<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Pakistan</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 19:00:49 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 19:00:49 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>شیل اور ٹوٹل انرجیز کے ملک سے انخلا پر ماہرین کی مختلف آرا</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40279729/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;پاکستان کی ریٹیل توانائی مارکیٹ سے دو بڑے عالمی اداروں شیل پٹرولیم لمیٹڈ (ایس پی ایل) اور ٹوٹل انرجیز کے حالیہ انخلا نے صنعت کے اندر اور توانائی کے ماہرین کے درمیان مختلف آرا کو جنم دیا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ماہرین کے مطابق پاکستان میں توانائی کی ریٹیل مارکیٹ سکڑ نہیں رہی بلکہ اس کی ملکیت نئے بین الاقوامی سرمایہ کاروں کو منتقل ہو رہی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ تبدیلی مارکیٹ کے زوال کی علامت نہیں بلکہ ملکیتی ڈھانچے میں تبدیلی کا نتیجہ ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جون 2023 میں شیل نے اعلان کیا تھا کہ وہ شیل پاکستان میں اپنا 77 فیصد شیئر فروخت کرنا چاہتی ہے، جو بعدازاں سعودی کمپنی وافی انرجی ایل ایل سی نے خرید لیا۔ اسی طرح اگست 2024 میں ٹوٹل انرجیز نے ٹوٹل پارکو پاکستان لمیٹڈ میں اپنا 50 فیصد حصہ عالمی اجناس کی تجارت کرنے والی کمپنی گنوور گروپ کو فروخت کر دیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;شیل کی جانب سے پاکستان سے نکلنے کا فیصلہ اس وقت سامنے آیا جب اس کی مقامی کمپنی شیل پاکستان کو 2022 میں بھاری مالی نقصانات کا سامنا کرنا پڑا۔ یہ نقصانات کئی وجوہات کی بنا پر ہوئے جن میں زر مبادلہ کی شرح میں اتار چڑھاؤ، پاکستانی روپے کی قدر میں نمایاں کمی، واجبات کی عدم وصولی اور منافع کی بیرون ملک ترسیل میں مشکلات شامل تھیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایک سابق سیکریٹری پٹرولیم نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر کہا کہ یہ معاملات دراصل عالمی سطح پر تنظیم نو یا ملکیت کی منتقلی کی عکاسی کرتے ہیں۔ ان کے مطابق شیل نے صرف پاکستان ہی نہیں بلکہ دنیا کے کئی دیگر ممالک سے بھی اپنے کاروبار سمیٹے ہیں کیونکہ وہ روایتی پٹرولیم سے ہٹ کر گرین انرجی کی جانب منتقل ہو رہی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ شیل کا پاکستان میں کاروبار سعودی عرب کی وافی انرجی نے سنبھال لیا ہے جو یہاں اپنے آپریشنز کو وسعت دے رہی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ٹاپ لائن سیکیورٹیز کے ایک محقق کے مطابق ٹوٹل پارکو ختم نہیں ہوئی بلکہ اسے سوئٹزرلینڈ کی عالمی کمپنی گنوور گروپ نے سنبھال لیا ہے جو پاکستان میں اپنی ریٹیل سرگرمیوں کو جاری رکھے ہوئے ہے اور انہیں مزید پھیلا رہی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان پٹرولیم ڈیلرز ایسوسی ایشن کے سابق چیئرمین کے مطابق یہ صورتحال متعلقہ کمپنیوں کی عالمی اور علاقائی سطح پر بدلتی ہوئی حکمت عملیوں اور مقامی سطح پر غیر موافق معاشی و سرمایہ کاری ماحول کا مجموعہ ہے۔ ان کے بقول یہ تبدیلیاں وقتی ہیں اور توانائی کے شعبے میں نئی سرمایہ کاری کے امکانات اب بھی موجود ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2025&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>پاکستان کی ریٹیل توانائی مارکیٹ سے دو بڑے عالمی اداروں شیل پٹرولیم لمیٹڈ (ایس پی ایل) اور ٹوٹل انرجیز کے حالیہ انخلا نے صنعت کے اندر اور توانائی کے ماہرین کے درمیان مختلف آرا کو جنم دیا ہے۔</strong></p>
<p>ماہرین کے مطابق پاکستان میں توانائی کی ریٹیل مارکیٹ سکڑ نہیں رہی بلکہ اس کی ملکیت نئے بین الاقوامی سرمایہ کاروں کو منتقل ہو رہی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ تبدیلی مارکیٹ کے زوال کی علامت نہیں بلکہ ملکیتی ڈھانچے میں تبدیلی کا نتیجہ ہے۔</p>
<p>جون 2023 میں شیل نے اعلان کیا تھا کہ وہ شیل پاکستان میں اپنا 77 فیصد شیئر فروخت کرنا چاہتی ہے، جو بعدازاں سعودی کمپنی وافی انرجی ایل ایل سی نے خرید لیا۔ اسی طرح اگست 2024 میں ٹوٹل انرجیز نے ٹوٹل پارکو پاکستان لمیٹڈ میں اپنا 50 فیصد حصہ عالمی اجناس کی تجارت کرنے والی کمپنی گنوور گروپ کو فروخت کر دیا۔</p>
<p>شیل کی جانب سے پاکستان سے نکلنے کا فیصلہ اس وقت سامنے آیا جب اس کی مقامی کمپنی شیل پاکستان کو 2022 میں بھاری مالی نقصانات کا سامنا کرنا پڑا۔ یہ نقصانات کئی وجوہات کی بنا پر ہوئے جن میں زر مبادلہ کی شرح میں اتار چڑھاؤ، پاکستانی روپے کی قدر میں نمایاں کمی، واجبات کی عدم وصولی اور منافع کی بیرون ملک ترسیل میں مشکلات شامل تھیں۔</p>
<p>ایک سابق سیکریٹری پٹرولیم نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر کہا کہ یہ معاملات دراصل عالمی سطح پر تنظیم نو یا ملکیت کی منتقلی کی عکاسی کرتے ہیں۔ ان کے مطابق شیل نے صرف پاکستان ہی نہیں بلکہ دنیا کے کئی دیگر ممالک سے بھی اپنے کاروبار سمیٹے ہیں کیونکہ وہ روایتی پٹرولیم سے ہٹ کر گرین انرجی کی جانب منتقل ہو رہی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ شیل کا پاکستان میں کاروبار سعودی عرب کی وافی انرجی نے سنبھال لیا ہے جو یہاں اپنے آپریشنز کو وسعت دے رہی ہے۔</p>
<p>ٹاپ لائن سیکیورٹیز کے ایک محقق کے مطابق ٹوٹل پارکو ختم نہیں ہوئی بلکہ اسے سوئٹزرلینڈ کی عالمی کمپنی گنوور گروپ نے سنبھال لیا ہے جو پاکستان میں اپنی ریٹیل سرگرمیوں کو جاری رکھے ہوئے ہے اور انہیں مزید پھیلا رہی ہے۔</p>
<p>پاکستان پٹرولیم ڈیلرز ایسوسی ایشن کے سابق چیئرمین کے مطابق یہ صورتحال متعلقہ کمپنیوں کی عالمی اور علاقائی سطح پر بدلتی ہوئی حکمت عملیوں اور مقامی سطح پر غیر موافق معاشی و سرمایہ کاری ماحول کا مجموعہ ہے۔ ان کے بقول یہ تبدیلیاں وقتی ہیں اور توانائی کے شعبے میں نئی سرمایہ کاری کے امکانات اب بھی موجود ہیں۔</p>
<p>کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2025</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40279729</guid>
      <pubDate>Tue, 25 Nov 2025 09:08:15 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (وسیم اقبال)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2025/11/25090602cb5387a.webp" type="image/webp" medium="image" height="571" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2025/11/25090602cb5387a.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
