<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Business &amp; Finance</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 19:54:51 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 19:54:51 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>آئندہ سال بعض صنعتی علاقوں میں سولر کی پیداوار گرڈ کی طلب سے زیادہ ہونے کا امکان</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40279708/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;ایک سینئر حکومتی اہلکار نے بتایا کہ پاکستان میں اگلے سال کچھ بڑے صنعتی علاقوں میں دن کے اوقات میں چھتوں پر نصب سولر کی پیداوار پہلی بار ملک کے بجلی کے گرڈ کی طلب سے زیادہ ہو جائے گی۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ رجحان حالیہ برسوں میں ملک میں شمسی پینل کی ریکارڈ تنصیبات کی عکاسی کرتا ہے، جس سے کچھ صارفین کے لیے بجلی کے بل کم ہوئے اور اخراج میں کمی آئی، لیکن گرڈ پر مبنی بجلی کی طلب میں طویل کمی کی وجہ سے قرض میں ڈوبی یوٹیلٹیز کی مالی حالت متاثر ہوئی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;برازیل میں منعقدہ کاپ 30  ماحولیاتی کانفرنس کے موقع پر پاکستان کی سیکریٹری برائے موسمیاتی تبدیلی و ماحولیاتی ہم آہنگی عائشہ  موریانی نے بتایا کہ دن کے بعض اوقات میں گرڈ سے منسلک بجلی کی طلب منفی ہو سکتی ہے، کیونکہ بیک-دی-میٹر سولر مکمل طور پر گرڈ کی کھپت کو پورا کر رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ یورپ اور آسٹریلیا میں کبھی کبھار سولر کی زیادتی اور کم طلب کی وجہ سے بجلی کی قیمتیں منفی ہو جاتی ہیں، لیکن پاکستان ابتدائی بڑی ابھرتی ہوئی مارکیٹس میں شامل ہوگا جہاں کچھ علاقوں میں چھتوں پر نصب سولر کی پیداوار طویل عرصے تک گرڈ کی طلب سے زیادہ رہ سکتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;منفی طلب کے امکانات سب سے زیادہ لاہور میں ہیں، جہاں سولر کا نفاذ سب سے زیادہ ہے، اس کے بعد فیصل آباد اور سیالکوٹ آتے ہیں جہاں صنعتی علاقے سولر کے استعمال کو فروغ دے رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بجلی بندش اور نرخوں میں اضافے نے پاکستان کے 2.5 کروڑ افراد کو سولر اپنانے پر مجبور کیا اور ملک دنیا کا تیسرا سب سے بڑا سولر پینل درآمد کنندہ بن گیا جبکہ پیداوار میں سولر کا حصہ چین سے بھی زیادہ ہو گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عائشہ موریانی نے بتایا کہ پاکستان میں منفی طلب کے مواقع مزید عام ہوں گے، خاص طور پر گرمی کے دنوں، صنعتی تعطیلات، اور درمیانی درجہ حرارت والے دنوں میں جب سولر پیداوار زیادہ ہو۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان کے لیے چیلنج یہ نہیں کہ قابل تجدید توانائی بڑھے گی یا نہیں، بلکہ یہ ہے کہ گرڈ، ضابطہ کاری اور مارکیٹ ڈیزائن کس رفتار سے ترقی کر سکتے ہیں تاکہ سولر پیداوار کے بڑھتے اثرات کے ساتھ ہم آہنگ رہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان بڑے سولر صارفین کے لیے نئے ٹیرف متعارف کروانے اور فیس کے ڈھانچے میں تبدیلیاں کرنے کا منصوبہ بھی بنا رہا ہے تاکہ پینلز رکھنے والے کاروبار گرڈ کے دیکھ بھال کے اخراجات میں مساوی حصہ ڈالیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عائشہ موریانی کے مطابق، اس سال پاکستان میں گرڈ سے منسلک بجلی کی طلب 3-4 فیصد بڑھنے کی توقع ہے، جو تاریخی اوسط سے کم ہے۔ اگلے سال کھپت میں زیادہ تیزی سے اضافہ متوقع ہے، لیکن زیادہ سولر استعمال اس پر اثر ڈال سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سولر کے بڑھتے استعمال نے پاکستان کو قطر کے ساتھ ایل این جی معاہدے دوبارہ کرنے اور اٹلی کی کمپنی اینی سے فراہم ہونے والے کارگو منسوخ کرنے پر مجبور کیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ پاکستان کم قیمتیں، لچکدار ترسیل کے شیڈول اور ممکنہ طور پر کم کارگو چاہتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاپ 30 کے دوران قطر کے ساتھ کوئی باضابطہ مذاکرات نہیں ہوئے لیکن اس ایونٹ نے توانائی کے وزراء اور تجارتی نمائندگان کے ساتھ بات چیت کے لیے سفارتی موقع فراہم کیا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>ایک سینئر حکومتی اہلکار نے بتایا کہ پاکستان میں اگلے سال کچھ بڑے صنعتی علاقوں میں دن کے اوقات میں چھتوں پر نصب سولر کی پیداوار پہلی بار ملک کے بجلی کے گرڈ کی طلب سے زیادہ ہو جائے گی۔</strong></p>
<p>یہ رجحان حالیہ برسوں میں ملک میں شمسی پینل کی ریکارڈ تنصیبات کی عکاسی کرتا ہے، جس سے کچھ صارفین کے لیے بجلی کے بل کم ہوئے اور اخراج میں کمی آئی، لیکن گرڈ پر مبنی بجلی کی طلب میں طویل کمی کی وجہ سے قرض میں ڈوبی یوٹیلٹیز کی مالی حالت متاثر ہوئی ہے۔</p>
<p>برازیل میں منعقدہ کاپ 30  ماحولیاتی کانفرنس کے موقع پر پاکستان کی سیکریٹری برائے موسمیاتی تبدیلی و ماحولیاتی ہم آہنگی عائشہ  موریانی نے بتایا کہ دن کے بعض اوقات میں گرڈ سے منسلک بجلی کی طلب منفی ہو سکتی ہے، کیونکہ بیک-دی-میٹر سولر مکمل طور پر گرڈ کی کھپت کو پورا کر رہا ہے۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ یورپ اور آسٹریلیا میں کبھی کبھار سولر کی زیادتی اور کم طلب کی وجہ سے بجلی کی قیمتیں منفی ہو جاتی ہیں، لیکن پاکستان ابتدائی بڑی ابھرتی ہوئی مارکیٹس میں شامل ہوگا جہاں کچھ علاقوں میں چھتوں پر نصب سولر کی پیداوار طویل عرصے تک گرڈ کی طلب سے زیادہ رہ سکتی ہے۔</p>
<p>منفی طلب کے امکانات سب سے زیادہ لاہور میں ہیں، جہاں سولر کا نفاذ سب سے زیادہ ہے، اس کے بعد فیصل آباد اور سیالکوٹ آتے ہیں جہاں صنعتی علاقے سولر کے استعمال کو فروغ دے رہے ہیں۔</p>
<p>بجلی بندش اور نرخوں میں اضافے نے پاکستان کے 2.5 کروڑ افراد کو سولر اپنانے پر مجبور کیا اور ملک دنیا کا تیسرا سب سے بڑا سولر پینل درآمد کنندہ بن گیا جبکہ پیداوار میں سولر کا حصہ چین سے بھی زیادہ ہو گیا ہے۔</p>
<p>عائشہ موریانی نے بتایا کہ پاکستان میں منفی طلب کے مواقع مزید عام ہوں گے، خاص طور پر گرمی کے دنوں، صنعتی تعطیلات، اور درمیانی درجہ حرارت والے دنوں میں جب سولر پیداوار زیادہ ہو۔</p>
<p>انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان کے لیے چیلنج یہ نہیں کہ قابل تجدید توانائی بڑھے گی یا نہیں، بلکہ یہ ہے کہ گرڈ، ضابطہ کاری اور مارکیٹ ڈیزائن کس رفتار سے ترقی کر سکتے ہیں تاکہ سولر پیداوار کے بڑھتے اثرات کے ساتھ ہم آہنگ رہیں۔</p>
<p>پاکستان بڑے سولر صارفین کے لیے نئے ٹیرف متعارف کروانے اور فیس کے ڈھانچے میں تبدیلیاں کرنے کا منصوبہ بھی بنا رہا ہے تاکہ پینلز رکھنے والے کاروبار گرڈ کے دیکھ بھال کے اخراجات میں مساوی حصہ ڈالیں۔</p>
<p>عائشہ موریانی کے مطابق، اس سال پاکستان میں گرڈ سے منسلک بجلی کی طلب 3-4 فیصد بڑھنے کی توقع ہے، جو تاریخی اوسط سے کم ہے۔ اگلے سال کھپت میں زیادہ تیزی سے اضافہ متوقع ہے، لیکن زیادہ سولر استعمال اس پر اثر ڈال سکتا ہے۔</p>
<p>سولر کے بڑھتے استعمال نے پاکستان کو قطر کے ساتھ ایل این جی معاہدے دوبارہ کرنے اور اٹلی کی کمپنی اینی سے فراہم ہونے والے کارگو منسوخ کرنے پر مجبور کیا ہے۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ پاکستان کم قیمتیں، لچکدار ترسیل کے شیڈول اور ممکنہ طور پر کم کارگو چاہتا ہے۔</p>
<p>کاپ 30 کے دوران قطر کے ساتھ کوئی باضابطہ مذاکرات نہیں ہوئے لیکن اس ایونٹ نے توانائی کے وزراء اور تجارتی نمائندگان کے ساتھ بات چیت کے لیے سفارتی موقع فراہم کیا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Business &amp; Finance</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40279708</guid>
      <pubDate>Mon, 24 Nov 2025 13:31:14 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (رائٹرز)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2025/11/24124235d2d0142.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2025/11/24124235d2d0142.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
