<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - World</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 22:49:26 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 22:49:26 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>بنگلہ دیش نے شیخ حسینہ کی حوالگی کے لیے بھارت پر دباؤ بڑھا دیا</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40279698/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;بنگلہ دیش حکومت نے کہا ہے کہ اس نے بھارت سے سابق وزیر اعظم شیخ حسینہ کی حوالگی کا مطالبہ کیا ہے، جنہیں اس ہفتے ابتدائی طور پر طلبہ قیادت میں ہونے والے احتجاج پر مظالم کے مقدمے میں پھانسی کی سزا سنائی گئی تھی۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;78 سالہ حسینہ واجد اپنی خودمختار حکومت کے خاتمے کے بعد اگست 2024 میں بھارت میں پناہ لے چکی  تھیں۔ وزیر اعظم کے طور پر ان کا نیو دہلی سے تعاون رہا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بنگلہ دیش کی عبوری انتظامیہ میں خارجہ امور کے محکمے کے ذمہ دار توحید حسین نے صحافیوں کو بتایا کہ جمعہ کو ہم نے شیخ حسینہ واجد کی حوالگی کے لیے خط بھیجا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے خط کے مواد کی تفصیل بیان نہیں کی، جس کے مطابق بنگالی اخبار پروتھم آلو کے مطابق یہ حسینہ واجد کے فرار ہونے کے بعد سرکاری حوالگی کا تیسرا مطالبہ تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سابق وزیر اعظم کو انسانی حقوق کے خلاف جرائم میں مجرم قرار دینے اور موت کی سزا سنانے کے بعد ڈھاکہ میں وزارت خارجہ نے ایک بیان میں کہا کہ دہلی پر دوطرفہ معاہدے کے تحت سابق رہنما کی واپسی کو آسان بنانے کی ضروری ذمہ داری ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بھارت کی وزارت خارجہ نے جواب میں کہا کہ اس نے فیصلے کو نوٹ کیا، لیکن حوالگی کی درخواست پر براہ راست کوئی تبصرہ نہیں کیا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>بنگلہ دیش حکومت نے کہا ہے کہ اس نے بھارت سے سابق وزیر اعظم شیخ حسینہ کی حوالگی کا مطالبہ کیا ہے، جنہیں اس ہفتے ابتدائی طور پر طلبہ قیادت میں ہونے والے احتجاج پر مظالم کے مقدمے میں پھانسی کی سزا سنائی گئی تھی۔</strong></p>
<p>78 سالہ حسینہ واجد اپنی خودمختار حکومت کے خاتمے کے بعد اگست 2024 میں بھارت میں پناہ لے چکی  تھیں۔ وزیر اعظم کے طور پر ان کا نیو دہلی سے تعاون رہا تھا۔</p>
<p>بنگلہ دیش کی عبوری انتظامیہ میں خارجہ امور کے محکمے کے ذمہ دار توحید حسین نے صحافیوں کو بتایا کہ جمعہ کو ہم نے شیخ حسینہ واجد کی حوالگی کے لیے خط بھیجا ہے۔</p>
<p>انہوں نے خط کے مواد کی تفصیل بیان نہیں کی، جس کے مطابق بنگالی اخبار پروتھم آلو کے مطابق یہ حسینہ واجد کے فرار ہونے کے بعد سرکاری حوالگی کا تیسرا مطالبہ تھا۔</p>
<p>سابق وزیر اعظم کو انسانی حقوق کے خلاف جرائم میں مجرم قرار دینے اور موت کی سزا سنانے کے بعد ڈھاکہ میں وزارت خارجہ نے ایک بیان میں کہا کہ دہلی پر دوطرفہ معاہدے کے تحت سابق رہنما کی واپسی کو آسان بنانے کی ضروری ذمہ داری ہے۔</p>
<p>بھارت کی وزارت خارجہ نے جواب میں کہا کہ اس نے فیصلے کو نوٹ کیا، لیکن حوالگی کی درخواست پر براہ راست کوئی تبصرہ نہیں کیا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40279698</guid>
      <pubDate>Mon, 24 Nov 2025 12:07:33 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (اے ایف پی)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2025/11/24120436938fa38.webp" type="image/webp" medium="image" height="768" width="1024">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2025/11/24120436938fa38.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
