اضافہ دیکھا گیا تھا، جس کی وجہ روس یوکرین جنگ سے متعلق امن معاہدے پر غیر یقینی صورتحال تھی، جس سے روسی تیل کی آزادانہ فراہمی کی توقعات متاثر ہوئیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مغربی پابندیوں کے باعث روسی تیل اور ایندھن کی رسد پہلے ہی محدود ہے، تاہم تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ 2026 کے دوران عالمی تیل کی رسد اور طلب میں توازن مزید کمزور ہو سکتا ہے کیونکہ متعدد اندازوں کے مطابق رسد میں اضافہ طلب کے مقابلے میں زیادہ ہوگا۔ جرمن مالیاتی ادارے ڈوئچے بینک کے مطابق 2026 میں خام تیل کی یومیہ اضافی رسد کم از کم 20 لاکھ بیرل تک پہنچ سکتی ہے اور 2027 تک بھی مارکیٹ میں دوبارہ خسارے کی کوئی واضح راہ نظر نہیں آ رہی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بینک کے تجزیہ کار مائیکل ہسو کے مطابق 2026 کے لیے تیل کی قیمتوں کا رجحان منفی رہنے کا امکان ہے۔ انہوں نے کہا کہ مستقبل قریب میں مارکیٹ دباؤ کا شکار رہ سکتی ہے، خاص طور پر اگر روس اور یوکرین کے درمیان امن معاہدہ طے پا جاتا ہے، جس کے نتیجے میں ماسکو پر عائد پابندیاں ختم ہو سکتی ہیں اور  روکے گئے تیل کی فراہمی دوبارہ عالمی منڈی میں داخل ہو جائے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم تیل کی قیمتوں کو کچھ سہارا اس امکان سے بھی مل رہا ہے کہ امریکہ دسمبر میں اپنی مانیٹری پالیسی کے اجلاس کے دوران شرح سود میں کمی کر سکتا ہے۔ فیڈرل ریزرو کے اراکین کی جانب سے شرح سود میں نرمی کے اشاروں سے یہ توقع کی جا رہی ہے کہ معاشی سرگرمی میں تیزی آئے گی، جس سے توانائی کی طلب میں اضافہ ہو سکتا ہے اور تیل کی قیمتوں کو جزوی سہارا مل سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>عالمی منڈی میں منگل کے روز تیل کی قیمتوں میں معمولی کمی دیکھی گئی، کیونکہ اگلے سال رسد  بڑھنے کے خدشات نے روسی تیل کی ترسیل پر پابندیوں سے متعلق تشویش کو پسِ پشت ڈال دیا۔ یوکرین جنگ کے خاتمے کے لیے جاری سفارتی کوششوں کے غیر نتیجہ خیز رہنے کے باوجود مارکیٹ کا عمومی رجحان محتاط رہا۔</strong></p>
<p>برینٹ خام تیل کے فیوچرز میں 17 سینٹ کی کمی ریکارڈ کی گئی اور یہ 63.20 ڈالر فی بیرل پر آ گیا، جبکہ ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ خام تیل 12 سینٹ کم ہو کر 58.71 ڈالر فی بیرل پر ٹریڈ ہوا۔ اس سے قبل پیر کو دونوں بینچ مارکس میں 1.3 فیصد اضافہ دیکھا گیا تھا، جس کی وجہ روس یوکرین جنگ سے متعلق امن معاہدے پر غیر یقینی صورتحال تھی، جس سے روسی تیل کی آزادانہ فراہمی کی توقعات متاثر ہوئیں۔</p>
<p>مغربی پابندیوں کے باعث روسی تیل اور ایندھن کی رسد پہلے ہی محدود ہے، تاہم تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ 2026 کے دوران عالمی تیل کی رسد اور طلب میں توازن مزید کمزور ہو سکتا ہے کیونکہ متعدد اندازوں کے مطابق رسد میں اضافہ طلب کے مقابلے میں زیادہ ہوگا۔ جرمن مالیاتی ادارے ڈوئچے بینک کے مطابق 2026 میں خام تیل کی یومیہ اضافی رسد کم از کم 20 لاکھ بیرل تک پہنچ سکتی ہے اور 2027 تک بھی مارکیٹ میں دوبارہ خسارے کی کوئی واضح راہ نظر نہیں آ رہی۔</p>
<p>بینک کے تجزیہ کار مائیکل ہسو کے مطابق 2026 کے لیے تیل کی قیمتوں کا رجحان منفی رہنے کا امکان ہے۔ انہوں نے کہا کہ مستقبل قریب میں مارکیٹ دباؤ کا شکار رہ سکتی ہے، خاص طور پر اگر روس اور یوکرین کے درمیان امن معاہدہ طے پا جاتا ہے، جس کے نتیجے میں ماسکو پر عائد پابندیاں ختم ہو سکتی ہیں اور  روکے گئے تیل کی فراہمی دوبارہ عالمی منڈی میں داخل ہو جائے گی۔</p>
<p>تاہم تیل کی قیمتوں کو کچھ سہارا اس امکان سے بھی مل رہا ہے کہ امریکہ دسمبر میں اپنی مانیٹری پالیسی کے اجلاس کے دوران شرح سود میں کمی کر سکتا ہے۔ فیڈرل ریزرو کے اراکین کی جانب سے شرح سود میں نرمی کے اشاروں سے یہ توقع کی جا رہی ہے کہ معاشی سرگرمی میں تیزی آئے گی، جس سے توانائی کی طلب میں اضافہ ہو سکتا ہے اور تیل کی قیمتوں کو جزوی سہارا مل سکتا ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Markets</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40279731</guid>
      <pubDate>Tue, 25 Nov 2025 09:27:12 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (رائٹرز)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2025/11/2509252152efcaa.webp" type="image/webp" medium="image" height="320" width="480">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2025/11/2509252152efcaa.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
