<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Markets - Energy</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 21:30:53 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 21:30:53 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>روس یوکرین امن مذاکرات میں پیش رفت، خام تیل سستا ہو گیا</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40279685/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;عالمی منڈی میں پیر کے روز تیل کی قیمتوں میں مزید کمی دیکھی گئی، جو گزشتہ ہفتے ہونے والی کمی کا تسلسل ہے۔ اس کمی کی بنیادی وجہ روس اور یوکرین کے درمیان امن مذاکرات میں پیش رفت اور امریکی ڈالر کی مضبوطی قرار دی جا رہی ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;برینٹ خام تیل کے فیوچرز 14 سینٹ یا 0.22 فیصد کمی کے بعد 62.42 ڈالر فی بیرل پر آ گئے، جبکہ ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ 15 سینٹ یا 0.26 فیصد کمی سے 57.91 ڈالر فی بیرل پر ٹریڈ ہوا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;گزشتہ ہفتے دونوں خام تیل کے بینچ مارکس میں تقریباً 3 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی تھی اور قیمتیں 21 اکتوبر کے بعد کی کم ترین سطح پر پہنچ گئیں۔ مارکیٹ کے شرکا کو خدشہ ہے کہ اگر روس اور یوکرین کے درمیان امن معاہدہ طے پا گیا تو ماسکو پر عائد پابندیاں نرم ہو سکتی ہیں، جس سے روسی تیل کی بڑی مقدار دوبارہ عالمی منڈی میں آ جائے گی اور سپلائی بڑھنے سے قیمتوں پر مزید دباؤ پڑے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آئی جی کے تجزیہ کار ٹونی سائکامور کے مطابق فروخت کی یہ لہر بنیادی طور پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے روس یوکرین امن معاہدے پر زور دینے کے باعث آئی ہے، جسے مارکیٹ روسی تیل کی سپلائی کی بحالی کا تیز راستہ سمجھ رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ امن کی کوششوں کے اثرات، روسی آئل کمپنیوں روسنیفٹ اور لوک آئل پر نئی امریکی پابندیوں کے قلیل مدتی اثرات سے کہیں زیادہ ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان پابندیوں کے باعث تقریباً 48 ملین بیرل روسی خام تیل سمندر میں پھنسا ہوا ہے۔ اتوار کے روز امریکہ اور یوکرین کے درمیان مذاکرات میں بھی پیش رفت کی اطلاعات سامنے آئیں، جن میں یوکرین سے بعض علاقے چھوڑنے اور نیٹو میں شمولیت کے منصوبوں پر نظرثانی کی بات کی گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مزید برآں، امریکی شرح سود میں کمی کے حوالے سے غیر یقینی صورتحال نے بھی سرمایہ کاروں کے رجحان کو متاثر کیا ہے، تاہم نیویارک فیڈ کے صدر جان ولیمز کی جانب سے قریبی مدت میں شرح سود کم کرنے کے اشارے کے بعد امیدیں بڑھ گئی ہیں۔ دوسری جانب امریکی ڈالر کی تیزی نے بھی تیل کو دیگر کرنسیوں کے حامل خریداروں کے لیے مہنگا بنا دیا ہے، جس سے طلب پر منفی اثر پڑ رہا ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>عالمی منڈی میں پیر کے روز تیل کی قیمتوں میں مزید کمی دیکھی گئی، جو گزشتہ ہفتے ہونے والی کمی کا تسلسل ہے۔ اس کمی کی بنیادی وجہ روس اور یوکرین کے درمیان امن مذاکرات میں پیش رفت اور امریکی ڈالر کی مضبوطی قرار دی جا رہی ہے۔</strong></p>
<p>برینٹ خام تیل کے فیوچرز 14 سینٹ یا 0.22 فیصد کمی کے بعد 62.42 ڈالر فی بیرل پر آ گئے، جبکہ ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ 15 سینٹ یا 0.26 فیصد کمی سے 57.91 ڈالر فی بیرل پر ٹریڈ ہوا۔</p>
<p>گزشتہ ہفتے دونوں خام تیل کے بینچ مارکس میں تقریباً 3 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی تھی اور قیمتیں 21 اکتوبر کے بعد کی کم ترین سطح پر پہنچ گئیں۔ مارکیٹ کے شرکا کو خدشہ ہے کہ اگر روس اور یوکرین کے درمیان امن معاہدہ طے پا گیا تو ماسکو پر عائد پابندیاں نرم ہو سکتی ہیں، جس سے روسی تیل کی بڑی مقدار دوبارہ عالمی منڈی میں آ جائے گی اور سپلائی بڑھنے سے قیمتوں پر مزید دباؤ پڑے گا۔</p>
<p>آئی جی کے تجزیہ کار ٹونی سائکامور کے مطابق فروخت کی یہ لہر بنیادی طور پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے روس یوکرین امن معاہدے پر زور دینے کے باعث آئی ہے، جسے مارکیٹ روسی تیل کی سپلائی کی بحالی کا تیز راستہ سمجھ رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ امن کی کوششوں کے اثرات، روسی آئل کمپنیوں روسنیفٹ اور لوک آئل پر نئی امریکی پابندیوں کے قلیل مدتی اثرات سے کہیں زیادہ ہیں۔</p>
<p>ان پابندیوں کے باعث تقریباً 48 ملین بیرل روسی خام تیل سمندر میں پھنسا ہوا ہے۔ اتوار کے روز امریکہ اور یوکرین کے درمیان مذاکرات میں بھی پیش رفت کی اطلاعات سامنے آئیں، جن میں یوکرین سے بعض علاقے چھوڑنے اور نیٹو میں شمولیت کے منصوبوں پر نظرثانی کی بات کی گئی۔</p>
<p>مزید برآں، امریکی شرح سود میں کمی کے حوالے سے غیر یقینی صورتحال نے بھی سرمایہ کاروں کے رجحان کو متاثر کیا ہے، تاہم نیویارک فیڈ کے صدر جان ولیمز کی جانب سے قریبی مدت میں شرح سود کم کرنے کے اشارے کے بعد امیدیں بڑھ گئی ہیں۔ دوسری جانب امریکی ڈالر کی تیزی نے بھی تیل کو دیگر کرنسیوں کے حامل خریداروں کے لیے مہنگا بنا دیا ہے، جس سے طلب پر منفی اثر پڑ رہا ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Markets</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40279685</guid>
      <pubDate>Mon, 24 Nov 2025 09:28:31 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (رائٹرز)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2025/11/2409272752efcaa.webp" type="image/webp" medium="image" height="320" width="480">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2025/11/2409272752efcaa.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
