<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Markets</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 22:25:07 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 22:25:07 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>پاکستان نے بنگلہ دیش کے لیے باقاعدہ سمندری تعاون کا فریم ورک پیش کردیا</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40279725/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;پاکستان نے بنگلہ دیش کے ساتھ دو طرفہ سمندری تعلقات مضبوط بنانے کے لیے اپنے قومی شپنگ کارپوریشنز کے درمیان باقاعدہ تعاون کے فریم ورک کے قیام کی تجویز پیش کی ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان کے وفاقی وزیر برائے سمندری امور &lt;strong&gt;محمد جنید انور چوہدری&lt;/strong&gt; نے لندن میں ایک اجلاس کے دوران بنگلہ دیش کے مشیر برائے شپنگ &lt;strong&gt;بریگیڈیئر جنرل (ریٹائرڈ) ڈاکٹر ایم سخاوت حسین&lt;/strong&gt; کے ساتھ یہ تجویز پیش کی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزارتِ سمندری امور کے مطابق محمد جنید انور چوہدری نے پاکستان نیشنل شپنگ کارپوریشن (پی این ایس سی) اور بنگلہ دیش شپنگ کارپوریشن ( بی ایس سی) کے درمیان باقاعدہ تعاون کے فریم ورک کے قیام کی تجویز دی تاکہ دونوں ممالک کے درمیان سمندری تعاون کو مزید گہرا کیا جا سکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تجویز میں ”مشترکہ کنٹینر اور بلک شپنگ سروسز، فنی تربیتی پروگرامز، سمندری سلامتی اور میرین اہلکاروں کی ترقی میں تعاون، باہمی بندرگاہ کالز کی سہولت کاری، اور اعلیٰ سطح پر سفارتی و فنی روابط کو مضبوط بنانے سمیت جامع شراکت داری کا خاکہ“ پیش کیا گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اجلاس کے دوران وفاقی وزیر سمندری امور نے پاکستان کے لیے بین الاقوامی سمندری تنظیم (آئی ایم او ) کی کیٹیگری سی انتخابات میں بنگلہ دیش کی حمایت بھی طلب کی اور اسلام آباد کی اس بات کو دہرایا کہ وہ باہمی تعاون کے تحت اس کا بدلہ دے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ ”پاکستان آئی ایم او کیٹیگری سی انتخابات میں بنگلہ دیش کی درخواست کی مثبت حمایت کرے گا“، جس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ دونوں ممالک مختلف کثیرالجہتی فورمز پر دو طرفہ ہم آہنگی کو بڑھانے کے خواہاں ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وفاقی وزیر نے زور دیا کہ بنگلہ دیش کے ساتھ تعاون کے فریم ورک ایسے پلیٹ فارمز پر بھی بنایا جائے جیسے آئی ایم او ، انٹرنیشنل لیبر آرگنائزیشن ( آئی ایل او ) برائے میرین اہلکاروں کے امور، اور دیگر متعلقہ علاقائی سمندری گروپس۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ مضبوط ہم آہنگی دونوں ممالک کی صلاحیت کو بڑھائے گی کہ وہ عالمی سمندری پالیسی کی تشکیل میں کردار ادا کریں اور شپنگ، بندرگاہ کی ترقی اور میرین اہلکاروں کی فلاح و بہبود میں مشترکہ مفادات کا تحفظ کریں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;محمد جنید انور&lt;/strong&gt; چوہدری نے پاکستان کی جانب سے پہلے کیے گئے پیشکش کو بھی دہرایا کہ کراچی پورٹ ٹرسٹ ( کے پی ٹی ) کی سہولتیں بنگلہ دیشی مال برداری کے لیے دستیاب کرائی جائیں، اور پچھلے اعلیٰ سطح کے تبادلوں میں دی گئی یقین دہانیوں کو یاد دلایا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کے پی ٹی کی ”توسیع پذیر صلاحیت، جاری جدید کاری کے اقدامات، اور بہتر ٹرن اراؤنڈ ٹائمز“ کو اس بات کی مثال کے طور پر پیش کیا کہ پاکستان علاقائی تجارتی بہاؤ کی حمایت کے لیے تیار ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزیر نے کہا کہ بندرگاہ سے بندرگاہ کے قریبی تعاون سے لاجسٹک چیلنجز میں کمی، علاقائی رکاوٹوں کو دور کرنے اور جنوبی ایشیا میں تجارتی یکجہتی کے نئے مواقع پیدا کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;چوہدری نے پاکستان–بنگلہ دیش میرین ڈائیلاگ کے آغاز کی بھی تجویز دی، جو بندرگاہ کی ترقی، شپنگ سیکٹر کے تعاون، بلیو اکنامی، ماہی گیری اور دیگر ابھرتے ہوئے سمندری مسائل پر باقاعدہ گفت و شنید کے لیے ایک منظم پلیٹ فارم ہوگا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزارتِ سمندری امور کے بیان کے مطابق دونوں فریقین نے علاقائی استحکام، اقتصادی ترقی اور مشترکہ خوشحالی کے لیے سمندری تعاون کو مضبوط بنانے پر کام کرنے پر اتفاق کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزارت کے مطابق ”اجلاس اختتام پذیر ہوا اور دونوں فریقین نے باہمی وعدہ کیا کہ دو طرفہ تعلقات میں رفتار کو برقرار رکھا جائے گا اور تجویز کردہ اقدامات کو عملی جامہ پہنانے کے لیے ٹھوس اقدامات تلاش کیے جائیں گے۔“&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>پاکستان نے بنگلہ دیش کے ساتھ دو طرفہ سمندری تعلقات مضبوط بنانے کے لیے اپنے قومی شپنگ کارپوریشنز کے درمیان باقاعدہ تعاون کے فریم ورک کے قیام کی تجویز پیش کی ہے۔</strong></p>
<p>پاکستان کے وفاقی وزیر برائے سمندری امور <strong>محمد جنید انور چوہدری</strong> نے لندن میں ایک اجلاس کے دوران بنگلہ دیش کے مشیر برائے شپنگ <strong>بریگیڈیئر جنرل (ریٹائرڈ) ڈاکٹر ایم سخاوت حسین</strong> کے ساتھ یہ تجویز پیش کی۔</p>
<p>وزارتِ سمندری امور کے مطابق محمد جنید انور چوہدری نے پاکستان نیشنل شپنگ کارپوریشن (پی این ایس سی) اور بنگلہ دیش شپنگ کارپوریشن ( بی ایس سی) کے درمیان باقاعدہ تعاون کے فریم ورک کے قیام کی تجویز دی تاکہ دونوں ممالک کے درمیان سمندری تعاون کو مزید گہرا کیا جا سکے۔</p>
<p>تجویز میں ”مشترکہ کنٹینر اور بلک شپنگ سروسز، فنی تربیتی پروگرامز، سمندری سلامتی اور میرین اہلکاروں کی ترقی میں تعاون، باہمی بندرگاہ کالز کی سہولت کاری، اور اعلیٰ سطح پر سفارتی و فنی روابط کو مضبوط بنانے سمیت جامع شراکت داری کا خاکہ“ پیش کیا گیا ہے۔</p>
<p>اجلاس کے دوران وفاقی وزیر سمندری امور نے پاکستان کے لیے بین الاقوامی سمندری تنظیم (آئی ایم او ) کی کیٹیگری سی انتخابات میں بنگلہ دیش کی حمایت بھی طلب کی اور اسلام آباد کی اس بات کو دہرایا کہ وہ باہمی تعاون کے تحت اس کا بدلہ دے گا۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ ”پاکستان آئی ایم او کیٹیگری سی انتخابات میں بنگلہ دیش کی درخواست کی مثبت حمایت کرے گا“، جس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ دونوں ممالک مختلف کثیرالجہتی فورمز پر دو طرفہ ہم آہنگی کو بڑھانے کے خواہاں ہیں۔</p>
<p>وفاقی وزیر نے زور دیا کہ بنگلہ دیش کے ساتھ تعاون کے فریم ورک ایسے پلیٹ فارمز پر بھی بنایا جائے جیسے آئی ایم او ، انٹرنیشنل لیبر آرگنائزیشن ( آئی ایل او ) برائے میرین اہلکاروں کے امور، اور دیگر متعلقہ علاقائی سمندری گروپس۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ مضبوط ہم آہنگی دونوں ممالک کی صلاحیت کو بڑھائے گی کہ وہ عالمی سمندری پالیسی کی تشکیل میں کردار ادا کریں اور شپنگ، بندرگاہ کی ترقی اور میرین اہلکاروں کی فلاح و بہبود میں مشترکہ مفادات کا تحفظ کریں۔</p>
<p><strong>محمد جنید انور</strong> چوہدری نے پاکستان کی جانب سے پہلے کیے گئے پیشکش کو بھی دہرایا کہ کراچی پورٹ ٹرسٹ ( کے پی ٹی ) کی سہولتیں بنگلہ دیشی مال برداری کے لیے دستیاب کرائی جائیں، اور پچھلے اعلیٰ سطح کے تبادلوں میں دی گئی یقین دہانیوں کو یاد دلایا۔</p>
<p>انہوں نے کے پی ٹی کی ”توسیع پذیر صلاحیت، جاری جدید کاری کے اقدامات، اور بہتر ٹرن اراؤنڈ ٹائمز“ کو اس بات کی مثال کے طور پر پیش کیا کہ پاکستان علاقائی تجارتی بہاؤ کی حمایت کے لیے تیار ہے۔</p>
<p>وزیر نے کہا کہ بندرگاہ سے بندرگاہ کے قریبی تعاون سے لاجسٹک چیلنجز میں کمی، علاقائی رکاوٹوں کو دور کرنے اور جنوبی ایشیا میں تجارتی یکجہتی کے نئے مواقع پیدا کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔</p>
<p>چوہدری نے پاکستان–بنگلہ دیش میرین ڈائیلاگ کے آغاز کی بھی تجویز دی، جو بندرگاہ کی ترقی، شپنگ سیکٹر کے تعاون، بلیو اکنامی، ماہی گیری اور دیگر ابھرتے ہوئے سمندری مسائل پر باقاعدہ گفت و شنید کے لیے ایک منظم پلیٹ فارم ہوگا۔</p>
<p>وزارتِ سمندری امور کے بیان کے مطابق دونوں فریقین نے علاقائی استحکام، اقتصادی ترقی اور مشترکہ خوشحالی کے لیے سمندری تعاون کو مضبوط بنانے پر کام کرنے پر اتفاق کیا۔</p>
<p>وزارت کے مطابق ”اجلاس اختتام پذیر ہوا اور دونوں فریقین نے باہمی وعدہ کیا کہ دو طرفہ تعلقات میں رفتار کو برقرار رکھا جائے گا اور تجویز کردہ اقدامات کو عملی جامہ پہنانے کے لیے ٹھوس اقدامات تلاش کیے جائیں گے۔“</p>
]]></content:encoded>
      <category>Markets</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40279725</guid>
      <pubDate>Mon, 24 Nov 2025 19:41:56 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ریحان ایوب)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2025/11/241915410e95277.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2025/11/241915410e95277.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
